پوتن اور شی جن پنگ کی دوستی اور مشترکہ مفادات لیکن روس اور چین کے گہرے تعلق کی اصل وجہ کیا ہے؟

- مصنف, انکر شاہ
- عہدہ, مدیر، بی بی سی گلوبل چائنہ یونٹ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 13 منٹ
گذشتہ ستمبر بیجنگ کے تیانمن سکوائر میں چہل قدمی کرتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن اس امکان پر غور کرتے دکھائی دیے کہ اعضا کی پیوندکاری انسانی زندگی کو نمایاں طور پر طویل کر سکتی ہے۔
پوتن کے مترجم کو یہ کہتے سنا گیا: ’انسانی اعضا کی مسلسل پیوند کاری کی جا سکتی ہے۔ جتنا زیادہ آپ زندہ رہتے ہیں اتنے ہی جوان ہوتے جاتے ہیں، اور حتیٰ کہ لا فانیت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔‘
شی کے مترجم کو جواب دیتے سنا گیا: ’کچھ لوگوں کی پیش گوئی ہے کہ اس صدی میں انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہKremlin Press Office/Anadolu via Getty Images)
دو مضبوط رہنما جو ایک دوسرے کو بہترین دوست قرار دے چکے ہیں اور جو اقتدار میں مجموعی طور پر 39 سال گزارنے کے باوجود بھی عہدہ چھوڑنے کا کوئی عندیہ نہیں دے رہے، ان کے لیے یہ گفتگو نہایت موزوں تھی۔
یہ اس تعلق کی ایک نادر جھلک تھی جسے اکثر لوگ ٹھیک طرح سے سمجھ نہیں پاتے۔ بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہونے والی گفتگو کا یہ ٹکڑا ایک انتہائی خفیہ تعلق کی چند جھلکیوں میں سے ایک ہے۔
پوتن اس ہفتے پھر بیجنگ میں ہوں گے۔ یہ دورہ روس اور چین کے درمیان دوستانہ تعاون کے معاہدے کی 25 ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔
جب گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی سے ملاقات کی تو ان کے لیے سونے کے برتنوں میں شاندار ضیافت کا اہتمام کیا گیا اور ایک قدیم مندر کا دورہ بھی کرایا گیا۔
اس کے مقابلے میں پوتن کا دورہ کافی سادہ معلوم ہوتا ہے اور اس کے بارے میں پہلے سے بہت کم معلومات دی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/Shutterstock
اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے جب چینی صدر شی اور امریکی صدر ٹرمپ ژونگنانہائی (چینی قیادت کا مرکزی دفتر اور رہائش گاہ) میں چہل قدمی کر رہے تھے تو گفتگو کے دوران شی نے ٹرمپ سے اپنے دوست پوتن کا ذکر کیا۔ انھوں نے مذاق میں کہا کہ پوتن اس سے پہلے اس جگہ کا دورہ کر چکے ہیں۔
اگرچہ واشنگٹن میں کچھ لوگوں کو امید تھی کہ ٹرمپ بیجنگ کو ماسکو سے دور کر سکتے ہیں، لیکن ایسی امیدیں محض خواہشات تک محدود معلوم ہوتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں چین اور روس نے اپنے تعلقات کو ایسی دوستی قرار دیا ہے جس کی ’کوئی حد نہیں۔‘
آخر یہ دوستی کس بنیاد پر قائم ہے؟ اور کیا یہ تعلق قائم رہے گا؟
چین کی شرائط پر
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کارنیگی روس، یوریشیا سینٹر تھنک ٹینک کے ڈائیریکٹر الیگزینڈر گابویف کے مطابق یہ تعلق بہت غیر متوازن ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی بھی معاہدہ ہوا تو امکان یہی ہے کہ وہ چین کی شرائط پر ہو گا۔
انھوں نے زور دے کر کہا: ’روس مکمل طور پر چین کی جیب میں ہے (یعنی چین کے زیر اثر ہے) اور چین شرائط طے کر سکتا ہے۔‘
یہ صورتحال معیشت سمیت کئی شعبوں میں برقرار ہے۔ چین روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ چین کی بین الاقوامی تجارت میں روس کا حصہ صرف چار فیصد ہے۔ چین روس کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ برآمدات کرتا ہے اور اس کی معیشت روس کے مقابلے میں کہیں بڑی ہے۔
مغرب کی جانب سے نافذ کی گئی پابندیوں کی وجہ سے ماسکو کے بیجنگ کے ساتھ تجارتی روابط مزید گہرے ہوتے گئے۔ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ہواوے پر امریکہ نے پابندیاں عائد کیں اور برطانوی حکومت نے بھی اسے فائیو جی نیٹ ورکس سے نکال دیا۔ اب روس میں کوئی مغربی کمپنی کام نہیں کر رہی، تو یہی ہواوے روسی ٹیلی کمیونیکیشن صنعت کا ایک اہم ستون بن گئی ہے۔
مغرب کے ساتھ مسلسل کمزور ہوتے روابط کے باعث، ٹیکنالوجی، سائنس یا صنعتی مہارت کے لیے چین روس کا پہلا انتخاب بن گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
سنہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے اپنی جنگی مشین کے پرزہ جات کی فراہمی کے لیے روس کا بیجنگ پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ بلومبرگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق روس اپنی ٹیکنالوجی کا 90 فیصد سے زیادہ چین سے درآمد کر رہا تھا، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہے۔
روس اس عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ روسی بین الاقوامی امور کونسل کے تھنک ٹینک کے صدر دیمتری ترینن کے حال ہی میں ایک تحریر لکھی جس کا عنوان تھا ’ہم کسی کے آگے نہیں جھکتے۔‘ اس تحریر میں انھوں نے واضح کیا تھا کہ روس کسی کی تابع ریاست نہیں بننا چاہتا۔
چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلقات میں برابری برقرار رکھیں اور یہ یاد رکھیں کہ روس ایک بڑی طاقت ہے جو کسی کی جونیئر شراکت دار نہیں بن سکتی۔‘
ماسکو کے پاس بیجنگ کے متبادل کے طور پر بہت کم قابل عمل آپشنز ہیں، کیوں کہ چین جس پیمانے پر خریداری کرتا ہے اور اشیا فراہم کرتا ہے، وہ روس کی بقا کے لیے اہم ہے۔ مغرب کے ساتھ روس کے تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں، اوپر سے چین روس کے ساتھ تجارت کم کر دے تو خارجہ پالیسی کے روسی مقاصد میں بہت پیچیدگی آ جائے گی۔
تاہم، ماسکو کی ایک بڑی برتری اور بیجنگ کے دباؤ سے بچنے کے لیے ایک حفاظتی عنصر اس کی ثابت قدم رہنے کی صلاحیت ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یونیورسٹی آف گلاسگو میں سکیورٹی سٹڈیز کے لیکچرر مارسن کازمارسکی کے مطابق، چین عدم توازن کے اس حجم سے آگاہ ہے اور وہ روس یا اس کی اشرافیہ کے اندر کسی بھی قسم کے ردعمل کو جنم دینے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق روس کے حوالے سے چین کی پالیسی کا خلاصہ بیان کیا جائے تو اس کے لیے ’صبر‘ (یا ضبط نفس) کا لفظ موزوں رہے گا، ’چین روس پر دباؤ نہیں ڈال رہا۔‘
اس کی ایک جزوی وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا کرنا غیر دانشمندانہ ہو گا۔ روس اگرچہ جونیئر شراکت دار ہے، لیکن وہ ایک باوقار ملک بھی ہے۔
کارنیگی کے گابویف کا کہنا ہے کہ اگر چین روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کرے تو یہ ’ایسا ملک نہیں ہے جو فوراً اسے قبول بھی کر لے۔‘
وہ سنہ 2023 میں شی کے ماسکو کے دورے کی مثال دیتے ہیں، جہاں اطلاعات کے مطابق چین کے صدر نے پوتن پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال نہ کریں۔ صرف چند دن بعد روسی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ بیلاروس میں جوہری ہتھیار تعینات کرے گی۔ اس علان کو کچھ لوگوں نے ماسکو کی جانب سے بیرونی دباؤ کی مزاحمت اور اپنی خود مختاری کی یاد دہانی کے طور پر دیکھا۔
یوکرین میں روس کی طویل جنگ کئی حوالوں سے اسے بوجھ بنا سکتی ہے، لیکن جب بیجنگ تائیوان پر ممکنہ حملے کے لیے اپنے اختیارات پر غور کرتا ہے تو یہی جنگ اس کے لیے ایک اثاثہ بھی ہے۔ گابویف کہتے ہیں: ’کچھ فوجی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے روس بہت کارآمد ہے، وہ اب بھی مخصوص نوعیت کا سامان فراہم کر سکتا ہے اور چینی آلات یا پرزہ جات کی آزمائش کر سکتا ہے۔‘
روس کے پاس توانائی کے وسیع وسائل بھی ہیں جو چین کے لیے سٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔ مئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پوتن نے کہا کہ دونوں فریق تیل اور گیس کے تعاون میں ’ایک نہایت اہم پیش رفت‘ کے بہت قریب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
شاید وہ پاور آف سائبیریا ٹو پائپ لائن کا حوالہ دے رہے تھے، جس کے لیے روسی گیس کمپنی گیزپرام اور چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن نے مبینہ طور پر ابتدائی معاہدہ کیا۔
اگر یہ پائپ لائن تعمیر ہو جاتی ہے تو یہ ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو گی۔ اس کے ذریعے منگولیا کے راستے چین کو 50 ارب مکعب میٹرز گیس فراہم کی جا سکے گی۔
ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز میں بحران جاری ہے، روسی توانائی پر چین کی حکمت عملی نے بظاہر اسے فائدہ دینا شروع کر دیا ہے۔ یہ صرف قیمتوں کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک بڑھتی ہوئی غیر مستحکم دنیا میں چین کی اندرونی توانائی کے مستقبل کو تحفظ دینے کا سوال بھی ہے۔
اتحادی نہیں، شراکت دار
چین اور روس کے درمیان تعلق میں ایک سادہ سی حقیقت بہت واضح ہے، یہ کوئی باضابطہ اتحاد نہیں ہے اور دونوں ممالک کے لیے ایک دوسرے کی پیروی ضروری بھی نہیں ہے۔
ماسکو میں آسٹریلوی سفارت خانے کے سابق نائب سربراہ بوبو لو کہتے ہیں کہ اس تعلق میں کسی فوجی اتحاد کی سختی کے بجائے ایک سٹریٹیجک لچک ہے اور یہی اس شراکت داری کو مضبوط بناتی ہے۔
مغربی تجزیہ کار عموماً چین اور روس کی شراکت داری کو دو میں سے ایک زاویے سے دیکھتے رہے ہیں: یا تو اسے ’آمرانہ نظاموں کا محور‘ قرار دیتے ہیں جو زیادہ تر مغرب کو شکست دینے کی خواہش سے جڑا ہوا ہے، یا ایک کمزور بھائی چارہ سمجھتے ہیں جو ہر وقت ٹوٹنے کے قریب ہوتا ہے۔
ان میں سے کوئی بھی نقطۂ نظر مکمل طور پر اس بات کا احاطہ نہیں کرتا کہ دونوں ممالک کے لیے اس تعلق کا کوئی متبادل نہیں اور عدم مساوات کے باوجود ان کے مفادات مشترک ہیں۔
اور لو کہتے ہیں کہ اگر مغرب کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر بھی ہو جائیں، تب بھی دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی بہت سی وجوہات موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images
ان میں سب سے اہم ان کی مشترکہ 4300 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اس کے بعد ان کی معیشتیں ہیں جو ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہیں: روس تیل، گیس اور دیگر خام مال کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے، جبکہ چین کی صنعتی معیشت روسی مصنوعات کے لیے ایک وسیع منڈی فراہم کرتی ہے۔ اور عالمی نظام میں امریکی قیادت کے لیے ان دونوں ممالک کی مشترکہ مخالفت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں مغربی ممالک انسانی حقوق سمیت مختلف اقدار کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرتے اور سزائیں دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس روس اور چین ایک دوسرے کے اقدامات پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتے۔ چین پر سنکیانگ خطے میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے بار بار الزامات لگتے ہیں، جن کی چین تردید کرتا ہے۔ اسی طرح روس میں بھی اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کی موت نے بعض مغربی ممالک کو ان ممالک کے ساتھ روابط میں زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔ لیکن ماسکو اور بیجنگ ان معاملات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
گابویف کہتے ہیں: ’وہ سنکیانگ، ناوالنی کو زہر دیے جانے اور اس جیسے دیگر معاملات پر ایک دوسرے پر تنقید نہیں کرتے۔ اور اقوام متحدہ میں بہت سے معاملات پر ان کا نقطۂ نظر ایک جیسا ہوتا ہے۔ اس سے ایک قدرتی اور باہمی انحصار پر مبنی تعلق پیدا ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جہاں تک اس تعلق کے برقرار رہنے کا سوال ہے، ایک چینی تجزیہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین اور روس کے تعلق کو اٹوٹ انگ کے طور پر پیش کرنا جزوی طور پر نمائشی ہے، جس کا مقصد اتحاد اور استحکام کا تاثر دینا ہے۔
حقیقت میں، یہ ایک مفید سیاسی آلہ ہے جو مفادات میں کبھی کبھار آنے والے اختلافات کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگرچہ دونوں حکومتیں اس چیز کی مخالفت کرتی ہیں جسے وہ ’مغربی بالادستی‘ سمجھتی ہیں، لیکن اس کے بارے میں ان کے طریقۂ کار مختلف ہو سکتے ہیں۔
چینی تجزیہ کار کے مطابق روس ایک ایسا عالمی نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر امریکہ کو نظرانداز کرے، جبکہ چین زیادہ محتاط اور عملی رویہ اپناتا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بیجنگ جلد بازی میں فیصلے کرنے سے گریز کرتا ہے اور طویل مدتی نتائج حاصل کرنے کے لیے صبر کو ترجیح دیتا ہے۔
انھوں نے ایران میں امریکی اقدامات پر چین کے ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے اپنا ردعمل متوازن رکھا اور ٹرمپ کے دورے کی تیاریوں کو منسوخ نہیں کیا۔
ان کے مطابق: ’یہ واضح طور پر بیجنگ کی اس خواہش کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور دروازے بند نہ کرے۔‘ انھوں نے کہا کہ چین اب بھی واشنگٹن کے ساتھ رابطے رکھنا چاہتا ہے اور غیر ضروری اشتعال انگیزی سے بچنا چاہتا ہے، جو کہ روس کے طرز عمل سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
انسانی پہلو
اس شراکت داری کو عموماً جغرافیائی سیاست اور سکیورٹی کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ایک اور اہم عنصر دونوں معاشروں کے لوگوں کے درمیان تعلقات کی گہرائی بھی ہے۔
پوتن اور شی نے اپنے درمیان ایک بے مثال دوستی کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ پوتن کا چین کا 25 واں دورہ ہے اور روسی بیوروکریٹس ممکنہ طور پر دیگر ممالک کے عہدیداروں کے مقابلے میں اپنے چینی ہم منصبوں کے ساتھ زیادہ رابطے میں رہتے ہیں۔
اعلیٰ سیاسی سطح پر اس قربت کے باوجود، چین میں برطانیہ کے سابق سفارت کار چارلس پارٹن عام چینی اور روسی عوام کے درمیان فطری ثقافتی قربت کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’کیا چینی شہری ماسکو میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہیں بسنا اور جائیداد خریدنا چاہتے ہیں؟ نہیں۔‘
ان کا خیال ہے کہ اگر انتخاب کا حق دیا جائے تو روسی افراد مغرب میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے اور بیجنگ کے بجائے پیرس، لندن یا قبرص میں جائیداد خریدیں گے۔

،تصویر کا ذریعہChina News Service/VCG via Getty Images
ہر کوئی اس سے متفق نہیں۔ گابویف کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر روابط تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جنھیں جزوی طور پر مغربی پابندیوں اور یورپی ویزا پالیسیوں کی سختی نے فروغ دیا ہے، جس کے باعث روسی چین کی طرف جا رہے ہیں۔
روسیوں کے لیے چین کا سفر کرنا کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ باہمی ویزا فری نظام کے تحت، کوئی بھی ماسکو سے چین کے بڑے شہروں کے لیے روانہ ہونے والی پرواز پکڑ سکتا ہے۔
روسی اب تیزی سے چینی موبائل فون استعمال کر رہے ہیں اور چینی گاڑیاں چلا رہے ہیں، خاص طور پر ماسکو پر مغربی پابندیوں کے بعد۔
گابویف کہتے ہیں ’باہمی روابط، ویزا فری سفر، اور ادائیگی اور نقل و حرکت میں آسانی نے چین کو پہلے کے مقابلے میں روس کے کہیں زیادہ قریب کر دیا ہے۔ اور پھر تبادلہ پروگرامز، وظائف، اور مشترکہ تحقیقی منصوبے دونوں معاشروں کو مزید قریب لا رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSputnik/ Kremlin/ PA/Shutterstock
اگرچہ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں بڑھتا ہوا عدم توازن ایک طویل مدتی کمزوری کی نمائندگی کرتا ہے، تاہم اس تعلق کے ٹوٹ جانے کی پیش گوئیاں، کم از کم قلیل مدت میں، بعید از قیاس معلوم ہوتی ہیں۔
دونوں کے درمیان اختلافات کے باوجود، لو کہتے ہیں: ’چین، روس شراکت داری مضبوط اور پائیدار ہے۔ دونوں فریق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ رشتہ اہم ہے اور اسے ناکام نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر اس لیے کہ تعاون جاری رکھنے کے علاوہ اور کوئی متبادل موجود نہیں۔‘























