یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
جمعے 22 مئی کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں
امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی صورت میں ’آپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک جوہری جنگ دیکھیں جو کہ یہاں (امریکہ) آ سکتی ہے، یورپ بھی آ سکتی ہے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔
جمعے 22 مئی کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم لے کر اسے تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ایران کے پاس موجود یورینیم کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وہ (یورینیم) لے لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، ہمیں وہ نہیں چاہیے، ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ وہ افزودہ یورینیم ایران کے پاس نہیں رہنے دیں گے۔
امریکی صدر نے اس بات چیت کے دوران اپنے مؤقف دُہرایا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی صورت میں ’آپ مشرقِ وسطیٰ میں ایک جوہری جنگ دیکھیں جو کہ یہاں (امریکہ) آ سکتی ہے، یورپ بھی آ سکتی ہے اور ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘
پاکستان کے فوجی شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا میں انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کا مقصد شدت پسند گروہوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشنز دتہ خیل، سپین وام اور بنوں سمیت مختلف علاقوں تک توسیع دیے گئے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کے خلاف کئی کارروائیاں کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، جن میں مزید 23 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جو سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔
فوج کے مطابق مارے گئے افراد مختلف شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھے، جن میں سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا، جبکہ شدت پسندوں کے زیر استعمال سرنگوں اور بنکرز کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقوں میں مزید کارروائیاں جاری ہیں تاکہ وہاں موجود شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے، اور ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مہم جاری رکھی جائے گی۔
امریکی وزیرِ خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے حوالے سے ’کچھ مثبت اشارے‘ موجود ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام آج تہران کا دورہ کریں گے، اور امید ظاہر کی کہ اس سے پیش رفت میں مدد ملے گی۔
انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’امریکی صدر کی ترجیح ایک اچھا معاہدہ کرنا ہے، یہی ان کی ہمیشہ سے ترجیح رہی ہے۔ اگر ہم کوئی اچھا معاہدہ کر لیں تو یہ بہت بہتر ہوگا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن اگر ہم اچھا معاہدہ نہ کر سکے تو صدر نے واضح کیا ہے کہ ان کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ میں ان کی تفصیل بیان نہیں کروں گا، لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔‘
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ’کچھ مثبت اشارے ضرور ہیں، لیکن میں حد سے زیادہ پُرامید بھی نہیں ہونا چاہتا، اس لیے آئندہ چند دنوں میں دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ@pmln_org/X
دو روز قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایک لیگی ایم پی اے کی جانب سے انھیں اور ان کے خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر مختلف اداروں میں شکایات درج کرا چکی ہیں، تاہم ملزم کے خلاف کارروائی کے بجائے ان کی شکایت کو دبایا جا رہا ہے۔
تاہم آج اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ آج لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں اپنے اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہوئے۔ مومنہ اقبال کی جانب سے این سی سی آئی اے میں لیگی ایم پی اے کے خلاف ثبوت بھی جمع کروائے گئے ہیں۔
اس کے بعد این سی سی آئی اے نے اداکارہ مومنہ اقبال اور چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کو لاہور میں طلب کیا۔
اداکارہ کی درخواست میں ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ نے کہا ہے کہ ’وزیراعلی مریم نواز نے مومنہ اقبال کیس کا سختی سے نوٹس لیا ہے، اداکارہ مومنہ اقبال اور ان کی فیملی کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے خواتین ریڈ لائن ہیں، ان کی ہراسانی یا ذہنی اور تشدد بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
اداکارہ کے وکیل نے پیشی کے بعد میڈیا کو کیا بتایا؟
پیشی کے بعد مومنہ اقبال کے وکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اداکارہ کی شادی طے ہونے کے بعد خراب ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم پی اے اداکارہ سے شادی کے خواہاں تھے اور اس سلسلے میں رشتہ بھی بھجوایا گیا تھا۔
وکلا کے مطابق دونوں کے درمیان 2022-23 کے دوران تعلقات رہے، تاہم بعد میں مومنہ اقبال کو معلوم ہوا کہ ایم پی اے پہلے سے شادی شدہ ہیں اور وہ تیسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر اداکارہ نے تعلق ختم کر دیا اور ان کی شادی کہیں اور طے ہو گئی، جس کی تقریب آئندہ جون میں متوقع ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ مومنہ اقبال کا رشتہ طے ہونے کے بعد ایم پی اے نے انھیں ہراساں کرنا شروع کیا اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اداکارہ کے ہونے والے شوہر کے خلاف ایک بے بنیاد مقدمہ بھی درج کروایا۔
وکلا کا کہنا تھا کہ اداکارہ کی شادی کی تیاریوں میں مصروف افراد کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے، تاہم شادی طے شدہ تاریخ پر ہی ہوگی۔ ان کے مطابق تمام شواہد متعلقہ حکام کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انھوں نے معاملے کا نوٹس لیا اور سکیورٹی فراہم کی۔
ایم پی اے کے وکیل نے کیا صفائی دی؟
دوسری جانب این سی سی آئی اے کے دفتر میں پیشی سے قبل ثاقب چدھڑ کے وکیل میاں علی اشفاق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر غیر مناسب مواد اپ لوڈ کیے جانے کے حوالے سے نوٹس موصول ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی مؤقف دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہراساں کیے جانے کے الزامات زیرِ گردش ہیں، تاہم این سی سی آئی اے ایسے معاملات کے لیے موزوں فورم نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگر سوشل میڈیا پر کوئی غیر قانونی مواد شائع کیا گیا ہے تو اس حوالے سے معلومات حاصل کر کے قانونی کارروائی میں حصہ لیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via GETTY
متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر انور گرگاش نے کہا ہے کہ ایران کے حالیہ برسوں کے بعض طرزِ عمل کے باعث خلیج فارس کے ممالک کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ خطے کے ممالک برسوں سے ایران کے ’دباؤ اور دھمکی آمیز رویے‘ کا سامنا کرتے آئے ہیں، جو اب خلیج کی سیاسی حقیقت کا حصہ بن چکا ہے۔
انور گرگاش نے مزید کہا کہ ایران کے سخت مؤقف اور دوستی کے دعوؤں کے درمیان تضاد نے اعتماد اور ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے بقول، حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران ایک نئی صورتحال قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا متحدہ عرب امارات کی سمندری خودمختاری میں مداخلت کے دعوے ’محض تصوراتی اور ناقابلِ حصول خواہشات‘ ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ جو بھی ممالک خطے کے عرب ممالک کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا چاہتے ہیں، انھیں سمجھنا ہوگا کہ اعتماد نعروں سے بحال نہیں ہو سکتا، بلکہ ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو، خودمختاری کے احترام اور حقیقی ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری سے ہی ممکن ہے۔
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے تیل کے تنصیبات اور مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہ@PMLN
چین کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف سنیچر یعنی 23 مئی سے بیجنگ کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
پاکستان اور چین دونوں مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں میں ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ 8 اپریل سے جنگ بندی کے باوجود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز خبردار کیا ہے کہ سفارتکاری کے لیے دستیاب وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں کہا کہ ’چین اور پاکستان کی قیادت دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کرے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔
ترجمان کے مطابق چین امن کے لیے پاکستان کے ’منصفانہ اور متوازن‘ کردار کی حمایت کرتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، اور گذشتہ ماہ اس سلسلے میں مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی، تاہم کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔
یاد رہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران بیجنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کی بھی میزبانی کی جا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خلیج فارس واٹر وے مینجمنٹ اتھارٹی نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک نگرانی زون (سرویلنس ایریا) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اتھارٹی کے سرکاری اکاؤنٹ کے مطابق ایران نے باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کے انتظامی اور نگرانی کے علاقے کا تعین کر دیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق اس علاقے کی حد مشرقی جانب ایران کے جبلِ مبارک اور متحدہ عرب امارات کے جنوبی فجیرہ کو ملانے والی سرحد سے شروع ہوتی ہے، جبکہ مغربی جانب ایران کے جزیرہ قشم کے آخری حصے سے امارات کے ام القوین تک پھیلی ہوئی ہے۔
اس ادارے کے مطابق اس علاقے سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ ’پرسین خلیج واٹر وے مینجمنٹ‘ کے ساتھ پیشگی رابطہ کریں اور اس ادارے سے اجازت حاصل کریں۔
یاد رہے کہ خلیج فارس واٹر وے اتھارٹی ایران۔عراق جنگ اور آبنائے ہرمز کے بحران کے بعد قائم کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی بحری تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ نے خلیج کے چھ ممالک کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے کیا ہے جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ملکی معیشت کو 3.7 ارب پاؤنڈ کا فائدہ ہوگا۔
برطانوی حکومت کے مطابق بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد برطانوی برآمدات پر عائد تقریباً 580 ملین پاؤنڈ سالانہ ٹیرف ختم ہو جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے برطانوی کمپنیوں کے لیے خلیجی منڈیوں میں کاروبار کرنا اور شراکت داری قائم کرنا آسان ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور موجودہ ملازمتوں کو بھی تحفظ ملے گا۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں انسانی حقوق اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق تفصیلات کا فقدان ہے۔
ادھر کنزرویٹو پارٹی، جس نے اپنی حکومت کے دوران اس معاہدے پر مذاکرات کا آغاز کیا تھا، کا کہنا ہے کہ یہ ’بریگزٹ کے بعد ایک اہم موقع‘ ہے، جسے لیبر پارٹی یورپی یونین کے ساتھ اپنے قریبی مؤقف کی وجہ سے ضائع کر سکتی ہے۔
اس معاہدے کے تحت چیڈر پنیر، مکھن اور چاکلیٹ سمیت بعض برطانوی مصنوعات پر درآمدی محصولات ختم کر دیے جائیں گے۔
برطانیہ اور خلیجی تعاون کونسل کے درمیان یہ معاہدہ وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کی حکومت کا تیسرا بڑا تجارتی معاہدہ ہے، اس سے قبل انڈیا اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی معاہدے کیے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیرِ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت مالیاتی منڈیوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
پیوش گوئل نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ’ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور متعدد اقدامات زیرِ غور ہیں۔ عالمی حالات اس وقت انتہائی چیلنجنگ ہیں۔‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈین روپیہ حالیہ دنوں میں بارہا اپنی تاریخ کی کم ترین سطح تک گر چکا ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے روپے کی قدر میں چھ فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتائی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہX/@IraninIslamabad
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے 20 ایرانی ملاحوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم انسانی اقدام قرار دیا ہے۔
ایرانی سفیر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاح سنگاپور کی حدود میں اپنے جہاز کی ضبطی کے باعث ایک مشکل صورتحال سے دوچار تھے۔
انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’میں حکومتِ پاکستان کی انسان دوست اور خیرسگالی پر مبنی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جن کے نتیجے میں ان ملاحوں کی رہائی ممکن ہوئی۔‘
ایرانی سفیر نے خاص طور پر وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور وزارتِ خارجہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششوں کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔
بیان کے مطابق سفارتی رابطوں اور مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ان ملاحوں کو سنگاپور سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، جس کے بعد وہ چند گھنٹوں قبل بحفاظت اپنے وطن ایران واپس پہنچ گئے۔
ایرانی سفیر نے اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثال قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ@Iran_GOV
پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی نے جمعرات کے روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ تہران میں ملاقات کی ہے۔
ایران کی حکومت کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری خبر میں اس ملاقات کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی ثالثی میں پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
ایرانی حکومت کے بیان کے مطابق وزیرِ خارجہ’ کے ساتھ محسن نقوی کی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کی گئی۔
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی بدھ کے روز تہران پہنچے تھے۔
اس سے قبل مئی کے دوسرے ہفتے میں حسن نقوی تقریباً چار روز ایران میں گزار کر گذشتہ روز منگل کو ہی پاکستان پہنچے تھے، جہاں انھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباسی عراقچی سمیت متعدد ایرانی شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کے رجحان میں اضافے کے وجہ سے انڈیکس میں 2600 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انڈیکس 167731 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز بھی تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں مکمل جنگ بندی کی پیش رفت کے امکان کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ایک بیرل خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے نیچے آگئی۔
سٹاک مارکیٹ تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہے جو امریکہ اور ایران کے درمیان پائیدار امن کے لیے کسی ممکنہ پیش رفت کے امکان کی وجہ سے نیچے آئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے آج صبح ایشیائی مارکیٹوں میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے اور پاکستان ’سٹاک مارکیٹ میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
شہریار بٹ نے کہا اس کے علاوہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں اس وقت سرمایے کی فراوانی ہے اور سرمایہ کار انویسٹ کرنا چاہتے ہیں جس کی مثال گزشتہ دنوں ایک کمپنی کے حصص کے لیے آئی پی او کی لانچنگ تھی جس میں لوگوں نے مقررہ قیمت سے زیادہ بولیاں دیں۔
انھوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اس سرمایے کی وجہ سے جب بھی کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے تو تیزی کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایراوانی نے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف امریکی صدر کی بار بار اور روزانہ کی دھمکیوں پر خاموش یا لاتعلق نہیں رہنا چاہئے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق امیر سعید نے امریکی صدر کی بار بار دھمکیوں کے سامنے کونسل کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ ٹرمپ ایران پر بمباری کرنے اور ایران کو ’پتھر کے دور‘ میں لوٹانے کی واضح دھمکی دیتے ہیں اور ملک کی توانائی، اقتصادی اور صنعتی انفرسٹرکچر کی تباہی، ایرانی جوہری سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے یہاں تک کہ ایرانی تہذیب کو تباہ کرنے کے بھی دھمکیاں دے چکے ہیں۔‘
انھوں نے اقوام متحدہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ ایران کے نقطہ نظر سے یہ خاموشی ایک ’خطرناک عمل‘ کو جنم دے سکتی ہے ہے جسے انھوں نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی جانب سے طاقت اور جارحیت کے خطرے کو معمول بنانے کا نام دیا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے لکھا کہ ایران کو طاقت کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا محض ایک خوش فہمی ہے۔
انھوں نے یہ بات سوشل نیٹ ورک ایکس پراپنے ایک پیغام میں کہی۔
ایرانی صدر نے لکھا کہ ’ایران نے اپنے وعدوں پر مسلسل عمل کیا ہے اور جنگ کو روکنے کے لیے تمام آپشنز تلاش کیے ہیں؛ ہماری طرف سے تمام راستے کھلے ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’ایران کو طاقت کے ذریعے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ سفارت کاری میں باہمی احترام جنگ سے زیادہ دانشمندانہ، محفوظ اور زیادہ پائیدار ہے۔‘
مسعود پزشکیان کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں تاہم اگر تہران معاہدے پر رضامند نہیں ہوا تو مزید حملے کیے جائیں گے۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خبروں کا سلسلہ جاری ہے تاہم جمعرات کے روز آگے بڑھنے سے پہلے ایک نظر گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
جنگ بندی کے قیام کے لیے ’آپریشن ایپک فیوری‘ روکنے کے تقریباً چھ ہفتے بعد بھی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ مزید حملوں کی منظوری دینے کے قریب پہنچ گئے تھے، تاہم مذاکرات کو مزید وقت دینے کے لیے انھوں نے یہ فیصلہ مؤخر کر دیا۔
انھوں نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے آخری مرحلے میں ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ یا تو ہم معاہدے تک پہنچ جائیں گے یا پھر ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو قدرے ناخوشگوار ہوں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’ہم اس عمل کو ایک موقع دے رہے ہیں۔ مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں زیادہ لوگوں کی ہلاکت کے بجائے کم جانی نقصان کو ترجیح دوں گا۔ صورتحال کسی بھی سمت جا سکتی ہے۔‘
دوسری جانب ایرانی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں ایران کے ردعمل کے اثرات مشرقِ وسطیٰ سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر دوبارہ فوجی حملہ شروع کرنے کے عندیے کے جواب میں کہا ہے کہ ’یقین رکھیں کہ میدان جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ’ایرانی پرچم بردار‘ ایک آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے روک لیا اور اس کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔
سینٹ کام کے مطابق بدھ کے روز بحیرۂ عمان میں ’امریکی بحریہ نے ایم ٹی سیلیسٹیئل سی نامی ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی ٹینکر پر سوار ہو کر کارروائی کی، جس پر شبہ تھا کہ وہ ایرانی بندرگاہ کی جانب سفر کرتے ہوئے امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکی افواج نے جہاز کا معائنہ کرنے اور عملے کو راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت دینے کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی۔‘
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج بحری ناکہ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک 91 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے تاکہ پابندیوں پر عمل یقینی بنایا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں بتیا ہے کہ ’راؤل کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔‘
بلانش کے مطابق کاسترو اور دیگر ملزمان پر طیارہ تباہ کرنے اور قتل کے چار مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں جب کیوبن فوجی طیاروں نے دو شہری جہازوں کو مار گرایا تھا تو اس واقعے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے خاندان دہائیوں سے ’انصاف‘ کے منتظر ہیں۔
اس حادثے میں ہلاک ہونے والے چار افراد 44 برس کے آرمینڈو الیخاندری جونیئر، 29 برس کے کارلوس البرٹو کوسٹا، 24 برس کے ماریو مانوئل دے لا پینیا اور 29 برس کے پابلو مورالس کے نام لینے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل بلانش نے کہا کہ ’کاسترو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف فردِ جرم ایک وفاقی عدالت نے جاری کی ہے۔‘
بلانش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ٹرمپ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہے جو امریکیوں کو قتل کرتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اپنے شہریوں کو نہ بھولتا ہے اور نہ ہی بھولے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ممالک اور ان کے رہنماؤں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ امریکیوں کو نشانہ بنائیں اور پھر جوابدہی سے بچ جائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راؤل کاسترو کون ہیں؟
94 برس کے راؤل کاسترو کیوبا کے سابق رہنما ہیں اور وہ 15 برس تک مُلک کی قیادت کر چُکے ہیں۔
انھوں نے اپنے بڑے بھائی فیدل کاسترو کی جگہ مُلک کی سربراہی سنبھالی، جو سنہ 1959 سے اس جزیرہ نما ملک کے رہنما تھے، جب انھوں نے آمر فلجینسیو باتیستا کے خلاف کامیاب کیوبن انقلاب کی قیادت کی تھی۔
سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے راؤل کاسترو نے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا اور ایک ایسی گوریلا فورس کے کمانڈر رہے جو حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
راؤل کاسترو نے بطور رہنما کمیونسٹ پارٹی کی یک جماعتی حکمرانی کو برقرار رکھا۔
انھوں نے سنہ 2014 سے سنہ 2016 کے درمیان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی نگرانی کی، جس میں سنہ 2016 میں صدر براک اوباما کے ساتھ تاریخی مذاکرات بھی شامل تھے۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پابندیوں میں اضافے کے باعث تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔
راؤل نے سنہ 2021 میں کیوبا کی صدارت اور کمیونسٹ پارٹی کی قیادت موجودہ صدر میگوئل دیاس کانیل کے حوالے کر دی، لیکن بہت سے لوگ اب بھی انھیں ہی ملک کا سب سے طاقتور شخص سمجھتے ہیں۔
اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت انھوں نے کیوبا کی کانگریس سے کہا تھا کہ ’جب تک میں زندہ ہوں، میں وطن، انقلاب اور سوشلزم کے دفاع کے لیے تیار رہوں گا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع‘ دینے کے فیصلے کو سراہتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی پاکستان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں فیصل بن فرحان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: ’سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو سراہتا ہے کہ انھوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا، (ایسا معاہدہ جو) آبنائے ہرمز میں باحفاظت سمندری نقل و حمل کی آزادی کو 28 فروری 2026 سے قبل کی حالت میں بحال کرنے اور تمام متنازع نکات کو اس انداز میں حل کرنے کی کوشش کی جو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مؤثر ہو۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کو بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
’سعودی عرب توقع رکھتا ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک مضمرات سے بچنے کے لیے اس موقع سے استفادہ کرے گا اور ایک جامع معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے ہونے والی کوششوں کا فوری مثبت جواب دے گا تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن حاصل کیا جا سکے۔‘