لائیو, ایران اور اسرائیل فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکیں، ٹرمپ کا پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ’فائرنگ‘ بند کر دینی چاہیے۔ اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج اور پاسدارانِ انقلاب دونوں کی ہی جانب سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے سامنے آئے۔ تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سُنی گئی ہیں تاہم ان میں جانی اور مالی نقصانات کے حوالے سے انتظامی کی جانب سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خلاصہ

  • اسرائیل کے مغربی اور وسطی ایران پر فضائی حملے، آئی ڈی ایف کا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
  • ایران نے حملہ کر کے ’سنگین غلطی‘ کی ہے: اسرائیلی فوج
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے
  • ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ 'یہ کارروائی عارضی نہیں بلکہ مسلسل حملوں کے ایک مکمل ہفتے کا آغاز ہے۔
  • پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن اصل مسئلہ متضاد امریکی بیانات ہیں: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ
  • پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ میں شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر کارروائی کے دوران 27 شدت پسند مارے گئے ہیں

لائیو کوریج

  1. اسرائیل اور ایران دوبارہ جنگ بندی پر عملدرآمد کریں: برطانوی وزیر اعظم

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر نے ایران اور اسرائیل دونوں سے جنگ بندی پر دوبارہ عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

    سٹامر نے کہا کہ انھیں مشرقِ وسطیٰ میں ’دوبارہ پُرتشدد واقعات پر گہری تشویش‘ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’پائیدار امن‘ کے لیے ’سنجیدہ مذاکرات‘ جاری ہیں۔

    سٹامر کے مطابق اس تنازعے کا ’دنیا بھر پر بہت بڑا اثر‘ پڑ رہا ہے جس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس لیے میں تمام فریقین سے کہتا ہوں کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جنگ بندی کی طرف واپس آئیں اور یہ بہت اہم ہے کہ ہم اس بارے میں بالکل واضح ہوں۔‘

  2. حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کا دعویٰ

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے آج صبح جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی گاڑیوں اور اہلکاروں کے ایک گروپ پر راکٹ حملے کیے ہیں۔

    ٹیلیگرام پر ایک تازہ بیان میں حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیت یاحون کے مضافات میں اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے ’جنگ بندی کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان کے دیہات پر حملوں‘ کے جواب میں کی گئی۔

    اسرائیل نے تاحال اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا اور یہ واضح نہیں کہ حملوں سے کتنا نقصان ہوا ہے۔

    اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیاں کر رہی ہے جن کا مقصد اس کے بقول حزب اللہ کو شمالی اسرائیل پر راکٹ داغنے سے روکنا ہے۔

    دریں اثنا لبنان میں امریکی سفیر نے لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ لبنان، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات دوبارہ واشنگٹن میں شروع ہوں گے۔

  3. امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ رُکا نہیں: ایرانی وزارت خارجہ, غنچہ حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ’پیغامات کا تبادلہ بند نہیں ہوا ہے۔‘

    بقائی نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا پیغامات کا تبادلہ گذشتہ روز سے جاری ہے یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی دو روز قبل تہران اس لیے پہنچے تھے تاکہ ’مذاکرات جاری رکھنے میں مدد دی جا سکے اور ثالثی سے متعلق امور انجام دیے جا سکیں۔‘

    پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اہم ثالث رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق محسن نقوی نے پاکستانی قیادت کی جانب سے ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک تحریری پیغام پہنچایا تھا۔

    یکم جون سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے قریبی سمجھے جانے والے ایرانی ذرائع ابلاغ میں بعض ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاجاً ایران امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ روک دے گا۔

    اطلاعات کے مطابق آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے بعد سے تہران اور واشنگٹن ابتدائی مرحلے میں ایک مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے وفود کے درمیان بالمشافہ مذاکرات کا ایک دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا۔

  4. چین کو ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر ’گہری تشویش‘

    Ministry of Foreign Affairs People’s Republic of China

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Foreign Affairs People’s Republic of China

    اپریل کے بعد پہلی بار ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے تبادلے پر چین نے ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی پر عملدرآمد اور سفارتی عمل جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’موجودہ صورتحال پر چین کو گہری تشویش ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ دوبارہ حملے شروع ہونا ’کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔‘

    چینی ترجمان نے کہا کہ بیجنگ کو امید ہے کہ تمام متعلقہ فریقین جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں کو پورا کریں گے، مذاکرات برقرار رکھیں گے اور سیاسی و سفارتی ذرائع سے اختلافات کا حل جاری رکھیں گے جس سے چین کے بقول ’ایک مکمل اور پائیدار جنگ بندی کی راہ ہموار ہوگی۔‘

    کشیدگی میں اضافے کے دوران اسرائیل میں چینی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو صورتحال میں پیش رفت سے خبردار کرتے ہوئے انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

    چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ شہری اسرائیلی حکام کی ’ہدایات پر عمل کریں، فوجی تنصیبات اور حساس مقامات سے دور رہیں، غیر ضروری سفر کم سے کم کریں اور سائرن بجنے یا موبائل فون پر الرٹ موصول ہونے کی صورت میں فوری طور پر پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔‘

  5. بریکنگ, اسرائیل اور ایران فوراً ’فائرنگ‘ بند کر دیں: ٹرمپ

    ٹروتھ سوشل

    ،تصویر کا ذریعہTruth Social

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کو فوری طور پر ’فائرنگ‘ بند کر دینی چاہیے۔

    اسرائیلی جوابی حملوں سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے ایرانی حملے کا جواب نہ دینے کا مطالبہ کریں گے۔

  6. ایران سے داغے گئے میزائل کی تصدیق شدہ ویڈیو, شایان سردارزادہ اور پال براؤن، بی بی سی ویریفائی

    ایران سے داغے گئے میزائل کی تصدیق شدہ ویڈیو

    ،تصویر کا ذریعہMehr News Agency

    بی بی سی ویریفائی نے دو ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے جن میں بظاہر گذشتہ رات ایران سے اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائل دکھائے گئے ہیں۔

    ایک ویڈیو کلپ مغربی ایران کے شہر کرمانشاہ میں حکومت حامی حلقوں کی طرف سے فلمایا گیا۔ اس میں آسمان میں دو پروجیکٹائل دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ ایرانی اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے لوگ ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگاتے ہیں۔

    اسی طرح ایک اور ویڈیو میں شہر کے اوپر سے گزرتا ہوا پروجیکٹائل دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہم نے تصدیق کی ہے کہ یہ دونوں ویڈیوز نئی ہیں اور انھیں اے آئی کے ذریعے تخلیق یا تبدیل نہیں کیا گیا۔

    ’تہران کی فضا میں ڈرون مار گرایا گیا‘

    دریں اثنا ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایرانی فضائی دفاعی نظام نے تہران کے اوپر پرواز کرنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا ہے۔

    یہ خبر ایرانی دارالحکومت میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

  7. ایران اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    ایران اور اسرائیل میں حملوں کے تبادلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 4.5 فیصد اضافے سے 97.30 ڈالرز فی بیرل ہو گئی جبکہ امریکی خام تیل 4.3 فیصد اضافے سے 94.50 ڈالرز فی بیرل پر جا پہنچا۔

    پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر ایشیا کی مارکیٹیں بھی شدید گراوٹ کا شکار ہوئیں اور جنوبی کوریا کا کوسپی جیسا اہم انڈیکس تقریباً آٹھ فیصد تک گر گیا۔

  8. بریکنگ, تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں

    ایران کے دارالحکومت تہران سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں، تاہم فوری طور پر ان کی نوعیت اور مقام کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ دھماکے حالیہ اسرائیلی حملوں سے متعلق ہیں یا نہیں۔ اسرائیل گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں کا دعویٰ کر چکا ہے۔

    حکام کی جانب سے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کے بارے میں سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  9. اسرائیلی اقدامات کی مکمل ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے: اسماعیل بقائی

    Tasnim

    ،تصویر کا ذریعہTasnim

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’اسرائیل امریکی اجازت کے بغیر خطے میں کوئی حرکت نہیں کرسکتا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔‘

    تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی براہِ راست ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اسرائیل کے اقدامات کو امریکی پالیسیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کوئی مان نہیں سکتا کہ اسرائیل امریکہ کے ساتھ کے بغیر خطے میں حرکت کرسکتا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ امریکہ کی طرف سے ترتیب دیا گیا تھا، اور یہی کشیدگی میں دوبارہ اضافےکا باعث ہے، امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی واضح ہے، ہم جنگ بندی کے پابند تھے اور وہی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، ہم ملکی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے نے ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جانبدارانہ اور غیر تکنیکی مؤقف اپنایا، امریکہ اور ’صہیونی ادارے‘ دوبارہ کشیدگی کا بنیادی عنصر تھے، لیکن آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ان کی مذمت تک نہیں کی۔‘

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسمائیل بقائی نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا حصہ تھا، جب جنگ بندی کی شق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو سفارتی ٹریک بھی متاثر ہوتا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا ’امریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے اب تک سفارتی راستے کو متاثر کیا ہے، ہم انتہائی بے اعتمادی کے ماحول میں امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ کر رہے تھے، 24 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا اس سے سفارتی عمل میں مزید مشکل پیدا ہو جائے گی۔‘

    ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی اہداف پر کیے گئے حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’حقِ دفاع‘ کے دائرے میں آتے ہیں۔

    وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ تہران کی یہ کارروائی لبنان میں جنگ بندی کی بار بار مبینہ اسرائیلی خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے بعد کی گئی۔

    بیان میں مزید خبردار کیا گیا کہ اگر لبنان یا ایرانی مفادات پر مزید اسرائیلی حملے کیے گئے تو ایران اس کا جواب زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ اس کی حالیہ فوجی کارروائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں اور انھیں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

  10. پاسدارانِ انقلاب کا ایرانی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں حیفہ کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر میزائل حملہ کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شہری اہداف اور تیل و توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ایک ’خطرناک کھیل‘ ہے جو پورے خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘

    اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والی تنصیبات میں ماہشہر میں واقع کارون پیٹروکیمیکل کمپنی بھی شامل تھی، اگرچہ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں اس کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا۔

    پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون آرگنائزیشن کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کارون پیٹروکیمیکل کمپنی پر دو حملے کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نقصانات کی نوعیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    اس سے قبل اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ماہشہر کے پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    حملے کے بعد ماہشہر سپیشل اکنامک زون کی انتظامیہ نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹروکیمیکل سپیشل اکنامک زون کے اعلیٰ حکام برائے سول دفاع اور مینجمنٹ کے فیصلے کے تحت تمام ڈیوٹی پر موجود ملازمین کو فوری طور پر علاقے سے نکال لیا گیا ہے۔

    کارون پیٹروکیمیکل کمپنی سنہ 2002 میں ایران کی پہلی پیٹروکیمیکل کمپنی کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ سالانہ 200 ہزار ٹن سے زائد پیٹروکیمیکل مصنوعات تیار کرتی ہے۔

  11. بریکنگ, اسرائیلی دفاعی افواج کا درجنوں جنگی طیاروں کی مدد سے ایران کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ’سٹریٹجک دفاعی نظاموں‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے مکمل کر لیے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے ایک نئے بیان کے مطابق وسطی اور مغربی ایران میں ہونے والی کارروائیوں میں اسرائیلی فضائیہ کے درجنوں جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران ایران کے متعدد دفاعی نظاموں کو نشانہ بنا کر انھیں غیر مؤثر کر دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا مزید کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی فضائی حدود میں اسرائیلی فضائیہ کی کارروائی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

  12. ایرانی وزیر خارجہ کے متعدد ممالک کے اعلیٰ حکام سے رابطے، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران کی کارروائیوں اور خطے کی تازہ صورتحال پر برطانیہ، ترکی، فرانس، قطر، عراق، مصر، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عراقچی نے برطانوی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر، ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان، فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بارو، قطری وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی، عراقی وزیر خارجہ فواد حسین، مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ گفتگو کی۔

    ان رابطوں کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان کے محاذ پر جنگ بندی کی بار بار مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں ایران کے مؤقف سے آگاہ کیا اور خطے میں جاری پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

    عراقی وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو میں آٹھ اپریل کی جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں ایران کے ردعمل پر بات چیت کی گئی۔

    مصری وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتحال، لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں اور مختلف محاذوں پر جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی ایران کی مسلح افواج کے ردعمل، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور لبنان سمیت خطے میں اسرائیلی کارروائیوں پر گفتگو ہوئی۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ رابطے تہران کی جانب سے جاری سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد لبنان کے خلاف اسرائیلی اقدامات کے اثرات اور خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔

  13. ’نیتن یاہو کو اسرائیل میں بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے‘, ہیوگو بچیگا، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    موجودہ ایرانی حکومت کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ’بڑا خطرہ‘ قرار دیتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ جنگ نے اس حکومت کو کمزور ضرور کیا ہے مگر یہ تاحال اس کا خاتمے کا باعث نہیں بن سکی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت پہلے سے زیادہ خوداعتماد اور شاید مزید جارحانہ نظر آتی ہے۔

    ایسے اشارے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ نیتن یاہو امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فکرمند ہیں، اور اس ممکنہ معاہدے کو وہ اسرائیل کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ایسی صورتِحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنگ دوبارہ شروع ہو جائے۔

    نیتن یاہو کو اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    حزب اللہ کے مسلسل حملوں پر بے اطمینانی کے باوجود لبنان میں جنگ جاری رکھنے کی حمایت موجود ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی حملے اس گروہ کو مزید کمزور کرنے کے لیے اور کیا حاصل کر سکتے ہیں، خصوصاً جب صدر ٹرمپ نے تنازع کو کم کرنے کی کوشش میں اسرائیلی کارروائیوں کو محدود کر رکھا ہے۔

    اسرائیل میں اکتوبر سے پہلے انتخابات ہونا ہیں اور اگر یہ صورتحال ایسے ہی جاری رہتی ہے تو وزیرِاعظم نیتن یاہو اپنی حکومت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

  14. ایران نے ایک بار پھر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    TASNIM

    ،تصویر کا ذریعہTASNIM

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کی میزائل صلاحیتوں کے ذریعے مقبوضہ علاقوں پر اپنی فوجی برتری ثابت کر دی ہے۔

    سوموار کی صبح سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں جنرل محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں اور خطے کی فضائی حدود اس کے اثر و رسوخ میں ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے تباہ کن میزائلوں کی زد میں ہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر اسرائیلی حملوں اور آٹھ اپریل کی جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد اسرائیلی فوجی اہداف پر میزائل حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔

    اتوار کی شب پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ اس نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے رامات ڈیوڈ ایئربیس کو نشانہ بنایا ہے، جسے اس نے لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا مرکز قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملہ جنوبی لبنان اور بیروت کے علاقے ضاحیہ میں شہریوں کی ہلاکتوں اور بے دخلی کے جواب میں کیا گیا۔

    سوموار کی صبح پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی فورس کے مطابق یہ کارروائی ایران کے اندر متعدد ریڈار تنصیبات پر اسرائیلی میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’جائز دفاعی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران کا ردعمل اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور لبنان کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ لبنان یا ایرانی مفادات پر کسی بھی مزید اسرائیلی حملے کا جواب زیادہ وسیع اور سخت انداز میں دیا جائے گا۔

  15. عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا عمل جاری

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔

    عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 4.5 فیصد بڑھ کر 97.30 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں خام تیل کی قیمت 4.3 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 94.50 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

    یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ آیا یہ حالیہ حملے جنگ کے دوبارہ پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں یا نہیں، لیکن آسٹریلیا کی جیمز کک یونیورسٹی سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر جیاجیا یانگ کے مطابق اس صورتحال کے باعث تیل کے تاجر ایک بار پھر عالمی تیل کی منڈیوں کے لیے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔

    پیر کے روز ایشیائی سٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا نمایاں رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اور جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں انڈیکس میں تقریباً 8 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

  16. ’ایران نے کچھ دیر قبل دوبارہ میزائل داغے ہیں، فضائی دفاع کا نظام ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال ہے،‘ اسرائیل کا دعویٰ

    اسرائیلی دفاعی افواج کا دعویٰ ہے کہ ایران نے ’کچھ دیر قبل‘ اسرائیل کی جانب دوبارہ میزائل داغے ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسرائیل کا فضائی دفاع کا نظام ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے فعال ہے‘ اور ممکنہ طور پر ہدف بنائے گئے اسرائیلی علاقوں میں عوام کو متنبہ کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل، ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، پاسدرانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے نیواتیم اور تل نوف میں موجود دو اسرائیلی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    دوسری جانب اسرائیل کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

  17. تہران کے دونوں بڑے ہوائی اڈوں سے پروازیں غیر معینہ مدت تک معطل

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ تہران کے دونوں بڑے ہوائی اڈوں، مہرآباد اور امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے تمام پروازیں اگلے حکم تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    ادارے کے ترجمان مجید اخوان نے کہا کہ گزشتہ رات ملک کے مغربی فضائی حدود کی بندش سے متعلق ایوی ایشن نوٹس جاری کیے جانے کے بعد مہرآباد اور امام خمینی ہوائی اڈوں سے پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔

    ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال ان دونوں ہوائی اڈوں کا رخ نہ کریں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

  18. اسرائیلی اہداف پر میزائل حملے، یمنی فوج کا بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری نقل و حرکت پر پابندی کا اعلان

    @Yahya_Saree

    ،تصویر کا ذریعہ@Yahya_Saree

    یمن کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ انھوں نے یافا کے علاقے میں اسرائیل کے حساس اہداف کو میزائلوں کے ایک سلسلے سے نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں میں مطلوبہ اہداف کامیابی سے حاصل کر لیے گئے ہیں۔

    فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق یہ حملے مخصوص اہداف پر کیے گئے، تاہم فوری طور پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ’یہ کارروائی ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں ’امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے۔‘

    یحییٰ سریع کے مطابق یمنی افواج نے اس امر کی بھی مخالفت کی ہے جسے وہ ’گریٹر اسرائیل‘ کے منصوبے اور ’نئے مشرقِ وسطیٰ‘ کے نام سے اسرائیلی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ اپنے عوام اور خطے کے دیگر ممالک پر عائد ’ناانصافی پر مبنی محاصرے‘ کو توڑنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    یمنی فوج کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’بحری میدان میں اسرائیلی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور بحیرہ احمر میں اسرائیلی مفادات کو فوجی اہداف تصور کیا جائے گا۔‘

    مزید کہا گیا ہے کہ ’کشیدگی کے جواب میں مزید کارروائیاں کی جائیں گی اور حالات کو دیکھتے ہوئے فوجی آپریشنز میں اضافہ کیا جائے گا۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے اور محاصرے کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔‘

    جبکہ یمنی فوج نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ’ان کے مطابق خطے میں جاری دباؤ اور محاصرے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔‘

  19. گلگت بلتستان میں انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری, عزیز اللہ خان، بی بی سی پشاور

    گلگت بلتستان کے انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق صرف تین حلقوں کے فارم 47 جاری ہوئے ہیں۔

    عیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق اب تک کسی بھی سیاسی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق اب تک صرف تین حلقوں کے فارم 47 جاری ہوئے ہیں جن کے مطابق جی بی اے-1 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین، جی بی اے-4 نگر سے محمد علی اختر جبکہ جی بی اے-11 کھرمنگ سے اقبال حسن کامیاب قرار پائے ہیں ۔

    تاہم چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کیونکہ گذشتہ شب ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا تھا تو ایسے میں فلوقت ووٹوں کی گنتی اور نتائج کو کمپائل کرنے کا عمل جاری ہے اور ایسے میں الیکشن کمشن گلگت بلتستان کی جانب سے کوئی بھی فار 47 جاری نہیں کیا ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ نتائج سامنے آنے کے عمل میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ کُچھ حلقوں میں دوبارہ گنتی کی درخواستیں سامنے آرہی ہیں تاہم جیسے ہی گنتی کا عمل مکمل ہو جائے گا تو نتائج کی تفصیلات اور فارم 47 جاری کر دیے جائیں گے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے 11 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن چھ نشستوں کے ساتھ دوسرے، آذاد امیدوار چار نشستوں کے ساتھ تیسرے، پی ٹی آئی دو نشستوں کے ساتھ چوتھے جبکہ ایک نشست مجلس واحدتِ مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے حصے میں آئی ہے۔

    واضح رہے کہ تین حلقوں کے علاوہ 21 نشستوں کے فارم 47 تاحال جاری نہیں ہوئے ہیں۔

  20. پاسدارانِ انقلاب کا اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع دو فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

    ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’پاسدارانِ انقلاب کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق سوموار کی صبح اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اور نواتیم ایئربیسز کو ہدف بنایا گیا۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کچھ ہی دیر قبل پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس نے اس کارروائی میں نواتیم اور تل نوف کے اہم اور سٹریٹجک فضائی اڈوں کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ ’یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے ایران میں متعدد ریڈار تنصیبات پر کیے گئے میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔‘ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جارحیت کے جواب میں فوری کارروائی اور اہداف کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اس مرحلے میں ان کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ ’ان کی تمام جنگی اور آپریشنل یونٹس مکمل طور پر تیار ہیں اور دشمن کے ممکنہ اقدامات کے جواب کے لیے جامع منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔‘