جب باکسنگ چیمپیئن محمد علی نے کہا ’میرے نبی کا نام میرے نام کا حصہ ہے، اس کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, وقار مصطفیٰ
- عہدہ, صحافی، محقق
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ہر سال لاکھوں سیاح فلم اور ٹیلی وژن کی عالمی راجدھانی لاس اینجلس کی مرکزی گزرگاہوں پر چلتے ہوئے ان میں نصب تفریحی دنیا کی نامور شخصیات کے ناموں سے مزین 2800 سے زائد ستاروں میں اپنی پسندیدہ شخصیت کا ستارہ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ مگر ان سینکڑوں ستاروں میں ایک ستارہ ایسا بھی ہے جس پر آج تک کسی نے قدم نہیں رکھا۔
یہ ستارہ عالمی ثقافتی علامت کی حیثیت رکھنے والے محمد علی کا ہے، جو تاریخ کے عظیم ترین ہیوی ویٹ باکسر قرار دیے جاتے ہیں۔
وہ 1964 سے 1970 تک رِنگ میگزین کے ہیوی ویٹ چیمپئن رہے، 1974 سے 1978 تک بلاشرکتِ غیرے عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن رہے، جبکہ 1978 سے 1979 تک ورلڈ باکسنگ ایسوسی اور رِنگ میگزین کے ہیوی ویٹ چیمپئن رہے۔ 1999 میں سپورٹس السٹریٹڈ نے انھیں ’صدی کا بہترین کھلاڑی‘ جبکہ بی بی سی نے ’صدی کی عظیم ترین کھیلوں کی شخصیت‘ قرار دیا۔
لیکن لاس اینجلس کی ہالی ووڈ بلیوارڈ پر واقع ’ہالی ووڈ واک آف فیم‘ میں صرف محمد علی کا ستارہ ہی زمین کی بجائے دیوار میں نصب ہے۔
بھلا کیوں؟
اس سوال کا جواب ہمیں 17 جنوری 1942 کو پیدائش کے بعد کاسیس کلے کا نام پانے والے اس امریکی باکسر کے 1964 میں اسلام قبول کرکے محمد علی نام اپنانے کے بعد ان کے خیالات کی تبدیلی میں تلاش کرنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ویتنام کے خلاف جنگ سے انکار
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق، 28 اپریل 1967 کو محمد علی نے ویتنام جنگ کے عروج کے دوران میں اپنے مذہبی عقائد کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی فوج میں بھرتی ہونے سے انکار کر دیا۔
برٹانیکا میں لکھا ہے کہ ’اس فیصلے کے نتیجے میں ان سے عالمی ہیوی ویٹ ٹائٹل چھین لیا گیا اور امریکہ کے تمام ریاستی ایتھلیٹک کمشنز نے انھیں ساڑھے تین سال تک مقابلہ کرنے سے روک دیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’بھرتی سے انکار پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اگرچہ وہ ضمانت پر آزاد رہے، لیکن چار سال بعد امریکی سپریم کورٹ نے ان کی سزا متفقہ طور پر کالعدم قرار دے دی‘۔
برٹانیکا میں لکھا ہے کہ جیسے جیسے 1960 کی دہائی میں سیاسی و سماجی ہلچل بڑھتی گئی، علی کا اثر امریکی معاشرے میں بھی گہرا ہوتا گیا اور وہ اختلافِ رائے کی ایک علامت بن گئے۔ ان کا سیاہ فام فخر اور سفید فام غلبے کے خلاف مزاحمت کا پیغام شہری حقوق کی تحریک کے مرکزی دھارے میں نمایاں حیثیت اختیار کر گیا۔
’امریکی فوج میں بھرتی سے انکار کے بعد وہ اس نظریے کی علامت بن گئے کہ جب تک قتل کے لیے کوئی بہت مضبوط وجہ نہ ہو، جنگ غلط ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’صرف مذہب کی بنا پر کسی کے خلاف نہ ہوں‘
برٹینیکا کے مطابق علی کے مذہبی نظریات بھی وقت کے ساتھ ارتقا پذیر رہے۔
’سنہ 1970 کی دہائی کے وسط میں انھوں نے قرآنِ مجید کا سنجیدگی سے مطالعہ شروع کیا اور ان کے ابتدائی نظریات، جو ایلیا محمد کی تعلیمات سے متاثر تھے (مثلاً یہ کہ سفید فام لوگ ’شیطان‘ ہیں اور جنت و جہنم کا کوئی تصور نہیں)، بعد ازاں تمام انسانوں کے لیے روحانی قبولیت اور آخرت کی تیاری میں بدل گئے‘۔
تھامس ہاؤزر کی لکھی سوانح عمری ’محمد علی: ہز لائف اینڈ ٹائمز‘ کے مطابق، علی نے کہا کہ ’اللہ نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے، چاہے ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ’اگر آپ کسی کے خلاف صرف اس لیے ہیں کہ وہ مسلمان ہے تو یہ غلط ہے۔ اگر آپ کسی کے خلاف صرف اس لیے ہیں کہ وہ مسیحی یا یہودی ہے تو یہ بھی غلط ہے‘۔
سنہ 1972میں علی نے حج ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلاحی کام اور امن کا فروغ: اللہ سے ملنے کی تیاری
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنہ 1977میں کلو برائن کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنی باقی زندگی اللہ سے ملنے کی تیاری کے لیے وقف کریں گے، یعنی لوگوں کی مدد، فلاحی کاموں، انسانوں کو قریب لانے اور امن کے فروغ کے لیے کام کریں گے۔
سنہ 1981 میں محمد علی ریٹائر ہوئے تو ان کا حتمی ریکارڈ 56 فتوحات اور پانچ شکستوں پر مشتمل تھا، جس میں 37 ناک آؤٹ شامل ہیں۔
برٹانیکا کے مطابق اگرچہ یہ کارکردگی دیگر باکسرز نے بھی دہرائی، لیکن ان کے حریفوں کی اعلیٰ معیار کی فہرست اور اپنے عروج کے دور میں جس انداز سے انھوں نے مقابلوں میں غلبہ حاصل کیا، اس نے انھیں باکسنگ کی عظیم شخصیات کی صف میں منفرد مقام عطا کیا۔
’علی کی رنگ کے اندر نمایاں خصوصیات میں رفتار، شاندار فٹ ورک، اور ضربیں سہنے کی صلاحیت شامل تھیں۔ تاہم شاید اس سے بھی زیادہ اہم ان کی جرات اور وہ تمام غیر محسوس خصوصیات تھیں جو ایک عظیم فائٹر کی تشکیل کرتی ہیں۔‘
انھوں نے 1988 میں بھی حج ادا کیا۔
سنہ 1996 میں اٹلانٹا، جارجیا میں منعقد ہونے والے 26ویں اولمپیاڈ کے آغاز پر محمد علی کو اولمپک شعلہ روشن کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برٹانیکا کے مطابق اس موقع پر لوگوں کی ان سے والہانہ محبت اور عقیدت نے دنیا کے سب سے زیادہ محبوب کھلاڑیوں میں سے ایک کے طور پر ان کی حیثیت کو مزید مستحکم کر دیا۔
گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد انھوں نے کہا کہ ’اسلام امن کا مذہب ہے‘ اور یہ کہ ’یہ دہشت گردی یا قتل کی تعلیم نہیں دیتا‘۔
دسمبر 2015 میں پیرس حملوں کے بعد انھوں نے کہا کہ ’حقیقی مسلمان جانتے ہیں کہ نام نہاد اسلامی جہادیوں کا بے رحم تشدد ہمارے مذہب کے اصولوں کے خلاف ہے‘۔
انھوں نے صوفی ازم میں بھی دلچسپی لی، جس کا ذکر انھوں نے اپنی 2003 کی سوانح عمری ’دی سول آف اے بٹر فلائی‘ میں کیا۔
علی ایک انسان دوست اور فلاحی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔
پال جے کرسٹوفر اور الیشیا میری سمتھ نے اپنی کتاب ’گریٹسٹ سپورٹس ہیروز آف آل ٹائمز‘ میں لکھا ہے کہ وہ اپنے اسلامی فریضے یعنی خیرات اور نیک اعمال کے ادا کرنے پر خاص توجہ دیتے تھے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ضرورت مند افراد اور فلاحی اداروں کو لاکھوں ڈالر عطیہ کرتے رہے۔
اندازوں کے مطابق، محمد علی نے دنیا بھر میں بھوک کا شکار دو کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد کو خوراک فراہم کرنے میں مدد کی۔
اپنے کریئر کے ابتدائی دور میں ان کی بنیادی توجہ نوجوانوں کی تعلیم پر بھی مرکوز رہی۔
انھوں نے فلسطین کے حق میں ریلیوں میں بھی شرکت کی۔
محمد علی کے ستارے کی جگہ دوسروں سے مختلف کیوں؟
صحافی برائن مکبرائیڈ کے مطابق محمد علی اپنی انفرادیت کے ساتھ ساتھ ہالی ووڈ واک آف فیم پر اپنے ستارے کی منفرد جگہ کے لیے بھی مشہور ہیں۔
سیاحتی معلومات کے مطابق ہالی ووڈ واک آف فیم لاس اینجلس کی مشہور ہالی ووڈ بلیوارڈ پر واقع ہے۔ سنہ 1960 میں اپنے آغاز کے بعد سے یہ ان ستاروں کو دیکھنے کے خواہش مند سیاحوں کے لیے ہمیشہ ایک بڑی کشش رہا ہے۔ اندازاً ہر سال ایک کروڑ سے زائد سیاح اس 18 بلاکس پر مشتمل علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔
اس واک آف فیم کا انتظام ہالی ووڈ چیمبر آف کامرس کے پاس ہے، جبکہ اس کی دیکھ بھال خود کفیل ادارہ ہالی ووڈ ہسٹورک ٹرسٹ کرتا ہے۔
اس وقت یہاں 2,800 سے زائد ستارے موجود ہیں، جن میں سے ایک کے علاوہ تمام زمین میں نصب ہیں، اور زیادہ تر فٹ پاتھ میں چھ فٹ کے وقفے سے لگے ہوئے ہیں۔ واک آف فیم میں سینکڑوں خالی ستارے بھی موجود ہیں جو مستقبل کے اعزاز یافتگان کے لیے جگہ محفوظ رکھتے ہیں۔
ہر شخصیت کا نام ستارے کے اوپری حصے میں پیتل کے حروف میں درج ہوتا ہے، جبکہ نیچے ایک گول پیتل کا نشان اس کی خدمات کے شعبے کی نشان دہی کرتا ہے۔
ہالی ووڈ بلیوارڈ پر ستارے مشرق یا مغرب کی سمت میں جبکہ وائن سٹریٹ پر شمال یا جنوب کی سمت میں رکھے جاتے ہیں تاکہ پیدل چلنے والے جس بھی سمت میں چلیں، ان کے سامنے ستارے موجود ہوں۔
مکبرائیڈ لکھتے ہیں کہ اگرچہ ہالی ووڈ بلیوارڈ اور وائن سٹریٹ پر پیتل کے ہزاروں ستارے فٹ پاتھ میں نصب ہیں، لیکن محمد علی کا ستارہ واحد ہے جو زمین پر نہیں بلکہ عمودی نصب کیا گیا ہے۔
یہ استثنیٰ کیوں دیا گیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مکبرائیڈ کے مطابق سنہ 2002میں ہالی ووڈ چیمبر آف کامرس نے 6801 ہالی ووڈ بلیوارڈ پر محمد علی کو لائیو پرفارمنسز کے زمرے میں ان کی شان دار کامیابیوں کے اعتراف میں ستارہ دیا۔
تاہم محمد علی کی درخواست پر ان کا ستارہ روایتی طور پر زمین میں نصب کرنے کے بجائے ایک سٹینڈ پر پیش کیا گیا اور بعد میں اسے ڈولبی تھیٹر کے داخلی دروازے کے قریب دیوار پر آویزاں کر دیا گیا، جہاں اسی سال سے آسکرز کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔
وہ سیکڑوں مداحوں کے درمیان موجود تھے جو ان کے نام کے نعرے لگا رہے تھے۔
ہالی ووڈ بلیوارڈ پر اپنا ستارہ قبول کرتے ہوئے، علی جو 1960 میں روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر شہرت کی بلندیوں تک پہنچے تھے، نے وضاحت کی کہ ان کا ستارہ دوسری مشہور شخصیات کی طرح فٹ پاتھ میں نصب کرنے کے بجائے تھیٹر کی دیوار پر کیوں آویزاں کیا گیا۔
انھوں نے تھیٹر کے باہر موجود بڑے ہجوم سے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ میرا ستارہ فٹ پاتھ پر ہو، کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس پر قدم رکھے‘۔
سابق باکسر نے مزید کہا کہ ’میرے محبوب نبی محمد کا نام میرے نام کا حصہ ہے، اس لیے میں اس کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتا‘۔
عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی تو دس سال پہلے 74 برس کی عمر میں ایریزونا میں فوت ہو گئے لیکن ہالی ووڈ بلیوارڈ پر ہالی ووڈ واک آف فیم پر ان کے نام کا ستارہ اب بھی چمکتا ہے۔
لوگ اس پر سے گزرتے نہیں، اسے سر اٹھا کر دیکھتے ہیں!



























