’زمین پر قبضے‘ سے متعلق نیپالی وزیر اعظم کا بیان اور سرحدی تنازعے پر انڈیا کی وضاحت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مہتاب عالم
- عہدہ, بی بی سی اردو
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
نیپال کے وزیراعظم بالین شاہ کے اتوار کو پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہوا ہے۔ اس پر منگل کو انڈیا کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ نیپال کے ساتھ سرحدی معاملات کے حل کے لیے کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
کٹھمنڈو پوسٹ کی ایک خبر کے مطابق اتوار کو نیپالی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بالین شاہ نے کہا تھا کہ ’وزیراعظم بننے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ صرف انڈیا ہی نیپال کی زمین پر قبضہ نہیں کر رہا بلکہ نیپال نے بھی کئی مقامات پر انڈیا کی زمین پر قبضہ کیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے انڈیا اور چین سے ہی نہیں بلکہ برطانوی حکومت سے بھی بات کی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ برطانیہ کو بھی اس معاملے میں دلچسپی لینی چاہیے کیونکہ اس مسئلے کا تعلق اس دور سے ہے جب برٹش حکمران انڈیا کا یہ علاقہ چھوڑ کر گئے تھے۔‘
دراصل شرم شکتی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ آرین رائے نے انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحدی تنازع پر ایوان میں سوال کیا تھا جس کے جواب میں نیپالی وزیر اعظم نے یہ بیان دیا تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس نیپال میں نوجوانوں کی ’جین زی‘ حکومت مخالف تحریک کے بعد اس سال پانچ مارچ کو ہونے والے انتخابات میں بالین شاہ کی پارٹی آر ایس پی نے شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد حکومت بنائی تھی۔
بالین شاہ کو لے کر انڈیا میں امید تھی کہ ان کے اقتدار میں آنے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں گرمجوشی آئے گی۔ لیکن ان کی طرف سے ایسی کوئی گرمجوشی نہیں دکھائی گئی۔
بلکہ حکومت سازی کے بعد سے ایسی کئی خبریں آئیں جن کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول کے مطابق نہیں کہا جا سکتا۔
اس سال اپریل میں نیپال ایئرلائنز نے ایک ’نیٹ ورک میپ‘ میں انڈیا کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا تھا جس پر ہنگامے کے بعد ایئرلائنز نے ’میپ سے متعلق غلطیوں‘ کے لیے معافی مانگ لی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کا ردعمل
منگل کو نیپال کے وزیر اعظم کے بیان پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے نیپال کے وزیرِ اعظم کی جانب سے انڈیا-نیپال سرحد کے حوالے سے کیے گئے تبصروں اور نیپال کی وزارت خارجہ کے بیان کو دیکھا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’انڈیا۔نیپال سرحد کا تقریباً 98 فیصد حصہ پہلے ہی متعین کیا جا چکا ہے۔ تاہم کچھ حصوں میں چند مسائل تاحال حل طلب ہیں۔ یہ صورت حال دریائے گنڈک کے بہاؤ میں تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔‘
نئی دہلی کے مطابق ’سرحد پار دراندازی اور بعض متعین علاقوں میں نو مینز لینڈ پر قبضوں کے معاملات بھی موجود ہیں، جن کی اس وقت مشترکہ نقشہ بندی کی جا رہی ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہم نے سرحد سے متعلق تمام مسائل کے حل کے لیے دوطرفہ طریقہ کار قائم کر رکھے ہیں۔
’تمام متعلقہ فریقین کے لیے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ انڈیا اور نیپال کے درمیان تمام دوطرفہ معاملات صرف ان دونوں ممالک کے درمیان ہی حل کیے جائیں گے، اور ایسے معاملات میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیپالی وزیراعظم کے حالیہ بیان کے بعد ملک کی اپوزیشن پارٹیوں نے بالین شاہ کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہویے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔۔
بی بی سی نیپالی کے مطابق نیپالی کانگریس کی رہنما واسنا تھاپا نے کہا کہ ’ہمیں جلد بتایا جانا چاہیے تھا کہ کس زمین پر قبضہ ہوا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتراض مسئلہ ہے۔‘
انھوں نے وزیراعظم کے بیان کو پارلیمنٹ کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔ وہیں نیپالی کمیونسٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رامیش ملا نے بھی اسے ایک سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے بیان کو ریکارڈ سے ہٹانے کی درخواست کی ہے۔
نیپال کے سابق ڈپٹی وزیر اعظم کمل تھاپا نے کہا کہ اگر وزیراعظم کو لگتا ہے کہ نیپال نے انڈین زمین پر قبضہ کیا ہے تو عزت کے ساتھ اسے انڈیا کو واپس کر دینا چاہیے۔
انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’انھیں عوام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ وہ کون سی جگہ ہے اور اس کے کیا ثبوت ہیں۔ انھیں فوراً اس غلطی کو درست کرنا چاہیے اور عزت کے ساتھ وہ زمین انڈیا کو واپس کر دینی چاہیے۔ تاہم میرے خیال میں وزیر اعظم کا یہ بیان غلط ہے اور بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔‘
بالین شاہ کے بیان پر نیپالی وزارت خارجہ کی صفائی
ہنگامہ بڑھنے کے بعد نیپال کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کی طرف سے نیپال کے لپیولیکھ علاقے سے ہو کر مانسارور تیرتھ یاترا کا راستہ کھولنے کے مسئلے پر نیپال حکومت نے اپنا موقف سفارتی نوٹ کے ذریعے انڈیا کو بھیجا تھا، جس کا جواب بھی مل گیا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ دریاؤں کے راستے بدل جانے کی وجہ سے ان مقامات کے علاوہ کچھ اور مقامات پر ’سرحد پار قبضے‘ جیسے مسائل ہیں، جنھیں دونوں ممالک نے بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ماہرین کا بھی خیال ہے کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انڈیا اور نیپال کے درمیان تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی اور نیپالی سیاست پر کتابوں کے مصنف آنند سوروپ ورما نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بالین شاہ کا یہ بیان غیر ضروری ہے۔
ان کے مطابق ’انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحد سے متعلق تمام مسائل طے شدہ ہیں۔ جہاں تک دریاؤں کے راستے بدلنے کی وجہ سے دونوں ممالک کے کچھ علاقوں میں تبدیلی کا سوال ہے تو اسے بات چیت کے ذریعے سلجھایا جا سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہYouTube
ان کا خیال ہے کہ ’اس کے لیے انڈیا اور نیپال کے علاوہ کسی دوسرے ملک کو اس میں شریک کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر بالین شاہ چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل نکلے تو انھیں دونوں ممالک کے ماہرین اور سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اس پر کوئی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ اس طرح کی بے بنیاد بیان بازی کرنی چاہیے۔‘
دریں اثنا بالین شاہ کی سیاسی جماعت آر ایس پی کے صدر ربی لامیچھانے پانچ روزہ دورے پر انڈیا پہنچے۔ بی بی سی نیپالی کے مطابق انڈیا روانہ ہونے سے قبل تریبھوون بین الاقوامی ہوائی اڈے (ٹی آئی اے) پر انھوں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا اور صرف اتنا وعدہ کیا کہ وہ واپس لوٹ کر میڈیا سے بات چیت کریں گے۔
خیال رہے کہ وہ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی دعوت پر دہلی پہنچے ہیں۔ وہ بی جے پی کے صدر نیتن نوین اور اعلیٰ حکومتی حکام سے بھی ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، لامیچھانے اور وزیر انڈین خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان ملاقات بی جے پی دفتر میں مقرر تھی۔ تاہم لامیچھانے کی انڈین وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کی توثیق بدھ کو ہوئی تھی، لیکن وقت ابھی بھی غیر یقینی ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ دورہ ماضی سے زیادہ اہم ہے؟ انڈیا میں نیپال کے سابق سفیر شنکر شرما کے مطابق ’اب جب بی جے پی کے نئے صدر نیتن نوین سے ملاقات ہو رہی ہے تو پالیسی میں کچھ تبدیلی ہو سکتی ہے۔‘
انڈیا اور نیپال کے درمیان سرحدی تنازع کیا ہے؟
خیال رہے کہ انڈیا اور نیپال کے درمیان نقشے کو لے کر تنازع کافی پرانا ہے۔ اس میں لپولیکھ سے جڑا تنازع سب سے اہم ہے۔ نیپال دعویٰ کرتا رہا ہے کہ مہاکالی دریا کے مشرقی حصے میں لمپیادھورا، کالاپانی اور لپولیکھ کے ساتھ تمام علاقے 1816 کے سوگولی معاہدے کی بنیاد پر نیپال کا حصہ ہیں۔
لپولیکھ نیپال کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ انڈیا، نیپال اور چین کی سرحد سے متصل ہے۔ انڈیا اس علاقے کو اپنی ریاست اتراکھنڈ کا حصہ مانتا ہے۔
سال 2025 میں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی تجارت شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ یہ تجارت تین مقررہ راستوں، لپولیکھ پاس، شپکی لا پاس اور ناتھو لا پاس سے ہوگی۔ سال 2020 میں مشرقی لداخ کے گلوان میں انڈیا اور چین کے درمیان جھڑپ کے بعد سرحدی تجارت بند ہو گئی تھی۔
لیکن دسمبر 2024 میں دونوں ممالک نے اسی سرحدی راستے سے کیلاش مانسروور یاترا شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس کے بعد انڈیا اور چین کے درمیان لپولیکھ سے سرحدی تجارت دوبارہ شروع کرنے کے اعلان پر نیپال میں سوالات اٹھے تھے۔ نیپال کی وزارت خارجہ نے اس پر اپنا بیان جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا کہ نیپال حکومت مسلسل انڈین حکومت سے کہہ رہی ہے کہ اس علاقے میں سڑکوں کی تعمیر یا توسیع نہ کی جائے اور نہ ہی سرحدی تجارت جیسی کوئی سرگرمی کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ نیپال کی حکومت نے چین کی حکومت کو پہلے ہی اطلاع دے دی ہے کہ یہ علاقہ نیپال کا حصہ ہے۔‘
اس وقت انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ انڈیا اور چین کے درمیان لپولیکھ درے سے سرحدی تجارت 1954 میں شروع ہوئی تھی اور کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ تجارت کووڈ اور دیگر وجوہات کی بنا پر متاثر ہوئی تھی، لیکن اب دونوں فریقین نے اسے دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
سال 2015 میں جب چین اور انڈیا کے درمیان تجارت اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے معاہدہ ہوا تھا، تب بھی نیپال نے دونوں ممالک کے سامنے احتجاج درج کرایا تھا۔ نیپال کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے لیے نہ تو انڈیا نے اور نہ ہی چین نے اسے اعتماد میں لیا، جبکہ اس کے لیے تجویز کردہ سڑک اس کے علاقے سے ہو کر گزرنے والی تھی۔
انڈیا اور نیپال کے درمیان 1,850 کلومیٹر لمبی سرحد ہے، جو سکم، مغربی بنگال، بہار، اتر پردیش اور اتراکھنڈ سے متصل ہے۔



























