علی خامنہ ای کی آخری رسومات، سرکاری وفود اور قرآنی آیات: ’یہ صرف تلاوت نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام تھا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, بی بی سی عربی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کافی بحث چل رہی ہے۔
تقریب کے ذریعے سیاسی پیغام دینے کی کوشش اور اس میں غیر ملکی سرکاری وفود کی شمولیت کے علاوہ ان تقریبات کے دوران موسیقی، وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات اور وہاں نظر آنے والے مناظر نے بھی صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے۔
اتوار کو تہران میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔
جمعے کے روز تہران میں شروع ہونے والی آخری رسومات کئی روز تک جاری رہیں گی۔ جمعے کے روز بین الاقومی وفود بشمول عرب اور اسلامی دنیا سے آئے سرکاری وفود نے شرکت کی۔
اس موقع پر علی خامنہ ای کا تابوت ایک ہال میں رکھا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر صارفین تقریب کی تفصیلات سے زیادہ اس کے ذریعے دیے جانے والے مبینہ پیغامات کو ڈی کوڈ کرنے میں دلچسپی لیتے دکھائی دیے۔
ایرانی حکام کو توقع ہے کہ کئی روز تک جاری رہنے والی ان تقریبات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد شرکت کریں گے۔ حکام کے مطابق انھوں نے تقریبات میں شامل افراد کی سہولت کے لیے ہزاروں سروس ٹینٹ لگائے ہیں، دس لاکھ سے زائد زائرین کے لیے رہائش کا انتظام کیا ہے اور ہجوم کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے وسطی تہران میں ایک علیحدہ راستے کا تعین کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPakistan PM Office
سرکاری وفود کی آمد پر بجائی جانے والی موسیقی
پہلی چیز جس نے بہت سے صارفین کی توجہ حاصل کی وہ موسیقی تھی جو تعزیت کے لیے آنے والے وفود کے ہال میں داخلے کے وقت بجائی جاتی۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے کئی ایسی کلپس شیئر کیں جن میں وفود کے ہال میں داخلے کے ساتھ ہی موسیقی بجتی سنائی دیتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری سطح پر ایرانی حکام کی جانب سے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ آیا موسیقی کا انتخاب مخصوص وفود کی مناسبت سے کیا گیا تھا یا نہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے ایک باضابطہ میوزیکل ورک ترتیب دیا گیا ہے جس کا عنوان ’شہید لیڈر‘ ہے۔ اسے ایرانی فنکار امیر حسین سمیعی نے ترتیب دیا ہے۔
یہ موسیقی چھ حصوں پر مشتمل ہے جنھیں ’امر ہو جانے‘، ’سفر‘، ’باپ‘، ’دوبارہ زندہ کیے جانے‘، ’جدائی‘ اور ’الوداع‘ کا نام دیا گیا ہے۔
ارنا کے مطابق موسیقی کے ان تمام حصوں کو آخری رسومات کی علیحدہ علیحدہ تقریبات کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہال میں رکھے دیگر تابوت کن کے ہیں؟
ایک اور بات جس نے سوشل میڈیا پر صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی وہ ہال میں خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ رکھے گئے دیگر تابوت تھے۔
صحافی اور پروفیسر ڈاکٹر حسین الصفی ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کرتے ہیں کہ ہال میں رکھے گئے تابوت خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد بشمول ان کی بیٹی بشریٰ، پوتی زہرہ محمدی، داماد مصباح الحودہ اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرہ حداد عادل کے ہیں۔
اس کے علاوہ کئی صارفین اس حوالے سے مختلف میڈیا رپورٹس پر انحصار کرتے نظر آئے۔

،تصویر کا ذریعہX
کیا آنے والے ہر سرکاری وفد کے لیے مختلف قرآنی آیات کا انتخاب کیا گیا تھا؟
ان تقریبات کے حوالے سے یہ شاید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔
بہت سے صارفین نے دیکھا کہ بعض سرکاری وفود جب ہال میں تعزیت کے لیے رکے تو اس وقت قرآنی آیات کی تلاوت کی گئی، تاہم بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ ہر وفد کے لیے مختلف آیات کا انتخاب کیا گیا تھا۔ کئی افراد نے سوال اٹھایا کہ آیا ہر وفد کے لیے منتخب کی جانے والی آیات کے پیچھے کوئی خاص وجہ تھی۔
جب سعودی وفد ہال میں آیا تو اس وقت سورہ آل عمران کی آیت نمبر 13 کی تلاوت کی گئی جس میں دو گروہوں کے بارے میں بات کی گئی ہے جس میں سے ایک ’اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا‘ اور دوسرا گروہ ’کافروں‘ کا۔ اس میں مسلمانوں کے لیے اللہ کی مدد کی بات کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
محمد العثمان الراشد نامی صارف لکھتے ہیں کہ یہ آیت غالباً ’صرف تلاوت نہیں تھی... بلکہ ایک سیاسی یا علامتی پیغام تھا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسی آیات سیاستدانوں اور سفارت کاروں کو اشارے دینے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
رسالی المالکی نے مختلف وفود کی آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات کی فہرست شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ آیات بے ترتیب نہیں تھیں، ’بلکہ انھیں احتیاط سے منتخب کیا گیا تھا۔‘
شوریٰ کونسل کے سپیکر حسن بن عبداللہ الغنیم کی سربراہی میں جب قطری وفد تعزیت کے لیے ہال میں آیا تو اس وقت سورۃ الفتح کی دوسری آیت کی تلاوت کی گئی جس میں خدا کی جانب سے اگلے اور پچھلے گناہ بخشے جانے اور ’سیدھی راہ‘ دکھائے جانے کی بات کی گئی ہے۔
ترک وفد کی آمد پر سورہ نساء کی آیت نمبر 95 کے ایک حصے کی تلاوت کی گئی جس میں خدا کی راہ میں لڑنے والوں کو دیگر سے بہتر بتایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
اور جب حماس کا وفد تعزیت کے لیے آیا تو سورہ احزاب کی آیت 23 پڑھی گئی، جس میں اپنے عہد کو سچا کردکھانے والوں اور اب بھی ’انتظار کرنے‘ والوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
جب لبنانی حزب اللہ کا وفد ہال میں آیا تو اس موقع پر سورہ المائدہ کی آیت نمبر 56 پڑھی گئی جس میں ’خدا کی جماعت‘ کے غلبہ پانے کی بات کی گئی ہے۔
کئی صارفین اس بات کو بھی رد کرتے نظر آئے کہ ہر وفد کی آمد کے وقت پڑھی جانے والی آیات کا کچھ خاص مقصد تھا۔ نجاح محمد علی نے ہر وفد کے لیے مخصوص آیات پڑھے جانے کے الزام کو ’جھوٹا دعوہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران اپنے مہمانوں کا احترام کرتا ہے اور وہ ایسا نہیں کرتا۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ان کا کہنا تھا کہ آیات کو وفود کی شناخت سے جوڑنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔
یاد رہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے ان آیات کے انتخاب کے طریقہ کار کے حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
جنازہ یا سیاسی پیغام؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا پر بحث تقریب کی تفصیلات تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات کے متعلق بھی ہو رہی ہے۔
متعدد صارفین کئی دنوں تک جاری رہنے والی تقریبات اور مختلف ممالک اور تنظیموں کے وفود کی موجودگی کو جنگ کے بعد ایرانی ریاستی اداروں کی ہم آہنگی کو ظاہر کرنے کی کوشش کی عکاسی قرار دیتے ہیں۔
اس تناظر میں محقق محمد صالح صدیقی لکھتے ہیں کہ زیادہ تر بحث نئے سپریم لیڈر کی اپنے والد کے جنازے میں غیر موجودگی اور وفود کے آمد کے موقع پر پڑھی جانے والی قرآنی آیات کی جانب مڑ گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تجزیے اس بات کا کیا جانا چاہیے کہ آیا ایران ایک نئی حقیقت کے ساتھ ابھرنا چاہتا ہے اور کیا یہ طویل تقاریب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران ’اپنے سیاسی نظام کی قانونی حیثیت کو تقویت دینے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
عبداللہ اللوحیدان بھی کچھ ایسا ہی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے خامنہ ای کے جنازے کو ایک اہم سیاسی تقریب میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی مدد سے جنگ کے بعد ’تسلسل‘ اور ’اتحاد‘ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس کے باوجود ان کا ماننا ہے کہ ایران کو اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب کئی صارفین کا خیال ہے کہ اس طرح کی تشریحات سے تقریب کا ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جو شاید اس کا مقصد نہیں تھا، اور یہ کہ خامنہ ای جیسی قدآور شخصیت کے لیے اتنے بڑے سرکاری جنازے کے انعقاد کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس کی ہر تفصیل کوئی سیاسی پیغام رکھتی ہے۔

























