لاہور میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گِرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت کا مقدمہ درج: ’سمجھ نہیں آ رہی تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘

لاہور

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’عمارت کی چھت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور چھت پر لگی ٹائلوں کی مرمت کا کام جاری تھا‘
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

پاکستان کے شہر لاہور میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچوں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے عمارت کے مالک سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ واقعہ منگل کی شام صوبہ پنجاب کے دارالحکومت کے مضافاتی علاقے کاہنہ میں پیش آیا، جہاں ٹیوشن پڑھنے کے لیے کمرے میں موجود بچوں پر چھت آ گری۔

ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں پانچ سے 16 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سات بچیاں بھی شامل ہیں۔

بی بی سی کے فرقان الہی کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے سات بچوں کی نماز جنازہ منگل کی رات جبکہ تین کی نماز جنازہ بدھ کی صبح ادا کر دی گئی ہے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس واقعے کی اطلاع منگل کی شام پونے پانچ بجے موصول ہوئی جس کے بعد ایک گھنٹے کے اندر ریسکیو کارروائی مکمل کر لی گئی تھی۔

لاہور

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت میں 30 سے زیادہ بچے موجود تھے اور ریسکیو آپریشن میں 20 بچوں کو بحفاظت نکالا گیا۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ایک خاتون استاد اور پانچ بچے زخمی بھی ہوئے جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اس واقعے کا مقدمہ انفورسمنٹ انسپکٹر نشتر زون کاشف اسلم کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں غفلت اور لاپرواہی کو سانحے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔

ایف آئی آر میں کسی شخص کو نقصان، تکلیف یا چوٹ پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق عمارت کے خستہ حال کمرے کی چھت کے اوپر مرمت کا کام بھی جاری تھا، اضافی بوجھ کی وجہ سے یہ چھت گر گئی جو بچوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا سبب بنی۔

ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق پولیس نے جن تین افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں مکان کا مالک، اس کا بھائی اور تعمیراتی کام کرنے والا مستری شامل ہیں۔

لاہور چھت
،تصویر کا کیپشن’ہمارے علاقے میں کئی خاندان اپنے بچوں کی موت کے غم میں مبتلا ہیں‘

’سمجھ نہیں آ رہی تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں‘

متاثرین میں شامل ایک بچی کے چچا نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ عمارت کی چھت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور چھت پر لگی ٹائلوں کی مرمت کا کام جاری تھا۔

انھوں نے کہا کہ مرمت کے اسی کام کے دوران ’اچانک چھت بچوں پر آ گری۔‘

اُن کا دعویٰ ہے کہ بظاہر ’چھت پر بہت زیادہ وزن ڈال دیا گیا تھا اور غالباً یہی حادثے کی وجہ بنی۔‘

علاقے کے ایک اور رہائشی نے خبررساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ تعزیت کے لیے پہلے کس گھر جائیں، کیونکہ ہمارے علاقے میں کئی خاندان اپنے بچوں کی موت کے غم میں مبتلا ہیں۔‘

لاہور

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس واقعے کو ’دل دہلا دینے والا المیہ‘ قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہلاک ہونے والے بچوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ماں وہ والدین کی تکلیف کا اندازہ کر سکتی ہیں اور ’اس دکھ کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔‘