کشیدگی میں اضافہ یا مذاکرات: ٹرمپ کا انتخاب کیا ہو گا؟, لز ڈوسیٹ، مرکزی نامہ نگار برائے بین الاقوامی امور، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی نائب صدر نے اسے بیک وقت اچھی اور بری خبر قرار دیا۔ اچھی خبر یہ کہ ایرانیوں کے ساتھ بامعنی بات چیت ہوئی۔ اور بری خبر یہ ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے نہیں پایا۔
انھوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے بری خبر ہے۔
اس ایک ہی طویل مذاکراتی نشست کا دورانیہ اہم بھی تھا اور حیران کن بھی۔
تاہم یہ بات بالکل بھی حیران کن نہیں معاہدہ نہ ہو سکا۔
امریکی وفد پاکستان اس یقین کے ساتھ آیا تھا کہ اس جنگ میں ایران کو اس قدر اتنا نقصان پہنچ چکا ہے کہ وہ بہت آسانی سے سمجھوتہ کر لیں گے۔
وینس نے اپنے اعلان میں کہا کہ انھوں نے ہمارے شرائط قبول نہیں کیں۔
مگر ایران کی بھی اپنی ریڈ لائنز ہیں۔
وہ ان مذاکرات میں اس احساس کے ساتھ شامل ہوئے تھے کہ وہ اب بھی ایک مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ اپنی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان کے باوجود وہ لڑائی جاری رکھنے کے قابل ہیں۔
اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی صورت میں اس کے پاس ابھی بھی دباؤ ڈالنے کی کافی صلاحیت موجود ہے۔
دس برس پہلے جب تہران اور واشنگٹن نے ایک جوہری معاہدہ کیا تھا تو اس میں 18 ماہ لگے تھے۔
اب ٹرمپ کو انتخاب کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں: کشیدگی میں اضافہ یا مذاکرات؟

















