لائیو, ایران کی طرف سے جنگ کے خاتمے کی تجاویز کے بعد ٹرمپ کا دعویٰ: ’ایرانی چاہتے ہیں ہم آبنائے ہرمز جلد از جلد کھول دیں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک ’انتہائی بحران کی حالت‘ میں ہے اور وہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ’آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولی دیں۔‘ متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک 'انتہائی بحران کی حالت' میں ہے اور وہ وہ چاہتے ہیں کہ ہم 'آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولی دیں‘
  • متحدہ عرب امارات نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے
  • قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے امریکہ اور ایران میں ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر، پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھے گا
  • ایران کے نائب وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی‌ نیک کا کہنا ہے کہ امریکہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کرنے کے قابل نہیں رہا
  • خلیجی ممالک کا ایک سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر غور کیا جائے گا

لائیو کوریج

  1. چمن میں ایک گھر پر دھماکہ خیز مواد گرنے سے ایک شخص ہلاک، دو زخمی

    بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک گھر پر دھماکہ خیز مواد گرنے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

    اس واقعے کے حوالے سے تاحال سرکاری سطح پر میڈیا کو کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی ویڈیوز، جن کی بی بی سی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکی، میں مقامی افراد پشتو زبان میں یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ آج علی الصبح ایک گولہ ایک گھر پر آ کر گرا اور زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

    اس ضمن میں جب چمن میں مقامی حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کیں۔ تاہم، کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک گھر پر دھماکہ خیز مواد گرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ چمن شہر سے چار سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر کلی ٹھیکیدار میں پیش آیا، جہاں دھماکہ خیز مواد ایک گھر پر آ کر گرا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

    چمن میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق، دونوں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد انھیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مقامی افراد یہ کہتے ہوئے بھی سنائی دیتے ہیں کہ کلی ٹھیکیدار میں یہ گولہ صبح چار بجے کے قریب ایک گھر پر آ کر گرا۔ ان کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے پورا گاؤں لرز اٹھا، جس کے باعث لوگ خوف و ہراس کا شکار ہو گئے اور صبح تک جاگتے رہے۔

    مقامی افراد کے مطابق، دھماکے سے ایک گھر کو شدید نقصان پہنچا اور اس کا مہمان خانہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دھماکے کے بعد علاقے کے لوگ موقع پر پہنچے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ ملبے سے نکالے جانے والے افراد میں سے ایک شخص ہلاک ہو چکا تھا۔

    خیال رہے کہ چمن کے سرحدی علاقے میں پاکستان اور افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان پیر کے روز ایک بار پھر جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

  2. 25 کلوواٹ تک سولر صارفین کے لیے لائسنس اور فیس کی شرط ختم, تنویر ملک، صحافی

    سولر سسٹم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کر دی ہے۔

    وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نیپرا کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کو لائسنس اور فیس سے استثنیٰ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل وفاقی حکومت کے پاور ڈویژن نے نیپرا کو ہدایت دی تھی کہ 25 کلوواٹ تک کے سولر صارفین کے لیے لائسنس اور لائسنس فیس کی شرط ختم کی جائے۔

    سنہ 2015 کے سابقہ ضوابط کے تحت 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن تنصیبات کے لیے نیپرا سے لائسنس درکار نہیں ہوتا تھا۔ اس حوالے سے درخواستیں براہِ راست بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے ذریعے بغیر کسی فیس کے نمٹائی جاتی تھیں، جو گھریلو صارفین کے لیے ایک اہم مالی سہولت تھی۔

    تاہم، نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت منظوری کا اختیار نیپرا کے پاس منتقل کر دیا گیا تھا، اور کم صلاحیت کے سولر سسٹمز پر بھی درخواست فیس عائد کر دی گئی تھی۔

    پاور ڈویژن کے مطابق، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس ریگولیٹری تبدیلی کی نشاندہی کی تھی اور نیپرا سے درخواست کی تھی کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم صلاحیت کے نظام کے لیے سابقہ منظوری کے طریقہ کار کو برقرار رکھا جائے۔

  3. اسحاق ڈار کو اقوام متحدہ کے سربراہ کا ٹیلیفون، پاکستان کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار

    پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ، محمد اسحاق ڈار کو آج اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔

    ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں خطے کی تازہ ترین صورتحال، پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں اور مختلف فریقین کے ساتھ روابط پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انھوں نے پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کے لیے مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

  4. ’ایران نے اطلاع دی ہے وہ انتہائی بحران میں ہے، وہ چاہتے ہیں ہم آبنائے ہرمز جلد از جلد کھول دیں‘: ٹرمپ کا دعویٰ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران نے ابھی ہمیں اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت ایک ’انتہائی بحران کی حالت‘ میں ہے۔‘

    صدر نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ ہم ’آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولیں‘ جبکہ وہ اپنی قیادت کی صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں (جسے میرا خیال ہے کہ وہ سنبھال لیں گے۔‘

  5. عمان آج جدہ میں ہونے والے خلیجی سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا

    خلیجی ذرائع نے بی بی سی عربی کو بتایا ہے کہ عمان آج جدہ میں ہونے والے خلیجی سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

    خلیجی ذرائع کے مطابق سلطنتِ عمان سعودی عرب کے شہر جدہ میں آج منعقد ہونے والے خلیجی مشاورتی سربراہی اجلاس میں کسی بھی سطح پر نمائندگی نہیں کرے گی۔

    ذرائع نے اس فیصلے کی وجوہات نہیں بتائیں، ایسے وقت میں جب خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور مشترکہ امور پر غور کے لیے اجلاس کر رہے ہیں۔

  6. بریکنگ, عالمی تیل پیدا کرنے والے گروپ کے لیے بڑا دھچکا: متحدہ عرب امارات کا اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز کہا کہ اس نے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ تیل برآمد کرنے والے ان گروپوں اور ان کے غیر اعلانیہ قائد سعودی عرب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خاص کر ایک ایسے وقت میں جب ایران کی جنگ نے توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی بحران پیدا کر دیا ہے اور عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے خبر رساں ادارے رؤئٹرز کو بتایا کہ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے، تیل کے شعبے اور دیگر شعبوں کے ایک محتاط اور جامع سٹریٹجک جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے اوپیک اور اوپیک پلس کا رکن رہا ہے اور یہ قدم ایک موزوں وقت پر اٹھایا جا رہا ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز میں موجود پابندیوں کے تناظر میں اس سے منڈی پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا۔

    یاد رہے اوپیک پلس تیل پیدا کرنے والے ممالک کا ایک اتحاد ہے، جس میں اوپیک کے رکن ممالک کے ساتھ روس سمیت چند غیر اوپیک ممالک بھی شامل ہیں۔

    اس اتحاد کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی پیداوار اور قیمتوں کو متوازن رکھنا ہے۔

    المزروعی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک خودمختار اور قومی فیصلہ ہے جو طویل المدتی سٹریٹجک اور معاشی نقطۂ نظر پر مبنی ہے، اور اس سے متحدہ عرب امارات کو اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور گیس کے شعبے میں دنیا کی مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ لچک کے ساتھ تعاون کا موقع ملے گا۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک سعودی عرب کے شہر جدہ میں جنگی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

  7. ’ثالث کے کردار میں پاکستان بہترین کام کر رہا ہے‘: قطر کا پاکستان کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان

    PMO

    ،تصویر کا ذریعہPMO

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ قطر آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی قسم کی دھمکی یا بندش کو قبول نہیں کرے گا۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے آبنائے ہرمز کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے خطرات سے خبردار کیا اور کہا کہ اس کا عالمی توانائی کے تحفظ سے براہِ راست تعلق ہے، اور اس امر پر زور دیا کہ ’اس قسم کے اقدامات غیر ذمہ دارانہ مہم جوئی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

    الانصاری نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان ثالثی کے کردار میں بہترین کام کر رہا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ’ہم اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں اور اس معاملے پر علاقائی سطح پر اور اس سے باہر اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ ہمیشہ رابطے اور ہم آہنگی میں رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ہم ثالث کے طور پر پاکستان کے مقصد کے حوالے سے اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے رہیں گے۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ پرامن اور سفارتی حل کی حمایت کی جانی چاہیے۔

    لبنان کے حوالے سے ماجد الانصاری نے اپنے ملک کی جانب سے لبنان اور اس کی مسلح افواج کے لیے حمایت کا اعادہ کیا، اور پانچ رکنی کمیٹی کے فریم ورک کے تحت بین الاقوامی شراکت داروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ جاری ہم آہنگی کا حوالہ دیا۔

  8. مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے سبب سویڈن کو جیٹ ایندھن کی ممکنہ قلت کا خدشہ

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    سویڈن نے جیٹ ایندھن کی ممکنہ قلت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    سویڈن کی وزیرِ توانائی ایبا بُش نے منگل کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث جیٹ ایندھن کی فراہمی میں کمی کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’یہ توانائی ایجنسی کے جائزے کی بنیاد پر ہے۔‘

    توانائی ایجنسی کی ڈائریکٹر جنرل کیرولائن آسرُپ کے مطابق، بدترین صورتِ حال میں سویڈن کو ہوابازی کے ایندھن کی راشننگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم آگے چل کر صورتحال کا دارومدار بڑی حد تک اس بات پر ہو گا کہ مارکیٹ کس حد تک خود کو اس صورتِ حال کے مطابق ڈھالتی ہے۔

  9. پاکستان میں ایرانی سفیر کا مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے اسحاق ڈار کا شکریہ

    MOFA

    ،تصویر کا ذریعہMOFA

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایران امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    رضا امیری مقدم نے ایکس پر لکھا کہ بین الاقوامی ہم آہنگی کے قابلِ اعتماد پیامبر کے طور پر، سفارت کار امن کے معمار ہوتے ہیں، جنھیں مذاکرات، ہمدردی اور سمجھ بوجھ کے صبر آزما ہنر کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات کی نازک پیچیدگیوں سے رہنمائی کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’میں پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ، محمد اسحاق ڈار، نیز وزارتِ خارجہ پاکستان کے سینئر اور اہل سفارت کاروں کا دل کی گہرائیوں سے اور مخلصانہ شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے وفود اور مذاکرات کے لیے سہولت کاری، ہم آہنگی اور انتظامات کی باریک بینی سے تیاری کے لیے انتھک کوششیں کیں۔‘

    ’ان کی یہ مخلصانہ کاوشیں سیاسی عزم اور اصولی پختگی کو اُن عملی راستوں اور انتظامات میں ڈھالتی ہیں جو کسی بھی سفارتی عمل کی تشکیل کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہی حقیقی سفارت کاری ہے، محض الفاظ نہیں۔۔۔ بلکہ وہ خاموش اور مسلسل محنت جو مذاکرات کو ممکن بناتی اور امن کو قابلِ حصول کرتی ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور کام سے لگن گہری قدر شناسی اور تشکر کی مستحق ہے۔‘

  10. دو ماہ بعد پہلی مرتبہ مائع گیس سے لدا ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پیر کے روز جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی کپلر نے اطلاع دی کہ مائع قدرتی گیس سے مکمل طور پر لدا ایک ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث مارچ کے اوائل میں اس اہم بحری راستے کی بندش کے بعد یہ پہلا ایسا ٹینکر ہے۔

    اے ایف پی کے تجزیہ کردہ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق، یو اے ای کی کمپنی اے ڈی این او سی کے زیر انتظام ٹینکر ’مبارک‘ مارچ کی 2 تاریخ کو متحدہ عرب امارات کے جزیرہ داس سے لوڈنگ مکمل کرنے کے بعد، اپریل میں خلیج سے روانہ ہوا، جس پر 132,890 مکعب میٹر مائع گیس لدی ہوئی تھی۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز نے مارچ کے آخر میں ایک ماہ کے لیے اپنا آٹومیٹک آئیڈینٹیفکیشن سسٹم (اے آئی ایس) بند کر دیا تھا، جس کے بعد پیر کے روز انڈیا کے ساحل کے قریب اس نظام سے دوبارہ سگنلز موصول ہونا شروع ہوئے۔

    کپلر کے تجزیہ کار چارلس کوسٹرَوس نے ایک تجزیاتی نوٹ میں کہا: ’امکان ہے کہ جہاز نے 18 اور 19 اپریل کے ہفتہ وار اختتام پر آبنائے ہرمز کامیابی سے عبور کر لی ہو، جو دیگر چند جہازوں کی عبوری کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ تھا، تاہم اس کی اب تک باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔‘

    قابلِ ذکر ہے کہ مارچ کے آغاز سے اب تک صرف سوہار ٹینکر ہی آبنائے ہرمز سے گزرا تھا، تاہم وہ یا تو خالی تھا یا اس پر بہت محدود مقدار میں کارگو موجود تھا۔

    یکم مارچ کے بعد سے خام تیل سے لدے 70 سے زائد جہاز خلیج کے علاقے سے روانہ ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت ایران سے روانہ ہوئی۔

  11. خلیجی ممالک کا سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو گا, منال خلیل - خلیج امور کی ٹیم

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    خلیجی ممالک کا ایک سربراہی اجلاس آج جدہ میں منعقد ہو رہا ہے جس میں خطے کی تازہ ترین صورتِ حال پر غور کیا جائے گا۔

    خلیج تعاون کونسل کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جی سی سی کے ممالک منگل کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک سربراہی اجلاس منعقد کریں گے۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ تیز رفتار سیاسی اور سکیورٹی پیش رفت سے گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ رہنما مشترکہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور علاقائی تعاون سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔

  12. ’امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے‘ ایران کے نائب وزیرِ دفاع

    ایران کے نائب وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حقیقت ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی‌ نیک نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک پہنچنے پر (جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے) بین الاقوامی سطح پر ایران کی مسلح افواج کے اور ایرانی عوام کی مثالی مزاحمت کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ اب اس پوزیشن میں نہیں کہ آزاد ممالک پر اپنی پالیسیاں مسلط کر سکے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت ’ایرانی عوام اور مسلح افواج کی ثابت قدمی کے ذریعے پوری دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے۔ امریکہ بالآخر یہ تسلیم کرے گا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنا ہوں گے۔‘

    طلائی‌ نیک نے دعویٰ کیا کہ ’اب پوری دنیا امریکہ اور اسرائیل کو ’ریاستی دہشت گردی کی علامتیں‘ سمجھتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا ’بے گناہوں کے قتلِ عام میں ان کے جرائم، خصوصاً میناب سکول کے بچوں اور طلبہ کے قتل، نے ان اقدار کے حوالے سے مغربی دنیا کی ساکھ کو تباہ کر دیا ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ان کی پاسداری کرتی ہے۔‘

    defapress.ir

    ،تصویر کا ذریعہdefapress.ir

    نائب وزیرِ دفاع رضا طلائی‌ نیک نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاعی ہتھیاروں کی صلاحیتیں ’آزاد ممالک، بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ارکان‘ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔

    یاد رہے ایران نے فروری کے اواخر سے اپریل کے اوائل تک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایک جنگ لڑی، جس کے دوران اس نے خطے میں امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی مقامات کے خلاف ڈرونز اور میزائلوں کی لہریں داغیں، جبکہ اپنی فضائی حدود میں امریکی فضائی اہداف، بالخصوص ڈرونز، کو وقفے وقفے سے مار گرایا۔

    طلائی‌ نیک نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کے اجلاس کے دوران، جو کرغز دارالحکومت میں منعقد ہوا، کہا، ’ہم تنظیم کے دیگر ارکان کے ساتھ امریکہ کی شکست کے تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    ایرانی اہلکار نے حال ہی میں روسی اور بیلاروسی دفاعی حکام کے ساتھ بات چیت کی، جس کے دوران ماسکو اور منسک نے تہران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے اپنے عزم پر زور دیا۔

    اس جنگ کے سلسلے میں اس ماہ کے اوائل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد لڑائی رکی ہوئی ہے، تاہم دو ماہ طویل تنازعے کے حل کی کوششیں تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔

  13. ایران میں پیٹرول کی قلت ہونے والی ہے: امریکی وزیر خزانہ

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہونے والی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی تیل پیدا کرنے کی صنعت بند ہو رہی ہے اور ’جلد ہی تیل نکالنے کا عمل رک جائے گا۔‘

    امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس کے بعد ’ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گی۔‘

    ایکس پوسٹ میں سکاٹ بیسنٹ نے یہ بھی لکھا کہ پاسداران انقلاب کے جو رہنما بچ گئے ہیں وہ اس وقت پھنس چکے ہیں۔

    امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

  14. بحری ناکہ بندی کے باوجود روس کا لگژری جہاز آبنائے ہرمز عبور کر گیا

    آبنائے ہرمز سے گزرنے والا لگژری جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک ایسا بڑا اور پرتعیش کروز جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہوا ہے جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے قریبی لوگوں میں سے ایک سے منسلک ہے۔

    ’رولنگ‘ نامی 142 میٹر لمبے جہاز کو روسی ارب پتی الیکسی مرداشوف سے منسوب کیا جاتا ہے جو عالمی پابندیوں کی زد میں ہیں۔

    مرداشوف کے روسی صدر پوتن سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ جہاز باضابطہ طور پر ان کے نام رجسٹرڈ نہیں ہے لیکن ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2022 میں یہ جہاز ان کی اہلیہ کی ملکیت والی کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ ہوا تھا۔

    اندازے کے مطابق اس کی مالیت 50 کروڑ ڈالرز سے زیادہ ہے۔

    یہ جہاز ہفتے کے آخر میں دبئی سے مسقط روانہ ہوا اور ان چند نجی جہازوں میں سے ایک ہے جو حالیہ بندش کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ایران نے اس ہفتے روس کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے جبکہ امریکہ کے ساتھ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے پر تعطل اب بھی برقرار ہے۔

    جہازوں کی آمد و رفت کا حساب رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق روسی پرچم والا یہ لگژری جہاز جمعہ کی رات دبئی سے روانہ ہوا اور اتوار کی صبح عمان کے دارالحکومت میں واقع تفریحی مرینا الموج پہنچا۔

    خلیج فارس کے اس راستے پر سمندری ٹریفک اب جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

  15. اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان میں تقریباً 1000 اہداف تباہ کرنے اور بڑی مقدار میں اسلحہ ضبط کرنے کا دعویٰ

    لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی کارروائیاں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کی فورسز نے آپریشنز کے دوران تقریباً 1000 ایسی تنصیبات کو تباہ کیا ہے جنھیں اس نے ’دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر‘ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویہ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’یہ انفراسٹرکچر حزب اللہ کے کارکن اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے دوران فوج نے سینکڑوں ہتھیار بھی برآمد کیے، جن میں مشین گنز، کلاشنکوف رائفلیں، دستی بم، بارودی سرنگیں، پستول، اینٹی ٹینک میزائل، آر پی جی گولے اور مارٹر شیلز شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ان کا خاتمہ کیا جا سکے جنہیں اسرائیلی فوج خطرہ قرار دیتی ہے۔

  16. لداخ میں ایک اور انتظامی تبدیلی، پانچ نئے اضلاع کا قیام, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا ہمالیائی خطہ لداخ سات برس میں دوسری بڑی انتظامی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ خطے کے لیفٹینٹ گورنر نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لیہہ اور کرگل نامی دو ضلعوں پر مشتمل لداخ میں مزید پانچ نئے اضلاع (نوبرا، شام، چھانگتھنگ، دراس اور زانسکار) قائم کر دیے گئے ہیں۔

    سنہ 2011 میں ہوئی مردم شماری کے مطابق لداخ کی کل آبادی دو لاکھ 75 ہزار ہے ، تاہم لداخ کا رقبہ 87 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں چین اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔

    لداخ کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس نئے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے خیرمقدم کیا ہے کہ نئے اضلاع کی تشکیل سے اس خطے کے لیے وفاقی فنڈنگ میں اضافہ ہو گا اور دور دراز علاقوں میں ترقی کے امکانات بڑھیں گے۔ تاہم کشمیر میں اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    کالم نویس اور تجزیہ نگار طاہر بیگ کا کہنا ہے کہ ’پورے جموں کشمیر میں فی ضلع آبادی کا اوسط آٹھ لاکھ ہے، جبکہ نئے فیصلے کے مطابق لداخ کی فی ضلع آبادی 40 ہزار سے بھی کم ہو گی، کیونکہ لداخ کی کل آبادی صرف پونے تین لاکھ ہے۔ مقامی لوگوں کے لیے اچھی بات ہے، لیکن کشمیر میں اس فیصلے سے نئے اضلاع کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔‘

    انڈیا کا چین کے ساتھ لداخ کے معاملے پر دیرینہ سرحدی تنازع ہے۔ سنہ 2020 میں انڈیا نے چینی افواج پر دراندازی اور اراضی پر قبضہ کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد دونوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

    واضح رہے 2019 کے اگست میں انڈین پارلیمنٹ میں ’کشمیر کی تنظیمِ نو‘ بل پاس کیا گیا جس کے تحت کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والی آئینی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے ساتھ ہی لداخ کو کشمیر کے انتظامی کنٹرول سے الگ کرکے مرکز کے زیرانتظام علیٰحدہ خطہ قرار دیا گیا۔

    اس فیصلے کی چین نے سخت مخالفت کی تھی، کیونکہ چین لداخ کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ تاہم نئے اضلاع کی تشکیل سے متعلق ابھی تک چین نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  17. کشمیر: ’جماعت اسلامی سے مراسم‘ کے شبے میں معروف تعلیمی ادارے جامعہ سراج العلوم کو سیل کر دیا گیا, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    سراج العلوم

    ،تصویر کا ذریعہSirajul Aloom

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے ضلع شوپیان میں واقع جامعہ سراج العلوم نامی ایک سکول کو انسداد دہشت گردی کے قانون ’ان لافُل ایکٹوٹیز پریوینشن ایکٹ‘ کے تحت ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے سیل کر دیا ہے۔

    کشمیر کے صوبائی کمشنر انشول گرگ کے آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ سکول کو سیل کرنے کے بعد یہاں عملے کے افراد یا طالب علموں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ حکمنامے میں لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ سکول کے اندر یا اردگرد اجتماع کی صورت میں احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    اسی سکول سے فارغ التحصیل شوپیان کے معروف وکیل ناصرالاسلام کا کہنا ہے کہ ’اس سکول میں 800 سے زیادہ بچے زیرتعلیم تھے اور 70 اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کا براہ راست روزگار سکول کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس سکول میں باقاعدہ سرکاری نصاب پڑھایا جاتا تھا، اور یہ دہائیوں سے سٹیٹ بورڈ سے منظور شدہ ہے۔‘

    دوسری جانب مقامی پولیس ذرائع کا الزام ہے کہ سکول کی انتظامیہ کئی برس قبل کالعدم قرار دی گئی تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ مراسم رکھتی ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ’تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جا رہی ہے، کیونکہ تخریب کار عناصر بچوں میں انتہاپسندی کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

    ایڈوکیٹ ناصر الاسلام کا کہنا ہے کہ شوپیان سے تعلق رکھنے والے شخص پیر گُل محمد نے دہائیوں قبل اپنی زمین وقف کرتے ہوئے وصیت کی تھی کہ اس پر ایسا ادارہ بنایا جائے جہاں نئی نسل کو جدید علوم پڑھائے جائیں اور ان کی کردار سازی بھی ہو اور پھر اسی مقام پر جامعہ سراج العلوم نامی ادارے قائم کیا گیا۔

    ناصر کا کہنا ہے کہ سکول کی کارکردگی پورے کشمیر میں معروف ہے، کیونکہ نہ صرف نتائج 100 فیصد ہوتے ہیں بلکہ یہاں کے بچے بورڈ میں امتیازی پوزیشن بھی حاصل کرتے ہیں۔

    واضح رہے کشمیر میں جماعت اسلامی پر سات سال قبل پابندی عائد ہونے کے بعد سینکڑوں ایسے سکولوں کو یا تو بند کیا گیا یا سرکاری سکولوں میں ضم کیا گیا جو جماعت کے ذیلی ادارے فلاح عام ٹرسٹ کے تحت چلائے جارہے تھے۔ سکول انتظامیہ کے مطابق سراج العلوم براہ راست جماعت سے منسلک نہیں تھا۔

    اس پابندی پر سیاسی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے ایکس پر سراج العلوم ادارہ کی ویڈیو اپ لوڈ کرکے لکھا کہ ’ہر دن جموں کشمیر کی شناخت اور وقار پر ہونے والے زہریلے حملوں پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ ادارہ ایسے غریب اور نادار لوگوں کے لئے تعلیم کی مشعل جلائے ہوئے تھا ، جو مہنگے اداروں میں داخلہ نہیں لے پاتے۔ وطن دشمنی کےکسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ایسے اداروں کو کالعدم قرار دینا گہرے عناد اور بُرے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔‘

    سابق وزیر اور ’اپنی پارٹی‘ کے رہنما الطاف بخاری نے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’اس ادارے کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے یہاں سے ایسے نوجوان فارغ نہیں ہوئے جنھوں نے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہو۔ اگر کچھ مثالیں ہوں بھی، تو وہ اتفاقی ہوں گی۔ تعلیمی اداروں کو اس طرح بند کر دینا لوگوں میں بیزاری کے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔ شبہات کو دُور کرنے کے سکول کی نئی انتظامیہ تشکیل دی جاسکتی ہے تاکہ سکول کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے، تاکہ بچوں کا مستقبل اور اساتذہ کا روزگار متاثر نہ ہو۔‘

  18. مزید فوجیوں کی شدید ضرورت، 2026 لڑائی کا سال ہو گا: سربراہ اسرائیلی فوج

    جنرل زامیر، سربراہ اسرائیلی فوج

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ممکنہ طور پر 2026 کے دوران پورا سال متعدد محاذوں پر لڑائی جاری رکھے گی۔

    یہ بات انھوں نے پیر کی شام شمالی اسرائیل میں واقع رامات ڈیوڈ ایئر بیس پر ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی، جس میں فوج کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں اب تک کی فوجی کارروائیوں کے نتائج اور لبنان میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کا جائزہ لیا گیا۔

    ایال زامیر نے کہا کہ سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج متعدد محاذوں پر مسلسل لڑ رہی ہے اور افواج ہر وقت تیار اور چوکس ہیں تاکہ اگر تمام محاذوں پر شدید لڑائی دوبارہ شروع ہو تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے برسوں میں فوج پر ذمہ داریوں میں اضافے کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کو مزید فوجیوں کی شدید ضرورت ہے۔

    غزہ، شام اور لبنان میں محاذ جنگ کے ساتھ دفاعی علاقے قائم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے سربراہ نے یہ عندیہ بھی دیا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج کو ان علاقوں میں موجود رہنا چاہیے تاکہ ’طویل المدت‘ بنیادوں پر اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  19. جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی تازہ ترین تجویز، ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہیں: امریکی عہدے دار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہKevin Dietsch/Getty Images

    رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ ختم کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ جوہری پروگرام پر مذاکرات بعد میں مرحلہ وار شروع کرنے کی بات کی گئی ہے۔

    بی بی سی عربی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی تجویز سے ’مطمئن‘ نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے جوہری پروگرام پر بات نہیں کی۔

    واشنگٹن پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ جوہری مسئلے پر سب سے پہلے بات کی جائے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا موقف واشنگٹن کے مطالبات پر پورا نہیں اترتا۔

    انھوں نے فاکس نیوز کو بتایا: ’اگر ایران کے نزدیک آبنائے ہرمز کھولنے کا مطلب ہے کہ یہ اس سے رابطے، اس کی اجازت اور اسے ادائیگی کے بعد کھلے گی، ورنہ وہ آپ پر حملہ کرے گا، تو یہ آبنائے کو کھولنا نہیں ہے۔‘

    ایرانی ذرائع نے پہلے کہا تھا کہ یہ تجویز ایران کے جوہری پروگرام پر بحث کو جنگ کے خاتمے اور خلیج سے نیویگیشن سے متعلق تنازعات کے حل تک ملتوی کر دے گی۔

    سی این این نے اس معاملے سے واقف دو ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ٹرمپ نے یہ مؤقف سینئر قومی سلامتی حکام سے ملاقات کے دوران ظاہر کیا، جن میں سے ایک نے تصدیق کی کہ صدر ممکنہ طور پر اس منصوبے کو قبول نہیں کریں گے جو واشنگٹن کو گذشتہ چند دنوں میں موصول ہوا ہے۔

    امریکی حکام کا ماننا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا مسئلہ حل کیے بغیر آبنائے کو دوبارہ کھولنا واشنگٹن کو مذاکرات میں اہم اثر و رسوخ سے محروم کر سکتا ہے۔

    جب کیرولین لیویٹ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی صدر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز قبول کریں گے، تو وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا: ’میں تصدیق کرتی ہوں کہ صدر نے آج صبح اپنی قومی سلامتی ٹیم سے ملاقات کی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتی، لیکن تجویز زیر غور تھی۔‘

    کیرولین لیویٹ نے زور دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے ریڈ لائنز نہ صرف امریکی عوام کے لیے بلکہ ایرانی حکومت کے لیے بھی واضح ہو گئی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر جلد ہی اس مسئلے پر ذاتی طور پر بات کریں گے۔

  20. عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن کی چوتھی ڈوز دی گئی: پمز انتظامیہ

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بی بی سی نے رپورٹ کیا تھا کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد کے پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) ہسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی معائنے کے بعد صبح چار بجے واپس جیل منتقل کیا گیا۔

    اب پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 28 اپریل کو عمران خان کو پمز لایا گیا جہاں ان کی آنکھ میں انٹرا ویٹریئل انجیکشن کی چوتھی ڈوز دی گئی۔

    پمز انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انجیکشن لگانے سے پہلے آنکھوں کے ماہر معالجین نے عمران خان کا معائنہ کیا اور ان کی طبی حالت مستحکم پائی۔ پمز انتظامیہ کے اعلامیے میں درج ہے کہ عمران خان کی آپٹیکل کوہیرنس ٹوموگرافی کی گئی جس سے طبی بہتری ظاہر ہوئی۔

    اعلامیے کے مطابق عمران خان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد، تمام حفاظتی احتیاطی تدابیر اور پروٹوکولز اختیار کرتے ہوئے، سرجنز نے آپریشن تھیٹر میں ان کی آنکھ میں انجیکشن کی چوتھی ڈوز لگائی۔

    پمز انتظامیہ کے مطابق ہسپتال میں قیام کے دوران عمران خان کی حالت مستحکم رہی، بعد ازاں انھیں مزید نگہداشت اور فالو اَپ سے متعلق ہدایات اور دستاویزات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔