یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چھ مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔ تاہم انھوں نے تہران کو خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا گیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
چھ مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے بین الاقوامی قانون ’بالکل واضح‘ ہے کہ ’کوئی بھی ملک ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ یہ طے کرے کہ کون اس آبی راستے کو استعمال کرے گا اور کون نہیں۔
روبیو نے ایرانی اقدامات کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔‘
امریکی وزیرِ خارجہ نے کی کہ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوج اس دفاعی آپریشن، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، کو وسعت دے رہی ہے تاکہ کمرشل جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے کر ’دنیا پر احسان‘ کر رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں جو جہاز پھنسے ہوئے ہیں، ان پر دیگر ممالک کے عوام کے لیے ضروری سامان موجود ہے، جن میں ایندھن، کھاد اور انسانی امداد شامل ہے۔
’یہ ان کے جہاز ہیں جو پھنسے ہوئے ہیں، ہمارے نہیں۔‘
ایرانی جوہری پروگرام کے متعلق سوال
وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا اس حوالے سے کوئی اشارے ملتے ہیں کہ تہران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے گا۔
مارکو روبیو نے جواب دیا کہ ایران ’ہمیشہ‘ سے کہتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا لیکن وہ اس بارے میں سچ نہیں بول رہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا جارحانہ مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور انھوں نے تہران کو مذاکرات کی میز پر لوٹنے کا مشورہ دیا۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں بریفنگ دیتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت نے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو ’مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے خبردار کیا کہ ایسے ممالک جو اس تنازع میں فریق نہیں وہ بھی خطرے کی زد میں ہیں۔ امریکی وزیر کے مطابق ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کے باعث نہ صرف ان ممالک کا سامان بلکہ ان کے شہریوں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں پر خوراک اور پانی کی کمی سے متعلق خدشات کا حوالہ دیتے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حالات کے باعث ’کم از کم دس ملاح پہلے ہی ہلاک ہو چکے ہیں۔‘
روبیو نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک نے امریکہ سے اپنے پرچم بردار کمرشل جہازوں کو بحفاظت وہاں سے نکالنے میں مدد کی درخواست کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیاں مکمل طور پر ’دفاعی‘ نوعیت کی ہیں۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم تب تک فائر نہیں کرتے جب تک ہم پر پہلے فائر نہ کیا جائے۔‘
مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو امریکہ جواب دینے میں نہیں ہچکچائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ ’آپریشن ایپک فیوری — جو ایران کے خلاف ابتدائی امریکی۔اسرائیلی حملے کا نام تھا — مکمل ہو چکا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ہم نے آپریشن ایپک فیوری آپریشن کے اہداف حاصل کر لیے ہیں اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کا جارحانہ مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرے اور ایسا سفارتی راستہ اختیار کرے جو ’تعمیرِ نو، خوش حالی اور استحکام‘ کی طرف لے جاتا ہو۔
’ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور شرائط قبول کرنی چاہییں۔‘
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حالیہ حملوں میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
آئی آر آئی بی نے پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے گذشتہ چند دنوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے خلاف کسی بھی نوعیت کے میزائل یا ڈرون حملے نہیں کیے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اپنی کسی بھی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اور یہ کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کسی بھی جوابی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز بھی اس نے 15 ایرانی میزائل اور چار ڈرونز کو ناکارہ بنایا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے سوموار کے روز ایک حملے کے بعد متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی بندرگاہ پر لگنے والی آگ کی دو ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے اس یا کسی دوسرے حملے کا وہ ذمہ دار نہیں ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ان جہازوں کے خلاف ’فیصلہ کن کارروائی‘ کی جائے گی جو ایران کے تجویز کردہ راستے کے علاوہ دیگر راستے استعمال کر رہے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے فارسی زبان میں جاری ایک بیان میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ’واحد محفوظ راستے‘ کی پیروی کریں جس کا ’ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے‘ بصورتِ دیگر انھیں ایرانی بحریہ کی جانب سے ’فیصلہ کن کارروائی‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے پریس ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کے انتظام کے لیے ایک نیا طریقۂ کار قائم کیا ہے۔ تاہم اس رپورٹ کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے تاحال کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

،تصویر کا ذریعہFARS

،تصویر کا ذریعہx/IraninHyderabad
منگل کے روز امریکی محکمۂ دفاع کی بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے ’ایرانی خودکش ڈولفنز‘ سے متعلق چلنے والی اطلاعات کا ذکر کیا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جواب میں کہا: ’میں اس بات کی تصدیق یا تردید تو نہیں کر سکتا کہ ہمارے پاس خودکش ڈولفنز ہیں یا نہیں۔ لیکن میں اس بات کی تصدیق ضرور کر سکتا ہوں کہ اُن (ایران) کے پاس نہیں ہیں۔‘
گذشتہ ہفتے امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے ایرانی حکام کے حوالے سے ایک خبر دی تھی جس کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ’تہران امریکی جنگی جہازوں پر حملے کے لیے ایسے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے جو پہلے کبھی استعمال نہیں کیے گئے، جن میں آبدوزوں سے لے کر بارودی سرنگیں لے جانے والی ڈولفنز تک شامل ہیں۔‘
تب سے ان نام نہاد ’خودکش ڈولفنز‘ کے متعلق امریکہ میں سی این این اور فاکس نیوز پر بات کی جا چکی ہے۔ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو ’عجیب‘ قرار دیا ہے۔
ایرانی فوج کی جانب سے ڈولفنز کے استعمال کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم ایرانی حکومت کے بعض بیرونِ ملک دفاتر نے اس دعوے کا طنزیہ انداز میں ذکر کیا ہے۔
انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایران کے مشن نے ایکس پر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں ایک ڈولفن کے پہلو کے ساتھ ایک کنستر بندھا دکھایا گیا جس پر ’دھماکہ خیز‘ لکھا تھا۔ پوسٹ میں لکھا تھا: ’آخرکار سب راز فاش ہو ہی گئے، اب سب کچھ سامنے آ گیا۔‘
البتہ امریکی فوج واقعتاً ایک میرین میمل پروگرام چلا رہی ہے جس کے تحت ڈولفنز کو سمندر میں بارودی سرنگوں سمیت اہم اشیا کا سراغ لگانے اور انھیں نکالنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہUS NAVY/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے حوالے سے امریکہ جنوبی کوریا اور جاپان سے ’زبردست معاہدے‘ کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے چین کے دورے کے دوران چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات میں بھی مثبت پیشرفت کی امید ہے۔
انھوں نے ایک بار پھر اپنا دعویٰ دہرایا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کام کر رہی ہے اور ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے۔
’وہ گیم کھیلتے ہیں، لیکن میں آپ کو بتا دوں کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘
جب امریکی صدر سے سوال کیا گیا کہ ایران کی جانب سے ایسے کیا اقدامات ہیں جو سیز فائر کی خلاف ورزی تصور کیے جا سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران جانتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ جانتے کہ کیا نہیں کرنا چا ہیے۔‘
ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایک بھی ایرانی جہاز ناکہ بندی توڑ کر نکلنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بحری جہاز نے نکلنے کی کوشش کی تو وار ننگ کے بعد اس کے انجن کو نشانا بنایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ایران کے پاس کوئی موقع نہیں۔‘
صدر ٹرمپ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’ان کے پاس کبھی [موقع] تھا ہی نہیں۔ یہ بات وہ بھی جانتے ہیں۔ جب میں ان سے بات کرتا ہوں تو وہ خود مجھے اس کا اظہار کرتے ہیں، اور پھر ٹیلی وژن پر آ کر کہتے ہیں کہ وہ کتنی اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔‘
انھوں نے ایک بار پھر اپنے وہی دعوے دہرائے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی فوج، بحریہ، فضائیہ اور قیادت ختم کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کو ’بری طرح شکست دی ہے‘ اور یہ کہ ایران کے پاس اب ’مشین گن لگی چھوٹی کشتیوں‘ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بیان آبنائے ہرمز میں امریکہ کی جانب سے ایرانی چھوٹی کشتیوں پر حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کی سات چھوٹی کشتیوں کو مار گرایا ہے جنھیں ’تیز رفتار‘ کشتیاں‘ کہتے ہیں۔
اوول آفس میں بات کرتے ہوئَ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے جنگ کا آغاز 159 جہازوں کے ساتھ کیا تھا۔ ان کا کہنا کہ ایران کے پاس موجود ہر ایک جہاز اب سمندر کی تہہ میں پڑا ہوا ہے۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ یہ جنگ شروع نہ کرتا تو ایران جوہری طاقت بن جاتا۔
’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہHandout Photo by the U.S. Navy via Getty Images
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے اب تک 51 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا جا چکا ہے۔
اپریل میں امریکی افواج نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساحل کی طرف جانے والے یا وہاں سے آنے والے بحری جہازوں کو روکیں گی یا واپس موڑ دیں گی جس کا مقصد تیل کی برآمدات سے منافع کمانے کی ایرانی حکومت کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
یہ اقدام ’پروجیکٹ فریڈم‘ سے الگ ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کر کے انھیں وہاں گزارنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ آپریشن فریڈم کا اعلان اتوار کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس پر ایران کی طرف سے حملہ کیا گیا ہے۔
وزارت کا کہنا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنا رہا ہے۔
قومی ایمرجنسی اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’محفوظ مقامات پر موجود رہیں۔‘
پیر کے روز متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ اس نے ایران کے 15 میزائل اور چار ڈرونز مار گرائے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے ہونے والی جنگ بندی کو چار ہفتے گزر چکے ہیں اور اب اس پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی ایک دوسرے پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوششوں نے اس معاملے کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ یقیناً ایک خطرناک مرحلہ ہے۔
اس جنگ بندی نے سفارت کاری کے لیے ایک موقع فراہم کیا تھا اور کچھ عرصے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ شاید پیشرفت ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے نمائندے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک کانفرنس ٹیبل پر آمنے سامنے آئے۔ لیکن بغیر کسی نتیجے کے واپس چلے گئے۔
پاکستانی حکام اس عمل کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اب تک انھیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔
امریکہ اور ایران دونوں ایک معاہدے کے خواہاں ہیں لیکن ان کے ذہن میں معاہدے کی شکل مختلف ہے اور وہ اپنی سرخ لکیروں پر قائم ہیں۔ جب تک ایک فریق، یا بہتر یہ کہ دونوں، سمجھوتے کا فیصلہ نہیں کرتے تب تک دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھنے کا خطرہ موجود ہے۔
مخصوص ارادوں اور نتائج کے بارے میں غلط فہمی اور غلط اندازوں کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ایسے روایتی عوامل ہیں جن کے باعث بحران قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور جنگیں پھیل جاتی ہیں۔
امریکہ کا آبنائے ہرمز سے دو جہازوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے گزارنے کا فیصلہ ایسا قدم تھا جس پر ایران کی جانب سے ردعمل آنا طے تھا۔ اس ہفتے اہم سوال یہ ہے کہ آیا معاملہ یہیں رُک جاتا ہے یا پھر مزید عمل اور ردعمل حالات کو ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTelegram
بی بی سی ویریفائی نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ میں لگنے والی آگ کی دو ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے۔ یہ ویڈیوز پیر کی رات مقامی حکام کی جانب سے ایک ایرانی ڈرون حملے کی اطلاع دیے جانے کے کچھ دیر بعد آن لائن سامنے آئیں۔
ایک ویڈیو میں پانی پمپ کرنے والا ایک بحری جہاز بڑے پیمانے پر لگی آگ بجھانے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے تصدیق کی کہ یہ ویڈیو بندرگاہ کے شمال میں موجود ایک جہاز سے فلمائی گئی ہے۔ اس کی تصدیق قریبی پہاڑوں کے خدوخال اور موقع پر موجود کرینوں کی سیٹلائٹ اور سٹریٹ ویو تصاویر کے ذریعے کی گئی۔
دوسری ویڈیو میں سیاہ دھویں کا ایک گہرا بادل آسمان کی طرف اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ ویڈیو ساحل کے جنوبی جانب سے فلمائی گئی جس کی تصدیق پاس موجود کرینوں اور سائلوز کی ایک قطار سے ہوتی ہے۔
امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران کے حملے اب تک جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کی حد سے نیچے ہیں۔
منگل کو نیوز کانفرنس کے دوران اُن سے پوچھا گیا کہ وہ کون سا لمحہ ہو گا جب امریکہ یہ سمجھے گا کہ جنگ دوبارہ شروع کرنی ہے؟ تو جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ یہ ’ایک سیاسی فیصلہ اور میرے پے گریڈ‘ سے اُوپر ہے۔
جنرل ڈین کین کا کہنا تھا کہ ’ایران راکھ میں چنگاری‘ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سٹم ناکارہ ہو گیا ہے اور وہ فرنٹ لائن پر کنترول برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ لڑائی نہیں چاہتا، تاہم ایران کو ’معصوم ممالک‘ اور اُن کے سامان کی بین الاقوامی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ ’آپریشن ایپک فیوری‘ سے الگ ہے، جسے امریکہ نے 28 فروری کو جنگ کے آغاز پر شروع کیا تھا۔
ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ’پراجیکٹ فریڈم کا مشن بے ضرر تجارتی جہاز رانی کو ایرانی جارحیت سے بچانا ہے اور یہ عارضی نوعیت کا مشن ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کو روکنا ’بین الاقوامی بھتہ خوری‘ کی ایک شکل ہے اور یہ ’ناقابل قبول‘ ہے۔
پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ پیر کو دو امریکی تجارتی جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’راستہ صاف‘ ہے اور ایران ’شرمندہ‘ ہے۔
ہیگستھ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک ’طاقتور سرخ، سفید اور نیلے رنگ کا گنبد‘ قائم کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایران کے علاوہ ’پرامن‘ تجارتی جہازوں کو 24 گھنٹے نگرانی کی سہولت دیتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ کی ’لوہے کی طرح مضبوط‘ ناکہ بندی نے چھ ایرانی جہازوں کو واپس جانے پر مجبور کیا ہے۔
جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے بارے میں امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا اہم آبی گزرگاہ سے متعلق صدر ٹرمپ کی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
پیر کو جنوبی کوریا نے تصدیق کی تھی آبنائے ہرمز میں اس کے جہاز پر مشتبہ حملے سے انجن روم میں مبینہ دھماکے کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ جنوبی کوریا ’آپریشن فریڈم‘ میں شامل ہو جائے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے اس منصوبے کو 'پراجیکٹ فریڈم' کا نام دے رکھا ہے اور اُنھوں نے دُنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
'پراجیکٹ فریڈم' کے بارے میں جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ آبنائے ہرمز سمیت اہم سمندری راستوں کے استعمال پر قریبی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISNA/WANA/Reuters
جیسا کہ امریکہ ایران جنگ بندی ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ رہی ہے، خلیج کے باشندے اب سوچ رہے ہیں کہ کیا لڑائی کا مکمل پیمانے پر دوبارہ آغاز ناگزیر ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ کیا شکل اختیار کرے گا۔
امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ایران کی طرف سے عائد کردہ ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش اور متحدہ عرب امارات میں ایران کے حملے کے بعد صورت حال مزید بگڑنے ٘میں وقت نہیں لگے گا۔
ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کی ایک بڑی تعداد اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، جن میں سے کچھ مبینہ طور پر وہاں سے نکالے گئے تھے جہاں سے مارچ میں فضائی حملوں سے بچنے کے لیے دفن کیے گئے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کے پاس طاقتور اینٹی شپ میزائل بھی ہیں جو ایران کی ساحلی پٹی سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنے والے امریکی بحریہ کے کسی بھی جنگی جہاز کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ سخت جوابی کارروائی کریں گے۔
یہ سب اس حقیقت کو تقویت دیتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا۔
لہذا ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران بارودی سرنگوں، میزائلوں یا سپیڈ بوٹس کے ذریعے جہاز رانی کو خطرہ نہیں بنائے گا، کیونکہ یہ سب ہتھیار اس کے پاس موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سعودی عرب نے خطے میں فوجی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستان کی ثالثی میں سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارتی کوششوں کا مقصد سیاسی حل تک پہنچنا ہے، جو خطے کو مزید کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف جانے سے روکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب یہ مطالبہ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں 28 فروری سے پہلے کی طرح جہازوں کی آمدورفت یقینی بنائے، تاکہ بغیر کسی رکاوٹ اور خطرے کے بحری جہاز یہاں سے گزر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAmirhosein Khorgooi/ISNA/WANA (West Asia News Agency) via REUTERS
دُنیا کی بڑی شپنگ کمپنی ’مرسک‘ کا کہنا ہے کہ پیر کو اس کے ایک جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ’سمندر میں ایک قطرے‘ کی طرح ہے۔
ٹینکر مالکان اور آپریٹرز کی نمائندگی کرنے والی ایک تجارتی تنظیم ’انٹر ٹینکو‘ کے مینجنگ ڈائریکٹر ٹم ولکنز نے بی بی سی ریڈیو 4 کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ یہ ’ایک ایسا جہاز تھا جسے کچھ انتہائی سخت حالات میں آبنائے ہرمز سے گزارا گیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ باقی جہازوں کے لیے جو ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں، کچھ بھی تبدیل نہیں ہونے والا۔
خیال رہے کہ شپنگ کمپنی مرسک نے کہا تھا کہ پیر کو اس کا ایک بحری جہاز امریکی فوج کے تحفظ میں آبنائے ہرمز سے گزرا ہے۔
امریکی صدر نے آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے اس منصوبے کو ’پراجیکٹ فریڈم‘ کا نام دے رکھا ہے اور اُنھوں نے دُنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
ولکنز مزید کہتے ہیں کہ کوئی منظم قافلہ یا رابطہ کری کا طریقہ کار موجود نہیں، اس لیے ہمارے ارکان صرف بنیادی سوالات پوچھ رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ایرانی حکام سے کون بات کرتا ہے اور اگر ایرانی فوج کی جانب سے ٹرانزٹ کے دوران جہاز کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اس کا کیا نقصان ہو گا۔
ولکنز کے بقول یہ وہ سوالات ہیں جو مالکان اپنے جہازوں پر سوار اپنے عملے سے پوچھ رہے ہیں اور ان سے بات کر رہے ہیں۔
سندھ کے شمالی ضلعے سکھر کی جھانگڑو پولیس نے نام نہاد غیرت کے نام پر دو بچوں کی ماں کے قتل کے الزام میں اس کے شوہر سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
23 سالہ گلناز نے تقریباً دو ہفتے قبل تھانے میں پناہ لی تھی لیکن بعد میں والد کی منت سماجت پر واپس گھر چلی گئی تھی۔
خاتون کے قتل کا مقدمہ روہڑی کے تھانے جھانگڑو میں پولیس انسپکٹر جاوید میمن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں مقتولہ کے شوہر اور ماموں سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان 23 سالہ گلناز عرف گلاں کو گاؤں کے باہر واقع جنگل میں لے گئے جہاں انھیں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
مدعی کے مطابق ملزمان پولیس پارٹی کو دیکھ کر خاتون کو زمین پر چھوڑ کر فرار ہو گئے اور پولیس جب موقع پر پہنچی تو دیکھا کہ خاتون کو ایک گولی سیدھے ہاتھ پر بازو کے قریب لگی تھی تو جو آر پار ہو چکی تھی۔
جھانگھڑو پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد گلناز کے شوہر اور ماموں کو گرفتار کر لیا ہے اور پولیس کا دعویٰ ہے کہ سکلیدھو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گلناز کی جاگیرانی قبیلے کے ایک شخص سے دوستی تھی اور انھوں نے نام نہاد غیرت کے نام پر یہ قتل کیا ہے۔ خیال رہے کہ پولیس کی حراست میں ملزم کی جانب سے دیے گئے بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔
گلناز عرف گلاں نے کچھ عرصہ قبل جھانگڑو تھانے پہنچ کر پولیس کو اپنی زندگی کو لاحق خطرے کے بارے میں آگاہ کیا تھا جس پر پولیس نے اسے مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں گلناز نے دارالامان جانے کی درخواست کی اور عدالت نے انھیں دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
گلناز کو پھر 22 اپریل کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا کہ جہاں ان کے والد نے عدالت میں اپنی دستار بیٹی کے پاؤں پر رکھی اور اس سے درخواست کی کہ وہ ان کے ساتھ چلے۔
اس پر گلناز نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے والد کے ساتھ جانے پر رضامندی تو ظاہر کی لیکن ساتھ ہی اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ انھیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ گلناز کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ انھیں قتل کر دیا جائے گا لیکن والد کی عزت اور مان رکھنے کے لیے وہ ان کےساتھ جا رہی ہیں۔
اس بیان پر عدالت نے گلناز کو ان کے والد امداد علی بھارو اور ماموں مجنوں بھارو کے حوالے کر دیا تھا۔
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ 2026 کے مطابق گزشتہ سال سندھ میں 126 خواتین کو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔
سندھ میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جیکب آباد ، گھوٹکی، کندھ کوٹ، خیرپور اور شکارپور میں 100 سے زائد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
حال ہی میں سندھ کی صوبائی اسمبلی میں بھی اس قسم کے واقعات پر بحث کی گئی۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی عادل عسکری نے پیر کو نکتہ اعتراض پر خیرپور کے ٹنڈو مستی واقعے کا حوالے دیتے ہوئے اس موضوع پر بات کی۔ ٹنڈو مستی میں خالدہ عرف روبینہ چانڈیو کو نام نہاد غیرت کے نام پر سر عام گولیاں مارکر قتل کیا گیا تھا۔
عادل عسکری کا کہنا تھا کہ اس کو غیرت نہیں بلکہ بےغیرتی قرار دیا جائے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کسی کو غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دے گی۔
انھوں نے کہا کہ ٹنڈو مستی میں لڑکی کو قتل کرنے والے ملزمان اور سردار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر کا دعوی تھا کہ ایسے معاملات میں خاندان صلح کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے مقدمات ختم ہو جاتے ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔