لائیو, امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات ممکنہ معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، ایران

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ دوسری جانب چین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے۔

خلاصہ

  • طالبان حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف
  • بیروت کے جنوب میں گاڑی پر اسرائیلی حملہ، جنوبی لبنان میں 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں سے 13 افراد ہلاک
  • امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات ممکنہ معاہدے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں: ایران
  • چین کا ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان پر ثالثی کی کوششیں تیز کرنے کے لیے زور
  • تیل کی بلند قیمتیں اور سرمائے کا اخراج: انڈین روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی

لائیو کوریج

  1. طالبان حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی ختم کرنے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت یہ ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ شدت پسندوں کی پشت پناہی ختم کرے گی اور افغان سر زمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس موضوع پر کابل حکومت کے ساتھ ’19، 19 گھنٹے طویل گفت و شنید ہوئی‘ اور وہ ’زبانی کلامی بات کرنے کو تیار ہیں لیکن لکھنے کے لیے تیار نہیں۔‘

    واضح رہے کہ اسلام آباد طالبان حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر دفاع نے بتایا کہ افغانستان سے بات چیت میں قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کردار ادا کیا لیکن ’کوئی حل نہیں نکلا۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں طالبان حکومت کی ’منت کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی چھوڑ دیں، جن اڈوں سے ان کی سہولت کاری ہو رہی ہے، انھیں ختم کر دیں، لیکن وہ اس بات پر آتے ہی نہیں ہیں۔‘

    وزیر دفاع نے کہا، اس کا تو پھر ایک ہی متبادل ہے کہ ’تنگ آمد بجنگ آمد، پھر تو جنگ ہی ہو گی۔‘

    خواجہ آصف کے مطابق ’ہو سکتا ہے کسی تیسرے ملک کے ذریعے اس وقت بھی رابطے کی کوشش ہو رہی ہو‘ لیکن وہ اس بارے میں حتمی طور پر نہیں بتا سکتے۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ طویل عرصے تک وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت میسر نہیں تھی لیکن ’اب دہشت گردی کے خلاف وہ فوج اور وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

  2. امارات میں ایرانی سکولوں کے لائسنس کی منسوخی پر ایران کا احتجاج

    دبئی میں ایران کا قونصل خانہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ایران میں انسانی حقوق کے صدر دفتر کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں ایرانی سکولوں کے لائسنس منسوخ کیے جانے پر احتجاج کیا گیا ہے۔

    ایران کا صدر دفتر برائے انسانی حقوق ملک کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ماتحت ادارہ ہے اور انتظامی طور پر عدلیہ کا حصہ ہے۔

    اس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اماراتی حکومت نے لائسنس منسوخ کرنے کا قدم ’سیاسی کشیدگی اور دشمنی کے ارادے سے‘ اٹھایا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں کے بعد امارات میں مقیم بعض ایرانیوں کو رہائش کے مسائل کا سامنا بھی رہا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے ان مسائل کے حوالے سے امارات کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

  3. امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں: ایرانی رکن پارلیمان کا دعویٰ

    ایرانی پارلیمان کے رکن کامران غضنفری

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ایرانی پارلیمان کے رکن کامران غضنفری نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

    نیوز ایجنسی خبر آن لائن سے گفتگو میں انھوں نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جانب سے ہتھیاروں اور افواج کی منتقلی کے تسلسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ’ممکنہ طور پر ایران کے جنوبی علاقوں میں کچھ جزیروں پر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    غضنفری کے مطابق ’ہم حالتِ جنگ میں ہیں، گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ہمارے خلاف دو کارروائیاں کی گئیں اور ان کے بحری جہازوں نے ہمارے بعض مراکز کو نشانہ بنایا۔‘

  4. بیروت کے جنوب میں گاڑی پر اسرائیلی حملہ، جنوبی لبنان میں 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں سے 13 افراد ہلاک

    لبنان میں گاڑی پر اسرائیل کا حملہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی مصروف شاہراہ پر ایک گاڑی کو اسرائیل نے حملے کا نشانہ بنایا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملہ دار الحکومت سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے الجیہ میں ہوا۔

    اس سے قبل سنیچر کے روز بھی اسی شاہراہ اور اسی علاقے میں دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، حالانکہ 17 اپریل سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی نافذ ہے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیل کے فضائی حملوں میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

    لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق گذشتہ روز کفر دونین میں ایک گھر پر گولہ باری کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

    لبنان کی وزارت صحت نے منگل کے روز بتایا کہ نبطیہ میں ایک اسرائیلی حملے میں سرکاری سول ڈیفنس ایمرجنسی سروس کے دو اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق جب ان اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا، اس وقت وہ ایک مقام پر حملے کے بعد امدادی کارروائی کے لیے موجود تھے، اس حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

    نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق منگل کو جبشیت کے علاقے میں ایک اور حملے میں مزید تین افراد ہلاک ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے نبطیہ میں ہلاک ہونے والے سول ڈیفنس کے دو اہلکاروں کی ہلاکت پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ’اسرائیل کی مسلسل جارحیت امن کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔‘

    لبنان کی وزارت صحت نے اسرائیلی فورسز پر امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

  5. عراق میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کا معمہ اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن

    Popular Mobilization Authority

    ،تصویر کا ذریعہPopular Mobilization Authority

    عراق میں ایک بار پھر اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا ملک میں اسرائیل کا کوئی خفیہ اڈا قائم تھا اور سوال کیا جا رہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی جنوب مغربی صحرا میں کس سے جھڑپ ہوئی؟

    یہ بحث اس وقت تیز ہوئی جب امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے نو مئی 2026 کو امریکی حکام سمیت دیگر نا معلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے عسکری آپریشنز میں مدد کے لیے عراق کے صحرائی علاقے میں ایک مبینہ خفیہ لاجسٹک اڈا قائم کیا ہے۔

    تاہم عراقی سکیورٹی میڈیا سیل نے کہا ہے کہ انھیں اس علاقے میں کسی غیر ملکی فورس کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔

    عراقی سکیورٹی میڈیا سیل کے سربراہ سعد کے مطابق اس علاقے میں تلاشی کے لیے کارروائیاں کی گئیں، تاہم وہاں کسی غیر ملکی یا غیر مجاز مسلح گروہ کی موجودگی سامنے نہیں آئی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں پانچ مارچ کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کی گئیں، جب کربلا کے قریب ایک صحرائی علاقے میں عراقی سکیورٹی فورسز کا ایک ’نامعلوم گروہ‘ سے تصادم ہوا تھا، جس میں ایک عراقی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعد میں کی جانے والی کارروائیوں میں نہ تو اس گروہ کا سراغ ملا اور نہ ہی اس سے منسلک کوئی سازو سامان۔

    یہ واقعہ 28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے چند روز بعد پیش آیا تھا۔

    وال سٹریٹ جرنل کے مطابق ایک مقامی چرواہے نے علاقے میں غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد عراقی فورسز نے اس مقام کی طرف پیش قدمی کی۔ لیکن اسی موقع پر اسرائیلی فورسز نے ان پر حملہ کر دیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے امریکہ کے پرچم تلے یہ اڈا قائم کیا تھا، اس میں خصوصی دستے بھی شامل تھے اور یہ اڈا اسرائیلی فضائیہ کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔

    عراق کی مشترکہ آپریشنز کمانڈ نے ملک میں کسی بھی غیر مجاز فوجی اڈے یا غیر ملکی فورس کی موجودگی کی تردید کی ہے، خصوصاً کربلا اور نجف کے صحرائی علاقوں میں، اور کہا ہے کہ صحرائی اور سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کارروائیاں اور تلاشی کا عمل جاری ہے۔

    بیان کے مطابق پانچ مارچ کو عراقی سکیورٹی فورس کا ’نامعلوم غیر مجاز گروہوں‘ سے تصادم ہوا، جنھیں فضائی مدد حاصل تھی۔

    عراقی ذرائع ابلاغ اور مقامی رپورٹس کے مطابق رکن پارلیمان محمد الخفاجی نے چار مارچ کو کہا تھا کہ جو چیز کربلا کے انتہائی مغرب میں لینڈ ہوئی، وہ اب تک وہاں موجود دکھائی دیتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عراقی فوج کا ایک دستہ، جو تقریباً 30 گاڑیوں پر مشتمل تھا، اس مقام کا جائزہ لینے کے لیے روانہ ہوا، تاہم اسے فضائی حملے اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک، دو زخمی ہوئے اور ایک گاڑی تباہ ہو گئی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ مشترکہ آپریشنز کمانڈ کے بیان میں کسی فریق کی نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ ان کے بقول ’یہ واضح ہے کہ یہ ایک امریکی فورس تھی جس میں ہیلی کاپٹرز اور فوجی شامل تھے۔‘

    انھوں نے حکام سے اس معاملے پر سنجیدہ کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    رکن پارلیمان ابو تراب التمیمی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ مغربی عراقی صحرا میں مبینہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی کی اطلاعات ’سکیورٹی کی سنگین ناکامی‘ ہیں اور انھوں نے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب قوت الحشد الشعبی اور عراقی سکیورٹی فورسز نے 12 مئی کو نجف اور کربلا کے صحرائی علاقوں میں وسیع سکیورٹی آپریشن شروع کیا ہے۔

    واضح رہے کہ قوت الحشد الشعبی عراق کی فوجی طرز پر تربیت یافتہ ایک فورس ہے، جو سکیورٹی کارروائیوں میں فوج کے ساتھ مل کر حصہ لیتی ہے۔ اسے پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) بھی کہا جاتا ہے۔

    پی ایم ایف اور عراقی فورسز کی ان کارروائیوں کا مقصد صحرائی علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنانا اور کنٹرول بڑھانا بتایا گیا ہے۔

    پی ایم ایف کے مطابق سکیورٹی فورسز نے الفاج کے مقام سے نجف کے صحرائی علاقوں کی جانب مختلف سمتوں میں پیش قدمی شروع کی ہے اور آپریشن کے دوران تقریباً 120 کلومیٹر علاقے کا جائزہ لیا جائے گا۔

  6. اسرائیل کے لیے جاسوسی کا مجرم قرار دے کر ایران میں ایک شخص کو پھانسی دے دی گئی

    احسان، جنھیں اسرائیل کے لیے جاسوسی کا مجرم قرار دے کر پھانسی دی گئی

    ،تصویر کا ذریعہMizan

    اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کا مجرم قرار دے کر ایران میں ایک شخص کو پھانسی دی گئی ہے۔

    عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھنے کے بعد بدھ کو اس سزا پر عمل در آمد کیا گیا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 32 سالہ احسان کو سنہ 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا اور سنہ 2025 میں انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

  7. سوشل میڈیا پر جاری نقشے میں ٹرمپ نے وینزویلا کو امریکہ کی ’51 ویں ریاست‘ قرار دے دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ

    ،تصویر کا ذریعہtruthsocial.com/@realDonaldTrump

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر وینزویلا کا ایک نقشہ شیئر کیا جس پر لکھا ہے ’51 ویں ریاست۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے ایک نمائندے کے مطابق پیر 11 مئی کو ٹرمپ نے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا کہ وہ وینزویلا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کے بارے میں ’غور‘ کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل کینیڈا اور گرین لینڈ کے لیے بھی امریکی صدر کی جانب سے اسی نوعیت کے بیانات سامنے آ چکے ہیں، جن کی وہاں کی حکومتوں اور عوام نے سخت مخالفت کی تھی۔

  8. امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں: ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ناروے کے نائب وزیر خارجہ اندریاس کراوک سے بات کر رہے ہیں

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات کو جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

    تہران میں ناروے کے نائب وزیر خارجہ اندریاس کراوک سے ملاقات کے دوران عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ’ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی عسکری کارروائی‘ اور اس کے بعد جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق قواعد بنانے کے لیے مشاورت کر رہا ہے۔

  9. جنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے کردار ادا کرنے پر غور

    جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے کہا ہے کہ سیئول آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش میں بتدریج اپنا کردار ادا کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم وہ اس میں عسکری طور پر شامل نہیں ہو گا۔

    بدھ کے روز واشنگٹن میں جنوبی کوریا کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ یہ مؤقف وہ پیر کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ ملاقات میں بھی پیش کر چکے ہیں۔

    جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق آہن گیو بیک نے کہا: ’ہم عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کے طور پر (آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی یقینی بنانے کے لیے) کردار ادا کریں گے، اور بتدریج یہ سوچیں گے کہ ہم کن طریقوں سے تعاون کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ممکنہ اقدامات میں سیاسی حمایت کا اظہار، عملے کی فراہمی، معلومات کا تبادلہ اور عسکری وسائل کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔

    تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جنوبی کوریا کے فوجیوں کی شمولیت بڑھانے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں کی گئی۔

  10. ٹرمپ کے ’گولڈن ڈوم‘ دفاعی نظام کی لاگت 12 کھرب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے اور شاید وہ بھرپور میزائل حملہ روک بھی نہ پائے, سارین حبیشیئن، بی بی سی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، پس منظر میں گولڈن ڈوم فار امریکہ لکھا نظر آ رہا ہے

    ،تصویر کا ذریعہChip Somodevilla/Getty Images

    امریکی کانگریس کے غیر جانبدار بجٹ آفس (سی بی او) کے اندازے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ جدید ’گولڈن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام پر تقریباً 12 کھرب ڈالر (882 ارب پاؤنڈ) لاگت آ سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ کسی بھرپور میزائل حملے کو روک بھی نہ سکے۔

    یہ تخمینہ اس ابتدائی رقم 175 ارب ڈالر (129 ارب پاؤنڈ) سے کہیں زیادہ ہے جو پہلے مختص کی گئی تھی۔

    رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے امریکہ کے دفاع کے لیے تیار کیا جانے والا یہ نظام شاید کام بھی نہ کرے۔ سی بی او کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ گولڈن ڈوم روس یا چین کی جانب سے بھرپور حملے کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے چند دن بعد اس منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جدید دور کے فضائی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔

    انھوں نے گذشتہ سال کہا تھا کہ اس پروگرام کے لیے ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالرز درکار ہوں گے، جبکہ وقت کے ساتھ مجموعی لاگت 175 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔

    اس تخمینے کا مطالبہ ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی نے کیا تھا۔ منگل کے روز انھوں نے کہا: ’صدر کا نام نہاد گولڈن ڈوم در اصل دفاعی ٹھیکیداروں کے لیے ایک بڑا مالی فائدہ ہے، جس کی ادائیگی عام امریکی شہری کریں گے۔‘

    بی بی سی نے اس حوالے سے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطہ کیا۔

    یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ امریکہ اتنے وسیع رقبے کے لیے مکمل دفاعی نظام فراہم کر سکے گا یا نہیں۔

    حکام نے خبردار کیا ہے کہ حریف تیزی سے اپنے ہتھیاروں کو جدید بنا رہے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ میں موجود نظام پیچھے رہ گئے ہیں۔

    سی بی او کے مطابق متوقع اخراجات کے باوجود ’کوئی حریف جو امریکہ کے ہم پلہ ہے، یا اس سے کچھ کم ہے، اگر وہ بھرپور حملہ کرے تو امریکہ کا یہ نظام اس کے سامنے بے بس ہو سکتا ہے۔‘

    اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے ایک انتظامی حکم جاری کیا گیا تھا اور اسے ’آئرن ڈوم فار امریکہ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

    حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ گزرتے وقت کے ساتھ جدید ہتھیاروں سے لاحق خطرہ ’زیادہ شدید اور پیچیدہ‘ ہو گیا ہے، جو امریکہ کے لیے ممکنہ طور پر ’تباہ کن‘ ہو سکتا ہے۔

    اپنی دوسری مدت کے پہلے ہفتے میں ٹرمپ نے محکمۂ دفاع کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایسے نظام کا منصوبہ پیش کرے جو فضائی حملوں کو روکنے اور ان سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ نظام خشکی، سمندر اور خلا میں ’نیکسٹ جنریشن‘ ٹیکنالوجی پر مشتمل ہو گا، اس میں خلائی سینسرز اور میزائل روکنے والے نظام شامل ہوں گے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ یہ نظام ’ان میزائلوں کو بھی روکنے کی صلاحیت رکھے گا جو دنیا کے دوسرے حصے سے، یا خلا سے داغے گئے ہوں۔‘

    گذشتہ ماہ سپیس ایکس اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ 3.2 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے گئے تھے تاکہ وہ میزائل روکنے والا ایسا نظام تیار کریں جو خلا میں نصب کیا جا سکے۔

  11. پاکستان میں رواں مالی سال قرضوں پر سود اور دفاعی اخراجات ترقیاتی بجٹ سے زیادہ: وزارت خزانہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں ایک عمارت تعمیر کے مرحلے میں

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں قرضوں پر سود کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جانے والے بجٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی اخراجات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور دفاع پر صرف ہوا، جبکہ اس کے مقابلے میں ترقیاتی پروگراموں کے لیے مختص رقم بہت کم رہی۔

    رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں تقریباً پانچ ہزار ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ دفاعی اخراجات ایک ہزار 689 ارب روپے رہے۔ اس کے مقابلے میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر صرف 333 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

    اسی عرصے کے دوران ملک کا مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.7 فیصد، یعنی 856 ارب 35 کروڑ روپے تک محدود رہا، جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آمدن 14 ہزار 800 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نو ہزار 300 ارب روپے ٹیکس وصول کیا، تاہم یہ مقررہ ہدف حاصل نہ کر سکا۔

    دوسری جانب غیر ٹیکس آمدن چار ہزار 600 ارب روپے رہی، جس میں سب سے بڑا حصہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کا تھا، جو دو ہزار 428 ارب روپے رہا۔ حکومت نے اس دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 205 ارب روپے جمع کیے۔

    مالیاتی خسارہ کم رکھنے میں صوبوں کے سرپلس نے اہم کردار ادا کیا۔ چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار 600 ارب روپے کا سرپلس دیا، جو سالانہ ہدف سے 172 ارب روپے زیادہ ہے۔

    صوبائی سطح پر پنجاب نے سب سے زیادہ 824 ارب روپے کا سرپلس دیا، سندھ نے 441 ارب، خیبر پختونخوا نے 253 ارب اور بلوچستان نے 118 ارب روپے کا سرپلس ریکارڈ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مجموعی آمدن کا جی ڈی پی کے تناسب میں حصہ کم ہو کر 11.4 فیصد رہ گیا، جو گذشتہ سال 11.7 فیصد تھا۔ اسی طرح ٹیکس آمدن کا تناسب بھی آٹھ فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد پر آ گیا۔

    سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جبکہ صوبائی ٹیکس آمدن میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔

  12. دھمکیوں اور زبردستی کروائے گئے سمجھوتوں سے حقیقی امن ممکن نہیں: ایرانی نائب وزیر خارجہ

    کاظم غریب آبادی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایرانی اصولوں کا ذکر کیا ہے۔

    اُن کے مطابق اِن اصولوں میں ’جنگ کا مستقل خاتمہ، نقصانات کا ازالہ، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، پابندیاں ختم کرنا اور ایران کے حقوق کا احترام کرنا‘ شامل ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں غریب آبادی نے لکھا: ’دھمکیوں اور زبردستی کروائے گئے سمجھوتوں سے حقیقی امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق بحران کے خاتمے کے لیے یہ ایران کے کم سے کم مطالبات ہیں۔

  13. چین کا پاکستان پر ثالثی کی کوششیں تیز کرنے کے لیے زور

    چینی وزیر خارجہ وانگ یی

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ثالثی کی کوششوں کو مزید تیز کرے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاملات مناسب طریقے سے حل کرنے میں کردار ادا کرے۔

    شنہوا کے مطابق وانگ یی نے یہ بات پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی۔

    شنہوا کی خبر میں درج ہے کہ اسحاق ڈار نے وانگ یی کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی حالیہ کوششوں سے آگاہ کیا اور مکالمے کے فروغ میں پاکستان کی حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

    چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وانگ یی نے امریکہ، ایران مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور عارضی جنگ بندی میں توسیع کے لیے مدد کرنے پر پاکستان کو سراہا۔

    خبر کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور اس مقصد کے لیے اپنا حصہ بھی ڈالتا رہے گا۔

    وانگ یی سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سماجی رابے کی ویب سائٹ ایکس پر تفصیل جاری کی۔

    ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی صورتحال اور ایران، امریکہ روابط کے لیے پاکستان کی جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان کے تعمیری ثالثی کردار کی تعریف کی اور حمایت کا اعادہ کیا۔

    اسحاق ڈار کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے جنگ بندی کو جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز سے معمول کی نقل و حمل یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

  14. تیل کی بلند قیمتیں، سرمائے کا اخراج، انڈین روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی

    انڈین کرنسی

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کے روز انڈین روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 95.7 کی ریکارڈ کم ترین سطح تک گر گیا، جو اس کی گذشتہ کم ترین سطح 95.4 سے بھی نیچے ہے۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2026 کے دوران انڈین روپیہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے بری کارکردگی دکھانے والی کرنسی رہا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے انڈین کرنسی کی قدر میں پانچ فیصد کمی ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافے نے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ فلپائن اور انڈونیشیا کی کرنسی کی قدر میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔

    تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ تنازع جتنا زیادہ طویل ہو گا، اتنا ہی امکان ہے کہ تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی، جس سے کرنسی پر مسلسل دباؤ برقرار رہے گا۔ تیل کی بلند قیمتیں انڈیا کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ کریں گی، جبکہ سرمائے کی آمد میں مسلسل کمی کا امکان اس دباؤ کو مزید بڑھا دے گا۔

    روئٹرز کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے غیر ملکی سرمایہ کار انڈیا کی سٹاک مارکیٹ سے 20 ارب ڈالرز سے زیادہ کی رقم نکال چکے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کو بیرونی سرمایہ کاروں نے تقریباً 90 کروڑ ڈالرز کے حصص فروخت کیے۔

    انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپیل کی تھی کہ ایندھن کے استعمال اور درآمدات کو محدود کیا جائے تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔

  15. پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار نیوی گیشن سسٹم کی خرابی کے باعث کویتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے: ایران

    ایران نے منگل کے روز کویت کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے چار اہلکاروں نے کویت کے جزیرے بوبیان میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔

    ایران کا کہنا ہے کہ کویت کے الزام ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ فوجی اہلکار نیویگیشن سسٹم میں ’خرابی‘ کے باعث کویتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

    بی بی سی عربی نے ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کویتی حکومت کی جانب سے ’اس معاملے ذرائع ابلاغ میں اچھالنے اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے اقدام کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔‘

    اس سے قبل کویتی خبر رساں ادارے ’کونا‘ نے وزارتِ داخلہ کے حوالے سے ایک بیان میں بتایا کہ یہ افراد سمندر راستے سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ جب انھیں حراست میں لیا گیا۔

    وزارت کے مطابق ان افراد کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔

    مزید بتایا گیا کہ زیرِ حراست افراد نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ ان کا تعلق اسلامی جمہوریہ ایران سے ہے اور وہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ہیں۔

    کویتی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملزمان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’انھیں ایک مخصوص مشن کے تحت بوبيان جزیرے میں بھیجا گیا تھا، جس کے لیے انھوں نے ایک چھوٹی کشتی کرائے پر حاصل کی تھی تاکہ کویت کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔‘

    پاسدارانِ انقلاب

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
  16. قطر اور ترکی کا مشترکہ طور پر پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان

    قطر اور ترکی نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ قطر اور ترکی مشترکہ طور پر پاکستان کی اُن ثالثی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا، اس جنگ کا جلد از جلد خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر بحری آمد و رفت کی معمول کی روانی بحال کرنا ہے۔‘

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان منگل کے روز قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں قطر اور ترکی نے خطے میں فوجی کارروائیوں کی دوبارہ شروعات کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی پیش رفت کے عالمی سلامتی اور عالمی معیشت، دونوں پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

  17. ایران نے امریکہ کے خلاف بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا

    ایران نے امریکہ کے خلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    بی بی سی فارسی نے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری تنصیبات کے خلاف ’فوجی جارحیت، اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور طاقت کے استعمال کی دھمکی‘ کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکومت نے اپنی درخواست کی بنیاد 1981 کے الجزائر معاہدوں پر رکھی ہے اور امریکہ پر ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

    الجزائر معاہدے کے مطابق امریکہ نے ایران کے اندرونی، سیاسی اور فوجی معاملات میں براہ راست یا بلاواسطہ مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے یہ مقدمہ مارچ 2026 میں باضابطہ طور پر ایران‑امریکہ کلیمز ٹریبونل میں درج کیا گیا۔

    ایران نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں براہِ راست اور بالواسطہ ہر قسم کی مداخلت ختم کرنے کا پابند بنائے۔

    ایجنسی کے مطابق تہران نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ ایسی خلاف ورزیاں نہیں ہوں گی جبکہ ملک کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔

  18. ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کو ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔

    منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ آیا اُن کے خیال میں چینی صدر شی جنپنگ ایران کے معاملے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے معاملے میں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم کسی نہ کسی طریقے سے جیتیں گے۔ ہم یا تو پُرامن طریقے سے جیتیں گے یا کسی اور طریقے سے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم ہو چکی ہے، اور اُن کی جنگی مشین کا ہر ایک حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

    امریکی صدر چین کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات ہو گی۔

    یاد رہے کہ دو روز قبل چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کی ضمانت چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کی جانب سے دی جانی چاہیے۔

  19. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کی حدود میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سیاسی معاون محمد اکبرزادہ نے ایرانی ٹی وی کو بتایا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اس علاقے کو وسعت دے دی گئی ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ 20 سے 30 میل کا تھا جسے بڑھا کر اب 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر کر دیا گیا ہے۔‘
    • ایران کے انڈیا میں سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔‘
    • کویتی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
    • قطر نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے یا انھیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔
    • اسرائیلی فوج نے ایک سرکاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک جنوبی لبنان میں ’350 سے زائد شدت پسندوں‘ کو ہلاک کیا اور اسی عرصہ کے دوران حزب اللہ کے زیرِ استعمال ’1100 سے زیادہ تنصیبات اور اہداف‘ کو نشانہ بنایا۔
  20. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔