پاکستانی وزیرِ داخلہ کی تہران میں ایرانی صدر اور قالیباف سے ملاقات، امریکہ نے ایران سے مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا
ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت پانچ شرائط عائد کی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
خلاصہ
ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک ڈرون حملے کے نتیجے میں آتشزدگی
امریکہ نے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا
دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل 'زیادہ جارحانہ' اور 'حیران کن' ہوگا: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کی دھمکی
امریکی انتظامیہ کے مطابق بحری بیڑے 'یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ' کی 326 روزہ مشن کے بعد امریکہ واپسی ہو گئی ہے
القسام بریگیڈز نے سنیچر کے روز جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کے کمانڈر عزالدین الحدّاد گزشتہ رات غزہ سٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں
ایران کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی فوج کے حملے میں القسام بریگیڈز کے کمانڈر عزالدین الحدّاد، ان کی اہلیہ اور بچے کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے
لائیو کوریج
بلوچستان میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکومت نے ایک مرتبہ پھر دفعہ 144نافذ کر دی ہے۔
اتوار کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے جاری ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
دفعہ 144کے باعث ہر قسم کے اسلحے کی نمائش اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہو گی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ہر قسم کی ریلیوں، دھرنوں، جلوسوں، پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی کے علاوہ ماسک یا مفلر سے چہرے چھپانے پر بھی پابندی ہوگی۔
دریں اثنا محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ سکیورٹی ادارے کالعدم تنظیموں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ تمام سکیورٹی فورسز مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں جبکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGovt of Balochistan
’ایران کو جلدی کرنا ہو گی ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا‘: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ ’ایران کو جلدی کرنا ہو گی، ورنہ ان کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہTruth Social
ایرانی صدر کی محسن نقوی سے ملاقات: ’مسلم ممالک جتنے متحد ہوں گے، بیرونی جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے‘
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطے کے ممالک خصوصاً ایران کے ہمسایہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ خطے سے باہر کی طاقتوں کی کسی بھی جارحیت کو ناکام بنایا جا سکے۔
یہ بات ایرانی صدر نے اتوار کے روز پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی سے ملاقات کے دوران کہی۔
ایرانی خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق، مسعود پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی ممالک کو مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی مشترکات کی بنیاد پر اتحاد اور ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک جتنے زیادہ متحد ہوں گے، تسلط کی خواہشمند طاقتوں کی جانب سے مداخلت اور جارحیت کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ملک کے شمال مغربی اور جنوب مشرقی علاقوں سے مسلح شدت پسندوں گرد عناصر کے ذریعے دراندازی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسیوں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں پروسی ممالک کی سرزمین کا ایران کے خلاف کسی بھی غلط استعمال کو روکا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عید الاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائے گی: رویت ہلال کمیٹی
پاکستان کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ملک میں ذوالحج کا چاند نظر کا اعلان کر دیا ہے۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں واقع محکمہ موسمیات کے دفتر میں ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر نے کی۔
اجلاس کے بعد مولانا عبدالخبیر آزاد نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں اور ملک میں عید الضحیٰ 27 مئی بروز بدھ کو منائی جائے گی۔
ان کے مطابق جن علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں ان میں کراچی، مردان، راولپنڈی، پشاور اور دیگر مقامات شامل ہیں۔
پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی تہران میں باقر قالیباف سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہTasnim
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی اتوار کی دو پہر تہران میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات کے حوالے سے ایران اور پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آِئی ہیں۔
یاد رہے کہ محسن نقوی گذشتہ روز غیر اعلانیہ دورے پر ایران پہنچے تھے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت کی تھی۔
اس سے ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتایا تھا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کی تجاویز کے جواب میں امریکہ نے 400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی پانچ شرائط عائد کی ہیں۔
بی بی سی فارسی کے مطابق بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی ہے کہ تہران نے ’امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گذشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔‘
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کا ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک حملے پر تشویش کا اظہار
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس حملے کے نتیجے میں پاور پلانٹ کے نزدیک ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم ابوظہبی حکوت کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ بجلی گھر کے اطراف میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔
اس واقعے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے ایکس پر لکھا کہ \ایسی فوجی سرگرمیاں جو جوہری تحفظ کے لیے خطرہ بنیں ناقابلِ قبول ہیں۔ً
حالیہ جنگ کے دوران ایران نے آئی اے ای اے کو اطلاع دی تھی کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کو کم از کم چار میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حلہ کس نے کیا ہے۔
براکہ جوہری بجلی گھر متحدہ عرب امارات کے شمال مغربی صحرا میں سعودی عرب اور قطر کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
یہ بجلی گھر امارات نیوکلیئر انرجی کارپوریشن کے کنسورشیم نے جنوبی کوریا کی ایک توانائی کمپنی کے تعاون سے تعمیر کیا تھا۔
عالمی ادارۂ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا کو عالمی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہReuters
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری سے اب تک اس وبا کے تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی عالمی وبائی ایمرجنسی (پینڈیمک) تک نہیں پہنچی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا موجودہ اندازوں اور رپورٹ کیے گئے کیسز سے کہیں ’بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے‘ اور اس کے مقامی و علاقائی سطح پر پھیلنے کا نمایاں خطرہ موجود ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس وقت ایبولا کی جو قسم سامنے آئی ہے وہ بُنڈی بوگیو وائرس کے باعث ہے اور اس کے علاج تاحال کوئی منظور شدہ دوا یا ویکسین دستیاب نہیں۔
اس وبا سے متاثرہ شخص میں پائی جانے والی ابتدائی علامات میں بخار، پٹھوں میں درد، تھکن، سر درد اور گلے میں خراش شامل ہیں، جن کے بعد قے، اسہال، جلد پر خارش اور خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
باقر قالیباف چین کے لیے ایران کے خصوصی ایلچی مقرر
،تصویر کا ذریعہHandout via Getty Images
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے لیے خصوصی ایلچی مقرر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ان کی تقرری کی تجویز دی تھی جس کے بعد رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کی منظوری دی۔
بیجنگ میں ایران کے موجودہ سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی اس سے قبل چین کے امور کے لیے صدر کے نمائندے کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، جبکہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سیکریٹری علی لاریجانی چین کے معاملات پر رہبرِ اعلیٰ کے خصوصی نمائندے تھے۔ علی لاریجانی 17 مارچ کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔
یاد رہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دونوں ممالک 25 سالہ مشترکہ تعاون کے منصوبے پر دستخط کر چکے ہیں۔
ابو ظہبی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے نزدیک ڈرون حملے کے نتیجے میں آتشزدگی
،تصویر کا ذریعہenec.ae
متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں الظفرہ ریجن میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر موجود ایک بجلی کے جنریٹر میں آگ بھرک اٹھی تھی۔
ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے ہونے کی اطلاع نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی تابکاری کی اطلاع ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد تمام احتیاطی اقدامات کیے گئے اور جیسے ہی مزید معلومات دستیاب ہوں گی فراہم کی جائیں گی۔
متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی برائے نیوکلیئر ریگولیشن نے تصدیق کی ہے کہ اس آتشزدگی کے نتیجے میں بجلی گھر نظاموں پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
400 کلو گرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت امریکہ نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ شرائط رکھ دیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لیے ایران کی تجویز کے جواب میں امریکہ نے پانچ شرائط عائد کی ہیں۔
ایرانی فوجی اور سکیورٹی حلقوں کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق امریکی شرائط درج ذیل ہیں:
امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگی ہرجانہ ادا نہیں کیا جائے گا
400 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کیا جائے گا
صرف ایرانی ایک جوہری تنصیب برقرار رہے گی
ایران کے منجمد اثاثوں کا 25 فیصد بھی نہیں دیا جائے گا
مذاکرات تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے مشروط ہوں گے
دوسری جانب ایران کی جانب سے پیش کی گئی پانچ شرائط یہ ہیں:
تمام محاذوں خاص طور پر لبنان میں جنگ کا خاتمہ
ایران پر پابندیوں کا خاتمہ
ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی
ایران کو جنگی ہرجانے کی ادائیگی
آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے
بی بی سی فارسی کے مطابق بعض ایرانی میڈیا اداروں نے خبر دی ہے کہ تہران نے ’امریکی فریق کی جانب سے پاکستانی ثالث کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے بعد گذشتہ رات اپنا مؤقف پاکستانی حکام تک پہنچا دیا۔‘
یہ اطلاعات پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے تہران کے ایک روزہ دورہ کے بعد سامنے آئی ہیں۔
دوبارہ حملے کی صورت میں ایران کا ردِعمل ’زیادہ جارحانہ‘ اور ’حیران کن‘ ہوگا: ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کی دھمکی
امریکہ کے ایران پر ممکنہ طور پر دوبارہ حملوں کی شروعات کی اطلاعات پر ردِ عل دیتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بار ایران کا ردِعمل ’زیادہ جارحانہ‘ اور ’حیران کن‘ ہوگا۔
ابوالفضل شکارچی کا کہنا ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی تیسری جنگ میں امریکہ کی رسوائی کی تلافی کے لیے کسی بھی احماقانہ کارروائی کا نتیجہ مزید تباہ کن اور شدید حملوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر دھمکیوں پر عمل کیا گیا‘ تو ایران کا ردِعمل ’جارحانہ، حیران کن اور طوفانی‘ ہوگا۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر ایک امریکی فوجی کمانڈر کے ساتھ اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس کے ساتھ انھوں لکھا: ’طوفان سے پہلے کی خاموشی۔‘
گذشتہ دو دنوں کے دوران بعض امریکی اور اسرائیلی میڈیا اداروں نے ایران پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
تہران میں 51 ہزار سے زائد مکانات کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے نقصان پہنچا، حکام
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
ایران کے دارلحکومت تہران میں بحران کی روک تھام
اور انتظام کرنے والے ادارے کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ حلیہ امریکہ اور اسرائیل
کے ساتھ ہونے والی جنگ کے دوران دارالحکومت میں 51 ہزار رہائشی یونٹس کو نقصان
پہنچا ہے۔
علی نصیری کے مطابق ان میں سے 691 یونٹس کو مضبوط
بنانے کی ضرورت ہے، جبکہ 1791 یونٹس کو مکمل طور پر گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا پڑے
گا۔
انھوں نے بتایا کہ نقصانات کا تخمینہ عدالتی ماہرین
کی جانب سے لگایا جا رہا ہے اور جن کیسز میں نقصان کی مالیت 500 ملین تومان تک
ہوگی، وہاں بینک شہر کی جانب سے مالکان کو الیکٹرانک کارڈز کے ذریعے ادائیگی کی
جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے زیادہ نقصان کی صورت
میں متعلقہ بلدیاتی ادارے ٹھیکیداروں کے ذریعے براہِ راست تعمیر نو کا کام انجام
دیں گے۔
علی نصیری نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کے دوران 12 ہزار
سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
بحری بیڑے ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ کی 326 روزہ مشن کے بعد امریکہ واپسی
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ دنیا کا سب سے
بڑے جنگی بحری جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ جسے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے قبل مشرقِ
وسطیٰ بھیجا گیا تھا، 326 روزہ طویل مشن مکمل کرنے کے بعد سنیچر کے روز امریکہ
واپس پہنچ گیا ہے۔
یہ مشن ویتنام جنگ کے بعد کسی بھی امریکی طیارہ
بردار جنگی گروپ کا طویل ترین آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اس موقع پر ریاست
ورجینیا کے شہر نورفک میں دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز کا استقبال کرنے کے
لیے موجود تھے۔
امریکی فوج کے مطابق اس جہاز نے اپنے مشن کے دوران
کیریبین خطے میں امریکی کارروائیوں میں حصہ لیا، جہاں امریکی افواج نے منشیات سمگلنگ
کے شبہ میں کشتیوں کو نشانہ بنایا، پابندیوں کا شکار آئل ٹینکرز کو ضبط کیا اور
وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کو حراست میں لیا۔
بعد ازاں اس جہاز کو مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا، جہاں
اس نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
اس طویل مشن کے دوران 12 مارچ کو جہاز کے لانڈری
سیکشن میں آگ لگنے کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے نتیجے میں اس کے عملے کے دو افراد زخمی
ہوئے۔
ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد ایران کا ردعمل: ’دنیا نئے دور کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد ایرانی
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ’دنیا اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔‘
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا اتوار کے روز ایکس پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ ’عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں میں ایران مزید تیزی لانے کا
باعث بن رہا ہے اور مستقبل گلوبل ساؤتھ کا ہی ہے۔‘
قالیباف نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ ’دنیا
ایک نئے دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔ جیسا کہ صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ ’گزشتہ صدی
میں نہ دیکھی جانے والی تبدیلیاں اب دنیا بھر میں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اس بات پر زور دیتا ہوں
کہ ایرانی قوم کی 70 روزہ ثابت قدمی نے اس تبدیلی کو مزید تیز کیا ہے۔ مستقبل
گلوبل ساؤتھ کا ہے۔‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں دو
روزہ دورے پر چین گئے تھے، جہاں انھوں نے دارالحکومت بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سے
ملاقات کی تھی۔ ٹرمپ نے اس دورے کو ’انتہائی کامیاب اور یادگار‘ قرار دیا۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے بھی
اس دورے کو ’تاریخی اور سنگِ میل‘ قرار دیا ہے۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تجارتی معاہدے
یا نئی ڈیل کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
جنگ بندی میں توسیع کے باوجود اسرائیل کے جنوبی لبنان پر شدید حملے جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے باوجود
اسرائیل نے جنوبی لبنان پر وسیع فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا ہدف حزب
اللہ سے وابستہ ٹھکانے ہیں، تاہم کارروائی سے قبل نو دیہات کے رہائشیوں کو انخلا
کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔
جاری بمباری نے جنگ بندی کے مستقبل سے متعلق خدشات
کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر ان دسیوں ہزار لبنانی شہریوں میں جو پہلے ہی جنوبی
علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سنیچر کے
روز درجنوں دیہات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کچھ علاقے سرحد سے 50 کلومیٹر دور
واقع ہیں۔
خبر رساں ادارے نے یہ بھی بتایا کہ تازہ حملوں کے
بعد مقامی آبادی کی ایک اور بڑی تعداد جنوبی شہر صیدا اور دارالحکومت بیروت کی
جانب منتقل ہو رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’طوفان سے پہلے کی خاموشی‘: امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران سے کشیدگی کا تاثر
،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم
ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ اپنے ملک کے ایک فوجی کمانڈر
کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں اور اس پر لکھا ہوا ہے ’طوفان سے پہلے کی خاموشی۔‘
اس تصویر میں ٹرمپ کو ایک جنگی بحری جہاز پر کھڑا
دکھایا گیا ہے، جس کے چاروں اطراف میں ماحول شدید طوفانی دکھایا گیا ہے اور اردگرد
ایسے جہاز موجود ہیں جن پر اسلامی جمہوریہ ایران کے پرچم نظر آ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اسی پلیٹ فارم پر ایک اینیمیٹذ ویڈیو بھی
جاری کی ہے جس میں ایک امریکی جنگی جہاز کو ایرانی پرچم والے جہاز پر فائر کرنے کا
حکم دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
،ویڈیو کیپشنوہ اینیمیٹڈ وڈیو کہ جس میں امریکی صدر کو ایک امریکی جنگی جہاز کو ایرانی پرچم والے جہاز پر فائر کرنے کا حکم دیتے ہوئے دکھا
یہ دونوں پوسٹس ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود دو نامعلوم حکام کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ طور پر دوبارہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں، جن کے آئندہ ہفتے میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کسی بھی ممکنہ حملے کے حوالے سے خبردار کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس کا زیادہ شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔
یہ دہشت گردانہ کارروائی اور ٹارگٹ کلنگ فلسطینیوں کو مٹانے کی مجرمانہ منصوبہ بندی کا حصہ ہے، ایران
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی فوج کے حملے میں القسام بریگیڈز کے کمانڈر عزالدین الحدّاد، ان کی اہلیہ اور بچے کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ دہشت گردانہ کارروائی اور اس نوعیت کی دیگر ٹارگٹ کلنگ اسرائیل کے فلسطین
کو نوآبادیاتی طور پر مٹانے کے مجرمانہ منصوبے کا حصہ ہیں۔‘
ایرانی وزارتِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مزاحمتی
قیادت اور فلسطینی شخصیات کو جسمانی طور پر ختم کرنے سے نہ تو مزاحمت کی سوچ متاثر
ہوگی اور نہ ہی اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی جا سکے گی۔
بیان کے مطابق ایسے
اقدامات الٹا آزادی اور فلسطین کی عزت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے حوصلہ
افزائی کا باعث بنیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو
اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے ایک مشترکہ بیان میں دعویٰ کیا کہ عزالدین الحدّاد ’ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کے قتل، اغوا اور زخمی ہونے کے ذمہ دار
تھے۔‘
عزالدین حداد کی نمازِ جنازہ سنیچر کے روز غزہ شہر
میں ادا کی گئی۔
یاد رہے کہ اکتوبر سے اس خطے میں جنگ بندی نافذ ہے،
تاہم اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اسے اب بھی حماس کے ارکان کو نشانہ بنانے کا
اختیار حاصل ہے۔
حماس کے کمانڈر عزالدین الحدّاد اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک، القسام بریگیڈز کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہFARS
القسام بریگیڈز نے سنیچر کے روز جاری بیان میں
تصدیق کی ہے کہ ان کے کمانڈر عزالدین الحدّاد گزشتہ رات غزہ سٹی پر اسرائیلی فضائی
حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق تنظیم نے اس
حملے کو ’بزدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرم الشیخ جنگ بندی معاہدے کی کھلی
خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس حملے میں کمانڈر
عزالدین الحدّاد اپنی اہلیہ، بیٹی اور دیگر متعدد افراد کے ساتھ ہلاک ہوئے۔
اس سے قبل رواں ہفتے فلسطین کی وزیر خارجہ وارسین
اغابیکيان نے خبردار کیا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری ’نسل کشی‘ بلا
تعطل جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق اور حالات شدید تباہی کا شکار ہیں اور
اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے فوری عالمی دباؤ کی ضرورت ہے۔
اغابیکيان کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے کئی ماہ
گزرنے کے باوجود غزہ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’آج شرم
الشیخ معاہدے پر دستخط کے پانچ ماہ بعد بھی غزہ میں ہمیں سوائے تباہی کے کچھ نظر
نہیں آتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’قتل و غارت جاری ہے، زخمیوں
کی تعداد بڑھ رہی ہے اور انسانی امداد ضرورت کے مطابق فراہم نہیں کی جا رہی۔‘
فلسطین کی وزیر خارجہ وارسین اغابیکيان نے بتایا کہ
بے گھر فلسطینی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جہاں سیلاب اور با مناسب حالات کا
سامنا ہے۔
پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت مذاکرات کا اہم محور رہی: وزیرِ داخلہ ایران
،تصویر کا ذریعہIRNA
ایران کے وزیرِ داخلہ سکندر مومنی کا کہنا ہے کہ
پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت حالیہ مذاکرات کا ایک اہم موضوع تھا۔
یاد رہے کہ سنیچر کے روز پاکستان کے وزیرِ داخلہ
محسن نقوی ایک ایسے دورے پر تہران پہنچے جسے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے ’غیر
اعلانیہ‘ قرار دیا۔ اس دورے کے دوران انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سکندر مومنی سے
ملاقات کی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سکندر مومنی
نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں سرحدی تجارت کو خصوصی اہمیت دی
گئی۔
انھوں نے کہا کہ اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ سہولتیں
فراہم کی جائیں گی اور ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے تجارتی عمل کو تیز اور
آسان بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق، سرحدی تبادلے، ٹرانزٹ اور ٹریڈ کو مزید سہل یعنی
آسان بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات کے دوران بعض نئی
سرحدی گزرگاہوں کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔
دوسری جانب پاکستان اس وقت ایران اور امریکہ کے
درمیان جاری جنگ بندی میں ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے اعلان
کیا تھا کہ وہ ایران کے لیے ایک تجارتی راہداری کھول رہا ہے، جس کے تحت ایران اپنی
اشیا کی ترسیل کے لیے گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں استعمال کر سکے گا۔
پاکستان کی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ ’ٹرانزٹ
آف گڈز تھرو پاکستان 2026‘ پالیسی کے تحت ایران کے لیے چھ تجارتی راستے کھولے گئے
ہیں۔ ان راستوں کے ذریعے ایران اپنی مصنوعات کو پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے دیگر
ممالک کو برآمد کر سکے گا، جبکہ بیرونِ ملک سے خریدی گئی اشیا بھی انہی راستوں سے
ایران منتقل کی جا سکیں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو
امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باعث اپنی بندرگاہوں کے ذریعے تجارت میں مشکلات کا
سامنا ہے، جس کے سبب اسے متبادل راستوں کی تلاش ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران
پر حملوں کے بعد سے پاکستانی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، پاکستانی فوج کے سربراہ
اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، محسن نقوی سے سبل ایران کے دورے کر چُکے ہیں۔
دالبندین میں نامعلوم مسلح افراد کا پولیس تھانے پر حملہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے شہر دالبندین میں سینیچر کے روز نامعلوم مسلح افراد داخل ہوئے اور انھوں پولیس تھانے پر حملہ کیا۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے شہر میں تین مقامات پر ناکہ بندی بھی کی ۔
مسلح افراد کے شہر میں داخل ہونے اور پولیس کی جوابی کاروائی کے دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول میں لے لیا۔
حملے میں تھانے کو معمولی نقصان پہنچا اور اس حملے کے حوالے سے چاغی پولیس کے سربراہ سے فون پر رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بات کرنے سے گریز کیا۔
تاہم کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں مسلح افراد داخل ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے تھانے پر حملہ کیا جس کے باعث وہاں حوالات میں موجود دس سے زائد زیر تفتیش قیدی فرار ہوگئے۔
تھانے پر حملے کے حوالے سے ایک ویڈیو جس کی بی بی سی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا، سماجی رابطوں کی میڈیا پر گردش کرنے لگی۔
اس ویڈیو میں تھانے کے گیٹ اور باہر کے دیوار پر گولیوں کے نشانات کے علاوہ تھانے کے مین گیٹ پر ایک بڑا سوراخ دکھائی دیتا ہے۔
اس کے علاوہ ویڈیو میں تھانے کے اندر بعض حصے جلے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں ۔
سرکاری اہلکار نے بتایا کہ تھانے پر حملے کے علاوہ مسلح افراد نے شہر میں تین مقامات پر ناکہ بندی بھی کی۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے جوابی کاروائی کی جس سے مسلح افراد شہر سے فرار ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'پولیس کی کاروائی کے باعث شہر میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا'۔
اس حوالے سے ایک بیان میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے کہا کہ حملہ آوروں نے تھانہ سٹی پر حملے کے ساتھ تین مختلف مقامات پر ناکے قائم کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی چاغی کی قیادت میں پولیس نے ان کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے باعث مسلح افراد فرار ہوگئے۔
انھوں نے کہا کہ شہر میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ ملوث مسلح شرپسندوں کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔
میڈیا کو ایک بیان میں کالعدم بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے دالبندین شہر میں اس کاروائی کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔
دالبندین کہاں واقع ہے ؟
دالبندین شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ پر واقع ہے۔
یہ شہر بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے متصل سرحدی ضلع چاغی کا ہیڈکوارٹر ہے۔
دالبندین اور ضلع چاغی کے بعض دیگر علاقوں میں بلوچستان کی حالات کی خرابی کے بعد سے سنگین بدامنی کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں تاہم ان کی تعداد دیگر شہروں کے مقابلے میں کم رہی ہے۔