لائیو, شہباز شریف کا مستقل امن کے قیام تک کردار ادا کرنے کا عزم: جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک پاکستان نے مخلصانہ کوششیں کیں، ایرانی صدر

اسلام آباد میں ایرانی صدر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ ’رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے۔‘ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں۔

خلاصہ

  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان اپنا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے ہیں
  • اپنے دورہ پاکستان کے دوران پزشکیان نے وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی
  • اسلام آباد میں ایرانی صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ ’رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے‘
  • ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں
  • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے اپنے خلیجی دورے کا آغاز کیا، جس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے
  • سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے تکنیکی مذاکرات میں جوہری معاملات، معاشی پابندیوں اور تعمیر نو پر مذاکراتی گروپس قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے
  • امریکہ نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے 60 دن کا عارضی لائسنس جاری کر دیا ہے
  • ایران امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے اعلامیے کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سیل بنانے پر اتفاق ہوا

لائیو کوریج

  1. سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ اور ثالث ممالک کے تکنیکی مذاکرات مکمل، چار ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق

    tasnimnews

    ،تصویر کا ذریعہtasnimnews

    ایران کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ثالث ممالک کے ساتھ ہونے والے تکنیکی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جس سے 100 روز سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں ارنا اور تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، جنھوں نے ایرانی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی، نے کہا کہ چار فریقی مذاکرات آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار، ورکنگ گروپس اور عملدرآمد کے نظام پر اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔

    غریب آبادی نے کہا کہ یہ مذاکرات اتوار کو ہونے والے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کے بعد منعقد ہوئے، جو پیر کی علی الصبح تک جاری رہے۔

    غریب آبادی نے کہا، ’مفاہمتی یادداشت اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے پر عملدرآمد کے طریقۂ کار طے کرنے کے لیے تکنیکی مذاکرات کیے گئے، جن کے نتیجے میں ضروری مفاہمت حاصل کر لی گئی ہے۔‘

    یہ مفاہمتی یادداشت 17 جون کو امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ورچوئل طور پر طے پائی تھی۔

    غریب آبادی کے مطابق طے پانے والے اتفاقِ رائے کے تحت آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے، جن میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر، ایرانی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر اور پاکستان و قطر کے وزرائے اعظم شرکت کریں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ فریقین نے چار ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے جو پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیرِ نو و اقتصادی ترقی، اور نگرانی و عملدرآمد کے معاملات پر کام کریں گے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مفاہمت اور اتوار شب جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی روشنی میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے درمیان ایک رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ لبنان سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک علیحدہ رابطہ سیل بھی قائم کیا جائے گا، جس میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان اور قطر بھی شامل ہوں گے۔

    غریب آبادی کے مطابق چاروں ممالک کے تکنیکی وفود کے سربراہان ورکنگ گروپس اور نئے قائم ہونے والے رابطہ سیلز کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے اور ان کی پیش رفت سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات میں ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور ان سے متعلق خدمات کے لیے عمومی لائسنس کے حصول سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث آئے۔

    ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی اتفاقِ رائے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی فریق نے تیل، پیٹروکیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور متعلقہ خدمات کے لیے عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے، جسے امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا گیا ہے۔

    غریب آبادی نے مزید کہا کہ مفاہمت کے تحت 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی کے معاہدے پر فوری عملدرآمد کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ یہ رقم دو اقساط میں جاری کی جائے گی جن میں ہر قسط چھ ارب ڈالر پر مشتمل ہوگی۔

    اس سے قبل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد قالیباف نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

    ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ رقم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

    اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم ایک منصفانہ اور معقول معاہدے کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ جو رقم جاری کی جا رہی ہے اسے خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا، اور یہ خوراک صرف امریکہ سے خریدی جائے گی۔ مکئی، سویا بین اور دیگر ضروری زرعی اجناس ہمارے کسانوں سے حاصل کی جائیں گی۔‘

    دریں اثنا امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے 60 روزہ رعایت (ویور) کا اعلان بھی کیا ہے۔

  2. امریکہ نے ایران کی قومی ٹیم پر پابندیاں نرم کر دیں

    امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ورلڈ کپ میں ایرانی قومی ٹیم کے سفری انتظامات پر پابندیاں نرم کر دی ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق امریکہ نے ایرانی ٹیم کو اپنے اگلے میچ سے دو روز قبل امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔

    عالمی کپ کے میزبان کی حیثیت سے امریکہ کی جانب سے ایرانی ٹیم پر عائد پابندیوں کے ایک حصے کے طور پر، ٹیم کو اپنے میچ سے ایک دن پہلے امریکہ جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ان کے ویزے کی شرائط کے مطابق انھیں میچ کے اسی دن فوری طور پر امریکی سرزمین سے نکلنا تھا۔

    اس پابندی کی وجہ سے ایرانی قومی ٹیم نے اپنے کیمپ کی جگہ کو امریکہ کے ایریزونا سے میکسیکو میں تیجوانا منتقل کر دیا تھا۔

    ایران نے ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اب تک دو میچ کھیلے ہیں اور ٹیم کا تیسرا میچ مصر کے خلاف 27 جون کو سییٹل میں ہو گا۔

  3. بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کار مناسب وقت پر ایران پہنچیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران یہ سمجھنے میں غلطی پر ہے کہ اس کے جنگ میں متاثر ہونے والے جوہری مراکز کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے معائنہ نہیں کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایجنسی کے معائنہ کار ’مناسب وقت‘ پر ایران میں موجود ہوں گے۔

    اس سے چند گھنٹے قبل انھوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ’ایران نے مکمل طور پر اور بغیر کسی شرط کے اعلیٰ ترین سطح پر جوہری معائنوں پر طویل مدت (یہاں تک کہ ہمیشہ کے لیے) اتفاق کیا ہے‘ اور یہ بھی کہا کہ ’اگر ایران اس پر راضی نہ ہوتا تو مزید مذاکرات نہ ہوتے۔‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران کا جنگ سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے ایجنسی کو رسائی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے یہ بیانات بظاہر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے گذشتہ روز کے بیان کے ردعمل میں تھے، جنھوں نے کہا تھا کہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی واپسی پر اتفاق کیا ہے۔

  4. کسی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: مارکو روبیو

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے اپنے خلیجی دورے کا آغاز کیا، جس دوران وہ کویت اور بحرین بھی جائیں گے تاکہ تہران سے متعلق معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔

    وزیر خارجہ نے ابوظہبی پہنچنے پر کہا کہ کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز میں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کو اس پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں۔

    مارکو روبیو کے مطابق انھیں نہیں لگتا کہ اس معاملے پر خطے میں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں کے تمام ممالک بھی اسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔

  5. اقوام متحدہ کے ادارے کا آبنائے ہرمز میں پھنسے 11 ہزار بحری جہازوں کا انخلا شروع کرنے کا اعلان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ سے منسلک انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11000 سے زائد بحری جہازوں کے انخلا کا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ وہ بحری جہاز ہیں جو ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر عائد پابندیوں کے بعد سے خطے میں پھنسے ہوئے تھے۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا کہ ان بحری جہازوں کے انخلا کا آپریشن خطے کے تمام ممالک اور امریکہ کے قریبی تعاون سے کیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق پھنسے ہوئے ملاحوں اور سمندری مسافروں نے مہینوں تک شدید مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

    انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ایران امریکہ معاہدہ سمندری سلامتی کی بحالی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔

  6. ایرانی صدر ایک روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے

    @IrnaEnglish

    ،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان اپنا ایک روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گئے ہیں۔

    ان کی روانگی کے موقع پر نور خان ایئربیس پر اعلیٰ سطحی پاکستانی قیادت موجود تھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت سول قیادت کے دیگر سینئر ارکان نے ایرانی صدر کو الوداع کہا۔

  7. جب تک ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے عراق سے حملے جاری ہیں، تنازع کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں: مارکو روبیو

    StateDept

    ،تصویر کا ذریعہStateDept

    امریکی وزیر خارجہ نے ابوظہبی پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب تک ایران کے حمایت یافتہ گروہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں، اس وقت تک خطے میں دشمنی اور تنازع کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ مناسب وقت پر جاری مذاکرات میں زیر بحث آئے گا۔

  8. اگر ایران ایک انقلابی تحریک کے بجائے عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی قیادت یہ فیصلہ کرے کہ وہ ایک ’انقلابی تحریک جو دہشت گردی پھیلاتی ہے‘ کے بجائے ایک عام ریاست کے طور پر کام کرنا چاہتی ہے تو اسے بڑے پیمانے پر ترقی اور مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔

    تاہم انھوں نے کہا کہ اس پیش رفت کا انحصار آنے والے دنوں میں متعدد سکیورٹی مسائل کے حل اور ان پر پیش رفت سے ہو گا۔

    خیال رہے مارکو روبیو خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں اور آج وہ ابوظہبی پہنچے ہیں۔

  9. جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں: ایرانی صدر

    PakPMO

    ،تصویر کا ذریعہPakPMO

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کے دورے کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب اور قیادت کے ساتھ ملاقاتوں اور مشترکہ رابطوں کو سراہتے ہوئے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو منفرد، قریبی اور برادرانہ قرار دیا ہے۔

    ایرانی صدر نے اپنی گفتگو کا آغاز مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے شعر سے کیا اور کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔

    انھوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں اپنا ’بھائی‘ قرار دیا اور ان کی دعوت پر اظہارِ تشکر کیا۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان صرف ایران کا ہمسایہ ملک نہیں بلکہ ایک بھائی اور عزیز دوست ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور تہران کے درمیان تعلقات قریبی اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران ’یک جان دو قالب‘ ہیں اور دونوں ممالک مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو مل کر آگے بڑھنا ہے تاکہ خوشحال اور مشترکہ مستقبل تشکیل دیا جا سکے۔

    ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی قریب میں ہونے والے واقعات نے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو نئی جہت دی ہے، اور اس کے باوجود تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے جس کے وہ معترف ہیں۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط پاکستان کی کوششوں سے ممکن ہوئے، اور اس عمل میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ان کے دورے کے دوران صدر مملکت، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایرانی صدر کے مطابق خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔

    انھوں نے امن کے عمل میں کردار ادا کرنے پر قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے پر پاکستان نے انتھک اور مخلصانہ کوششیں کیں، جسے وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  10. ایران-امریکہ مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا، وزیراعظم شہباز شریف کی وضاحت

    وزیراعظم نے کہا کہ دورہ پاکستان کے لیے پیشکش قبول کرنے پر میں ایرانی صدر کا شکر گزار ہوں، مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد اس دورے پر بے حد خوش ہوئی، ایران امریکہ ایم او یو میں بیلسٹک میزائل کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ نہیں ہوسکتا کہ دوسروں کے پاس میزائل ہوں اور ایران کے پاس موجود نہ ہوں۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے اپنے خطاب کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دیگر امور کے علاوہ ایران کے بیلسٹک میزائل پر بھی اب بات ہو گی۔ شہباز شریف نے اپنا وہ بیان واپس لیتے ہوئے وضاحت کی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے اور یہ معاملہ نہ ہی ایم او یو میں ہے اور نہ یہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

  11. ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کردار جاری رکھیں جب تک ایک مستقل اور دیرپا امن قائم نہ ہو جائے: وزیر اعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا ثالثی کردار جاری رکھنا چاہتا ہے جب تک دیرپا امن حاصل نہ ہو جائے۔

    اسلام آباد میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے ایران کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میری طرف سے رہبر اعلیٰ تک یہ پیغام پہنچائیں کہ ایران نے وقار کے ساتھ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت حاصل کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنا کردار جاری رکھیں جب تک ایک مستقل اور دیرپا امن قائم نہ ہو جائے۔‘

    وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز مشکل حالات میں دوستی کے موضوع پر ایک ایرانی شعر پڑھ کر کیا۔ انھوں نے صدر پزشکیان کو ’عظیم ملک ایران کے دوراندیش اور دانا رہنما‘ قرار دیا اور کہا ’لیکن آپ بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں کے حامل انسان ہیں — آپ پُرسکون، دانا اور صابر ہیں۔‘

    وزیراعظم نے صدر پزشکیان کی ماضی میں ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے حوالے سے خدمات کو یاد کرتے ہوئے انھیں اس اعزاز کے مستحق قرار دیے جانے پر مبارکباد دی۔

    انھوں نے آج کے دن کو پاکستان اور ایران کے درمیان ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

    گذشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ’یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ یہ جنگ ختم ہو گئی، جو پورے خطے بلکہ اس سے آگے تک پھیل سکتی تھی۔‘

    وزیراعظم نے صدر پزشکیان کی قیادت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے امریکہ-ایران امن عمل میں ایک ’مخلص اور دیانتدار ثالث‘ کا کردار ادا کیا۔

    سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے امریکہ-ایران تکنیکی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا ’میرے عزیز بھائی، ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ، ان شاء اللہ، پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کا نیا دور لے کر آئے گا۔‘

    انھوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو بھی سراہا۔

    وزیراعظم نے ایرانی عوام کے اتحاد اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے قابلِ تحسین قرار دیا۔انھوں نے ہزاروں جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جن میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا ’پاکستان کے عوام ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ کی خوشی ہماری خوشی ہے، اور آپ کا غم ہمارا غم ہے۔ ایران کی کامیابی ہماری کامیابی ہے، اور ایران کا نقصان ہمارا نقصان ہے۔‘

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران صرف پڑوسی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ، عقیدے اور ثقافت سے بندھے ہوئے ہیں۔

  12. پاکستانی و ایرانی صدور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن پر زور

    Asif Ali Zardari, Masood Pezeshkian

    ،تصویر کا ذریعہPresident House

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، علاقائی امن و سلامتی، روابط، اقتصادی تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ایرانی صدر کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، صدر کے دفتر کے چیف محسن حاجی میرزائی، وزیر داخلہ اسکندر مومنی، سیاسی امور کے سربراہ سعید عباس موسوی اور پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم بھی موجود تھے۔

    پاکستان کی جانب سے نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سینیٹ کے چیف وہپ سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم حسین بھی اجلاس میں شریک تھے۔

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہPresident House

    صدر آصف علی زرداری نے حالیہ کشیدگی کے بعد اپنے پہلے سرکاری دورے پر پاکستان آنے پر ایرانی صدر کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات اور ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    انھوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری تکنیکی سطح کے مذاکرات خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار کریں گے۔

    صدر زرداری نے ایران کے امن، استحکام، قومی یکجہتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے اور علاقائی و عالمی مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو ہی پائیدار راستہ سمجھتا ہے۔

    انھوں نے مسلم امہ کے اتحاد کے فروغ پر بھی زور دیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط برادرانہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امن اور مکالمے کے فروغ کے لیے پاکستان کی مثبت کوششوں کو سراہا اور حالیہ مشکل حالات میں پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور علاقائی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔

  13. پاکستانی فوج کے سربراہ کی ایران کے صدر سے ملاقات

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال اور امن کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    بیان کے مطابق ایرانی صدر نے مکالمے کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے دوران پاکستان نے تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔

    اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  14. مذاکرات میں ایران کی میزائل صلاحیتوں سے متعلق کوئی بات ہوئی نہ ہو سکتی ہے: اسماعیل بقائی

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی سے ایک پریس کانفرنس کے دوران جب یہ سوال کیا گیا کہ آیا سوئٹزرلینڈ میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان حالیہ مذاکرات کے دوران ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں پر بات ہوئی، یا مستقبل میں ہو سکتی ہے، تو ترجمان نے جواب دیا کہ ’ہرگز نہیں۔‘

    ترجمان کے مطابق ’ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کبھی بھی ہمارے مذاکرات کا حصہ نہیں رہی ہیں، اور نہ ہی یہ کسی فریق کے ساتھ آئندہ مذاکرات کا موضوع بنیں گی۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے اپنے خطاب میں یہ کہا تھا کہ مکمل جنگ بندی کے بعد اب ان مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان اگلے 60 دنوں میں جوہری اثاثوں، بیلسٹک میزائل اور منجمد اثاثوں پر بھی بات ہوگی اور پوری امید ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت ایک بہت دیرپا معاہدے میں بدل جائے گی، جس سے دنیا میں امن قائم ہوگا۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کے پاس بھی یہ میزائل مناسب تعداد میں ہونے چاہئیں۔‘

  15. جون میں سونے کی قیمت میں تقریباً 40 ہزار روپے فی تولہ کمی, تنویر ملک، صحافی

    سونے کی قیمت میں کمی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں جون کے مہینے کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں فی تولہ سونا مجموعی طور پر تقریباً 40 ہزار روپے سستا ہو گیا۔

    مئی کے اختتام پر سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 74 ہزار 862 روپے ریکارڈ کی گئی تھی، جو یکم جون کو کم ہو کر 4 لاکھ 71 ہزار 763 روپے تک آ گئی۔ ماہِ جون کے دوران قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا، تاہم مجموعی رجحان نیچے کی جانب رہا اور آج منگل کے روز فی تولہ قیمت کم ہو کر 4 لاکھ 32 ہزار 236 روپے ہوگئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق 3 جون کو سونے کی قیمت میں 8 ہزار 600 روپے، 6 جون کو 12 ہزار 486 روپے اور 10 جون کو 12 ہزار 627 روپے فی تولہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ بعد ازاں 15 جون کو 10 ہزار 800 روپے کا اضافہ ہوا، تاہم 19 جون کو دوبارہ 14 ہزار 900 روپے کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

    منگل کے روز بھی سونے کی قیمت میں 10 ہزار 400 روپے فی تولہ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ماہ کے آغاز کے مقابلے میں مجموعی کمی 39 ہزار 527 روپے تک پہنچ گئی۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 487 روپے سستی ہو کر 6 ہزار 664 روپے ہو گئی، جبکہ 10 گرام چاندی 438 روپے کی کمی کے بعد 5 ہزار 641 روپے کی سطح پر آ گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے اثرات مقامی سطح پر بھی مرتب ہوئے، جس کے باعث سونا اور چاندی دونوں سستے ہوئے ہیں۔

  16. اسرائیل نے حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے ایران میں انٹرنیٹ ڈیوائسز سمگل کیں: سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم

    نفتالی بینیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشننفتالی بینیٹ کے مطابق ان ڈیوائسز کی فراہمی کا مقصد ایرانی مظاہرین کو باہمی رابطہ قائم رکھنے اور ممکنہ طور پر حکومت کے خلاف منظم ہونے میں مدد دینا تھا

    سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کے لیے سٹارلنک کی انٹرنیٹ ڈیوائسز سمگل کیں، تاہم وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت اس منصوبے پر عملدرآمد میں ناکام رہی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، نفتالی بینیٹ، جو 2021 سے 2022 تک اسرائیل کے وزیرِ اعظم رہے، نے یروشلم میں جے این ایس انٹرنیشنل پالیسی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’ایران میں دسیوں ہزار سٹارلنک ڈیوائسز سمگل کرنے کے عمل کا آغاز کیا تھا، جو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی تھیں۔‘

    سٹارلنک، جو ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کی ملکیت ہے، سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے۔ ایران اس سے قبل اسرائیل اور امریکہ پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایسی ڈیوائسز سمگل کر کے اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اگرچہ سٹارلنک کو ایران میں باضابطہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں، تاہم ایلون مسک ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ یہ سروس وہاں فعال ہے۔

    نفتالی بینیٹ کے مطابق ان ڈیوائسز کی فراہمی کا مقصد ایرانی مظاہرین کو باہمی رابطہ قائم رکھنے اور ممکنہ طور پر حکومت کے خلاف منظم ہونے میں مدد دینا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے موجودہ اسرائیلی حکومت نے یہ عمل روک دیا، اور جب احتجاج شروع ہوا تو ضروری بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں تھا۔‘

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے نفتالی بینیٹ کے اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  17. آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل گزرا، قیمتیں نیچے آ رہی ہیں: امریکی صدر

    Straight of Harmus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل گزرا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر اپنی ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہے اور دنیا اب ایک محفوظ مقام ہے۔‘

    خیال رہے آبنائے ہرمز امریکہ اور اسرائیل کی ایران جنگ کے سبب تقریباً تین ماہ تک بند ہونے کے بعد گذشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت کے بعد مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اعلیٰ سطح کی جوہری نگرانی پر اتفاق کر لیا ہے اور آبنائے ہرمز کھلی رہے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے مستقبل میں طویل عرصے تک اعلیٰ ترین سطح کی جوہری نگرانی قبول کر لی ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کا یہ اقدام ’جوہری شفافیت‘ کو یقینی بنائے گا۔ ان کے مطابق اگر ایران اس پر رضامند نہ ہوتا تو مذاکرات آگے نہ بڑھ پاتے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے ’بڑی رعایتوں‘ کے بعد امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور مزید بحری ناکہ بندی نہیں کی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری جہاز بدستور اپنی پوزیشنز پر موجود رہیں گے تاکہ ضرورت پڑنے پر ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی جا سکے، اگرچہ بظاہر اس کے امکانات کم ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی جانے والی رقوم ایک ایسے ایسکرو اکاؤنٹ میں رکھی جائیں گی جو امریکہ کے کنٹرول میں ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم صرف خوراک اور طبی سامان کی خریداری کے لیے استعمال ہو گی، اور یہ اشیا خصوصی طور پر امریکہ سے حاصل کی جائیں گی، جن میں مکئی، گندم اور سویابین شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کو ان اشیا کی فوری ضرورت ہے اور یہ ایک انسانی بحران کی صورتحال ہے، جس کے پیش نظر فوری مدد ضروری ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ مذاکرات اچھی طرح سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

  18. مذاکرات میں ’انتہائی اچھی‘ پیش رفت، اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ ایران خود کرے گا: ایرانی سفیر

    ایران کے سفیر اور جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں اس کے مستقل نمائندے علی بحرینی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں ’انتہائی اچھی‘ پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ فریقین کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت اب بھی جاری ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، بحرینی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ دنوں میں دو ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، جو ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے اور اس کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لیں گے۔

    ایران اور امریکہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے دوران 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

    علی بحرینی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ان بیانات کو مسترد کر دیا، جن میں ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال کے طریقہ کار پر بات کی گئی تھی۔

    امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اثاثے جاری ہونے کے بعد امریکہ اور قطر ان کے استعمال کی نگرانی کریں گے، اور یہ وسائل امریکی مکئی، سویا بین اور گندم جیسی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    اس پر ردِعمل دیتے ہوئے علی بحرینی نے واضح کیا کہ ’اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ صرف ایران ہی کرے گا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ تہران، واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ان اثاثوں سے متعلق تکنیکی انتظامات ضروری ہیں، کیونکہ یہ اثاثے امریکہ نے منجمد کیے تھے اور ان میں سے کچھ قطر میں رکھے گئے ہیں۔ تاہم، ایران کسی دوسرے ملک کو ان وسائل کے استعمال سے متعلق فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    علی بحرینی کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے بنیادی طور پر تیل کی آمدنی اور مرکزی بینک کے وہ ذخائر ہیں، جو برسوں تک پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک جمع ہوتے رہے ہیں۔

  19. اسرائیل غزہ میں بچوں کو دانستہ نشانہ بنا کر نسل کشی کر رہا ہے: اقوامِ متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ

    اسرائیل، غزہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوامِ متحدہ کی طرف سے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے، جس کے باعث نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق ایسے ہی اقدامات مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی دیکھے گئے ہیں۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر ایسے حملے کیے جن سے بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت اور شدید جسمانی و ذہنی نقصان ہوا، اور یہ سلسلہ گذشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہا۔

    کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کارروائیاں ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کے مستقبل کو ان کے بچوں کو نشانہ بنا کر کمزور کرنا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے حوالے سے مبینہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کیا تھا۔

    یہ تین رکنی ماہرین پر مشتمل پینل باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو بے بنیاد، جانبدار اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

    یہ صورتحال 7 اکتوبر 2023 کے اس حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا اور تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں رہائشی عمارتیں، سکول اور پناہ گاہیں بھی نشانہ بنیں، جبکہ بچوں کو گرفتار کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور طبی سہولیات تک رسائی محدود کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

    اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاع کے تحت ہیں، جن کا مقصد حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی ہے، اور وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔

    یہ معاملہ اس وقت عالمی عدالتِ انصاف میں بھی زیرِ سماعت ہے، تاہم اس کے حتمی فیصلے میں وقت لگ سکتا ہے۔

    گذشتہ ستمبر میں کمیشن نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی (جینوسائیڈ) کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ معقول بنیادیں موجود ہیں کہ 1948 کے جینوسائیڈ کنونشن میں بیان کردہ پانچ میں سے چار اقدامات اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مسخ شدہ اور بے بنیاد قرار دیا۔

    کمیشن اس سے قبل یہ نتیجہ بھی اخذ کر چکا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، جبکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے بھی غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔

    گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

    اس کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 1,020 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 265 بچے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    منگل کے روز کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی ’شدید پیمانے اور منظم نوعیت‘ جاری رہی، جس کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی ’بے مثال ہلاکتیں، زخمی ہونا اور ذہنی صدمات‘ سامنے آئے۔

    کمیشن کے سربراہ انڈین قانون دان سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ ’اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کی ہلاکتیں اور شدید زخمی ہونا جاری ہے، اور اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو فراہم کیے جانے والے تحفظ کو نظر انداز کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بچوں کا تحفظ، نگہداشت اور بقا فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے جدا نہیں ہے۔ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کی بقا اور ان کے مستقبل کے تعین کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔

    کمیشن کی نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس میں اہم اعضا پر فائرنگ، جیسے کواڈ کاپٹر ڈرونز اور سنائپرز کا استعمال، اور رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے شامل ہیں جہاں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں بھی فلسطینی بچوں کو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے، جس کی قانونی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں بچوں، خصوصاً نوعمر لڑکوں کو ’گرفتار، تشدد کا نشانہ اور بدسلوکی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ’جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد‘ کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو عموماً گرفتاری یا حراست کے دوران پیش آئے۔

    غزہ میں نوزائیدہ اور بچوں کے ہسپتالوں پر اسرائیلی حملوں نے ’بچوں کی زندگی بچانے والی سہولیات کو منظم انداز میں تباہ کر دیا‘، جس سے ان کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔

    رپورٹ اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ اس نے بھوک کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا، اور انسانی امداد کی آمد پر پابندیوں کے باعث بچوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہوئی، جس سے ان کی بقا کے بنیادی حالات متاثر ہوئے۔

    مزید یہ کہ سکولوں پر حملے، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور تعلیمی اداروں کی بندش کے ذریعے اسرائیلی حکام نے ’بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے متاثر کیا‘، جس سے فلسطینی معاشرے کی فکری اور سماجی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔

    اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن ایک ’بنیادی طور پر ناقص نظام‘ ہے جس کا مقصد سچائی کی تلاش کے بجائے اسرائیل کو نشانہ بنانا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’یہ رپورٹ اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے جنھیں حماس نے قتل کیا، اغوا کیا اور نشانہ بنایا، جبکہ حماس کی جانب سے فلسطینی بچوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کے معاملے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔‘

    اسرائیل نے کمیشن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کے پاس اپنے دعوؤں کی تصدیق کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں ہے۔

    اسرائیلی قیادت مسلسل نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، اور کہتی ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو ختم کرنے، اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جا رہی ہیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی افواج بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہیں اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتی ہیں۔

    اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمہ سن رہی ہے، جس میں اسرائیلی افواج پر نسل کشی کا الزام ہے، تاہم اس فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے اس مقدمے کو ’بالکل بے بنیاد‘ اور ’متعصب و جھوٹے دعوؤں‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔

  20. ایرانی صدر مسعود پزشکیان اسلام آباد پہنچ گئے

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی حکام نے صدر کے صدر کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر سرکاری اور روایتی استقبالیہ دیا۔

    صدر کے طیارے کی آمد کے موقع پر پاکستان ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے فضا میں فلائی پاسٹ کر کے انھیں سلامی پیش کی، جبکہ ایران کے اعلیٰ سطح کے وفد کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، جو پاکستان کی جانب سے احترام اور خیرمقدم کی علامت ہے۔

    پاکستان ایران

    ،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی صدر مسعود پزشکیان کے سرکاری دورے کے موقع پر ہی پاکستانی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کا استقبال پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم، پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام نے کیا۔

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہ@IrnaEnglish

    ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستان روانگی سے قبل کہا کہ دورے کا مقصد نہ صرف پاکستان کو سراہنا ہے بلکہ امریکہ کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لینا بھی ہے۔ دوسری جانب ایرانی صدر کی آمد کے تناظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔