سوئٹزرلینڈ میں ایران، امریکہ اور ثالث ممالک کے تکنیکی مذاکرات مکمل، چار ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق

،تصویر کا ذریعہtasnimnews
ایران کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ثالث ممالک کے ساتھ ہونے والے تکنیکی مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو گئے ہیں، جس سے 100 روز سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں ارنا اور تسنیم نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی، جنھوں نے ایرانی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کی، نے کہا کہ چار فریقی مذاکرات آئندہ مذاکرات کے طریقۂ کار، ورکنگ گروپس اور عملدرآمد کے نظام پر اتفاقِ رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔
غریب آبادی نے کہا کہ یہ مذاکرات اتوار کو ہونے والے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کے بعد منعقد ہوئے، جو پیر کی علی الصبح تک جاری رہے۔
غریب آبادی نے کہا، ’مفاہمتی یادداشت اور اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے پر عملدرآمد کے طریقۂ کار طے کرنے کے لیے تکنیکی مذاکرات کیے گئے، جن کے نتیجے میں ضروری مفاہمت حاصل کر لی گئی ہے۔‘
یہ مفاہمتی یادداشت 17 جون کو امریکی اور ایرانی صدور کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ورچوئل طور پر طے پائی تھی۔
غریب آبادی کے مطابق طے پانے والے اتفاقِ رائے کے تحت آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے، جن میں ایرانی پارلیمان کے سپیکر، ایرانی وزیر خارجہ، امریکی نائب صدر اور پاکستان و قطر کے وزرائے اعظم شرکت کریں گے۔
انھوں نے بتایا کہ فریقین نے چار ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے جو پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، تعمیرِ نو و اقتصادی ترقی، اور نگرانی و عملدرآمد کے معاملات پر کام کریں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مفاہمت اور اتوار شب جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی روشنی میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے درمیان ایک رابطہ نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ لبنان سے متعلق کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک علیحدہ رابطہ سیل بھی قائم کیا جائے گا، جس میں مفاہمتی یادداشت کے رکن ممالک کے ساتھ پاکستان اور قطر بھی شامل ہوں گے۔
غریب آبادی کے مطابق چاروں ممالک کے تکنیکی وفود کے سربراہان ورکنگ گروپس اور نئے قائم ہونے والے رابطہ سیلز کی سرگرمیوں کی نگرانی کریں گے اور ان کی پیش رفت سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ تکنیکی مذاکرات میں ایرانی تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور ان سے متعلق خدمات کے لیے عمومی لائسنس کے حصول سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث آئے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی اتفاقِ رائے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ امریکی فریق نے تیل، پیٹروکیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور متعلقہ خدمات کے لیے عمومی لائسنس جاری کر دیا ہے، جسے امریکی دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دیا گیا ہے۔
غریب آبادی نے مزید کہا کہ مفاہمت کے تحت 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی کے معاہدے پر فوری عملدرآمد کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ یہ رقم دو اقساط میں جاری کی جائے گی جن میں ہر قسط چھ ارب ڈالر پر مشتمل ہوگی۔
اس سے قبل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد قالیباف نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر اتفاق ہو گیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ رقم امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ہم ایک منصفانہ اور معقول معاہدے کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں۔ جو رقم جاری کی جا رہی ہے اسے خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا، اور یہ خوراک صرف امریکہ سے خریدی جائے گی۔ مکئی، سویا بین اور دیگر ضروری زرعی اجناس ہمارے کسانوں سے حاصل کی جائیں گی۔‘
دریں اثنا امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینے کے لیے 60 روزہ رعایت (ویور) کا اعلان بھی کیا ہے۔

















