لائیو, امریکہ کو جنگ بندی سے متعلق ایرانی تجاویز کا انتظار، آبنائے ہرمز میں دو ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو ایرانی پرچم والے خالی ٹینکرز پر گولہ باری کر کے انھیں ناکارہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی مسلح افواج اور امریکی نیوی کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

خلاصہ

  • ’دفاعی کارروائی‘ میں قشم اور بندرعباس میں دو اہداف کو نشانہ بنایا: امریکی حکام، پاسدارانِ انقلاب کی امریکی بحری جہازوں پر فائرنگ کے لمحے کی ویڈیو جاری
  • آبنائے ہرمز کا واحد حل جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے: ایران
  • امریکی حملوں کے بعد یو اے ای پر ایرانی ڈرون حملے
  • ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کی جانب جانے والے ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
  • سینٹکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس کے بحری جنگی جہازوں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیج عمان کی طرف بڑھ رہے تھے، تاہم اس کی فورسز نے ’بلا اشتعال ایرانی حملوں کو ناکام بنایا‘ اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں قریب 15 روپے کا اضافہ، نئی قیمت 414.78 فی لیٹر مقرر

    پاکستان میں پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کی حکومت نے پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایک اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے جبکہ پیٹرول یعنی موٹر سپیرٹ کی قیمت میں 14.92 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 414.78 روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 414.58 ہو چکی ہے۔

    مارچ سے اب تک پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتیں میں پانچ مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس دوران دو مرتبہ قیمتوں میں کمی بھی کی گئی تھی۔ مارچ میں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والے پہلے اضافے سے قبل اس کی قیمت 255 روپے فی لیٹر تھی، یعنی دو ماہ میں پیٹرول 62.7 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعے کو آبنائے ہرمز پر امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپ کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر تقریباً تین فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد میں یہ کم ہو کر لگ بھگ 100 ڈالر پر آ گئی تھی۔

    جھڑپ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صورتحال اب ’معمول پر واپس آ گئی ہے۔‘

    دنیا کا 20 فیصد تیل اور گیس ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ گزرگاہ عملی طور پر بند ہے۔ تنازع شروع ہونے سے قبل عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔

  2. لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور اگلے ہفتے واشنگٹن میں

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن ڈی سی میں لبنان اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے جن کا مقصد ’دیرپا امن اور سلامتی کے لیے انتظامات‘ کو حتمی شکل دینا ہے۔

    یہ دونوں فریقین کے درمیان حالیہ مذاکرات کا تیسرا دور ہوگا۔ اس سے قبل 14 اور 23 اپریل کو بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

    محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں وفود تفصیلی بات چیت کریں گے جن کا مقصد ایک ایسے جامع امن اور سلامتی کے معاہدے کو آگے بڑھانا ہے جو دونوں ممالک کے بنیادی تحفظات کو عملی طور پر حل کرے۔ اس سے قبل مذاکراتی دور کی قیادت صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر کی تھی۔

    بیان میں کہا گیا کہ ان مذاکرات کا مقصد گذشتہ دو دہائیوں کے اس ناکام طریقہ کار سے فیصلہ کن طور پر علیحدگی اختیار کرنا ہے جس کے تحت دہشت گرد گروہوں کو جڑیں پکڑنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع ملا، لبنانی ریاست کی عملداری کمزور ہوئی اور اسرائیل کی شمالی سرحد کو خطرات لاحق ہوئے۔

    14 اپریل کو کئی دہائیوں بعد پہلی بار دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان براہ راست بات چیت ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 10 روزہ جنگ بندی طے پائی۔ یہ جنگ بندی 23 اپریل کی ملاقات میں مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھا دی گئی تھی۔

    تاہم جنگ بندی بڑی حد تک صرف نام کی رہی ہے، خاص طور پر حالیہ دنوں میں۔ جنوبی لبنان میں دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف محدود نوعیت کے حملے کرتے رہے ہیں۔ بدھ کے روز اسرائیل نے کئی ہفتوں کے بعد بیروت پر اپنا پہلا بڑا حملہ کیا تھا۔

  3. بلوچستان میں دو ٹریفک حادثات میں نو افغان شہریوں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو/کوئٹہ

    دالبندین

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    ،تصویر کا کیپشندالبندین کے قریب ایک فیلڈر کار اور ٹرالر کے درمیان تصادم کے باعث حادثہ پیش آیا

    بلوچستان کے دو مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات میں نو افغان شہریوں سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔

    افغان شہریوں کی ہلاکتوں کا واقعہ سرحدی ضلع چاغی میں دالبندین کے قریب پیش آیا۔ دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر لونگ خان عیسیٰ زئی نے بتایا کہ حادثہ شدید ہونے کے باعث نو افراد ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو چکے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نو لاشوں کے علاوہ سات شدید زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا جن میں سے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی چھ افراد کو طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد افغان شہری تھے۔

    دالبندین سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ دالبندین سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر یہ حادثہ ڈھڈر کے مقام پر ایک فیلڈر کار اور ٹرالر کے درمیان تصادم کے باعث پیش آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ حادثے کی وجہ سے فیلڈر گاڑی بُری طرح سے تباہ ہو گئی جس میں سوار زیادہ تر افراد ہلاک ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی کا ڈرائیور مقامی تھا جبکہ باقی تمام افراد افغان شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ افغان شہری کوئٹہ کی جانب جا رہے تھے۔

    دوسرا حادثہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے متصل ضلع پشین میں کاریزات کے علاقے میں نانا صاحب کے قریب پیش آیا۔ پشین پولیس کے ایک اہلکار انور علی نے فون پر بتایا کہ اس علاقے میں ایک زرنج رکشہ کھائی میں گر گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی وجہ سے زرنج رکشے میں سوار خاتون سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں بھی خواتین اور بچے شامل ہیں جنھیں طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک کا یہ تیسرا بڑا حادثہ تھا۔ گذشتہ روز ضلع جھل مگسی کے علاقے باریجہ میں ایک بس کو حادثہ پیش آنے کی وجہ سے چار افراد ہلاک اور 22 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

  4. ایران اور امریکی بحریہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOMArabic- Official Twitter Account

    ایران اور امریکی بحریہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی مسلح افواج اور امریکی نیوی کے درمیان آبنائے ہرمز میں تازہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق خلیج عمان میں ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو ایرانی پرچم والے خالی ٹینکرز پر گولہ باری کر کے انھیں ناکارہ کر دیا گیا ہے۔

  5. آبنائے ہرمز میں امریکی حملوں سے 10 ملاح زخمی جبکہ پانچ لاپتہ ہیں: ایرانی اہلکار

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGIUSEPPE CACACE/AFP via Getty Images

    ایک ایرانی اہلکار نے جمعے کے روز بتایا کہ آبنائے ہرمز میں رات بھر ہونے والے امریکی حملوں نے ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا جس سے 10 ملاح زخمی اور پانچ دیگر لاپتہ ہو گئے۔

    خبررساں ایجنسی مہر نے صوبہ ہرمزگان کے ایک عہدیدار محمد رازمہر کے حوالے سے بتایا کیا کہ ’امریکیوں کی جانب سے گذشتہ رات آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے پانیوں میں کی گئی معاندانہ کارروائیوں کے دوران ایک مال بردار جہاز مناب کے پانیوں کے قریب ٹکرا گیا اور اسے آگ لگ گئی۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ ’10 زخمی ملاحوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے، اور مقامی گروپس اور سرچ ٹیمیں دیگر (پانچ) ملاحوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا کارگو جہاز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا تھا۔

  6. مغربی بنگال میں انتخابات کے نتائج کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم چار افراد ہلاک

    انڈین ریاست مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد سے ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں اب تک کم از کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ریاستی پولیس کے مطابق دارالحکومت کولکتہ سمیت مختلف اضلاع میں مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد شروع ہو گئی تھیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک اہم رہنما سویندو ادھیکاری کے قریبی ساتھی چندر ناتھ رتھ بھی شامل ہیں۔ رتھ، ادھیکاری کے ذاتی معاون تھے اور ادھیکاری کو بی جے پی کی کامیابی کے بعد ریاست کا ممکنہ نیا وزیرِ اعلیٰ تصور کیا جا رہا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ چندر ناتھ رتھ بدھ کی رات اپنے گھر جا رہے تھے جب نامعلوم افراد نے انھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

    ریاستی پولیس کے مطابق پیر کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد سے اب تک تشدد اور دھمکی آمیز واقعات کے سلسلے میں 400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات میں ان کے دو کارکن ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بھی دو کارکنوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    بی جے پی کے ریاستی رہنما سامک بھٹاچاریہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’پیر کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہمارے دو کارکنوں کو قتل کیا گیا۔‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت ’امن کے حق میں ہے۔‘

    پیر کو بی جے پی نے مغربی بنگال میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ خیال رہے کہ پہلی مرتبہ بی جے پی نے ریاست میں اقتدار حاصل کیا ہے، جس کے ساتھ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

    ممتا بنرجی، جو اب تک ریاست کی وزیرِ اعلیٰ تھیں، انتخابات میں صرف 81 نشستیں حاصل کر سکیں۔ انتخابی نتائج کے بعد ریاست میں کشیدگی پائی جا رہی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ترنمول کانگریس نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی تطہیر کے نام پر لاکھوں افراد کو ووٹنگ لسٹ سے خارج کیا گیا۔

  7. آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے ذریعے ایرانی بندرگاہوں سے 70 بحری جہازوں کو روکا گیا: امریکی سینٹرل کمانڈ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہCENTCOM

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک 70 سے زائد آئل ٹینکرز کو روکا گیا جن کی اصل منزل ایرانی بندر گاہیں تھیں۔

    سینٹکام کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ تجارتی جہاز 166 ملین بیرل سے زیادہ ایرانی تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کا تخمینہ 13 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    امریکہ نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور اس کے کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکا جا رہا ہے۔

  8. امریکی تجاویز پر ایران کے جواب کا انتظار ہے، امید ہے کہ جواب ایسا ہو گا جو سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے: مارکو روبیو

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو جمعہ کے روز (یعنی آج) ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر جواب موصول ہو جانا چاہیے۔

    اٹلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’(ایران سے جواب موصول ہونے پر) ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا ہو گا جو ہمیں سنجیدہ مذاکراتی عمل کی جانب لے جا سکے۔‘

  9. ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دینے اور ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کے لیے بحری اتھارٹی کا قیام

    ْBBC

    ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری اتھارٹی قائم کر دی ہے، جو تجارتی جہازوں کی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے اجازت نامے جاری کرے گی اور اس کے عوض ٹرانزٹ فیس وصول کرے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

    شپنگ اور بحری تجارت سے متعلق خبروں اور معلومات فراہم کرنے والے ادارے ’لائیڈز لسٹ‘ کے مطابق ’خلیج فارس سٹریٹ اتھارٹی‘ نے حالیہ دنوں میں ایک نیا طریقہ کار متعارف کرایا ہے جس کے تحت جہازوں کو روانگی سے قبل ٹرانزٹ اجازت نامہ حاصل کرنا اور فیس ادا کرنا ہو گی۔

    لائیڈز لسٹ نے یہ رپورٹ اس نمونہ فارم کی بنیاد پر تیار کی ہے جو اس اتھارٹی نے حالیہ دنوں میں جہاز رانی کی کمپنیوں کو بھیجا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس فارم میں جہازوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ملکیت، انشورنس، عملے کی تفصیلات اور مجوزہ راستے سے متعلق مکمل معلومات اس اتھارٹی کو فراہم کریں۔

    ایران کے انگریزی زبان کے سرکاری چینل پریس ٹی وی نے رواں ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ تہران نے ’آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے نفاذ کے لیے ایک نظام‘ قائم کر لیا ہے اور اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے خواہشمند جہازوں کو ای میل کے ذریعے اس ضمن میں ’قواعد و ضوابط‘ بھیج دیے ہیں۔

    ایران نے 28 فروری کو اس پر ہونے والے امریکی، اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں خلل پیدا ہوا ہے۔ آٹھ اپریل کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد واشنگٹن نے ایران کی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے اس اہم آبی گزرگاہ میں جہازرانی پر عائد پابندیوں کے تسلسل سے جوڑا گیا ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی حکام متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے سابقہ قواعد و ضوابط میں تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے تحت تہران کو اس آبنائے پر کنٹرول حاصل ہو گا اور تجارتی فیس وصول کی جائے گی۔ ان محصولات کو عمان کے ساتھ بھی تقسیم کیا جائے گا، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔

    اپریل میں ایران کی پارلیمان کے نائب سپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران کو آبنائے ہرمز میں عائد کردہ ٹرانزٹ فیس سے پہلی آمدن موصول ہو گئی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    ٹرانزٹ فیس کے اعلان سے قبل ایران کی پارلیمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک پر یہ فیس عائد کرنے پر غور کر رہی تھی، جبکہ حکام نے خبردار کیا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے جہازرانی ’جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔‘

  10. فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کو ناکارہ بنایا: یو اے ای

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اُن کے فضائی دفاعی نظام نے ایران سے آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں اور تین ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس واقعے میں تین افراد معمولی زخمی ہوئے تھے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ وہ ’ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی ایسی کوشش کا سختی سے مقابلہ کریں گے جو ریاست کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی نیت سے کی گئی ہو، تاکہ اس کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے اور اس کے قومی مفادات اور صلاحیتوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔‘

  11. جب بھی معاملات سفارتی طریقے سے حل کی جانب بڑھتے ہیں تو امریکہ خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے: عباس عراقچی

    عباس عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی جانب بڑھتے ہیں تو عین اسی موقع پر امریکہ ایک خطرناک فوجی مہم جوئی کا انتخاب کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ’ایکس‘ پر پوسٹ کیے گئے اپنے پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ نے استفسار کیا کہ ’کیا یہ محض دباؤ ڈالنے کی ایک بھونڈی حکمت عملی ہے؟ یا پھر کسی تخریب کار کی کارستانی، جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وجوہات کچھ بھی ہوں، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے اور وہ یہ کہ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے جھکتے نہیں ہیں۔‘

    عباس عراقچی نے امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے ایران کے میزائل ذخائر سے متعلق اندازوں کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے میزائل کے ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت 31 مارچ کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں ہے، صحیح اعداد و شمار 120 فیصد ہیں۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان گذشتہ رات آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی ایک مختصر جھڑپ کے بعد سامنے آیا ہے۔

    امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی افواج نے گذشتہ رات ایران میں فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے اور یہ کہ یہ قدم آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا تھا۔ تاہم اس جھڑپ کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے باوجود جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

  12. خلیج کی جانب بڑھنے والے فرانس کے طیارہ بردار جنگی جہاز کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کا طیارہ بردار بحری جہاز ’شارل دی گوول‘، جو اس سے قبل سویڈن اور پھر مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تھا، اب یمن کے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    یہ اقدام فرانس اور برطانیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مستقبل کی ممکنہ مہم کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

    فرانسیسی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فرانس بحری فضائی دستہ بدھ کے روز نہرِ سویز عبور کر چکا ہے۔

    طیارہ بردار جہاز شارل دی گوول فرانسیسی عسکری طاقت کی علامت اور فرانس میں اب تک تعمیر کیا گیا سب سے بڑا جنگی جہاز ہے۔ اگرچہ اس کا حجم امریکی طیارہ بردار جہازوں سے کم ہے، تاہم اس کا وزن چار ایفل ٹاورز کے برابر ہے۔ اس کو بنانے کا آغاز سنہ 1986 میں ہوا تھا مگر اسے 2001 میں باضابطہ طور پر سروس میں شامل کیا گیا تھا۔

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس کے بعد سے یہ طیارہ بردار جہاز مختلف سمندروں کے درمیان سفر کرتا رہا ہے اور افغانستان، لیبیا، عراق اور شام سمیت متعدد محاذوں پر کارروائیوں میں حصہ لے چکا ہے۔

    اپنے دو جوہری ری ایکٹروں کی بدولت شارل دی گوول کئی ماہ تک روزانہ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  13. آبنائے ہرمز میں تازہ کشیدگی کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی

    ڈالر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ رات آبنائے ہرمز میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے بعد ڈالر کی قدر مزید کمزور ہوئی ہے۔

    اس جھڑپ کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ نوٹ کیا گیا ہے ۔

    ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی کارکردگی کا بڑی عالمی کرنسیوں سے موازنہ کرتا ہے، کے مطابق 0.14 فیصد کمی کے ساتھ ڈالر کی قدر 98.195 پوائنٹس پر آ گئی ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران یہ 97.623 کی سطح تک گر گیا تھا، جو 27 فروری کے بعد یعنی ایران جنگ کے آغاز سے ایک دن پہلے، کی کم ترین سطح تھی۔

  14. ایران متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’دشمن ٹھکانے‘ کے طور پر دیکھتا ہے: ایرانی رُکن پارلیمان

    ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے رُکن علی خضریان نے الزام عائد کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف جنگ کے دوران اہم عسکری اور انٹیلیجنس تعاون فراہم کیا، اور یہاں تک کہ ’ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اماراتی طیاروں نے نشانات مٹا کر براہِ راست ایرانی سرزمین پر حملے کیے۔‘

    رُکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی کردستان ریجن کے حوالے سے سکیورٹی حکمتِ عملی میں اب متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، اور انھیں کسی بھی وقت اس بات کی توقع رکھنی چاہیے کہ جس طرح اربیل میں دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی طرح امارات میں موجود اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔‘

    ان کے مطابق ایران اب متحدہ عرب امارات کو ہمسایہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’دشمن ٹھکانے‘ کے طور پر دیکھتا ہے۔

    گذشتہ دو ماہ کے دوران جنگ کے آغاز کے بعد ایران متعدد بار ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اماراتی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بنا چکا ہے۔

  15. امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو 25.8 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادی ممالک کو فضائی دفاعی نظام سے منسلک انٹرسیپٹر میزائل اور دیگر اہم ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق ان دفاعی معاہدوں کی مجموعی مالیت 25.8 ارب ڈالر ہے، جو گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ظاہر کی گئی رقم سے تین گنا زیادہ ہے۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان کے مطابق مارکو روبیو نے یکم مئی کو بحرین، اسرائیل، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات کے لیے اِن معاہدوں کی ہنگامی منظوری دی تھی۔ کانگریس کے ایک نمائندے، جنھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کر بات کی، نے بھی تصدیق کی ہے کہ کانگریس کے اراکین کو اس حکومتی اقدام پر بریفنگ دی گئی ہے۔

    گذشتہ ہفتے امریکی انتظامیہ نے خلیجی اتحادیوں کے لیے 8.6 ارب ڈالر کے فوری نوعیت کے ہتھیاروں کے معاہدوں کی منظوری کا اعلان کیا تھا، مگر ان معاہدوں میں بحرین کا ذکر شامل نہیں تھا۔ ابتدائی طور پر بتائے گئے اعداد و شمار میں فرق کی وجہ انتظامی نوعیت کا معاملہ بتایا گیا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ ان معاہدوں کو نئے سودوں کے بجائے سابقہ منظوریوں میں ترمیم قرار دیتی ہے۔

    امریکہ کے مطابق یہ دفاعی ڈیلز اُن اتحادی ممالک کے لیے امریکی عزم کو ظاہر کرتی ہیں جن پر 28 فروری کے بعد سے ایران کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب ان ممکنہ معاہدوں کا حجم اور امریکا کی جانب سے ان ہتھیاروں کی پیداوار کی سست رفتاری ایسے سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ شراکت دار ممالک کو یہ اسلحہ کتنی جلدی فراہم کیا جا سکے گا۔

  16. چین کی آبنائے ہرمز میں اپنے تیل بردار جہاز پر حملے کی تصدیق

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدے ایک ٹینکر، جس پر چینی عملہ سوار تھا، حملے کا نشانہ بنا ہے۔

    وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مذکورہ جہاز پر چینی شہری بھی موجود تھے، تاہم اب تک عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

    یاد رہے کہ چینی خبر رساں ادارے شیامن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک چینی ملکیت کا تیل بردار جہاز پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا ہے۔

  17. اگر ضرورت پڑی تو ہم تیل کے بڑے ذخائر جاری کرنے کے لیے تیار ہیں: بین الاقوامی توانائی ایجنسی

    Energy crisis

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فتح بیرول نے کہا کہ ایجنسی نے ’اب تک اپنے تیل کے کل ذخائر کا صرف 20 فیصد جاری کیا ہے، اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    بیرول کے تبصرے ایرانی جنگ اور آبنائے ہرمز کی عملاً بندش کے درمیان توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے درمیان سامنے آئے ہیں، جو ایک اہم تجارتی راستہ ہے، جس میں برینٹ کروڈ کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیہ کار گیرگَلی مولنار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پہلے ہی 2026 سے 2030 کے دوران تقریباً 120 بلین کیوبک میٹر عالمی مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا نقصان ہو چکا ہے۔

    جمعرات کو بوڈاپیسٹ ایل این جی سمٹ میں اپنی تقریر میں گیرگَلی مولنار نے وضاحت کی کہ یہ تنازع درمیانی مدت کی گیس کی توقعات کو تبدیل کر رہا ہے، جس میں مارکیٹ کے سخت حالات متوقع سے زیادہ دیر تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس بحران نے مائع قدرتی گیس کی سپلائی میں تقریباً 15 فیصد کمی کر دی ہے، لیکن نئی مائع کی صلاحیت میں بڑے اضافے سے قطر اور متحدہ عرب امارات سے ضائع ہونے والی مقدار کی تلافی کی توقع ہے۔

    ایرانی حملوں نے قطر کی 17 فیصد مائع قدرتی گیس کی برآمدی صلاحیت کو متاثر کر دیا ہے، جس سے گرمیوں کے موسم سے پہلے یورپ اور ایشیا کے لیے سپلائی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جسے عام طور پر سردیوں کی تیاری میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو بھرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تجزیہ کار گیرگَلی مولنار نے کہا ہے کہ چونکہ یورپی یونین کے ذخیرے کی سطح گذشتہ پانچ سالوں میں ان کی اوسط سے تقریباً 30 فیصد کم ہے، اس لیے انھیں 90 فیصد کے ہدف تک بھرنے کے لیے اضافی 10 بلین کیوبک میٹر گیس کی ضرورت ہوگی۔

  18. آبنائے ہرمز کا واحد حل جنگ اور بحری ناکہ بندی کا مستقل خاتمہ ہے: ایران

    Iran, USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید اروانی نے امریکہ اور بعض عرب ممالک کی طرف سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کے جواب میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی اٹھانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے۔

    انھوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ’امریکہ کے اقدامات واضح طور پر اس کے بیان کردہ مقاصد سے متصادم ہیں، اور اس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھانے اور عدم استحکام کو مزید گہرا کرنے کا کام کیا ہے۔‘

    انھوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کا مؤقف واضح ہے، آبنائے ہرمز کا واحد ممکنہ حل جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا، بحری ناکہ بندی کو ہٹانا اور معمول کی بحری نقل و حمل کو بحال کرنا ہے، اس کے برعکس، امریکہ، ’بحری جہاز کی آزادی‘ کی آڑ میں، سلامتی کونسل میں اپنی قرارداد کے مسودے کو سیاسی طور پر پیش کرنے کے لیے ایک ناقص اور سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یوں امریکہ بحران کو حل کرنے کے بجائے غیر قانونی اقدامات کی طرف بڑھا رہا ہے۔

    ایروانی نے قرارداد کے مسودے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مسودہ قرارداد میں بین الاقوامی جہاز رانی کی حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اس مسودے کا اصل مقصد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران کے خلاف امریکہ کی طرف سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات کو قانونی حیثیت دینا ہے جس میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی بھی شامل ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’قرارداد کے مسودے میں موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے، جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی ادارے کی طرف سے غیر قانونی فوجی جارحیت اور طاقت کا استعمال ہے۔‘

    اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے کہا کہ موجودہ بحران 28 فروری 2026 سے امریکہ کی طرف سے مسلط کی گئی غیر قانونی جنگ کا براہ راست نتیجہ ہے۔

  19. شیر کے نوکیلے دانت دیکھ کر یہ مت سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے: اسماعیل بقائی

    ِایران، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہFatemeh Bahrami/Anadolu via Getty Images

    إذا رأيتَ نيوبَ اللَّيثِ بارزةً، فلا تَظُنَّنَّ أنَّ اللَّيثَ يبتسمُ

    یہ عربی کا ایک محاورہ ہے جسے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا کی سائٹ ایکس پر شیئر کیا ہے۔ اس کا ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

    ’اگر تم شیر کے نوکیلے دانت نمایاں دیکھو،

    تو یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ شیر مسکرا رہا ہے

    یعنی ایران نے بالواسطہ طور پر امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ’ہمارے تحمل کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔‘

    امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں دو اہداف کو ’دفاعی کارروائی‘ کے دوران نشانہ بنایا ہے، جس پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے اور ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے میزائل داغے۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’ایک ہی غلطی کو دہرانے سے مختلف ردِعمل نہیں ملے گا، جواب صرف سخت ہوگا۔ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے۔‘

    اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’سب سے پہلے ایران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ ہمارے پاس تین امریکی ڈسٹرائرز موجود تھے جو آبنائے ہرمز سے بغیر کسی نقصان کے گزر گئے۔ جوابی کارروائی میں ایران کی متعدد چھوٹی کشتیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو آسانی سے مار گرایا گیا۔‘

    ایرانی فوج نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

  20. اسلام آباد کی امریکی تحویل میں جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کے لیے سنگاپور سے تعاون کی درخواست

    Islamabad

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    اسلام آباد امریکی فورسز کی جانب سے ضبط کی گئی کشتیوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی واپسی کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انھوں نے سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن سے رابطہ کر کے امریکی فورسز کے قبضے میں موجود ان جہازوں پر سوار پاکستانی اور ایرانی ملاحوں کی وطن واپسی کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے، جو اس وقت سنگاپور کے قریب سمندری حدود میں پہنچ رہے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وہ اس معاملے پر اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، اور پاکستان ’ایرانی شہریوں کی پاکستان کے راستے ایران محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘ وزیرِ خارجہ کے مطابق ضبط کیے گئے جہازوں پر 11 پاکستانی اور 20 ایرانی ملاح سوار ہیں۔