’باہر سے آنے والوں نے لاہور کو برباد کیا‘: عید کی تعطیلات میں ’پُرسکون لاہور‘ پر مراد راس کی پوسٹ پر تنقید ’کیا باہر سے آنے والے پاکستانی نہیں؟‘

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’عید کی تعطیلات کے دوران لاہور بہت پُرسکون رہا۔ خاص طور پر ٹریفک تو نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاہور کو برباد کرنے والے وہ ہیں جو باہر سے یہاں آئے۔‘

صوبائی دارالحکومت لاہور سے دو بار پنجاب اسمبلی کے رُکن منتخب ہونے والے سابق صوبائی وزیر مراد راس نے اتوار کے روز جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے یہ تاثرات تحریر کیے تو شاید انھیں اندازہ نہیں تھا کہ اس پر آنے والا ردعمل اور تنقید کس قدر شدید ہو گی۔

بظاہر وہ عید کی تعطیلات کے دوران پاکستان کے بڑے شہروں سے لوگوں کی اپنے آبائی علاقوں کو واپسی اور اس دوران سڑکوں پر ٹریفک کے کم رش کی بات کر رہے تھے تاہم ان کی جانب سے لکھا گیا یہ جملہ ’یہ باہر سے آنے والے ہیں جنھوں نے لاہور کو برباد کیا‘ بہت سے صارفین کو پسند نہیں آیا۔

سابق وزیر فواد چوہدری نے ایکس پر لکھا: ’تمام بڑے شہر اس لیے زندگی سے بھرپور ہوتے ہیں کیونکہ انھیں باہر سے آنے والوں نے تعمیر کیا ہوتا ہے۔ چاہے وہ لاہور ہو یا نیو یارک، لندن ہو یا کراچی۔‘

شہر میں کم رش کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فواد چوہدری نے مزید لکھا کہ ’کم ٹریفک صرف تعطیلات میں ہی اچھی ہوتی ہے۔‘

مراد راس سنہ 2013 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر لاہور کے حلقے پی پی 152 سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جبکہ سنہ 2018 کے عام انتخابات میں وہ اسی جماعت کے ٹکٹ پر لاہور کے حلقے پی پی 159 سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

تاہم نو مئی 2023 کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں مراد راس نے 26 مئی 2023 کو تحریک انصاف سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ سنہ 2018 میں تحریک انصاف حکومت نے مراد راس کو پنجاب کا وزیر تعلیم بھی مقرر کیا تھا۔

سوشل میڈیا کے کئی صارفین ان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مراد راس کی وزارت کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں۔

ایک صارف نے مراد راس کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ذرا تصور کریں کہ یہ ٹویٹ ایک سابق وزیرِ تعلیم کی جانب سے ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’لاہور مراد راس کی جاگیر نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ کون اس شہر کا ہے اور کون نہیں۔ ہر وہ شخص جسے آپ باہر سے آنے والا قرار دے رہے ہیں، وہ اس شہر (کی تعمیر و ترقی) میں آپ کے فردسودہ بیانیے سے کہیں زیادہ حصہ ڈال چکا ہے۔‘

ایک اور سوشل میڈیا صارف رباب نے لکھا کہ محنتی پاکستانیوں کو ’باہر سے آنے والا‘ قرار دینا غیر منصفانہ اور تفرقہ انگیز ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’لاہور کی تعمیرات، ٹرانسپورٹ، خدمات، دکانوں اور روزمرہ کی مزدوری‘ میں دیہی پنجاب اور دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کا ہی کردار ہے۔ ’وہ کرائے ادا کرتے ہیں، منڈیوں کو فروغ دیتے ہیں اور شہر کو رواں رکھتے ہیں۔‘

اسفندیار خٹک نے اپنے ردعمل میں لکھا کہ اگر باہر سے آنے والے افراد شہروں کو برباد کرتے تو دبئی، نیو یارک اور پیرس جیسے شہر بہت پہلے متاثر ہو چکے ہوتے۔

ایک اور صارف نے اس بحث کو وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں رہنے والوں کا رویہ ایسا ہوتا ہے جیسے وہ مراعات یافتہ ہوں اور ’یہ درست نہیں‘۔

ان کے مطابق کوئی بھی فرد اصل میں کسی ایک شہر سے نہیں ہوتا بلکہ شہری آبادی ہجرت اور شہروں کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا لاہور سے باہر سے آنے والے ’پاکستانی نہیں ہیں؟‘ اور پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ’سب پاکستانی ہیں اور پاکستان سب کا ہے۔‘

سید آصف شاہ نے مراد راس کے بیان پر طنز کرتے ہوئے لکھا: ’ممکن ہے عید کے دوران لاہور اس لیے پُر سکون رہا ہو کہ خود لاہور کے رہائشی شمالی علاقوں میں چلے گئے ہوں۔‘

عمر پیرزادہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ باہر سے آنے والے افراد شہر میں محنت کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملکی معیشت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان تمام پاکستانیوں کا ہے اور ’ہم سندھ یا بلوچستان بھی چلے جائیں تو مقامی ہی ہوں گے۔‘

محمد شکیل نامی صارف نے لکھا کہ ’لاہور کی اصل خوبصورتی اس کی کشادگی اور مختلف ثقافتوں کو قبول کرنے میں ہے۔‘ ان کے مطابق یہ شہر ہر فرد کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے اور محنت کرنے والوں کو صلہ دیتا ہے۔

ایکس پر ہونے والی اس تنقید کے تناظر میں بی بی سی نے مراد راس سے رابطہ کیا تو ان کا مؤقف تھا کہ انھوں نے تو ایک ’غیر رسمی‘ سا بیان دیا تھا جسے انتہائی سنجیدگی سے لے لیا گیا۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے یوں ہی ایک بات کی تھی، جو لوگ فارغ رہتے ہیں وہ اس کو لے کر بیٹھ ہی گئے۔ میں تو یہ دیکھ کر مسکرا رہا ہوں کہ کتنے ناپختہ ردعمل آ رہے ہیں۔‘

مراد راس کے مطابق ان کی پوسٹ کا مقصد در اصل یہ نکتہ اجاگر کرنا تھا کہ تمام سہولیات ایک ہی شہر میں مرکوز کرنے کے بجائے دیگر شہروں میں بھی ترقیاتی کام اور وسائل فراہم کیے جانے چاہییں۔

ان کا کہنا تھا کہ بصورتِ دیگر ایک ہی شہر میں مسلسل انفراسٹرکچر بہتر بناتے رہنے کے باوجود وہاں آبادی اور سسٹم پر دباؤ بڑھتا رہے گا۔

مراد راس نے مزید کہا کہ لوگوں نے اُن کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا اور ’بات کا بتنگڑ بنا دیا۔‘

اس بحث کے دوران کچھ صارفین کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مراد راس نے خود امریکی شہریت حاصل کی تھی، تاہم اس کا جواب دیتے ہوئے مراد راس نے کہا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں امریکی شہریت چھوڑ دی تھی۔

اسی دوران بہت سے صارفین یہ بات کرتے بھی نظر آئے کہ اگر پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی لاہور جیسی سہولیات فراہم کر دی جائیں تو لوگوں کو نقل مکانی کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ ایسے صارفین کے مطابق تعلیم، صحت اور روزگار کے یکساں مواقع بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کو کم کر سکتے ہیں۔

لاہور شہر کی صدیوں پر محیط داستان

لاہور کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ کئی صدیوں سے ایک اہم اور برصغیر کے نمایاں شہروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے اور مختلف ادوار میں سیاسی، ثقافتی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔

برطانوی انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا نے ہندو روایات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ لاہور کی بنیاد رام (ہندو مت کے ایک دیوتا) کے بیٹے لاوا یا لوح نے رکھی اور کہا جاتا ہے کہ شہر کا نام بھی انھی کے نام پر لوہاوار پڑا۔ دوسری صدی عیسوی کی کتاب ’گائیڈ ٹو جیوگرافی‘ میں جس شہر ’لابوکلا‘ کا ذکر ملتا ہے، ممکن ہے وہ لاہور ہی ہو۔

بریٹینیکا کے مطابق لاہور شہر کی تاریخ نشیب و فراز سے بھرپور رہی ہے۔ سنہ 1163 سے 1186 تک یہ غزنوی سلطنت کا دارالحکومت رہا۔ سنہ1241 میں منگول فوج نے لاہور کو تباہ کر دیا۔ 14 ویں صدی کے دوران یہاں بار بار حملے ہوئے، یہاں تک کہ 1398 میں یہ تیمور کے قبضے میں آ گیا۔

سنہ 1524 میں مغل بادشاہ بابر کی افواج نے اسے فتح کیا، بریٹینیکا کے مطابق، جس کے بعد مغل دور میں لاہور کے سنہری عہد کا آغاز ہوا۔ اس دوران یہ شہر اکثر شاہی قیام گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔

شاہ جہاں (58-1628) کے دور میں شہر میں بڑے پیمانے پر توسیع ہوئی، تاہم ان کے جانشین اورنگزیب کے دور میں لاہور کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی۔

برطانوی انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا میں درج ہے کہ اورنگزیب کی وفات (1707) کے بعد لاہور مغل حکمرانوں اور سکھوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش کا مرکز بن گیا۔ 18 ویں صدی کے وسط میں نادر شاہ کے حملے کے بعد لاہور ایرانی سلطنت کا ایک چوکی نما مرکز بن گیا۔

تاہم جلد ہی سکھوں کے عروج کے ساتھ یہ دوبارہ ایک مضبوط حکومت کا مرکز بن گیا، خصوصاً مہاراجہ رنجیت سنگھ (1799 تا 1839) کے دور میں۔

ان کی وفات کے بعد شہر تیزی سے زوال پذیر ہوا اور 1849 میں برطانوی راج کے تحت آ گیا۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت لاہور مغربی پنجاب کا دار الحکومت بنا۔

لاہور کی جغرافیائی حیثیت، خصوصاً دریائے راوی کے کنارے اور اہم تجارتی راستوں کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے، اسے مختلف سلطنتوں کے لیے ایک کلیدی شہر بناتی رہیں۔

لاہور غزنوی، مغل، سکھ اور برطانوی ادوار میں دار الحکومت یا اہم انتظامی مرکز رہا، جبکہ مغل دور میں یہ فنِ تعمیر، ثقافت اور شہری ترقی کے اعتبار سے اپنے عروج پر پہنچا۔

یہی تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ لاہور صرف ایک تاریخی شہر ہی نہیں بلکہ صدیوں سے ایک میٹروپولیٹن نوعیت کا مرکز رہا ہے، جہاں مختلف خطوں سے آنے والے لوگ، ثقافتیں اور معاشی سرگرمیاں یکجا ہوتی رہی ہیں۔