آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق خبروں کی تردید: ٹرمپ کا ایران معاہدے میں آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم سے متعلق تبدیلیوں کا مطالبہ

امریکی میڈیا پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں پر ایران کے متعدد سرکاری عہدیداروں، جن میں حکومتی ترجمان بھی شامل ہیں نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انھیں ’مایوسی پھیلانے کے مترادف اور جھوٹی اطلاعات‘ قرار دیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران میں کئی حکومتی عہدیداروں نے صدر مسعود پزشکیان کے مستعفیٰ ہونے کی غیر مصدقہ رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے اسے 'مایوسی پھیلانے کی غرض سے چلائی جانے والی فیک نیوز' قرار دیا ہے
  • ایران کی مجلس خبرگان رہبری کے رُکن محسن حیدری الحطیر نے دعویٰ کیا ہے رہبرِ اعلی کے جانشین کے انتخاب کے لیے ہونے والے پہلے اجلاس میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام 'فہرست میں شامل نہیں تھا'
  • ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے
  • امریکی ذرائع ابلاغ نے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران معاہدے میں آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم سے متعلق معاملات میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے
  • اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے لبنان میں 'سٹریٹجک قلعے' پر اسرائیلی قبضے کو حزب اللہ کے خلاف جنگ میں 'ڈرامائی تبدیلی' قرار دیا ہے

لائیو کوریج

  1. ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد حملہ آور فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا: پاسدارنِ انقلاب کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی ایرو سپیس فورس نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے مبینہ طور پر سیریک جزیرے کے ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر امریکہ کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں اس فضائی اڈے کے مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

    بیان کے مطابق یہ کارروائی ’امریکی فوج کی جانب سے ایک گھنٹہ قبل کی گئی جارحیت‘ کے جواب میں کی گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس کی فورسز نے ’اس فضائی اڈے کو نشانہ بنایا جہاں سے جارحیت کا آغاز ہوا تھا‘ اور حملے کے دوران مقررہ اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔

    بیان میں حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی فوری طور پر اس دعوے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔

  2. ایرانی جزائر پر ریڈار اور ڈرون کنٹرول مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ ے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے اندر واقع ریڈار اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر ’دفاعی کارروائی‘ کے تحت حملے کیے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائیاں سنیچر اور اتوار کے روز ایران کے شہر گوروک اور جزیرہ قشم پر کی گئیں۔

    امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی ’جارحانہ سرگرمیوں‘ کے جواب میں کی گئیں، جن میں ایک امریکی ’ایم کیو ون‘نامی ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں مار گرانا بھی شامل تھا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے ایران کے فضائی دفاعی نظام، ایک زمینی کنٹرول سٹیشن اور دو خودکش حملہ آور ڈرونز کو تباہ کر دیا جو علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ وہ جاری جنگ بندی کے دوران بھی ایران کی ’بلاجواز جارحیت‘ کے جواب میں امریکی اثاثوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔

  3. ایران میں سکیورٹی کریک ڈاؤن تیز: اسرائیل کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں دو افراد گرفتار، 75 افراد کے اثاثے ضبط

    ایران کے شمال مغربی صوبے مغربی آذربائیجان کے شہر ارومیہ میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ونگ نے دو افراد کو اسرائیل کو حساس معلومات فراہم کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گرفتار افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو سکولوں، مساجد اور بسیج مراکز کی تصاویر اور معلومات فراہم کیں۔ رپورٹ میں انھیں ’کرائے کے ایجنٹ‘ اور ’غدار‘ قرار دیا گیا ہے۔ تسنیم کے مطابق بعد ازاں ان افراد نے انہی مقامات کی تصاویر بھی شیئر کیں جب وہ بمباری کا نشانہ بنے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی نیوز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی زمینی فورس کے حمزہ سیدالشہدا ہیڈکوارٹر نے بتایا کہ یہ کارروائی ایران کے صوبے مغربی آذربائیجان میں انٹیلی جنس آپریشنز کے نتیجے میں عمل میں آئی۔

    بیان کے مطابق ضبط شدہ سامان میں جدید کیمرے اور نگرانی کے آلات شامل تھے، جو مبینہ طور پر ’علیحدگی پسند گروہوں‘ تک پہنچائے جانے تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ان گروہوں کو ’دشمن کی خفیہ ایجنسیوں‘ کی حمایت حاصل ہے۔

    صوبہ خوزستان میں پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 264 آتشیں اسلحہ قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    تسنیم نیوز کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ برآمد شدہ اسلحے میں 96 جنگی ہتھیار، 168 رائفلیں اور تقریباً چار ہزار گولیاں شامل ہیں جبکہ کارروائیوں کے دوران 187 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

    دوسری جانب ایرانی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے میزان نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صوبہ مرکزی میں ’دشمن کی حمایت‘ کے الزام میں 75 افراد کے اثاثے ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    میزان کے مطابق صوبہ مرکزی کے چیف جسٹس حجت اللہ درودگر نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت اراک میں ’غیر ملکی میڈیا‘ سے رابطوں کے الزام میں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے ایسے روابط کو ’ناقابلِ معافی جرم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی سلامتی اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تحفظ ملک کی ’سرخ لکیر‘ ہے۔

    ان کے بقول ’غداری‘ اور غیر ملکی دراندازی کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کو سخت ترین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  4. اسلام آباد میں بازار اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کاروباری اوقات کار سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق شہر بھر میں مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

    اوقاتِ کار سے متعلق نئی پابندیاں یکم جون 2026 یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گی۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول پمپس، سی این جی سٹیشنز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، جبکہ دودھ اور ڈیری شاپس پر نئے اوقات کار کی پابندی لاگو نہیں ہوگی، جمز اور پیڈل کورٹس سمیت سپورٹس سہولیات مستثنیٰ قرار دی گئیں ہیں اور آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرز معمول کے مطابق کام جاری رکھ سکیں گے۔

    جاری نوٹیفکیشن کے تحت ریسٹورنٹس، فوڈ آؤٹ لیٹس اور تندور رات 10 بجے بند ہوں گے، کریانہ، سبزی، پھل اور بیکری شاپس کیلئے بھی رات 10 بجے بندش کا وقت مقرر کر دیا گیا، ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروس پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

    اس کے علاوہ شادی ہالز اور مارکیز رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، نجی مقامات پر ہونے والی تقریبات پر بھی رات 10 بجے کی پابندی لاگو ہوگی۔

  5. میانمار: باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں دھماکہ 55 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    میانمار کے شورش زدہ صوبہ شان میں باغیوں کے زیرِ کنٹرول ایک گاؤں میں ہونے والے خطرناک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 55 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی کو زمینی صورتحال سے آگاہ ایک ذریعے نے بتایا کہ چینی سرحد کے قریب نامکھم ٹاؤن شپ کے گاؤں کاؤنگ تات میں ہونے والے دھماکے میں 25 خواتین اور 30 مرد ہلاک ہوئے۔ تاہم بعض دیگر رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔

    اتوار کے روز دھماکے کے فوراً بعد گاؤں کے اوپر دھوئیں کا ایک بہت بڑا بادل اٹھتا ہوا دیکھا گیا، جس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    علاقے پر کنٹرول رکھنے والی اور فوجی جنتا کے خلاف برسرِ پیکار تنظیم تانگ نیشنل لبریشن آرمی نے کہا ہے کہ کان کنی اور پتھر توڑنے کے کام میں استعمال ہونے والا دھماکا خیز مواد اچانک پھٹ گیا۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تانگ نیشنل لبریشن آرمی کے بیان میں کہا گیا کہ یہ دھماکہ ’حادثاتی‘ تھا جو اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے کے قریب ہوا۔

    تنظیم کے مطابق ’اس دھماکے کے باعث متعدد مقامی دیہاتی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بہت سے افراد زخمی ہوئے اور ان کے گھروں کو شدید نقصان پہنچا۔‘

    واقعے کی ویڈیوز میں زمین پر ایک بہت بڑا گڑھا، ملبے کے ڈھیر، تباہ شدہ عمارتیں، جلے ہوئے درخت اور اب بھی اٹھتا ہوا دھواں دیکھا جا سکتا ہے، جو دھماکے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

    تانگ نیشنل لبریشن آرمی میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف سرگرم طاقتور نسلی مسلح گروہوں میں سے ایک ہے۔ میانمار جسے ماضی میں برما بھی کہا جاتا تھا، میں کئی باغی تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قیمتی معدنیات کی کان کنی پر انحصار کرتی ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کان کنی کے شعبے میں حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث کانوں کے دھنسنے، دھماکوں اور دیگر حادثات معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

  6. ایران نے عراقی کردستان میں واقع پارٹی کے ہیڈکوارٹر پر دو میزائل داغے: کوملہ ژامشکان پارٹی کا دعویٰ

    ایرانی کرد جماعت کوملہ ژامشکان پارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ شب مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے عراقی کردستان میں واقع پارٹی کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر دو میزائل حملے کیے۔

    پارٹی کے رہنما امجد حسین پناہی نے اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ ان حملوں میں خالدان کے علاقے میں واقع آلانہ وادی میں پارٹی کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسلامی جمہوریہ ایران عراقی کردستان میں موجود اس ایرانی کرد جماعت کے ٹھکانوں پر 81 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے کر چکا ہے۔

    دوسری جانب اربیل میں قائم ایک اور ایرانی کرد تنظیم، کردستان فریڈم پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ گزشتہ روز علی الصبح ایران کا ایک میزائل شہر کے قریب واقع اس کے ایک اڈے سے ٹکرایا۔

    پارٹی کے ترجمان کے مطابق ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کی جماعت کے ٹھکانوں پر 50 سے 60 مرتبہ حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ان دعوؤں کے حوالے سے ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ ایرانی کرد جماعت کوملہ ژامشکان پارٹی ایران کی ایک کرد سیاسی و مسلح تنظیم ہے جو کئی دہائیوں سے ایران کے کرد علاقوں میں سیاسی حقوق، خودمختاری اور سماجی آزادیوں کے مطالبات کرتی رہی ہے۔

    یہ تنظیم ایران کے اندر ممنوع ہے، اس لیے اس کی مرکزی قیادت اور کیمپ زیادہ تر عراقی کردستان میں موجود ہوتے ہیں۔

  7. رہبرِ اعلی کے جانشین کے انتخاب میں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ابتدائی فہرست میں شامل نہیں تھا: مجلسِ خبرگان رہبری کے رکن کا دعویٰ

    ایران کی مجلسِ خبرگان رہبری کے ایک رکن نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جب مجلسِ خبرگان کے اراکین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشین کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کیا تو مجتبیٰ خامنہ ای کا نام ابتدائی امیدواروں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔

    صوبہ خوزستان سے مجلسِ خبرگان کے نمائندے محسن حیدری آلکثیر نے گزشتہ ہفتے صوبے کے عرب قبائل کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس روز مجلسِ خبرگان کے اراکین کو سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت بسوں کے ذریعے جلدی میں اجلاس کے مقام تک پہنچایا گیا تھا۔

    ان کے مطابق اجلاس میں ابتدا میں آیت اللہ صادق لاریجانی اور آیت اللہ علیرضا اعرافی کے نام آیت اللہ علی خامنہ ای کے ممکنہ جانشینوں کے طور پر پیش کیے گئے۔

    محسن حیدری آلکثیر کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اور بعض دیگر نمائندوں نے اس پر اعتراض کیا تو بعد ازاں مجتبیٰ خامنہ ای کا نام بھی زیرِ غور امیدواروں میں شامل کیا گیا۔

    انھوں نے اپنے خطاب میں گزشتہ سال آٹھ مارچ کو ہونے والے مجلسِ خبرگان کے اس اہم اجلاس کی تفصیلات بیان کیں، جسے انھوں نے ایرانی قیادت کے مستقبل کے حوالے سے ایک فیصلہ کن اور تاریخی نشست قرار دیا۔

  8. ایرانی حکام کی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی خبروں کی سختی سے تردید

    ایران کے متعدد سرکاری عہدیداروں، جن میں حکومتی ترجمان بھی شامل ہیں نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انھیں ’مایوسی پھیلانے کے مترادف اور جھوٹی اطلاعات‘ قرار دیا ہے۔

    حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی، صدر پزشکیان کی حکومت کی اطلاعاتی کونسل کے ارکان الیاس حضرتی اور علی احمدنیا نے الگ الگ بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں صدر کی مسلسل سرکاری سرگرمیوں اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے ان کی کوششوں کا حوالہ دیا۔

    دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے اتوار کے روز متعدد ویڈیو رپورٹس جاری کیں، جن میں صدر مسعود پزشکیان کو مختلف داخلی تقریبات میں شرکت اور خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ان رپورٹس میں صحافیوں سے ان کی گفتگو بھی شامل ہے، جس میں انھوں نے سنہ 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ سمیت مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ صدر اپنے فرائض معمول کے مطابق انجام دے رہے ہیں اور استعفے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

    واضح رہے کہ ایرانی خبر رساں ادارے ’ایران انٹرنیشنل‘ کی جانب سے سب سے پہلے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی گئی تھی کے ایرانی صدر نے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے حکومتی معاملات میں مداخلت کی بنیاد پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کے بعد دُنیا بھر بشمول امریکی میڈیا کے متعدد خبر رساں اداروں کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اس پر ایک بحث شروع ہو گئی تھی۔

  9. ٹرمپ کا ایران معاہدے میں آبنائے ہرمز اور افزودہ یورینیم سے متعلق تبدیلیوں کا مطالبہ

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے میں بعض ترامیم کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کا مقصد رواں سال کے آغاز میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مجوزہ تبدیلیاں آبنائے ہرمز اور ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے انخلا سے متعلق ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے مزید تبصرہ کرنے سے گُریز کیا ہے۔

    تاہم ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز کہا کہ تہران کسی ایسے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگا جس میں ایران کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی نہ بنایا گیا ہو۔

    صدر ٹرمپ اور ان کے سینئر معاونین نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک فریم ورک پر ’حتمی فیصلہ‘ کرنے کے مقصد سے اجلاس منعقد کیا، تاہم ملاقات کسی واضح نتیجے یا آئندہ کے لائحۂ عمل کے بغیر ختم ہوگئی۔

    معاہدے کے تازہ ترین مسودے میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک فریم ورک شامل ہے۔ یہ تفصیلات امریکہ میں بی بی سی کے شراکت دار خبر رساں ادارے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اگر سفارتی پیش رفت جاری رہتی ہے تو معاہدے میں ایران کے لیے ممکنہ پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تہران کو منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔

    اتوار کو سامنے آنے والی یہ نئی ترامیم وائٹ ہاؤس اور تہران کے درمیان جاری کئی روزہ مذاکرات کا تازہ ترین مرحلہ ہیں، جن کا مقصد مہینوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے کی بنیاد رکھنا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں ممالک ایک ابتدائی فریم ورک، جسے مفاہمتی یادداشت کہا جاتا ہے پر متفق ہو چکے ہیں تاہم اس کی حتمی منظوری صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی منظوری سے مشروط ہے۔

  10. امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت اور پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے اور جب تک کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

    ایرانی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی ثالثی سے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل پیغامات کے تبادلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جب تک یہ اقدامات کسی خاص نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، اس حوالے سے کی جانے والی قیاس آرائیاں غیر متعلق ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے مزید کہا کہ ’مذاکرات کے بارے میں اس وقت میڈیا میں جو کچھ بھی زیر بحث ہے، وہ قیاس آرائیاں ہیں، اور میری رائے میں ان قیاس آرائیوں کو اس وقت تک اہمیت نہیں دی جانی چاہیے جب تک کہ معاملات یقینی کے مرحلے تک نہ پہنچ جائیں۔‘

  11. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان میں بیفورٹ قلعے پر قبضہ حزب اللہ کے خلاف مہم میں ایک ’اہم موڑ‘ ہے۔ انھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’آج ہم ایک مختلف انداز میں بیفورٹ واپس آئے ہیں، ہم متحد، پرعزم اور پہلے سے زیادہ مضبوط واپس آئے ہیں۔‘
    • پاکستان کے وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں بھی ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن سبسڈی یا رعایت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ایسے صارفین کے میٹرز کو کیو آر کوڈ سے منسلک کیا جائے گا۔
    • لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے شہر طائر میں ایک ہسپتال کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں طبی عملے کے 13 ارکان زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی لبنانی سرزمین میں پیش قدمی جاری ہے۔
    • پاسداران انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر حسین علائی کا کہنا ہے کہ 29 مارچ کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے تین دن پہلے انھوں نے علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی سے کہا تھا کہ ایران پر نیا حملہ رہبر اعلیٰ کے قتل سے شروع ہو گا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ رہبر انقلاب کو نہیں ڈھونڈ سکتے۔
  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔