’90 سیکنڈ میں کمرہ ٹھنڈا کر دے‘: انٹرنیٹ پر گردش کرتے چھوٹے ایئر کنڈیشنر کی حقیقت کیا ہے؟

A white portable air conditioner on a desk

،تصویر کا ذریعہProper DIY

    • مصنف, لورا کریس
    • عہدہ, نامہ نگار برائے ٹیکنالوجی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

برطانیہ کے بعض حصے گرمی کی ایک اور لہر سے بچنے کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں اور اسی دوران سوشل میڈیا پر ایسے پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز کے اشتہارات سامنے آ رہے ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہیں ’ناسا کے سابق انجینئرز نے ڈیزائن کیا ہے‘ اور یہ ’90 سیکنڈ میں ایک کمرہ ٹھنڈا کر سکتے ہیں۔‘

یہ اشتہارات فیس بک اور یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر دکھائی دے رہے ہیں، تاہم ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (اے ایس اے) نے خبردار کیا ہے کہ ایسی مصنوعات کے دعوے اکثر ’حقیقت سے برعکس بہت اچھے‘ معلوم ہوتے ہیں۔

یوٹیوبر سٹیورٹ میتھیوز، جنہوں نے اپنے چینل کے لیے ان میں سے کئی ڈیوائسز خرید کر ان کا تجربہ کیا، نے بی بی سی کو بتایا کہ 70 پاؤنڈ ادا کرنے کے باوجود یہ مشین دراصل ’صرف چند پاؤنڈ مالیت کا ایک چھوٹا اور سادہ پنکھا‘ نکلی۔

بی بی سی نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے میٹا اور یوٹیوب سے رابطہ کیا ہے۔

An AI-generated advert showing a copper wire with the words "his invention cooled down a 37 square metre room by 17C in minutes"
،تصویر کا کیپشنانٹرنیٹ پر موجود ایک اشتہار

ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں آن لائن نظر آنے والے بعض اشتہارات میں مبالغہ آمیز دعوے کیے گئے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ ایک چھوٹا سا آلہ چند منٹوں میں پورے گھر کو ٹھنڈا کر سکتا ہے یا یہ نہایت کم بجلی استعمال کرتا ہے۔

ادارے کے مطابق ان اشتہارات میں اکثر جعلی صارفین کے تبصرے بھی شامل ہوتے ہیں، جن میں درجۂ حرارت میں غیر معمولی کمی یا آلات کی غیر معمولی کارکردگی کا ذکر کیا جاتا ہے۔

یہ اشتہارات صارفین کو ایسی ویب سائٹس پر لے جاتے ہیں جہاں یہ آلات عموماً 70 سے 120 پاؤنڈ کے درمیان فروخت کیے جا رہے ہوتے ہیں۔

ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے اشتہارات بظاہر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے گئے تھے، جن میں تانبے کی کوائلز اور دھاتی ڈبوں جیسی تصاویر استعمال کی گئیں تاکہ مصنوعات زیادہ جدید اور مؤثر دکھائی دیں۔

ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے کہا ہے کہ صارفین چند علامات کی مدد سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی پورٹیبل ایئر کنڈیشنر کا اشتہار گمراہ کن ہو سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق لوگوں کو درج ذیل دعوؤں اور علامات کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے:

  • کسی چھوٹے آلے کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ بڑے کمروں یا پورے گھر کو چند منٹوں میں ٹھنڈا کر سکتا ہے۔
  • ’خفیہ ایجاد‘ یا ’صنعت میں انقلابی پیش رفت‘ جیسی ڈرامائی کہانیاں۔
  • اشتہار یا ویب سائٹ پر ناقص گرامر، ہجے کی غلطیاں یا برانڈنگ میں عدم مطابقت۔
  • ایسے صارفین کے تبصرے جو غیر معمولی نتائج بیان کریں یا حد سے زیادہ کامل اور غیر حقیقی محسوس ہوں۔

نگران ادارے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انہیں کسی اشتہار کے بارے میں شبہ ہو تو وہ فروخت کنندہ کے بارے میں تحقیق کریں اور یہ تصدیق کریں کہ اس کی ویب سائٹ پر حقیقی رابطہ معلومات اور کاروباری پتہ موجود ہے یا نہیں۔

ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ خریدار صرف فروخت کنندہ کی ویب سائٹ پر موجود تعریفی بیانات پر انحصار نہ کریں بلکہ آزاد اور غیر جانب دار جائزے (ریویوز) بھی تلاش کریں۔

ادارے نے مزید کہا کہ اگر کسی کو کسی ایئر کنڈیشنر کے اشتہار پر تشویش ہو تو وہ اس کی شکایت ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی کی ویب سائٹ کے ذریعے درج کرا سکتا ہے۔

اس نام نہاد اے سی کی حقیقت کیا ہے؟

Stuart Matthews in a grab from his You Tube channel Proper DIY in a black t shirt holding the white cube fan

،تصویر کا ذریعہProper DIY

،تصویر کا کیپشنسول انجینئر اور کانٹینٹ کریئیٹر کے مطابق وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک ایسا آلہ خرید رہے ہیں جو کمرے کا درجۂ حرارت تیزی سے کم کر دے گا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دوسری جانب میتھیوز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان آلات میں سے کئی خرید کر یہ جانچنے کی کوشش کی کہ آیا وہ واقعی اشتہارات میں کیے گئے دعوؤں کے مطابق کارکردگی دکھاتے ہیں یا نہیں۔

سول انجینئر اور کانٹینٹ کریئیٹر کے مطابق وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک ایسا آلہ خرید رہے ہیں جو کمرے کا درجۂ حرارت تیزی سے کم کر دے گا، لیکن حقیقت میں انہیں ’سستے پرزوں کا مجموعہ‘ ملا جو ’سائنسی اعتبار سے ناقص تصور‘ پر مبنی تھا۔

ایک اشتہار میں اس پروڈکٹ کو ’ریورس انجینیئرڈ ایئر کنڈیشننگ یونٹ‘ قرار دیا گیا تھا جس میں ’مائع دباؤ سے کام کرنے والا کولنگ کارٹریج‘ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

میتھیوز کے مطابق، حقیقت میں آلے کے اندر ’گتے کی چند پرتیں تھیں جو پانی گزرنے پر گیلی ہو جاتی ہیں۔‘

نام نہاد ’سویمپ کولرز‘، جو پانی کے بخارات کے ذریعے ہوا کو ٹھنڈا کرتے ہیں، گرم اور خشک آب و ہوا میں نسبتاً مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ نمی بھی بڑھا دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے برطانیہ کے بیشتر علاقوں جیسی مرطوب آب و ہوا میں ان کی کارکردگی بہت کم ہو جاتی ہے۔

یہ آلات روایتی ایئر کنڈیشنرز بھی نہیں ہوتے، کیونکہ عام ایئر کنڈیشنرز ایک ایگزاسٹ نلی یا بیرونی یونٹ کے ذریعے کمرے سے حرارت خارج کرتے ہیں۔

میتھیوز کہتے ہیں: ’مجھے ان لوگوں کے لیے واقعی افسوس ہوتا ہے جو اس قسم کی فضول مصنوعات خریدنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔‘

ایڈورٹائزنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ: ’اگرچہ ہم قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی جاری رکھیں گے، لیکن ان اشتہارات کے پیچھے موجود بعض کاروباروں کی نوعیت ایسی ہے کہ صرف نفاذی اقدامات اس مسئلے کے خاتمے کے لیے کافی نہیں ہیں۔‘

اگرچہ یہ نگران ادارہ یوٹیوب اور فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر چلنے والے بامعاوضہ اشتہارات کی نگرانی کرتا ہے، تاہم اسے خود جرمانے عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔