ایران، امریکہ کا پاکستان کی ثالثی پر اعتماد مگر چند امریکی حلقوں میں تشویش: کیا بطور ثالث پاکستان کے اثر و رسوخ کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

پاکستان کے امریکہ اور ایران کے درمیان بطور ثالث کردار کے حوالے سے جہاں حالیہ دنوں میں ایک طرف امریکہ کے اندر سے چند حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے، وہیں امریکی اور ایرانی حکومت نے پاکستان کے کردار پر اعتماد کا دوبارہ اظہار کیا ہے۔

تاہم بظاہر ثالثی کا عمل از خود تعطل کا شکار ہے۔ ایران نے چند روز قبل جنگ بندی سے متعلق اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھجوائی تھیں جنھیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ناقابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

اس کے بعد اس عمل میں کوئی بڑی پیش رفت تاحال نہیں ہوئی ہے۔

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے دورے پر بیجنگ پہنچنے سے ایک روز قبل ہی چین نے اپنی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے ایک پیغام شائع کیا ہے۔ اس میں اس نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل کو تیز کرے۔‘

چینی سرکاری نیوز ایجسنی کے مطابق چین اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے جس میں چین نے پاکستان سے یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاملات مناسب طریقے سے حل کرنے میں کردار ادا کرے۔‘

یہ پیغامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ایک طرف امریکہ اور چین کے صدور بیجنگ میں ملاقات کر رہے ہیں اور ایران جنگ اُن کے ایجنڈے کا حصہ ہو گی تو دوسری طرف امریکہ کے اندر پاکستان کے ثالث کے طور پر کردار کے حوالے سے چند حلقوں نے سوال اٹھانے شروع کیے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ ثالثی کا وہ عمل جو بظاہر تعطل کا شکار ہے اور جس میں پاکستان کا کردار بظاہر پیغام رسانی تک محدود نظر آ رہا ہے، اس کو پاکستان مزید تیز کیسے کر سکتا ہے۔

کیا پاکستان ایران اور امریکہ پر اتنا اثر و رسوخ رکھتا ہے کہ وہ پیغام رسانی سے آگے بڑھ کر کوئی کردار ادا کر سکے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ چین از خود کم از کم ایران پر کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ تو سوال یہ بھی ہے کہ چین خود سامنے آ کر براہ راست ثالث کا کردار کیوں نہیں ادا کر رہا اور اس عمل میں پاکستان کے پیچھے کیوں کھڑا ہے۔

ان سوالات کے جواب جاننے سے قبل ایک نظر اس پر ڈالنا بھی ضروری ہے کہ چین کیوں یہ چاہتا ہے کہ پاکستان ثالثی کے عمل کو تیز کرے۔

امریکہ ایران جنگ بندی میں چین کے مفادات کیا ہیں؟

ڈاکٹر محمد شعیب اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹیکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز سے منسلک اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور امریکی سفارتکاری اور چین کی سیاست پر خاص طور پر نظر رکھتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے چند برس قبل ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ چین مشرق وسطی کے ان دونوں اہم ممالک سے تیل بھی خریدتا ہے اور یہ اس کی اشیا کے لیے بڑی منڈیاں بھی ہیں۔

’چین اپنی انرجی کی ضروریات کے لیے ان دونوں ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اس لیے یہ چین کے مفاد میں ہے کہ اس خطے میں امن رہے، آبنائے ہرمز بھی کھلی رہے اور چین کے لیے منڈیاں بھی مستحکم رہیں۔‘

جس قدر جنگ طول پکڑتی ہے اور خطے کا امن متاثر رہتا ہے، اس قدر چین کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ چین اس پیغام کے ذریعے یہ بھی بتانا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے کردار کی حمایت کرتا ہے اور وہ بھی اس جنگ کو ختم ہوتے دیکھنا چاہتا ہے۔

’یہ جنگ اب ’نو وار، نو پیس‘ جیسی صورتحال میں جا رہی ہے‘

سنگاپور کے ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ریسرچ فیلو عبدالباسط بھی ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چین اب ثالثی کے ذریعے اس جنگ کا خاتمہ ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔‘

ان کے خیال میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی یہ جنگ اب ’نو وار۔ نو پیس‘ جیسی صورتحال کا شکار ہو رہی ہے جس میں ڈیڈلاک معمول بنتا دکھائی دینے لگا ہے۔

’اور اگر یہ معمول بنتی ہے جس میں آبنائے ہرمز بند رہتی ہے اور امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رہتی ہے تو یہ چین کے مفاد میں نہیں ہو گا کیونکہ چین کی زیادہ تر انرجی درآمدات مشرق وسطی ہی سے آتی ہیں۔‘

اس لیے چین چاہتا ہے کہ پاکستان ثالثی کی کوششوں کو تیز کرے۔ عبدالباسط کہتے ہیں کہ ساتھ ہی چین یہ بھی بتانا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ثالث کے طور پر اس کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔

لیکن پاکستان کس حد تک ثالثی کی کوشش تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

عبدالباسط کہتے ہیں کہ یہ امر درست ہے کہ پاکستان جو پیغام رسانی کا کردار ادا کر رہا ہے اس سے بہت زیادہ کچھ وہ کر نہیں سکتا۔

’اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان نے دانستہ طور پر دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنے کردار کو صرف پیغام رسانی تک محدود رکھا ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی بھی فریق کو کوئی مشورہ دے، کیونکہ وہ نہیں چاہے گا کہ اگر کچھ غلط ہو جائے تو اس کو ملبہ پاکستان پر گرے۔‘

’لیکن پاکستان ایک ثالث کے طور یہ ضرور کر سکتا ہے کہ وہ دونوں فریقین پر زور دے کہ وہ جنگ بندی کے عمل کو تیز کریں۔ اس میں وہ ان پر یہ زور دے سکتا ہے کہ وہ پہلے مکمل جنگ بندی کے پہلو پر توجہ مرکوز کریں اور اسے حاصل کریں، جو پیچیدہ مسائل ہیں ان پر بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔‘

ڈاکٹر محمد شعیب کہتے ہیں کہ پاکستان لگ بھگ جس حد تک ثالثی میں کردار ادا کر سکتا ہے وہ پہلے ہی کر رہا، اس سے زیادہ وہ بہت بڑا کچھ نہیں کر سکتا، تاہم اس کی رسائی امریکہ اور ایران دونوں تک ہے۔

’ثالث کا کردار یہی ہوتا ہے کہ وہ دونوں فریقین کے درمیان شٹل کرے اور پیغام رسانی کرے۔ وہ دونوں پر زور دے سکتا ہے کہ پہلے جنگ کے فعال مرحلے کو ختم کیا جائے اور بعد میں دیگر حل طلب معاملات پر مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر محمد شعیب کہتے ہیں کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی تاریخ 40 برس پرانی ہے۔ اس لیے ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی دستاویز میں ان کے تمام مسائل کا حل نکال لیا جائے۔‘

اس لیے ماہرین کے خیال میں امریکہ میں ’ہاٹ لائن‘ تک رسائی اور چین کی حمایت کے ذریعے پاکستان دونوں فریقین کو مکمل جنگ بندی کی طرف جانے پر زور دے سکتا ہے تا کہ فوری طور پر خطے میں امن بحال ہو سکے۔

ثالثی کے عمل کو تیز کرنے میں پاکستان کے سامنے مشکلات کیا ہیں؟

ڈاکٹر محمد شعیب کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ اسرائیل کے حوالے سے ہے۔

’پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست تعلقات یا روابط نہیں ہیں اور اسرائیل اس جنگ کے اندر ایک بڑا فریق ہے۔ عارضی جنگ بندی کے بعد جب امریکہ ایران کے مذاکرات کو پہلا دور ہو رہا تھا تو اس وقت بھی لبنان کے حوالے سے اسرائیل کو روکنے کے لیے پاکستان کو امریکہ سے درخواست کرنا پڑی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے لیے ایک مسئلہ ’امریکہ میں موجود وہ لابیز بھی ہیں جو اسرائیل کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت کرتی ہیں۔ وہ پاکستان کے ماضی کے کردار کو بات چیت میں لا کر حالات کو ایسا رخ دینے کی کوشش کرتی ہیں جن سے پاکستان کے کردار پو سوالات اٹھائے جا سکیں۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا بھی فقدان ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو ثالث کے طور پر مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد شعیب کہتے ہیں کہ ’فعال لڑائی تو ختم ہو چکی ہے تاہم اب دونوں ایران اور امریکہ چاہتے ہیں کہ وہ مکمل جنگ بندی کے لیے ایسا معاہدہ حاصل کر سکیں جسے وہ مقامی طور پر اپنے اپنے ملکوں میں جیت کے طور پر پیش کر سکیں۔‘

مثال کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ وہ ایسی ڈیل کریں جسے وہ یہ کہہ کر امریکہ میں پیش کر سکیں کہ انھوں نے ایران کے جوہری پروگرام کی روک تھام کے لیے ماضی کے امرکی صدور سے بہتر معاہدہ کیا ہے۔

دوسری طرف ایران بھی چاہتا ہے کہ وہ ایسی ڈیل کرے جسے وہ ایران کے اندر لوگوں کو اپنی جیت کے طور پر دکھا سکے جیسا کہ امریکی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ یا جنگ کے نقصانات کا ازالہ وغیرہ۔

’دونوں چاہتے ہیں یہ سب کچھ ابھی ہو جائے‘

ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینیئر ریسرچ فیلو عبدالباسط کہتے ہیں کہ یہی پاکستان کے سامنے سب سے بڑی مشکل ہے۔

’کیونکہ دونوں ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ابھی ہو جائے۔ انھیں لگتا ہے کہ اب اگر وہ اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے تو بعد میں نہیں ہو پائیں گے۔ اس لیے دونوں سمجھتے ہیں اب ہی موقع ہے سب کچھ ابھی ہو جائے۔‘

عبدالباسط کے خیال میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایران کے اندر خاص طور پر موقف کے حوالے سے تفریق نظر آتی ہیں۔ ان کے اندر سخت گیر رائے رکھنے والا حلقہ بھی ہیں۔ پاسداران انقلاب کی رائے سخت گیر ہوتی ہے۔

’ان کے درمیان اختلافات ہو جاتے ہیں اس لیے ان کا یک آواز موقف سامنے نہیں آتا۔‘

دوسری جانب ان کے خیال میں واشنگٹن ڈی سی کے اندر بھی ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی بہت سے مختلف رائے رکھنے والی لابیز کام کر رہی ہیں۔

’اس میں پلیئرز بہت زیادہ ہیں اور یہ تمام چیزیں مل کر اس تمام عمل کو مزید پیچیدہ کر دیتی ہیں اور یہی پاکستان کی مشکلات ہیں۔‘

کیا پاکستان کی پوزیشن کو نقصان ہو سکتا ہے؟

ایک سوال جو جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ زیادہ گردش کر رہا ہے وہ پاکستان کی ثالث کے طور پر پوزیشن کو لے کر ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں چند حالیہ خبروں اور حکومتی کارروائیوں میں اس حوالے سے اٹھنے والے شکوک و شبہات کے بعد امریکی حکام کی طرف سے پاکستان پر ایک مرتبہ پھر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ’اس کے لیے ثالث اب بھی پاکستان ہی ہے۔‘ خطے کے دیگر ممالک قطر اور ترکی بھی پاکستان کی حمایت میں بیانات دے چکے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر جنگ بندی پر ثالثی بدستور تعطل کا شکار رہتی ہے تو آگے چل کر کیا پاکستان کی پوزیشن کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اور کیا پاکستان پر اس کے کوئی منفی اثرات بھی پڑ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد شعیب سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن ڈی سی میں جو سنجیدہ کردار ہیں وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایک خاص حلقے کی طرف سے ہونے والی بات چیت میں کوئی زیادہ صداقت نہیں ہے۔

’اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ پاکستان کی ثالث کے طور پر پوزیشن کو کوئی نقصان ہو سکتا ہے۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’پاکستان اس تمام تر کارروائی کا ایک حصہ ہے، وہ خود سے کارروائی نہیں ہے یعنی وہ صرف دونوں فریقین کو مذاکرات کے لیے سہولت فراہم کر رہا ہے۔‘

اس لیے ان کے خیال میں اگر مستقبل میں اس حوالے سے کچھ بدلتا بھی ہے تو اس کا پاکستان کو کوئی زیادہ نقصان نہیں ہو سکتا۔

ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ریسرچ فیلو عبدالباسط بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر جنگ طول بھی پکڑتی ہے اور مکمل جنگ بندی نہیں بھی ہو پاتی تو اس سے پاکستان کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

’پاکستان کی کوشش کا اعتراف پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ پاکستان پہلے ہی یہ کامیابی کے ساتھ ظاہر کر چکا ہے کہ اس نے پوری طرح جنگ بندی کے لیے کوششیں کی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس سے ہٹ کر جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو بھی انہی اقتصادی مسائل کو سامنا کرنا پڑے گا جو دنیا کے دیگر ممالک کو درپیش ہو گا۔ پاکستان کی مشکل اس لیے زیادہ ہو گی کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہونے کے باعث خطے میں فوجی سطح پر الجھ سکتا ہے۔‘

’اس کی وجہ سے پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات کی ممکنہ خرابی اور مقامی سطح پر سیاسی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب اس کی دو سرحدوں پر پہلے سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔‘