تیل کی بلند قیمتیں، سرمائے کا اخراج، انڈین روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کے روز انڈین روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 95.7 کی ریکارڈ کم ترین سطح تک گر گیا، جو اس کی گذشتہ کم ترین سطح 95.4 سے بھی نیچے ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2026 کے دوران انڈین روپیہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے بری کارکردگی دکھانے والی کرنسی رہا ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے انڈین کرنسی کی قدر میں پانچ فیصد کمی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافے نے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی کرنسیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ فلپائن اور انڈونیشیا کی کرنسی کی قدر میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔
تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ تنازع جتنا زیادہ طویل ہو گا، اتنا ہی امکان ہے کہ تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی، جس سے کرنسی پر مسلسل دباؤ برقرار رہے گا۔ تیل کی بلند قیمتیں انڈیا کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ کریں گی، جبکہ سرمائے کی آمد میں مسلسل کمی کا امکان اس دباؤ کو مزید بڑھا دے گا۔
روئٹرز کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے غیر ملکی سرمایہ کار انڈیا کی سٹاک مارکیٹ سے 20 ارب ڈالرز سے زیادہ کی رقم نکال چکے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کو بیرونی سرمایہ کاروں نے تقریباً 90 کروڑ ڈالرز کے حصص فروخت کیے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز اپیل کی تھی کہ ایندھن کے استعمال اور درآمدات کو محدود کیا جائے تاکہ غیر ملکی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔