آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد جے ڈی وینس امریکہ روانہ، ایران کا جزوی پیش رفت کا دعویٰ: امید ہے جنگ بندی جاری رہے گی، اسحاق ڈار

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں مختصر پریس کانفرنس کے دوران وینس نے بتایا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ نہیں ہو سکا جبکہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے بات چیت میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے۔

خلاصہ

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود معاہدہ نہیں ہو سکا ہے
  • ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی
  • محض ایک ملاقات میں کسی کو معاہدہ طے پانے کی توقع نہیں تھی، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان
  • پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار
  • تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کا جنوبی لبنان میں راکٹ لانچر تباہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک راکٹ لانچر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو اس کے مطابق اسرائیل کی جانب ’لانچ کرنے کے لیے تیار‘ تھا۔

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جوئیہ کے علاقے میں نصب لانچر کی نشاندہی ہوئی تھی اور وہاں سے راکٹ لانچ ہونے سے پہلے ہی اسے ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے اس حملے کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے۔

    اس بات پر اب بھی اختلاف ہے کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے اور آیا پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد بھی یہ جنگ بندی برقرار رہے گی یا نہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کے درمیان اگلے ہفتے واشنگٹن میں مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔

  2. اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوران امریکی صدر ٹرمپ میامی میں یو ایف سی مقابلہ دیکھتے رہے

    ایسے وقت میں جب امریکی نائِب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ اہم امن مذاکرات میں مصروف تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں یو ایف سی کی فائٹ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

    ٹرمپ کے ہمراہ ان کے اہلِخانہ کے کئی افراد اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے۔

    اتوار کی صبح مذاکرات کے بعد مختصر پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی بات چیت کے دوران وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں تھے۔

    انھوں نے کہ، ’مجھے نہیں معلوم گذشتہ 21 گھنٹوں کے دوران ہم نے کتنی بار بات کی—آدھ درجن مرتبہ، شاید ایک درجن بار۔

    ’ہم مستقل ٹیم سے رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی سے مذاکرات کر رہے تھے۔‘

  3. ایران کا مذاکرات میں جزوی پیش رفت کا دعویٰ: ’دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے‘ کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا، اسماعیل بقائی

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

    ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات ’بد اعتمادی کے ماحول‘ میں شروع ہوئے تھے اور ایک نشست میں معاہدہ طے پائے جانے کا امکان کم تھا۔

    ’یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعد، بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ کسی نے ایسی توقع نہیں کی تھی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق، ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے ایران، پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔‘

    پاکستان کے وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے بعد واپس روانہ ہو چکا ہے۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز کے مطابق ایرانی وفد پاکستانی وقت کے مطابق صبح نو بجے کے کچھ دیر بعد پاکستان سے روانہ ہوا تھا۔

  4. مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے متضاد بیانات

    امریکہ اور ایران کی جانب سے امن مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات پیش کی جا رہی ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی بات چیت کو امریکہ کے ’غیر معقول مطالبات‘ نے متاثر کیا۔

    ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایرانی وفد کی مختلف تجاویز کے باوجود، امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا باعث بنے۔ یوں بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔‘

    دوسری جانب، امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نے کافی ’لچک‘ اور ’روا داری‘ کا مظاہرہ کیا۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انھیں ہدایت کی تھی کہ ’یہاں نیک نیتی سے آئیں اور معاہدہ کرنے کی پوری کوشش کریں۔ ہم نے یہی کیا، مگر بدقسمتی سے کوئی پیش رفت نہیں ہو سک۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ’انتہائی سادہ تجویز—ایک فریم ورک—پیش کرکے جا رہے ہیں، جو ہمارا آخری اور بہترین مؤقف ہے۔‘

    فی الحال واضح نہیں کہ دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے آئندہ مراحل کیا ہوں گے اور آیا فریقین میں مزید بات چیت ہوگی یا نہیں۔

  5. امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسلام آباد میں ’واضح مایوسی‘ محسوس کی جا سکتی ہے, کیری ڈیویس، بی بی سی

    پریس کانفرنس ختم ہوتے ہی ہم اور کئی دیگر صحافی جو کانفرنس سینٹر کے اندر مذاکرات کا احوال دیکھ رہے تھے بھاگ کر سڑک کی دوسری جانب اس ہوٹل کے باہر پہنچے جہاں جے ڈی وینس پریس کانفرنس کر رہے تھے، تاکہ دیکھ سکیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔

    جب ہم وہا٘ں پہنچے تو وہاں گاڑیوں کا ایک طویل قافلہ روانگی کے لیے تیار نظر آ رہا تھا۔ اس میں پاکستانی حکام کی جانب سے فراہم کی گئی سکیورٹی بھی شامل تھی، اور وہ سکیورٹی بھی جو امریکی نائب صدر کے ساتھ سفر کرتی ہے۔

    ہم نے دیکھا کہ امریکی پرچم لگی ایک گاڑی بھی تیزی سے ہوٹل سے نکل رہی ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس طویل مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد اسلام آباد سے جانے کے لیے تیار تھے۔

    ہمارے اردگرد ان مذاکرات کے نے نتیجہ رہنے پر مایوسی پھیلی ہوئی تھی جو کافی نمایاں اورصاف محسوس کی جا سکتی تھی۔

    بہت سوں کو اندازہ تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن معاہدہ ہونا مشکل ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے دونوں کے موقف کے درمیان بہت فاصلہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود، بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ دونوں جانب سے بھیجے گئے اتنے سینئر سطح کے وفود اس بات کی علامت ہیں کہ سب معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں اور کسی معاہدے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

    یہ مایوسی صرف اسی کانفرنس ہال تک محدود نہیں رہے گی—بلکہ اس سے کہیں آگے تک محسوس کی جائے گی۔

  6. پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا، امید ہے دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اتوار کی صبح پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایران اور امریکہ کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے نہ صرف وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جنگ بندی کی درخواست منظور کی بلکہ پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد میں مذاکرات بھی کیے۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایران اور امریکہ کے وفود مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ فریقین کے درمیان ہونے والے ’مشکل اور تعمیری مذاکرات‘ کے کئی دور کے دوران فریقین کی معاونت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں سے جاری مذاکرات آج صبح ختم ہوئے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں فریق مثبت جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے تاکہ خطے اور اس سے بھی آگے کے لیے دیرپا امن اور خوشحالی کا حصول ممکن ہو سکے۔

    ’یہ اہم ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کے لیے اپنا عزم جاری رکھیں۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔

    انھوں نے ایران اور امریکہ کی جانب سے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہنے پر دونوں ملکوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  7. تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار کا فیصلہ نہیں ہوا ہے، ایرانی میڈیا

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے امریکہ کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی عمل کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا:

    تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد 10 اپریل کو رات گئے پاکستان پہنچا، اس کے بعد وفد نے کم از کم دو مرتبہ پاکستان کے آرمی چیف اور ایک مرتبہ پاکستانی وزیر اعظم سے ملاقات کی تاکہ ضروری انتظامات کیے جا سکیں اور مذاکرات کے آغاز ہی میں امریکہ کی وعدہ خلافی کے خلاف باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکے۔

    ’پاکستان کے وزیرِ اعظم کے ساتھ مذاکرات ہفتے کے روز 11 اپریل کو دوپہر ایک بجے شروع ہوئے جس کے چند گھنٹوں بعد امریکی فریق کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہوا۔ یہ مذاکرات 21 گھنٹے سے زائد تک جاری رہے۔‘

    ایرنی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ اس دوران ایران نے بارہا اپنی تجاویز پیش کیں اور امریکی فریق کو حقیقت پسندی کی طرف لانے کی کوشش کی۔ تاہم ہر مرحلے پر امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔ امریکی مؤقف میں لچک نہ ہونے کے باعث آج 12 اپریل کو مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔

    خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ تاحال مذاکرات کے اگلے دور کے وقت، مقام اور طریقۂ کار سے متعلق کسی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ روانگی سےقبل ایک مختصر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے۔

    ’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔‘

    جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔

    تاہم انھوں نے نے واضح نہیں کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا۔

  8. مذاکرات کے بعد جے ڈی وینس امریکہ روانہ

    ایران کے ساتھ ’21 گھنٹے طویل مذاکرات‘ کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔

    اس بات کی تصدیق بی بی سی کے نمائندے شہزاد ملک کو محکمہ داخلہ کے ایک اہلکار نے کی ہے۔

    امریکی نائب صدر مختصر پریس کانفرنس کے بعد نور خان ائربیس کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔

    بی بی سی سکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی نائب صدر کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے الوداع کیا۔

  9. وہ کون سی شرائط تھیں جن پر امریکہ اور ایران میں اتفاق نہیں ہو سکا؟

    مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں امریکی نائب صدر نے کہا: ’ہم نے بہت واضح طور پر بتا دیا تھا کہ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں، کن باتوں پر ہم مفاہمت کر سکتے ہیں اور کن پر نہیں۔‘

    جے ڈی وینس کے مطابق: ’اور انھوں نے (ایران نے) فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہماری شرائط تسلیم نہیں کریں گے۔‘

    اس موقع پر صحافیوں نے امریکی نائب صدر سے سوال کیا کہ ’واضح طور پر بتائیے کہ کون سی شرائط مسترد کی گئی ہیں؟‘

    اس کے جواب میں جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹے تک جو مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ہوئے، ان کی تمام تفصیلات تو وہ نہیں بتائیں گے، تاہم ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔

    ’امریکی صدر کا یہی بنیادی مقصد ہے اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘

    امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے، ’لیکن کیا ہم ایران میں یہ آمادگی دیکھ رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی بھی نہیں بنائیں گے۔ یہ آمادگی ابھی تک ہمیں نظر نہیں آئی۔‘

  10. ’ہم اس تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا طریقہ کار وضع کیا جائے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں‘

    جے ڈی وینس سے سوال کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران ان کا صدر ٹرمپ سے کتنی بار رابطہ ہوا اور انھوں نے کیا کہا۔

    امریکی نائب صدر نے کہا، ’ہم مسلسل صدر سے رابطے میں تھے، مجھے نہیں معلوم کہ گذشتہ 21 گھنٹوں میں کتنی بار بات ہوئی ہو گی۔۔۔۔ شاید ایک درجن مرتبہ۔‘

    ’ہم ایڈمرل کوپر، مارکو، اور پیٹ اور پوری نیشنل سکیورٹی ٹیم سے رابطے میں تھے۔ ہم مسلسل رابطے میں تھے کیونکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہاں ایک انتہائی سادہ سی تجویز ساتھ جا رہے ہیں کہ افہام و تفہیم کا ایک طریقہ کار وضع کیا جائے، یہ ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے، دیکھنا ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

  11. ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی: جے ڈی وینس

    ایک سوال کے جواب میں جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثوں کے متعلق بھی بات ہوئی تاہم ہم اس نکتے پر نہیں پہنچ سکے کہ جہاں ایرانی ہماری شرائط قبول کرتے۔

    ’میرے خیال میں ہم نے کافی لچک کا مظاہرہ کیا، صدر نے ہمیں کہا تھا کہ آپ کو نیک نیت کے ساتھ (مذاکرات میں) جانا ہے اور معاہدے کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرنی ہیں، ہم نے وہ کیا لیکن افسوس ہے کہ کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔‘

  12. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے درمیان معاہدہ نہیں ہوسکا۔ ہم نے اپنی ریڈ لائن واضح کی ہے۔ انھوں نے ہماری شرائط ماننے سے انکار کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ خبر امریکہ کے لیے اتنی بری نہیں جتنی کہ ایران کے لیے ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ’پاکستان نے مذاکرات کرانے میں اچھا کام کیا کہ معاہدہ ہو سکے۔‘

    ’ہم 21 گھنٹوں سے اسلام آباد میں موجود ہیں۔‘

    انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    تاہم امریکی نائب صدر نے واضح نہیں کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کا دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر کیا اثر ہو گا۔

  13. ایران کے خلاف اسرائیل کی مہم ’ابھی ختم نہیں ہوئی‘: نیتن یاہو

    ہم نے اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا ایک بیان رپورٹ کیا تھا کہ انھوں نے لبنان کے ساتھ امن مذاکرات کی ’منظوری‘ دے دی ہے۔

    تاہم اسی پیغام میں انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ’ابھی ختم نہیں ہوئی‘ اور کہا کہ ’ہم اب بھی ان سے لڑ رہے ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘

    یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب امریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی کے تحت امن مذاکرات میں مصروف ہیں۔

    نیتن یاہو نے اسرائیل کی فوجی مہم میں حاصل کی گئی متعدد ’کامیابیوں‘ کی فہرست بھی پیش کی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا: ’یہ کامیابیاں ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ ایران میں اب بھی (جوہری پروگرام کے لیے) افزودہ مواد موجود ہے۔ اور جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، اسے ہٹانا ضروری ہے۔ یا تو یہ معاہدے کے ذریعے ہٹایا جائے گا یا پھر کسی اور طریقے سے۔‘

  14. جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس کچھ دیر میں

    ہمیں ابھی اطلاع ملی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چند منٹ میں پریس کانفرنس کریں گے۔

    اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ تقریباً 16 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد وہ کیا کہتے ہیں، اس سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے ساتھ رہیے۔

    سرینا ہوٹل میں سرگرمیوں سے آگاہ ایک ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکی وفد کے اراکین ایرانی حکام کے ساتھ مل کر پریس سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن اب تک ایرانی حکام آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔

  15. امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات تاحال جاری ہیں: ایرانی وزارت خارجہ

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکہ کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے۔

    ایکس پر ایک پیغام میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ سنیچر کا دن اسلام آباد میں ایران کے وفد کے لیے مصروف اور طویل رہا۔ ’صبح سے پاکستان کی نیک نیتی پر مبنی کوششوں اور ثالثی کے تحت شروع ہونے والے سخت مذاکرات اب تک بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں۔‘

    ’اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان متعدد پیغامات اور تحریری مسودوں کا تبادلہ ہوا ہے۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، جوہری معاملات، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کا خاتمہ اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے پر بات چیت ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس سفارتی عمل کی کامیابی کا دار و مدار مخالف فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی۔۔۔ اور ایران کے جائز حقوق اور مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’ہم مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور اس کے گرم جوش اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں۔‘

  16. ایران کے ساتھ مذاکرات ’15 گھنٹوں سے جاری‘: وائٹ ہاؤس اہلکار

    بی بی سی نے وائٹ ہاؤس کے اہلکار سے پوچھا ہے کہ آیا ایران کے ساتھ مذاکرات ختم ہوگئے ہیں اور اب بھی جاری ہیں۔

    اس پر وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے بتایا کہ ’15 گھنٹے اور جاری ہے۔‘

  17. بریکنگ, پاکستان کی تجویز پر مذاکرات اتوار کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ: ایرانی میڈیا

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کے اختتام کے بعد اتوار کو بات چیت مزید چند گھنٹوں تک جاری رہے گی۔

    اس کے مطابق پاکستانی ثالثوں کی تجویز پر دونوں فریقین نے رضامندی ظاہر کی اور مذاکرات کا ایک اور دور اتوار کو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اس نے تسنیم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان بعض سنگین اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

  18. اسلام آباد مذاکرات کے دوران معلومات پر سخت کنٹرول رہا, آزادے مشیری، بی بی سی نیوز

    رات کے تین بجنے کے بعد بھی دونوں فریق مذاکرات میں الجھے ہوئے ہیں۔ سنیچر سے پہلے یہ بھی واضح نہیں تھا کہ امریکہ اور ایران کے وفود آمنے سامنے آ بھی پائیں گے یا نہیں۔

    یہ اس بات کی علامت ہے کہ خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔

    ایسے نکات بھی ہیں جن پر مزید کام کرنا باقی ہے۔ لیکن کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جن پر اتفاق مشکل دکھائی دیتا ہے۔

    دن بھر معلومات پر سخت کنٹرول رہا۔ تاہم مختلف ذرائع سے کچھ خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وفود وقفہ لے کر بات چیت کے دوسرے دن کے لیے واپس آئیں گے یا نہیں۔

    ایک اور سوال یہ ہے کہ واپسی پر اعلیٰ حکام اپنے اپنے ممالک کیا لے کر جائیں گے۔

    جنگ کے دوران امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران دونوں طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں حقیقت اور سیاسی بیان بازی میں فرق کرنا مشکل رہا ہے۔

    فی الحال وہ دن، جس کے ہونے پر ہی شک تھا، رات گزر جانے کے بعد بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ہم جیسے صحافی اب یہ سوچ رہے ہیں کہ چند گھنٹے سونے کا مناسب وقت کب ہوگا اور پھر معلومات کے نئے سلسلے کا انتظار کب شروع کیا جائے۔

  19. بریکنگ, امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور ختم: ایرانی میڈیا

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان سہ فریقی مذاکرات اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔

    ارنا کے مطابق ایران، امریکہ اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات پاکستان میں مقامی وقت کے مطابق اتوار کی صبح تین بج کر بارہ منٹ پر ختم ہوئے۔

    ارنا کے مطابق ایرانی اور امریکی مذاکراتی وفود کے درمیان بالمشافہ بات چیت کے ایک اور دور کے اختتام کے بعد تکنیکی ماہرین کی ٹیموں نے تحریری مسودوں کا تبادلہ کیا۔

    یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات جاری رہے۔

    بعض ایرانی میڈیا اداروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ اور چند دیگر امور بدستور شدید اختلاف کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مذاکرات اتوار کو دوبارہ شروع ہوں گے یا کسی اور وقت کے لیے ملتوی کر دیے جائیں گے۔

  20. بریکنگ, اسلام آباد مذاکرات سے متعلق پریس بریفنگ کی تیاریاں, روحان احمد، بی بی سی اردو/اسلام آباد

    پاکستان کی وزارت خارجہ اور اطلاعات کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات سے متعلق ایک پریس بریفنگ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

    ان کے مطابق یہ پریس بریفنگ امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہ راست مذاکراتی دور کے خاتمے کے بعد شروع ہو گی اور اسے چار بجے کے قریب مقامی چینلوں پر نشر کیا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس پریس پول میں موجود صحافیوں نے بھی بتایا ہے کہ انھیں امریکی حکام کی جانب سے الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔

    تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اس بریفنگ میں کن تفصیلات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔