گلگت بلتستان انتخابات، تحریک انصاف کے الزامات اور مسلم لیگ ن سے پیپلز پارٹی کے شکوے

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

'ہمارے علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے، پینے کے پانی، روزگار اور صحت کے مسائل بھی ہیں۔ ماضی میں نوجوانوں کے ساتھ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدے تو بہت ہوئے لیکن یہ وعدے آج تک پورے نہیں ہو سکے۔'

یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے20 سالہ کاظم نقوی کا، جو سات جون کو اس خطے میں ہونے والے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ کاظم اس حوالے سے کافی پُرجوش ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے اور اسی سلسلے میں جب انھوں نے گذشتہ دو انتخابات اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں کی کارکردگی کا اپنے طور پر جائزہ لیا تو انھیں اس میں ’عملی اقدامات بہت کم اور زبانی جمع خرچ بہت زیادہ‘ نظر آیا۔

گلگت بلتستان میں اتوار (سات جون) کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دس اضلاع کی 24 جنرل نشستوں پر الیکشن ہو گا اور اس سلسلے میں انتخابی مہم اور تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

وفاق میں برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما بشمول نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری اس انتحابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور انھوں نے کئی انتخابی ریلیوں اور جلسوں سے خطاب بھی کیا ہے۔

اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو پاکستان میں ہوئے فروری 2024 کے عام انتخابات کی طرح گلگت بلتستان میں رواں ہفتے ہونے والے انتخابات میں بطور پارٹی حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔

پارٹی کا الزام ہے کہ اُن کی جماعت کے چیئرمین سلمان اکرم راجہ سمیت متعدد سینیئر رہنماؤں کو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی حق میں مہم چلانے کے لیے گلگت بلتستان داخل ہونے کی اجازت تک نہیں دی گئی جبکہ جو رہنما وہاں پہنچنے میں کامیاب رہے انھیں بعدازاں علاقہ بدر کر دیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے انتحابی عمل پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جہاں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار 'لیول پلئینگ فیلڈ' نہ ملنے کا الزام عائد کر رہے ہیں وہیں پاکستان میں وفاقی حکومت کو سپورٹ کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کی موجودگی پر سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔

جبکہ حکومت مخالف جماعتیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف اور مجلس وحدت المسلیمین اور اُن کی ہم خیال جماعتیں سرفہرست ہیں، الزام عائد کر رہی ہیں کہ ’ریاستی اداروں کی جانب سے انھیں انتخابات میں حصہ لینے اور انتخابی مہم چلانے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔‘

تاہم ن لیگ کے ایک سینیئر رہنما اور گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بطور سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کے معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنہ 2024 میں اعتراضات اٹھائے تھے اور اس جماعت کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف تھا کہ پی ٹی آئی میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں ہوئے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جہاں پر ابھی تک یہ معاملہ زیر التوا ہے۔

یاد رہے کہ اس معاملے کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہوئی جسے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت حاصل تھی۔

سیاسی جماعتوں کی کوریج کرنے والے مقامی صحافی سعادت علی مجاہد کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کو گلگت بلتسان ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹکٹ ملنے تھے تاہم عین وقت پر اس پارٹی کی رجسٹریشن یہ کہتے ہوئے معطل کر دی گئی کہ اُن کی جانب سے کچھ دستاویزات گلگت بلتستان الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی گئیں۔

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُن کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوارں نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی سے ٹکٹ حاصل کیے تو اس کے اگلے ہی روز الیکشن کمیش نے اس جماعت کی رجسٹریشن بھی معطل کر دی اور اب اُن کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار آزاد حثیت میں ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایسا تحریک انصاف کو انتخابات میں آزادانہ طور پر متحد صورت میں الیکشن سے دور رکھنے کے لیے کیا گیا۔

ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر بہادر جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کی رجسٹریشن اس لیے معطل کی گئی کیونکہ اس جماعت نے الیکشن کمیشن کی واضح ہدایات کے باوجود مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کروائے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر نے نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے عبوری طور پر اس جماعت کو پولومین کا نشان بھی الاٹ کر دیا تھا، مگر ساتھ ہی ہدایت کی تھی کہ مقررہ تاریخ تک مطلوبہ دستاویزات الیکشن کمیشن کو جمع کروائی جائیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ابھی تک اس جماعت کی طرف سے مطلوبہ کاغذات جمع نہیں کروائے گئے ہیں، جس کی وجہ سے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی کی رجسٹریشن معطل ہے۔

پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا مزید کہنا تھا کہ انھیں انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے گلگت بلتستان نہیں جانے دیا گیا اور یہی سب ان کی جماعت کے مرکزی رہنماؤں کے ساتھ ہوا۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا اُن کی جماعت کے لوگ ’انسداد دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں شامل ہیں جس کے تحت علاقے سے نکلنے کے لیے مقامی تھانے سے اجازت لینا پڑتی ہے؟‘

قومی اسمبلی کے سابق سپیکر نے الزام عائد کیا کہ ریاستی اداروں کے اس نوعیت کے اقدامات جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ وفاق میں شامل جماعتوں کی قیادت کو تو پروٹوکول دیا جا رہا ہے مگر اس کے برعکس اُن کی جماعت کے رہنماؤں کو علاقہ بدر کیا جا رہا ہے۔

گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر بہادر جمیل نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ دینے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ بنایا گیا ہے، جس کی پابندی سب پر لازم ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پالتی کی قیادت نے گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواستیں دی تھیں، جس کی بنیاد پر ان جماعتوں کو این او سی جاری کیا گیا۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ کسی ایک جماعت یا آزاد امیدوار سے انفرادی سطح پر سلوک کیا گیا۔

دوسری جانب اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور انداز میں انتخابی مہم چلا رہی ہے تاہم اس کے رہنما بھی انتخابی عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نئیر بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب الیکشن شیڈول کا اعلان ہو جائے اس کے بعد الیکٹرول رول میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد کوئی بھی حکومتی نمائندہ ترقیاتی منصوبوں کا اعلان نہیں کر سکتا مگر وفاقی حکومت کے رہنما ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کر رہے ہیں جو کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اُن کی جماعت نے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان سے اس بارے میں باقاعدہ شکایت کی ہے۔

گلگت بلتستان الیکشن کمیشن کے میڈیا کوآرڈینیٹر نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد کسی الیکٹورل رول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے اس سے متعلق کوئی تحریری شکایت ابھی تک الیکشن کمیشن کو موصول نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ اس خطے میں سکیورٹی کے نام پر پنجاب پولیس کی موجودگی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ ’اگر امن وامان کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہی چاہییں تو پھر خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکاروں کو کیوں نہیں بلایا گیا؟‘

گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ آئی جی اکبر ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ انتخابات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 17 ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا جن میں پنجاب اور سندھ پولیس کے علاوہ رینجرز اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’صوبہ خیبر پختونخوا سے تین ہزار پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے رجوع کیا گیا تھا تاہم صوبے کی امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے خیبر پختونخوا سے پولیس کی نفری نہیں ملی۔‘

اکبر ناصر خان کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم میں حصہ لینے کے لیے جتنی بھی سیاسی جماعتوں کی قیادت اس وقت گلگت بلتستان میں موجود ہے ان کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی جماعت کے امیدوار انتخابات کے بعد نتائج کے حوالے سے فارم 45 لا کر دیں تو وہ فارم 47 کی اجرا کو یقینی بنائیں گے۔ بلاول بھٹو کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ’دھاندلی‘ سے تشبیح دی گئی۔

تاہم نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ اُن کی پارٹی کے چیئرمین کے اس بیان کو سیاق سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بیان کا مقصد یہ تھا کہ ان کی جماعت کے امیدوار انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنائیں تاکہ الیکشن کمیشن ان کی کامیابی کا نوٹیفیشن جاری کر سکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے دعوی کیا کہ ان کی جماعت ان انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے گلگت بلتستان میں حکومت تشکیل دے گی۔

گلگت بلستان اور امور کشمیر کے وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت یا کسی ریاستی ادارے نے انتخابی مہم چلانے سے متعلق کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کو نہیں روکا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چند مرکزی رہنماؤں کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے درجن بھر ارکان گلگت بلتستان میں اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب گذشتہ دنوں پی ٹی ئی سے تعلق رکھنے والے رُکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو گلگت بلتستان سے نکالا گیا تھا تو انھوں نے ہی مداخلت کر کے متعقلہ حکام سے کہا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ ملنی چاہیے۔

امیر مقام کا کہنا تھا کہ گلگلت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ایسے علاقے ہیں جہاں پر تمام سیاسی جماعتوں کو سیاست کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ان انتخابات میں جو جماعت بھی کامیابی حاصل کرے گی اس کو حکومت بنانے کا حق ملنا چاہیے، چاہے جتنے والوں کی اکثریت آزاد ارکان پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔

انھوں نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ ان کی جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ امیر مقام کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے منصوبے بتا رہے ہیں کہ فتح کے بعد وہ اس خطے کے لیے کس نوعیت کے ترقیاتی اقدامات کریں گے۔

یاد رہے کہ ماضی میں گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی تاہم سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد یہاں پی ٹی آئی کی حکومت بھی ختم ہو گئی تھی۔ اُس وقت کے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو جعلی ڈّگری کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا اور پھر اسی جماعت کے ایک فارورڈ بلاک نے نئی حکومت قائم کی گئی، جس کی حمایت پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی کی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف میں جو ارکان فارورڈ بلاک میں تھے، وہ اب استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

گلگت بلتستان میں گذشتہ عام انتخابات کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے دو، دو نشستیں حاصل کی تھیں۔

گلگلت بلتستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق ان انتخابات میں 24 نشستوں پر امیدواروں کی تعداد 396 ہے جس میں آٹھ خواتین بھی بطور امیدوار میدان میں ہیں۔

تجزیہ کار نثار عباس کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں ابھی تک بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے باقاعدہ منشور کا اعلان ہی نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز بڑے شہروں سے نہیں بلکہ دور دراز علاقوں سے کیا تھا تاہم جماعتوں کے مرکزی قائدین بڑے شہروں میں جلسے کر رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی کی طرف سے جن امیدواروں کو میدان میں اُتارا گیا ہے وہ اس سے پہلے بھی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں جبکہ اس مرتبہ ان انتخابات میں 300 کے قریب ایسے امیدوار ہیں جو آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار بھی شامل ہیں۔

نثار عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات میں مہم کے دوران وہی طریقہ اختیار کیا ہے جو انھوں نے پاکستان میں سنہ2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں اختیار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان انتخابات میں بھی نوجوان اور خواتین گھر گھر جا کر ووٹرز کو اپنے امیدوار اور اس کے انتخابی نشان کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے پاس نوجوان سپورٹرز موجود ہیں اور وہ اس انتخابی مہم میں کچھ حد تک متحرک بھی نظر آ رہے ہیں۔

نثار عباس کا کہنا تھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے بہت پہلے اپنی انتخابی مہم شروع کر لی تھی جبکہ دیگر چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو یا تو انتخابی مہم شروع کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور اگر دیا گیا تو اس وقت کافی وقت گزر چکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت گلگت بلتستان میں موجود ہیں تاہم اس انتخابی مہم میں میڈیا کوریج صرف بڑی جماعتوں ہی کو دی جا رہی ہے۔‘