کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، کپواڑہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔

ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔

اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔

’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں‘

ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔

کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔

’جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔

’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

سڑک کے ذریعے رابطوں کی کمی اور بجلی کی نایابی کی وجہ سے یہاں لوگوں کے دن پہاڑیاں سرکرتے ہوئے گزرتے ہیں۔

کپواڑہ سرینگر سے شمال کی جانب 75 کلومیٹر دُور لائن آف کنٹرول کا قریبی ضلع ہے۔ کپواڑہ قصبے سے 45 کلومیٹر دور نہایت دشوار گزار راستہ طے کر کے ون دجی کا خوبصورت گاؤں آتا ہے، لیکن گاڑی صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے تک ہی جا سکتی ہے۔

وہاں سے لوگ پیدل پہاڑ سر کر کے بستی میں پہنچتے ہیں۔ ہمیں اسی پیدل سفر کے دوران بشیر احمد میر ملے جن کے کندھے پر گھریلو سامان لدا ہوا تھا۔

وہ کہتے ہیں ’دن میں ہم کپواڑہ سے گھر کا سامان ڈھوتے ہیں اور رات کو مشعل جلا کر ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ نہ سڑک ہے اور نہ بجلی، لگتا ہے حکومت کو معلوم بھی نہیں کہ ون دجی کہاں ہے۔‘

یہاں کے لوگ فون اور اپنے پاور بینک چارج کرنے کے لیے اسی پہاڑ سے اُتر کر کپواڑہ جاتے ہیں، تاکہ ہنگامی حالات میں کم از کم اپنے رشتہ داروں سے رابطے میں رہیں۔ لیکن نیٹ ورک بھی یہاں نہایت کمزور ہے۔

’مشعل کے دُھویں نے مجھے دل کا مریض بنادیا‘

بجلی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی صحت بے حد متاثر ہوئی ہے۔ عبدالرشید ملک دو سال سے زیرعلاج ہیں۔ سینے میں شدید انفیکشن سے وہ دل کی بیماری کا شکار ہوچکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم ایک ہفتے میں کئی ٹن لکڑی جلاتے ہیں۔ اس سے صرف مکان ہی خراب نہیں ہوتا بلکہ ہماری صحت بھی تباہ ہو رہی ہے۔ مجھے پہلے کھانسی تھی، پھر ڈاکٹر نے بتایا کہ چھاتی میں انفیکشن ہے اور بعد میں معلوم ہوا کہ دھویں نے مجھے دل کا مریض بنا دیا ہے۔‘

’بجلی ہوتی تو یہ سب نہیں ہوتا۔ میرے پردادا، دادا اور والد نے بجلی نہیں دیکھی، میری عمر بھی اندھیرے میں ہی نکل گئی، اب یہ چھوٹے بچے ہیں، کیا پتہ ان کا کیا ہوگا؟‘

پانچ سو سے بھی کم آبادی والے اس گاؤں کے اکثر لوگ شام کو مشعلوں سے روشنی کرتے کرتے سینے، گلے اور آنکھوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

لیکن اب تک اس گاؤں میں بجلی پہنچائی کیوں نہیں جا سکی؟

حکام کہتے ہیں کہ اس گاؤں میں بجلی پہنچانے میں راستوں کی دشواری رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

محکمہ بجلی کے ایگزیکٹیو انجنیئیر محمد شفیع وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ون دجی سطح سمندر سے 12 ہزار فٹ کی بلندی پر ہے اور راستے بہت خطرناک ہیں۔ وہاں تک بجلی کی فراہمی کی جا سکتی ہے لیکن بجلی کا انفراسٹرکچر بنانے کے لیے سامان پہنچانا بہت مشکل ہے۔‘

تاہم اب حکام کے مطابق رواں سال کے اختتام تک اس گاؤں کا انتظار ختم ہو سکتا ہے۔

محمد شفیع وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے تھوڑا بہت سامان پہنچایا ہے، اس سال کے آخر تک ہم ون دجی کو گرڈ کے ساتھ جوڑ دیں گے۔‘

شام کو اندھیرا ہونے کے بعد جب ہم ریاض احمد لون کے گھر پہنچے تو اُن کی 11 سالہ بیٹی آصفہ جان انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق باب کا مطالعہ کر رہی تھیں اور ساتھ ہی ریاض لکڑی کی مشعل جلائے روشنی کر رہے تھے۔

ریاض کہتے ہیں ’ہمارے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ آج کل جب لوگ سمارٹ فون پر پوری دُنیا کے ساتھ جڑ رہے ہیں، ہم لوگ اندھیرے میں ہیں۔ بجلی نہیں ہے تو فون چارج کیسے ہوگا، ہم لوگ اپنے پاور بینک کپواڑہ سے چارج کر کے لاتے ہیں، تاکہ ایمرجنسی کے وقت ہم کسی سے مدد مانگنے کے لیے کم از کم فون کرسکیں۔‘

ون دجی گاؤں کے محلہ صدر محمد سلطان کئی سال سے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، لیکن بجلی کا انتظام نہیں ہو سکا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’برسوں سے دفتروں کے چکر کاٹ کاٹ کر میں تھک گیا ہوں۔ اب کچھ کھمبے گاؤں میں گاڑے گئے ہیں، لیکن نہ کہیں بجلی کی تار دکھ رہے ہیں نہ کوئی اور انتظام۔ ہماری پانچ نسلیں تو اندھیرے میں ہی رہی ہیں، لیکن نئی نسل کی مجھے فکر ہے، اُمید ہے کہ یہ بچے بجلی کی روشنی دیکھ سکیں۔‘