کیا آپ کے مرنے کے بعد کوئی اور آپ کا فون ان لاک کر سکتا ہے؟

    • مصنف, بی بی سی سنہالہ
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

اگر آپ آئی فون استعمال کرتے ہیں تو آپ کو علم ہو گا کہ ایپل کمپنی نے تقریباً نو سال پہلے فون کو لاک کرنے کے لیے فیس آئی ڈی نامی انقلابی ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی۔ دیگر برینڈز کے سمارٹ فونز میں بھی اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی فیشل ریکگنیشن موجود ہے۔

آئی فون ایکس ماڈل کے ساتھ سمارٹ فون مارکیٹ میں آنے والی یہ ٹیکنالوجی مزید ترقی کر چکی ہے اور اب آئی فون 17 تک پہنچ چکی ہے۔

ایپل کے مطابق ہماری ڈیجیٹل زندگی سے متعلق بہت سی معلومات آئی فون اور آئی پیڈ جیسے آلات میں محفوظ ہوتی ہیں، اس لیے ان معلومات کا تحفظ اہم ہے۔

حال ہی میں سری لنکن ایئر لائنز کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کپیلا چندرسینا کی وفات کے بعد ان کے موبائل فون کو ان لاک کرنے کی تحقیقات سے متعلق خبریں سامنے آئیں جس کے بعد سری لنکا میں فیس آئی ڈی پر وسیع بحث شروع ہو گئی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق چونکہ ان کے فون میں پاس ورڈ کے طور پر فیس آئی ڈی استعمال کیا گیا تھا، اس لیے فون کو کھولنا ممکن نہیں تھا اور تفتیشی افسران نے عدالت سے درخواست کی کہ متعلقہ کمپنی یا ادارے کے ذریعے فون کو ان لاک کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

کیا کسی شخص کی موت کے بعد اس طرح فون کو ان لاک کیا جا سکتا ہے؟ بی بی سی سنہالی نے اس حوالے سے تحقیق کی ہے۔

فیس آئی ڈی کیا ہے؟

ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی ان کی تیار کردہ جدید ترین ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔

اس میں فون کا ’ٹرو ڈیپتھ‘ (TrueDepth) کیمرہ سسٹم آپ کے چہرے کے خدو خال کو درست طریقے سے نقش کرتا ہے تاکہ آپ آسانی اور محفوظ طریقے سے فون تک رسائی حاصل کر سکیں۔

سادہ الفاظ میں ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی آپ کے آئی فون یا آئی پیڈ پرو کو محفوظ طریقے سے ان لاک کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ اس کے ذریعے ادائیگی، ایپس ڈاؤن لوڈ اور دیگر خدمات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ کیسے کام کرتا ہے؟

ایپل کے مطابق ٹرو ڈیپتھ کیمرہ آپ کے چہرے پر ہزاروں غیر مرئی نقطے ڈال کر ان کا تجزیہ کرتا ہے اور چہرے کا ایک ’ڈیپتھ میپ‘ تیار کرتا ہے، ساتھ ہی ایک انفرا ریڈ تصویر بھی لیتا ہے۔

پھر فون کے اندر موجود ’سکیور انکلیو‘ میں محفوظ ’نیورل انجن‘ اس ڈیٹا کو ریاضیاتی شکل میں تبدیل کر کے پہلے سے محفوظ چہرے کے ڈیٹا سے موازنہ کرتا ہے۔

ایپل کے مطابق یہ سسٹم آپ کی ظاہری شکل میں تبدیلی کے ساتھ مطابقت اختیار کر لیتا ہے۔

یعنی اگر آپ میک اپ کریں یا داڑھی بڑھائیں تو بھی فیس آئی ڈی کام کرتا رہتا ہے۔ لیکن اگر نمایاں تبدیلی ہو مثلاً مکمل داڑھی ختم کر دی جائے تو نیا ڈیٹا لینے سے پہلے فون آپ سے پاس کوڈ مانگتا ہے۔

آپ ٹوپی، سکارف، عینک، کانٹیکٹ لینز یا مختلف قسم کے دھوپ کے چشمے پہنیں تب بھی فون آپ کو پہچان سکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی اندر، باہر حتیٰ کہ مکمل اندھیرے میں بھی کام کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

ایپل کے مطابق آئی فون 12 یا اس کے بعد کے ماڈلز ماسک پہننے کی صورت میں بھی کام کرتے ہیں۔

یہ کتنا محفوظ ہے؟

سائبر سکیورٹی ماہر اسیلہ ویدھیالانکارا کے مطابق یہ کوئی بالکل نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی اندازہ لگا سکتی ہے کہ متعلقہ شخص زندہ ہے یا نہیں۔

اُن کے بقول بایو میٹرکس کا استعمال کرتے ہوئے ڈیوائس کو ان لاک کرنا سکیورٹی کے لحاظ سے سب سے محفوظ طریقہ ہے۔

ایپل کے مطابق فیس آئی ڈی کا ڈیٹا انکرپٹ ہو کرمحفوظ رہتا ہے اور اسے صرف ’سکیور انکلیو‘ کے ذریعے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر صرف ایک ہی چہرہ رجسٹر کیا گیا ہو تو کسی دوسرے شخص کے ذریعے فیس آئی ڈی سے فون ان لاک ہونے کا امکان 10 لاکھ میں ایک سے بھی کم ہے۔

اضافی سکیورٹی کے طور پر اگر چہرہ شناخت نہ ہو سکے تو فیس آئی ڈی صرف پانچ بار ہی کوشش کی اجازت دیتا ہے، اس کے بعد پاس کوڈ درکار ہوتا ہے۔

تاہم اگر جڑواں بہن بھائی ہوں یا نہایت ملتی جلتی شکل ہو تو ان لاک ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ 13 سال سے کم عمر بچوں میں بھی یہ امکان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے چہرے مکمل طور پر ڈیویلپ نہیں ہوتے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ فیس آئی چہرے کے تھری ڈی ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے جو عام تصاویر یا ٹو ڈی امیجز میں موجود نہیں ہوتا۔

یہ ٹیکنالوجی یہ بھی جانچ سکتی ہے کہ آیا آپ توجہ دے رہے ہیں، یعنی آپ کی آنکھیں کھلی ہیں اور آپ ڈیوائس کی طرف دیکھ رہے ہیں جس سے کسی کے لیے آپ کی لاعلمی میں فون کھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کیا پھر بھی اسے ان لاک کیا جا سکتا ہے؟

ویدھیالانکارا کے مطابق فون بنانے والی کمپنیوں کے لیے بھی یہ آسان نہیں تاہم اُن کے بقول کچھ کمپنیاں اس کی کوشش کرتی ہیں۔ اُن کے بقول کبھی کبھار خود کمپنی کے لیے بھی ڈیوائس کو اوور رائیڈ کرنا مشکل ہوتا ہے۔

لیکن ڈیجیٹل فارنزکس کے کچھ آلات کے ذریعے فون سے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فون کے ماڈل، سال اور ڈیوائس پر منحصر ہوتا ہے۔

اُن کے بقول معلومات کی دستیابی ہر ڈیوائس کے مطابق مختلف ہوتی ہے۔

بی بی سی نے 2016 میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ میں فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) نے سان برنارڈینو شوٹنگ کیس میں حملہ آور کے آئی فون کو ایپل کی مدد کے بغیر ان لاک کر لیا تھا۔

ایپل نے عدالت کے اس حکم کی مخالفت کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کمپنی نیا سافٹ ویئر تیار کرے لیکن بعد میں رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سائبر سکیورٹی کمپنی Cellebrite نے فون تک رسائی حاصل کی۔

کمپنی کے مطابق اس کے ایک ٹول کے ذریعے لاک شدہ فونز، بشمول آئی فون 5C، سے ڈیٹا نکالا جا سکتا تھا۔

ماہر کے مطابق کسی دوسرے کے فون تک رسائی حاصل کرنے کے اخلاقی پہلو پر بھی بحث جاری ہے۔

اُن کے بقول ’درست طریقہ یہ ہے کہ ڈیوائس کے استعمال کی اجازت صرف مالک کے پاس ہوتی ہے۔ بغیر اجازت ڈیوائس لینا اور اس تک رسائی حاصل کرنا مناسب نہیں۔‘ مثال کے طور پر عدالت کے حکم کے بغیر کمپنی فون کا ڈیٹا فراہم نہیں کر سکتی۔

ایپل کے مطابق صارف اپنی موت کے بعد کسی قابلِ اعتماد شخص کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی دینے کی سہولت رکھتا ہے، جسے لیگیسی کانٹیکٹ کہا جاتا ہے۔

تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ آئی کلاؤڈ کی چین کے پاس ورڈ تک رسائی فراہم نہیں کرتی۔

وفات کے بعد، متعلقہ افراد کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ ایپل کی ویب سائٹ کے ذریعے درخواست دینی ہوتی ہے اور منظوری کے بعد اکاؤنٹ اور آئی کلاؤڈ ڈیٹا تک رسائی دی جاتی ہے۔