اسلام کی ہندوستان آمد تلوار کے ذریعے ہوئی یا پھر کالی مرچ کی تجارت سے؟

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

انڈیا میں ایک عام تاثر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام کی آمد تلوار کے زور پر سنہ 712 عیسوی میں بنو امیہ کے دور میں محمد بن قاسم کی سندھ پر لشکر کشی کے ساتھ ہوئی، لیکن بہت سے ماہرین اس نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

ان کے مطابق جنوبی ایشیا یا ہندوستان میں اسلام کی آمد اور اس کی مقبولیت کا عمل نہ تو اچانک پیش آیا اور نہ ہی یہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ تھا، بلکہ یہ ایک طویل تاریخی اور معاشرتی عمل تھا جو کئی صدیوں پر محیط ہے۔

مؤرخین اور علم سماجیات کے ماہرین اس عمل کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں اور اس کی وضاحت کے لیے چند اہم نظریات پیش کرتے ہیں، جن میں پر امن نقل مکانی، تجارت، صوفیا کی آمد، سیاست اور معاشی عوامل سب شامل ہیں۔

ان میں سب سے پہلا نظریہ ’پرامن تجارت اور سمندری راستے‘ سے ہندوستان میں اسلام کی آمد کا ہے۔

یہاں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ مصالحوں اور بطور خاص کالی مرچ کی تجارت نے اسلام کی ہندوستان میں آمد میں کلیدی کردار ادا کیا۔

چنانچہ ہم اس نظریے کی تلاش میں جنوبی انڈین ریاست کیرالہ کے شہر کوچی اور پھر وہاں سے کوڈنگلور پہنچے جہاں مقامی روایت کے مطابق موزیرس کی اساطیری بندرگاہ تھی، جو 15ویں صدی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں نیست نابود ہو گئی۔

ہندوستان کے ساحل سے عربوں کے تعالقات

لیکن وہاں کے سفر سے قبل ہم نے دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور عہد وسطی کے سرکردہ مؤرخ سید ظہیر حسین جعفری سے ملاقات کی۔

ان کے مطابق خلیج بنگال کے میں مقابلے بحیرہ عرب زیادہ پرسکون سمندر تھا، جہاں سے اگر ایک تنکا یا شہتیر ڈالا جائے تو وہ عرب اور عمان کے ساحلوں سے جا لگتا اور اس سمندر پر ایک زمانے تک جزیرۃ العرب کی حکمرانی تھی، جو مون سون کے ساتھ ہندوستان آتے، قیام کرتے اور مون سون کی واپسی کے ساتھ ہی عرب لوٹ جاتے۔

ان کے مطابق اسی راستے سے عرب سری لنکا، جاوا سماترا، اور ملائیشیا، انڈونیشیا پہنچے۔

معروف مؤرخ سید سلیمان ندوی اپنی کتاب ’عرب و ہند کے تعلقات‘ میں لکھتے ہیں: ’یورپ اور ہندوستان کا راستہ نہایت اہم تھا۔ یہ راستہ پہلے خالص عربوں کے ہاتھوں میں تھا۔ جب یونانیوں نے حضرت عیسیٰ سے تقریباً 300 برس پہلے مصر پر قبضہ کیا تو وہ اس دریائی شاہراہ پر قابض ہو گئے۔‘

’حضرت عیسیٰ کے 600 برس بعد جب اسلام آيا اور عربوں نے عروج پایا تو چھٹی صدی عیسوی میں وہ مصر سے لے کر سپین تک چھا گئے اور ساتھ ہی بحر روم پر بھی قبضہ پا گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا میں تجارت اور سوداگری کی سب سے بڑی سڑک عربوں کے ہاتھ میں آ گئی اور صدیوں تک وہ اس پر قابض رہے۔‘

چنانچہ پروفیسر جعفری کے مطابق عرب اپنے قیام کے دوران یہاں شادیاں بھی کر رہے تھے اور عرب و ہند کے اس تعلق کی وجہ سے جنوبی ریاست میں ایک ایسی برادری تیار ہوئی جسے ’مپلا مسلم‘ کہتے ہیں۔

تاریخی شواہد کی کمی

تاہم ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی وہاں آمد کے سال کے تعین کے لیے تاریخی شواہد بہت کم ہیں کیونکہ عرب جہاز رانوں نے اپنی کوئی ڈائری نہ چھوڑی اور انھوں نے جو تعمیرات کیں ان پر کتبے نہیں لگائے۔

یا اگر لگائے بھی تھے تو 16ویں صدی میں پرتگالیوں کی آمد اور مسلمانوں کی جانب سے مزاحمت کے نتیجے میں انھوں نے نہ صرف مسلمانوں کو تہ تیغ کیا بلکہ ان کے آثار بھی بڑے پیمانے پر منہدم کر دیے، جس کے شواہد گوا کے میوزم میں نظر آتے ہیں جہاں کسی ٹرافی کے طور انھیں پرتگالیوں نے سجا رکھا تھا۔

انڈیا کے معروف سیاستداں اور مؤرخ ششی تھرور اکثر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسلام کے ظہور سے کئی صدی پہلے ہی عرب تاجر اور کشتی ران مالابار کے ساحل پر آتے جاتے رہے۔ جب نیا مذہب (اسلام) وجود میں آیا تو وہ کیرالہ میں تلوار کے زور پر نہیں بلکہ ایسے مانوس اور قابلِ اعتماد مسافروں کے ذریعے ایک ’خبر‘ کے طور پر پہنچا جنھیں مقامی لوگ پہلے سے جانتے تھے۔

اور پھر ہندو راجہ چیرامن پیرو مل کے قبول اسلام کی بات بھی عام بیانیے کا حصہ ہے۔

ہم کیرالہ کے فورٹ کوچی سے صبح سویرے کوچی ہریٹیج پروجیکٹ کے بانی یوحان بنی کروویلا اور اپنے کیمرہ مین بمل تھنکچن کے ساتھ کوڈنگلور میں دریائے پیریار کے ساحل پر پہنچے، جہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں انڈیا-عرب کلچر سینٹر کے سابق ڈائریکٹر اور کیرالہ میں کوٹیم کی مہاتما گاندھی یونیورسٹی میں پروفیسر ایم ایچ الیاس ہمارے منتظر تھے۔

اسلام کی آمد کے مختلف نظریات

پروفیسر الیاس کے مطابق جنوبی ہند میں اسلام کی آمد کے بارے میں چار نظریات موجود ہیں۔

پہلا نظریہ تو یہ ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد کی حیات میں ہی اساطیری موزیرس بندرگاہ سے انڈیا میں داخل ہو چکے تھے، جس کی گواہ چیرامن پیرومل کی جامع مسجد ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے مالک بن دینار نے 629 عیسوی میں تعمیر کروایا۔

مسجد پر موجود کتبے پر یہی لکھا ہے لیکن بہت سے مؤرخین تاریخ کے بارے میں بہت اعتماد سے کچھ کہنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ بعض روایت میں مالک بن دینار کو صحابہ اور بعض میں تابعین کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ صحابہ انھیں کہا جاتا ہے جنھوں نے مسلمان کی حیثیت سے پیغمبر کو دیکھا جبکہ تابعین انھیں کہا جاتا ہے جنھوں نے حالت اسلام میں کسی صحابی کو دیکھا۔

اس مسجد کے وجود میں آنے کی کئی روایتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کوڈنگلور کے ہندو راجہ چیرامن پیرو مل نے خواب میں یا براہ راست معجزہ شق القمر کا مشاہدہ کیا اور اس کا ذکر وہاں آنے والے عرب تاجروں سے کیا، جنھوں نے راجہ کو بتایا کہ جزیرۃ العرب میں ایک پیغمبر کی بعثت ہوئی ہے اور یہ ان کا ہی معجزہ ہے۔

چنانچہ راجہ اپنے معتمد ساتھیوں کے ساتھ عرب کے لیے عازم سفر ہوئے۔ ایک روایت کے مطابق ان کی پیغمبر اسلام حضرت محمد سے ملاقات ہونے اور مشرف بہ اسلام ہونے کی بات کہی جاتی ہے جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ واپسی میں عمان کے سلالہ کے مقام پر ان کی موت ہو گئی، جہاں ان کی قبر بتائی جاتی ہے۔

دوسری روایت

پروفیسر الیاس کے مطابق دوسری روایت میں یہ مذکور ہے کہ ان کی ملاقات نہ ہوسکی اور عمان میں ان کی موت ہو گئی۔ بہر حال دونوں روایتوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ ان کی ملاقات مالک بن دینار سے ہوئی اور انھوں نے اپنے ملک میں اپنے جانشین کو ایک خط بھیجا، جس میں مالک بن دینار اور ان کے ساتھیوں کے اکرام اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا ذکر تھا۔

اور جب مالک بن دینار موزیرس کی بندرگاہ (آج کوڈنگلور) پہنچے تو راجہ کے جانشین نے نہ صرف ان کا استقبال کیا بلکہ انھیں مسجد کی تعمیر کے لیے محل کے ساتھ ایک زمین بھی دی۔ یہ مسجد آج بھی وہاں موجود ہے اور وہاں پنج وقتہ نماز ادا کی جاتی ہے۔

یوحان نے بتایا کہ ’یہ عجب بات ہے کہ جہاں مسجد قائم ہے اس کے آس پاس مسلم آبادی نہیں ہے کیونکہ یہ راجہ کے محل کے ساتھ واقع ہے لیکن آس پاس کی آبادیوں سے لوگ آ کر اس مسجد کو آباد کیے ہوئے ہیں۔‘

پروفیسر الیاس کہتے ہیں کہ اسلام پورے کیرالہ میں خاص طور پر سماجی برابری کے پیغام کی وجہ سے پھیلا، جس طرح کے سماجی انصاف کا احساس دلایا، وہ اونچ نیچ پر مبنی ذات پات کے خلاف تھا، وہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف تھا اور وہ ایک ذات یا نسل کی برتری کے خلاف تھا اور یہ وہ چیز تھی جو اس علاقے کے لوگوں کو بہت پرکشش لگی۔

’عرب بنیادی طور پر تو یہاں مصالحوں کی تجارت اور بطور خاص کالی مرچ کی تجارت کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے بدلے میں اسلام کے علاوہ بھی ہمیں بہت کچھ دیا۔ مثال کے طور پر حساب کتاب، یا پھر ناپ تول کے طریقے دیے جو ہم آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ عربوں نے ہمیں کشتی بنانا بھی سکھایا، اچھی کشتیاں بنانا ہم نے انہی سے سیکھا۔‘

چیرامن جامع مسجد

ہم ظہر کے وقت انتہائی گرم اور مرطوب موسم میں اس تاریخی مسجد کو دیکھنے کے لیے وہاں پہنچے جہاں ہماری ملاقات وہاں کے امام سلیم ندوی سے ہوئی، جنھوں نے لکھنؤ کی معرف اسلامی درسگاہ ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ مسجد کے ساتھ والے دالان میں مالک بن دینار کے بیٹے یوسف بن دینار اور ان کی اہلیہ کی قبریں ہیں جبکہ مالک بن دینار اور ان کے ساتھیوں نے اس علاقے میں اسی زمانے میں کوئی دس مساجد اور خانقاہیں قائم کیں اور وہ خود یہاں سے کوئی 300 کلومیٹر شمال میں بحیرہ عرب کے ساحل پر ہی کاسرگوڈ کے مقام پر مدفون ہیں۔

پروفیسر الیاس کے مطابق تمام روایتیں ایک نکتے پر ملتی ہیں کہ ہندوستان میں اسلام کا تعارف راجہ چیرامن کے توسط سے ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اسلام سب سے پہلے عرب تاجروں کے ذریعے برصغیر کے ساحلی علاقوں میں پہنچا۔ ساتویں اور آٹھویں صدی میں عرب تاجر بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے تجارتی راستوں پر غالب تھے۔ وہ مال تجارت کے ساتھ اپنی ثقافت اور مذہبی اقدار بھی ساتھ لائے۔

کیرالہ اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں مقامی حکمرانوں، جیسے کیرالہ کے زمورین، نے ان تاجروں کا خیر مقدم کیا اور انھیں مساجد بنانے اور ان علاقوں میں آباد ہونے کی اجازت دی۔

اس باہمی میل جول کے نتیجے میں مقامی آبادی اور عرب تاجروں کے درمیان رشتے قائم ہوئے اور رفتہ رفتہ ’مپیلا‘ جیسی مقامی مسلم برادریاں وجود میں آئیں۔

فتوحات کے ذریعہ اسلام کی آمد

ایک نظریہ ’عرب فتوحات اور سیاسی پھیلاؤ‘ سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق اسلام کو برصغیر میں پہلی بڑی سیاسی فتح سنہ 712 عیسوی میں اس وقت ملی جب محمد بن قاسم کی قیادت میں عرب افواج نے سندھ اور ملتان کو فتح کیا۔

یہ مہم سمندری قزاقی کے واقعات کے تدارک کے پس منظر میں شروع ہوئی۔ بعد ازاں غزنویوں اور غوریوں کے حملوں نے دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ بعض پرانے مؤرخین نے اسے ’تلوار کے ذریعے اسلام کی آمد‘ کا نام دیا، لیکن جدید محققین کے مطابق ان فتوحات کا اصل مقصد سیاسی اقتدار کا قیام تھا، نہ کہ لوگوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروانا۔ مذہبی تبدیلی کا عمل زیادہ تر تدریجی اور سماجی نوعیت کا تھا۔

’صوفیا اور اولیاء کی تبلیغ‘

پروفیسر جعفری کہتے ہیں کہ ’دی گریوز آف تریم‘ نامی کتاب کی اشاعت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یمن اور حضرموت کے لوگ جہاں گئے وہاں مساجد اور مقابر سامنے آئیں اور وہاں خانقاہیں قائم ہوئيں اور یہ سیاسی اسلام کی آمد سے قبل پر امن مراکز تھے جہاں سے اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہوئی۔

کتاب کے مطابق ہندوستان کے ساحلی علاقے جیسے کیرالہ کے مالابار اور گجرات کی بندرگاہیں حضرمی تاجروں اور صوفیاء کے لیے اہم ٹھکانے تھیں۔ یہاں سے وہ نہ صرف تجارت کرتے تھے بلکہ اسلام کی تبلیغ کرتے ہوئے آگے ملائیشیا اور انڈونیشیا تک پہنچے۔

گیارہویں صدی کے بعد چشتیہ، سہروردیہ اور دیگر سلسلوں سے وابستہ صوفی بزرگ مختلف علاقوں میں جا بسے۔ انھوں نے اپنی تعلیمات میں محبت، رواداری، انسان دوستی اور سماجی برابری پر زور دیا، جو عام لوگوں کے لیے بہت پرکشش تھا۔

صوفی خانقاہیں اور درگاہیں روحانی مراکز کے طور پر ابھریں جہاں ہر مذہب کے لوگ آتے تھے۔ اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں ہندو اور مسلمان دونوں عقیدت سے حاضری دیتے ہیں۔ اس طرح صوفی تحریک نے اسلام کے پھیلاؤ میں ایک نرم اور پراثر کردار ادا کیا۔

پروفیسر جعفری کے مطابق اسلام کے ’سماجی آزادی اور مساوات‘ کے اصول نے لوگوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ اس نظریے کے مطابق برصغیر کے بہت سے لوگ، خاص طور پر پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ذات پات کے سخت نظام سے نجات حاصل کرنے کے لیے اسلام کی طرف مائل ہوئے۔

اسلام کے مساوات، اخوت اور انصاف کے اصولوں نے انھیں ایک بہتر سماجی حیثیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم جدید محققین اس نظریے میں مضمر کچھ حدود کی نشاندہی بھی کرتے ہیں، کیونکہ بعض علاقوں میں، جہاں اسلام تیزی سے پھیلا، ذات پات کا نظام اتنا مضبوط نہیں تھا جتنا دیگر حصوں میں تھا۔

زرعی سرپرستی اور ریاستی انضمام

ایک نسبتاً جدید نظریہ ’زرعی سرپرستی اور ریاستی انضمام‘ کا ہے، جسے رچرڈ ایٹن جیسے مؤرخین نے پیش کیا۔ اس کے مطابق بنگال اور پنجاب جیسے علاقوں میں اسلام کا پھیلاؤ زیادہ تر زرعی ترقی اور ریاستی پالیسیوں سے جڑا ہوا تھا۔ مسلم حکمرانوں نے غیر آباد زمینیں مذہبی اداروں، صوفی خانقاہوں اور مساجد کو دیں، جنھوں نے نئی زرعی بستیاں قائم کیں۔ ان علاقوں میں رہنے والے کسانوں نے رفتہ رفتہ اسلام کو اپنایا، کیونکہ یہ ان کی معاشی ترقی اور ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن چکا تھا۔

ان سب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ برصغیر میں اسلام کا پھیلاؤ کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ مختلف عوامل کے اشتراک سے وقوع پذیر ہوا۔ تجارت، روحانیت، سیاست، سماجی انصاف اور معاشی مواقع، یہ سب عناصر مل کر ایک ایسے تاریخی عمل کی تشکیل کرتے ہیں جس نے اس خطے کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو گہرے طور پر متاثر کیا۔