سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے معاہدے: یوکرین نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں سے کیسے فائدہ اٹھایا؟

    • مصنف, کاٹیا ایڈلر
    • عہدہ, مدیر یورپ
  • مطالعے کا وقت: 13 منٹ

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران جب مارچ میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو کوئی بھی اس کی توقع نہیں کر رہا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں زیلنسکی نے لکھا کہ یہ دورہ ’انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے تھا۔‘

زیلنسکی کے کندھوں پر روس کے ساتھ ان کے اپنے ملک کی جنگ کا بوجھ بھی ہے لیکن وہ اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ یوکرین کی میدان جنگ میں حاصل کی گئی ڈرونز کی جنگی مہارت بین الاقوامی سطح پر پیش کر سکیں۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ معاہدے کیے ہیں (یہ وہ ممالک ہیں جو حالیہ ہفتوں میں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے) تاکہ ڈرونز کی مہارت اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ کیا جا سکے، اتحاد مضبوط ہوں اور دفاعی معاہدے کر کے کاروباری فوائد حاصل کیے جا سکیں، خاص طور پر امریکہ کے اتحادی خوشحال ممالک کے ساتھ۔

ریلنکسی نے کہا: ’ہم خلیجی ریاستوں کے دفاعی میں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسی ہی شراکت داریاں قائم کرتے رہے ہیں۔‘

توانائی کا دباؤ

ابتدا میں ایران تنازع کے اثرات یوکرین کے لیے بظاہر انتہائی منفی دکھائی دیے۔ خدشہ تھا کہ اس سے ماسکو اور کیئو کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ بٹ جائے گی اور روس کے خالی ہوتے جنگی خزانے میں مزید رقم آنے لگے گی۔

ماسکو کئی ممالک کو اپنا تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا ہے، وہ بھی زیادہ قیمت پر۔ کیوں کہ مشرق وسطیٰ کا تیل لے جانے والے ٹینکر ایران کے ساتھ واقع آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی صارفین تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ عالمی سطح پر بڑھتی لاگت کے باعث، ٹرمپ نے پابندیوں کے باوجود روسی تیل خریدنے کی چھوٹ دے دی۔

روس کے پاس جتنی زیادہ رقم ہو گی وہ جنگ کو اتنا ہی طول دے سکتا ہے۔

لیکن فروری 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے کیئو نے بار بار عالمی توقعات کو غلط ثابت کیا ہے۔

اور اب اس نے ایران جنگ کے اثرات کو اپنے حق میں موڑنے کی ماہرانہ کوشش کی ہے، تاکہ روس کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے دوران اس کی پوزیشن مضبوط ہو۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ’بہت اچھی‘ گفتگو کے بعد وہ پر اعتماد ہیں کہ ’نسبتاً جلد ہی‘ یوکرین کے بارے میں ایک ’حل‘ نکل سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں ’کچھ لوگوں نے‘ ان کے لیے معاہدہ کرنا مشکل بنا دیا ہے۔‘

یہ پہلی بار نہیں کہ ٹرمپ نے پوتن کے بارے میں ایسے مثبت تبصرے کیے ہوں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر یوکرین کے رہنما کو جنگ بندی پر آمادہ نہ ہونے پر تنقید کی ہو۔

تاہم ایسا کوئی ’حل‘ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

اس دوران، جہاں ان کے لیے ممکن ہوا، زیلینسکی نے یوکرین کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ موقع پرستی بلاشبہ ان کے طاقتور ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔

انھوں نے اپریل میں بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ زیلنسکی کے مطابق سعودی عرب کو بھی ایران کی جانب سے اسی نوعیت کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے جیسا کہ روس یوکرین پر کرتا رہا ہے۔

ماسکو کے طاقتور ہتھیاروں میں ایرانی ساختہ کم لاگت، طویل فاصلے تک مار کرنے والا شاہد 136 ڈرون شامل ہے۔ روس نے اس کا جدید ورژن گیران بھی تیار کر رکھا ہے۔

اگرچہ ایک شاہد ڈرون کی قیمت 80 ہزار سے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالرز کے درمیان ہو سکتی ہے، زیلینسکی کا کہنا ہے کہ اسے ایسے نظام کے ذریعے روکا جا سکتا ہے جس کی لاگت صرف 10 ہزار ڈالرز تک ہو۔ یہ روایتی فضائی دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں کہیں سستا ہے، جن کی قیمتیں لاکھوں ڈالر ہوتی ہیں۔

یورپ کے کئی شہروں میں روسی ڈرونز دیکھے گئے ہیں، اس وجہ سے نیٹو ممالک خدشات کا شکار ہیں۔

اپریل میں یوکرین نے یورپی اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کے دو بڑے معاہدوں پر دستخط کیے۔ ایک معاہدہ ناروے کے ساتھ 8.6 ارب ڈالرز کا تھا، جو سنہ 2030 تک 28 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا حصہ ہے۔ دوسرا جرمنی کے ساتھ تھا، جس کی مالیت 4.7 ارب ڈالر ہے اور اس میں ’مختلف اقسام کے ڈرونز، میزائل، سافٹ ویئر اور جدید دفاعی نظام‘ شامل ہیں۔

جہاں تک خلیجی ریاستوں کا تعلق ہے، زیلینسکی نے کہا کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع میں ان کی مدد چاہتے ہیں۔

خاص طور پر اس لیے کہ اس وقت امریکہ کا اسلحے کا ذخیرہ مشرق وسطیٰ میں استعمال ہو رہا ہے اور یورپ کو فروخت کرنے کے لیے (تاکہ وہ یوکرین کی مدد کر سکیں) اس کے پاس بہت کم فوجی ساز و سامان بچا ہے۔

ریلنسکی نے حال ہی میں فرانسیسی اخبار لے موند کو بتایا: ’ہم چاہیں گے کہ مشرق وسطیٰ کی ریاستیں ہمیں خود کو مضبوط کرنے کا موقع دیںِ، ان کے پاس ایسے فضائی دفاعی میزائل ہیں جن کی ہمیں کمی ہے۔ ہم اسی پر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

تنصیبات کو نشانہ بنانا

ایران کے تنازع سے یوکرین نے ایک اور اہم سبق بھی سیکھا ہے: دشمن کی تیل برآمد کرنے والی تنصیبات پر حملے کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ یوکرین کے تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کا ترجیحی ہدف اب روس کا توانائی انفراسٹرکچر ہے۔

زیلینسکی کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باوجود روس کے توانائی شعبے کو ’شدید‘ نقصان پہنچا ہے جس کی مالیت اربوں ڈالر تک ہے۔

خام تیل کی برآمد سے متعلق ڈیٹا بتاتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے اور روسی تیل خریدنے والے ممالک پر امریکی پابندیوں میں نرمی سے ایران جنگ کے تیسرے ہفتے میں روسی آمدن دسمبر سے فروری کی سطح کے مقابلے میں 2.3 گنا بڑھ گئی۔

تاہم چوتھے ہفتے میں یوکرینی ڈرون حملوں نے توانائی پیدا کرنے والی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، جس سے روس کی آمدن میں ایک ارب ڈالر کی کمی ہوئی اور گذشتہ ہفتے کے فائدے کا تقریباً دو تہائی ختم ہو گیا۔

ایران جنگ کے اثرات سے یوکرین کے لیے ایک اور مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی حمایت سے 90 ارب یورو (78 ارب پاؤنڈ) کا قرض منظور ہوا، جو کیئو کے مطابق اگلے سال کے دوران فوجی ساز و سامان خریدنے اور تیار کرنے کے لیے فوری طور پر درکار تھا۔

یہ قرض یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کے اُس وقت کے روس نواز وزیر اعظم کئی مہینوں سے روک رہے تھے۔ تاہم گذشتہ ماہ ہنگری کے انتخابات میں وکٹر اوربان کی شکست کے بعد اب جو رہنما اقتدار میں آئے ہیں ان کے روس سے کم دوستانہ تعلقات ہیں۔

اوربان ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی دوست اور مداح تھے، لیکن یہ بات انتخابات کے وقت انھیں فائدہ نہ پہنچا سکی۔ ووٹرز نے کہا کہ وہ ایران جنگ کی وجہ سے ناراض ہیں کیوں کہ ان کے توانائی کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ ووٹر کی اسی ناراضی نے اوربان کے زوال میں کردار ادا کیا اور یوں یوکرین کے لیے یورپی یونین کا قرض آخر جاری ہو گیا۔

ان ’فتوحات‘ اور یوکرین کے اس دعوے کے بعد کہ وہ ہر ماہ جس تعداد میں دشمن کے فوجی مار رہا ہے وہ تعداد روس کے مطابق بھرتی ہونے والے 30 ہزار فوجیوں سے زیادہ ہے، زیلنسکی اب خود کو دفاعی پوزیشن میں نہیں سمجھتے اور ممکن ہے کہ وہ روس کے ساتھ امن معاہدے کے لیے بہتر حالت میں ہوں۔

یوکرین میں طویل عرصے سے ہنگامی حالت ہے۔ لوگ تھک چکے ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ نئے فوجیوں کی بھرتی کافی عرصے سے ایک سنجیدہ مسئلہ بنی ہوئی ہے اور جو اہلکار محاذ جنگ پر موجود ہیں، وہ گھر واپسی کے لیے بے چین ہیں۔

احترام کی کمی؟

پائیدار جنگ بندی کے لیے مذاکرات کہاں تک پہنچے؟

کرسمس سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ نے ان مذاکرات کا بہت چرچا کیا تھا۔ دوبارہ منتخب ہونے سے قبل ٹرمپ نے بارہا کہا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں تشدد ختم کر دیں گے۔ اب وہ عہدے پر ہیں، مگر اپنے وعدوں کو حقیقت نہیں بنا سکے۔

اس کی ایک بڑی علامت امن کے لیے ٹرمپ کے ایلچیوں، ان کے داماد جیرڈ کشنر اور سابق ریئل سٹیٹ سرمایہ کار سٹیو وٹکوف کی سرگرمیاں ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ میں مصروف رہے ہیں اور کیئو کا دورہ بارہا مؤخر کر چکے ہیں۔

ریلنسکی نے کہا ہے کہ وہ ان کی عدم موجودگی کو ’بے ادبی‘ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات ’تکنیکی‘ سطح پر جاری ہیں لیکن انھیں خدشہ ہے کہ حقیقی پیش رفت اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک ایران تنازع ختم نہ ہو جائے۔ اور کون جانتا ہے کہ ایسا کب ہو گا؟

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کشنر اور وٹکوف نے کبھی سرکاری حیثیت میں کیئو کا دورہ نہیں کیا۔ وہ گذشتہ سال کے آخر میں ماسکو گئے تھے جب یوکرین میں جنگ بند کرنے کی بات چیت میں تیزی آئی اور پھر جنوری میں دوبارہ۔ وٹکوف آٹھ بار ماسکو جا چکے ہیں۔ وہ نجی حیثیت میں روس میں کاروبار بھی کرتے رہے ہیں اور متعدد مواقع پر پوتن سے ملاقات کر چکے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے روس کی جانب کسی جھکاؤ کی تردید کی ہے۔

تاہم یوکرین اور دیگر یورپی ممالک اس وقت حیران ہوئے جب گذشتہ سال کے آخر میں شائع ہونے والی امریکی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹیجی (این ایس ایس) میں روس کو سکیورٹی خطرہ قرار نہیں دیا گیا. یہ اس مؤقف سے واضح طور پر متضاد ہے جو ماسکو کے بارے میں واشنگٹن کے نیٹو یورپی اتحادی رکھتے ہیں۔

این ایس ایس کی دستاویز میں یوکرین جنگ کے خاتمے کی اہمیت پر تو زور دیا گیا ہے مگر توجہ کیئو میں دیر پا امن قائم کرنے پر نہیں بلکہ ’سٹریٹیجک استحکام‘ یقینی بنانے اور روس کے ساتھ مشترکہ شراکت داری پر ہے، تاکہ وسائل امریکہ کی دیگر ترجیحات کے لیے استعمال کیے جا سکیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے یہ رویے کریملن کو خوش کرتے ہیں۔ ترجمان دیمتری پیسکوف نے دستاویز کی اشاعت کے موقع پر کہا تھا کہ این ایس ایس ماسکو کے نقطہ نظر سے ’کافی حد تک ہم آہنگ‘ ہے۔

ٹرمپ کے دور میں روس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے یا برقرار رکھنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو واقعی کریملن کو مذاکرات کی میز پر لا سکتی تھیں۔

اس کے ساتھ یوکرین کے لیے امریکی فوجی اور اقتصادی امداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ نتیجتاً یورپی ممالک نے امریکہ سے اسلحہ خرید کر کیئو کو بھیجنا شروع کیا، لیکن ایران کے تنازع کے باعث یہ سپلائی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

امن کے امکانات

روس کو امن مذاکرات پر آمادہ کرنے کے حوالے سے روایتی سوچ یہ ہے کہ صرف امریکہ ہی ماسکو کو جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

پوتن فی الحال خود سے لڑائی ختم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے، بلکہ ایران جنگ نے دنیا کی توجہ ہٹا دی ہے تو ماسکو نے یوکرینی شہریوں اور سول انفراسٹرکچر پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اس پر رائے منقسم ہے کہ کیا روسی صدر ان شدید حملوں کے بعد مذاکرات کی میز پر آ جائیں گے یا ان حملوں سے ان کے عزم میں مزید استحکام آ جائے گا۔ برسلز میں یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر میں زیادہ تر لوگ دوسرے امکان پر یقین رکھتے ہیں۔

روسی معیشت پابندیوں کے باعث دباؤ میں ضرور ہے مگر تباہ نہیں ہوئی اور اب مکمل طور پر جنگی بنیادوں پر چل رہی ہے۔ اسے واپس معمول پر لانا آسان نہیں ہو گا، یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر یوکرین میں امن ہو بھی گیا تو روس یورپ میں کسی اور جگہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، حتیٰ کہ نیٹو کے کسی ملک کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ نیدرلینڈز، جرمنی اور خود نیٹو نے کہا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔

پوتن کی انا اور عزائم بھی ایک بڑا سوال ہیں: کیا وہ واقعی یوکرین میں شکست تسلیم کر سکتے ہیں؟

لندن سکول آف اکنامکس کے محقق لوک کوپر کے مطابق ’اگر روس کے پاس عقلیت پسند حکومت ہوتی تو وہ جنگ ختم کر دیتا۔ معیشت جمود یا کساد بازاری کا شکار ہے۔ بے شمار لوگ مارے جا رہے ہیں جو کام کر سکتے تھے، جنگی معیشت کی وجہ سے شہری معیشت متاثر ہو رہی ہے، اور اس سب سے روس نے کیا حاصل کیا؟ یوکرینی علاقے کا ایک چھوٹا سا حصہ۔ اگر پابندیاں ہٹانے کی شرط کے ساتھ جنگ بند ہو تو یہ فائدہ مند ہو سکتی مگر پوتن اس زاویے سے نہیں سوچ رہے۔ یہ سب ایک شخص کے فیصلوں کا نتیجہ ہے، جس کے عزائم سامراجی ہیں۔‘

یوکرین کے شکوک و شبہات

کیئو اب بھی امریکی شمولیت کا انتظار تو کر رہا ہے لیکن نجی طور پر کئی یوکرینی افسران کو شبہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت امریکہ کبھی وہ اقدامات نہیں کرے گا جنھیں وہ امن کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، اور اگر جنگ بند ہو بھی گئی تو امریکہ ایسی مضبوط اقدامات نہیں کرے گا جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روک سکیں۔

سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینیئر مشیر مارک کینسیئن کے مطابق ’ایسی سکیورٹی ضمانتوں کا تصور کرنا مشکل ہے جو یوکرین کو امن معاہدے پر دستخط کے لیے قائل کر سکیں اور جو روس، امریکہ اور یورپ کے لیے بھی قابل قبول ہوں۔‘

رائل سروسز انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر فنانس اینڈ سکیورٹی ٹام کیٹنگ کا کہنا ہے کہ یورپی رہنماؤں کے پاس ’ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں‘ کیونکہ اگر روس کو لگا کہ اس نے یوکرین میں فتح حاصل کر لی ہے تو یہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہو گا۔

اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے، تاہم کیٹنگ کے مطابق ٹرمپ کسی بھی وقت ایران پر توجہ چھوڑ کر روس، یوکرین معاملے کی طرف پلٹ سکتے ہیں۔ اسی لیے یورپی رہنماؤں کو یوکرین میں اب کہیں زیادہ فیصلہ کن اقدام کرنا چاہیے۔

ناقدین طویل عرصے سے یورپی رہنماؤں پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ یوکرین میں امن کے لیے جارحانہ کوششیں نہیں کر رہے۔

کیٹنگ کے مطابق تقاریر، کیئو کے دوروں اور یوکرین کے لیے ہتھیاروں پر رقم خرچ کرنے کے باوجود جب بھی روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں لگانے کا مرحلہ آتا ہے تو ’یورپی رہنما امریکہ کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ یورپی یونین کے ایک بڑا تجارتی بلاک ہونے کے باوجود اس کے رہنما بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘

برسلز اس وقت روس کے خلاف 21 ویں پابندی پیکج پر کام کر رہا ہے۔ تاہم یورپی یونین کی جانب سے روسی مرکزی بینک کے منجمد کیے گئے 210 ارب یورو کے اثاثوں کا سوال اب بھی موجود ہے، جن میں سے زیادہ تر بیلجیئم میں موجود ہیں۔

یورپی یونین کے رہنما (قانونی اور ساکھ سے متعلق خدشات کے باعث) یہ رقم یوکرین کی مدد کے لیے خرچ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اس کے بجائے انھوں نے یورپی ٹیکس دہندگان سے جمع کیے گئے 90 ارب یورو قرض کے طور پر یوکرین کو دیے۔

کیٹنگ کا مؤقف ہے کہ یورپ اس سے کہیں زیادہ مؤثر اقدامات کر سکتا ہے، مگر جنگ ختم کرنے کے لیے پورا زور لگانے پر ’یا تو آمادہ نہیں یا پھر متحد نہیں۔‘

اگرچہ یورپی رہنما یوکرین میں مصائب کے خاتمے اور پائیدار امن کے خواہاں ہیں، لیکن جنگ بندی کے باعث کئی ناگوار فیصلے بھی کرنا ہوں گا۔ بہت سے ممالک یوکرین کی یورپی یونین میں فوری رکنیت کے اتنے حق میں ہیں نہیں جتنا کہ وہ ظاہر کرتے ہیں۔

اسی طرح فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں نام نہاد اتحاد نے جنگ کے خاتمے کے بعد یوکرین میں فورس بھیجنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن کون سے ممالک واقعی زمینی فوج بھیج بھی دیں گے اور بھیجی بھی تو کتنی دیر کے لیے بھیجیں گے؟ خاص طور پر اگر اس فورس کو فضا سے امریکی حمایت میسر نہ ہوئی تو۔

گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے پوتن اور زیلینسکی کے درمیان نفرت کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔ واشنگٹن یوکرین کی خلیج میں ڈرون ٹیکنالوجی فروخت کرنے کی کوششوں پر بظاہر تو توجہ نہیں دے رہا لیکن اس نے زیلینسکی کی جانب سے امریکی انتظامیہ کو ڈرون مہارت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کھلے عام قبول نہیں کی۔

تاہم سیاہ لباس میں ملبوس یوکرینی رہنما ان باتوں سے پریشان نظر نہیں آتے۔ جب تک وہ سرخیوں میں ہیں، انھیں امید ہے کہ یوکرین کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور واشنگٹن کی توجہ جلد دوبارہ ان کے خطے کی طرف لوٹ آئے گی۔