رچرڈ بلیک
بی بی سی نیوز ویب سائیٹ
امریکہ کی ایک سائنسی رپورٹ کے مطابق اس بات کے واضح شواہد ملے ہیں کہ انسانی کارروائیوں سے ماحولیاتی تدیلیاں واقع ہورہی ہیں۔
’فیڈرل کلائیمیٹ چینج‘ نامی سائنس پروگرام کے مطابق گزشتہ پچاس سال سے سامنے آنے والی موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلی کا رجحان صرف قدرتی عمل کا نتیجہ نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زمین کی سطح اور نچلی فضا کا درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے مزید تجزیے کے لیئے بہترڈیٹا کی ضرورت ہے۔
سالہا سال سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ زمین کی سطح کا درجہ حرارت (یا گلوبل وارمنگ) مسلسل بڑھ رہا ہے، زمین کی نچلی فضا کا درجہ حرارت بڑھ نہیں رہا۔ اور یہ حقیقت ماحولیاتی طبیعات کے اصولوں یا قدرتی عمل کے برعکس ہے۔
برطانیہ کے موسمیاتی ادارے کے پیٹر تھورن کے مطابق زمینی آب و ہوا پر انسانی کارروائیوں کا واضح اثر ہے۔
تاہم اس تحقیق میں چند بڑی غیر یقینی باتیں بھی ہیں جنہیں یقینی بنانا ضروری ہے۔
سانسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے چند موسمیاتی یا ماحولیاتی تبدیلیوں کی مختلف حلقوں نے مختلف وضاحتیں پیش کی ہیں جن میں مماثلت ہونا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق زمین کی نچلی فضا کے درجہ حرارت کا مشاہدہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے جس میں غلطی کی کافی گنجائش ہوسکتی ہے۔