Sunday, 16 April, 2006, 11:34 GMT 16:34 PST
برطانوی حکومت کے مرکزی سائنسدان پروفیسر ڈیوڈ کنگ نے کہا ہے کہ آئندہ ایک سو سال کے دوران زمین پر درجہ حرارت میں کم سے کم تین ڈگری سنٹی گریڈ اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
پروفیسر سر ڈیوڈ کنگ نے کہا کہ درجہ حرارت میں اس اضافے کی وجہ مختلف عالمی حکومتوں کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی کمی کے لیے اقدامات پر عدم اتفاق ہے۔
انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آئندہ ایک صدی کے دوران درجۂ حرارت میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے متنبہ کیا کہ گیسوں کا اخراج کم کرنے پر اتفاق رائے ہو بھی جائے تو بھی موسم میں تبدیلی ناگزیر ہے۔
امریکہ گیسوں کا اخراج کم کرنے پر تیار نہیں اور انڈیا اور چین میں ان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
حال ہی میں موسم کی پیشگوئی کرنے والے ایک اہم مرکز ہیڈلی سنٹر کی طرف سے ’خطرناک موسمی اثرات سے بچاؤ‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے سے دنیا میں جنگلی حیات کی نصف سے زیادہ پناہ گاہیں اور اہم جنگلات تباہ ہو جائیں گے اور چالیس کروڑ لوگ بھوک سے دو چار ہو جائیں گے۔
پروفیسر کنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس صورتحال میں یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ انسانوں کو لاحق خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں فوری طور پر کام شروع کر دینے کی ضرورت ہے۔