Tuesday, 14 March, 2006, 11:10 GMT 16:10 PST
محققین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس شواہد ہیں کہ دل کے امراض کی ایک دوا سے نہ صرف دل کی بیماری مسئلہ کنٹرول ہوتا ہے بلکہ کچھ حد تک مرض ٹھیک ہو سکتا ہے۔
امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں ہونے والے ’امریکن کالج آف کارڈیالوجی‘ کے اجلاس میں محققین نے بتایا ہے کہ ’روسیوواسٹیٹن‘ نامی ا یک نئی ’سٹیٹن‘ دوا پر تحقیق میں یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ دوا دل کے شریانوں کے اندر جمع چربی کو گھلا دیتی ہے۔
شریانوں کے اندر چربی کے جمع ہو جانے سے ہی دل کے بہت سے امراض شروع ہوتے ہیں۔ اس عمل کو ’آرتھروسکلوروسِس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دو سال تک انہوں نے تین سو اننچاس مریضوں کو یہ نئی دوا دی اور یہ دیکھا گیا کہ ان مریضوں کے شریانوں کے اندر چربی گھٹنی شروع ہو گئی۔
مریضوں کو یہ دوا بڑی مقدار میں دی گئی یعنی کم سے کم چالیس ملی گرام روزانہ۔
اس تجربے میں مریضوں کے شریانوں میں نقصان دہ ’کالسٹرول‘ یعنی ’ایل ڈی ایل‘ میں پچاس فیصد تک کمی ہوئی جبکہ ’اچھے‘ کالسٹرول میں پندرہ فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہوا۔
دو سال کے علاج کے بعد ان مریضوں کے شریانوں کے اندر جمع چربی میں نمایاں کمی ہوئی۔ تجربے کے ہر پانچ میں سے چار افراد کے شریانوں کی چربی میں یہ کمی دیکھی گئی۔
’روسیوواسٹیٹن‘ نامی اس دوا کو ’کریسٹور‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
برطانیہ میں دل کے امراض کے ادارے ’برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن‘ کے پروفیسر پیٹر وائسبرگ کہتے ہیں کہ یہ نئی تحقیق اس لیے بہت اہم ہے کہ اب تک یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ’سٹیٹن‘ ادویات سے شریانوں کے اندر چربی کے جمع ہونے کا عمل کنٹرول ہوتا ہے لیکن اس تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ کنٹرول کے علاوہ چربی میں نمایاں کمی کر سکتی ہے۔
پرفیسر وائسبرگ کے مطابق یہ ایک ’بہت اہم تحقیقاتی تجربہ ہے۔‘
اس تحقیق کو اگلے ماہ (اپریل) میں طبی جریدے ’جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن‘ میں شائع کیا جائے گا۔