http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 04 May, 2007, 03:43 GMT 08:43 PST

’ماحول کے بچاؤ کیلیے معاہدہ ہوگیا‘

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں اقوام متحدہ کی ماحولیات و موسمی تبدیلی سے متعلق ایک اہم کانفرنس میں عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات پر اتفاق ہوا ہے۔

گلوبل وارمنگ: لائف سٹائل بدلنا ہوگا
اس حوالے سے چین کے تحفظات پر طویل بحث بھی کی گئی۔ متنازعہ مسائل میں کیوٹو پروٹوکول کی زبان، آلودگی کم کرنے کی لاگت اور جوہری توانائی شامل تھے۔

موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی پی سی) کے اس سال کے اندازوں کا تیسرا حصہ آلودگی کم کرنے اور معاشی مسائل پر قابو پانے کے طریقے ڈھونڈتا نظر آرہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پر رپورٹ جمعہ کو جاری ہونا ہے۔

مندوبین کے مطابق چین نے بار بار کوشش کی کہ کانفرنس کے مسودے میں بعض جگہ لب و لہجے کو ذرا نرم کیا جائے۔ اس کی کوشش رہی کہ ایسے تمام حوالوں کو مسودے سے خارج کر دیا جائے جس سے اس کے قلیل المیعاد معاشی مفادات کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔

آئی پی سی سی رواں سال کے دوران پہلے ہی دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کی سائنس اور اس کےا ثرات کے دو اور پہلوؤں پر جائزہ رپورٹس دے چکا ہے۔

کانفرنس کی رپورٹ میں ماحول میں گرین ہاؤس گیسز کو محدود کرنے کی معاشی لاگت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ بی بی سی کے ماحولیات کے نامہ نگار رچرڈ بلیک کے مطابق گرین ہاؤس گیسز کو کاربن ڈائی اکسائیڈ کے فی ملین 650 حصوں (پی پی ایم) کے برابر محدود کرنے سے دنیا کی کل مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) 0.2 فیصد کم ہو جائے گی۔

آئی پی سی سی کے مطابق گرین ہاؤس گیسز کے حجم کو اس سطح تک محدود رکھنے کی لاگت دنیا کی 3 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہو سکتی ہے۔

کیلیفورنیا کی سٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سٹیفن شنیڈر کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسز کے حجم کو 450 پی پی ایم تک محدود رکھنا اب نا ممکن ہے۔ ان کے مطابق تاہم انہیں 450 سے 550 پی پی ایم کے درمیان رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے وگرنہ درجہ حرارت میں دو سے تین درجے اضافے سے ساحلی علاقوں پر مسائل، پہاڑی گلیشیئرز کے غائب ہونے اور برف کی چادروں کے پگھلاؤ کا خطرہ رہے گا۔