Friday, 28 July, 2006, 08:19 GMT 13:19 PST
اسرائیل کی طرف سے جمعرات کی رات بھی لبنان پر حملے جاری رہے اور اس کی فوج کے مطابق انہوں نے ایک سو تیس اہداف کو نشانہ بنایا۔
ان اہداف کے بارے میں اسرائیل کو شبہہ تھا کہ یہاں سے حزب اللہ اس پر راکٹ فائر کر رہا تھا۔ ان حملوں میں جانی نقصان کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
دریں اثناء جنوبی لبنان سے سینکڑوں دیہاتیوں کو طائر میں نسبتاًمحفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ لوگ دو ہفتوں سے جاری لڑائی کے دوران اپنے گھروں میں پھنسے رہے جہاں ہر طرف مسلسل بمباری ہو رہی تھی اور خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔
اسرائیل میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ دو ہفتوں کی بمباری کے باوجود حزب اللہ کی طرف سے راکٹ فائر کیے جا رہے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے پی نے لبنانی سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے جمعہ کو جنوبی لبنان میں حملے کیئے جس سے ایک چار منزلہ عمارت تباہ ہوگئی لیکن ابتدائی طور پر کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حکام نے بتایا کہ حملے میں عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی۔
اے پی کے مطابق حکام نے نام نہ بتائے جانے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے جنوب مشرقی لبنان میں چار حملے کیئے جن سے علاقے میں سڑکیں تباہ ہو گئیں۔
اے پی نے سیکیورٹی حکام کے حوالے بتایا کہ جمعرات کی شام کو لبنان کے علاقے میدون میں پندرہ منٹ میں نو اسرائیلی میزائیل فائر کیے گئے، تاہم رسائی نہ ہونے کی وجہ سے وہاں جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے پالیسی بیان کا حتمی مسودہ اس سے بہت مختصر تھا جو چین نے تجویز کیا تھا۔ اسرائیل اور اقوام متحدہ کی طرف سے مبصرین کی ہلاکت کے بارے میں مشترکہ تفتیش اور ’اقوام متحدہ کے عملے پر جان بوجھ کر کیئے گئے حملے‘ کی مذمت کو مسودے سے نکال دیا گیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک چینی مبصر بھی شامل تھا۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے اقوام متحدہ کے بیان کو متوازن اور منصفانہ قرار دیا۔ اسرائیل نے منگل کو مبصرین کی ہلاکت کو حادثہ قرار دیا اور اس پر معذرت کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیل سے بمباری روکنے کے لیئے ایک درجن بار رابطہ کیا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
چین کے اقوام متحدہ میں سفیر نے بظاہر امریکہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے موقف کے مستقبل بعید میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کے روز سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بحث بھی مشکل ہو گی۔
شام
شام نے کہا ہے کہ بدھ کو روم میں ہونے والے مذاکرات اس وجہ سے ناکام ہوئے کہ ان میں شام اور ایران کو نہیں بلایا گیا تھا۔ شام میں کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ لبنان میں لڑائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک عرب علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ جاری ہے۔
ٹونی بلیئر
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر صدر جارج بُش سے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بارے میں بات چیت کے لیئے واشنگٹن روانہ ہو رہے ہیں۔ بلیئر کو اِس امریکی موقف کی حمایت کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے کہ لبنان کے مسئلے کی ذمہ داری حزب اللہ اور اس کے حامیوں پر عائد ہوتی ہے۔