Saturday, 03 December, 2005, 11:50 GMT 16:50 PST
عالمی حدت کے خلاف عمل کے دن کے موقع پر تیس سے زائد ممالک میں آلودگی کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
توقع ہے کہ مونٹریال کے علاوہ واشنگٹن، لندن، سڈنی اور جوہانسبرگ میں ہزاروں لوگ ان مظاہروں میں شرکت کریں گے۔
یہ مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کینیڈا کے شہر مونٹریال میں اقوام متحدہ کا اجلاس ہو رہا ہے۔
ماحولیات کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ عالمی حدت کے خدشے کے خلاف حکومتوں کے اقدامات ناکافی ہیں۔
اس سلسلے میں پانچ گروپ جن میں ’گرین پیس‘ اور ’کلائمیٹ کرائسس کولیشن‘ شامل ہیں مونٹریال میں امریکی سفارت خانے میں یادداشت بھی پیش کریں گے۔
اس یادداشت پر چھ لاکھ امریکیوں کے دستخط ہیں اور اس میں صدر بش اور امریکی کانگریس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ عالمی حدت کو روکنے میں مدد کریں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی اس دس روزہ کانفرنس میں 189 ملکوں کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد کیوٹو پروٹوکول پر عمل درآمد اور اس کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اقدامات پر غور کرنا ہے۔
کیوٹو پروٹوکول اس سال کے شروع میں نافذ ہوا اور اس کی معیاد 2012 تک ہے۔ اس کے تحت صنعتی ملکوں کو اپنی آلودگی کی مقدار اور گرین ہاؤس گیسوں میں 2ء5 فیصد تک کمی کرنا ہو گی۔
امریکہ ان گیسوں کو سب سے زیادہ پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس نے کیوٹو پروٹوکول پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس پر عمل درآمد بہت مہنگا ہوگا اور اس معاہدے میں بہت سے نقائص ہیں۔
ماحولیات کے لیے بی بی سی کے نمائندے ٹم ہرش کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکہ اور دیگر اہم ترقی یافتہ ملکوں کو اس بحث میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاہم ان پر یہ دباؤ نہیں ڈالا جائے گا کہ وہ معاہدے پر دستخط کریں اور اپنے لیے اہداف مقرر کریں۔