http://www.bbc.com/urdu/

Saturday, 03 December, 2005, 13:57 GMT 18:57 PST

ماحولیاتی کانفرنس لفاظی میں دب گئی

ماحولیاتی آلودگی کی عالمی کانفرنس کے دوران ماحولیات کے لیے کام کرنے والے گروپ اس بات پر پریشان ہیں کہ وہ آلودگی کے مسئلے کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں۔

عام طور پرامریکہ کو اس کے کیوٹو معاہدہ پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے عالمی حدت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور اس ضمن میں دوسرا نمبر سعودی عرب کا ہے۔

ان دنوں امریکی مندوبین کچھ خاموش ہیں کیونکہ زیادہ تر بحث معاہدے کی تفصیلات پر ہو رہی ہے جس سے امریکہ نے اپنے آپ کو باہر رکھا ہوا ہے۔

اس کانفرنس میں ہر روز ایک ملک کے لیے ایوارڈ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ جاپان کو اس ایوارڈ کا ملنا ماحولیاتی گروپوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جاپان نے آلودگی پیدا کرنے والی گیسوں کی نگرانی کے متعلق نظام وضع کرنے کی تجویز دی ہے۔

لیکن لگتا یوں ہے کہ ماحولیات کے لیے کام کرنے والے گروپ لفاظی اور ادارہ جاتی نظام وضع کرنے کی بحث میں پڑنے کی وجہ سے دنیا کے عام آدمی کو اپنا پیغام دینابھول گئے ہیں کہ اسے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کی ایک مثال اس ہفتے کے آغاز میں دیکھنے میں آئی جب افریقہ سے مقامی رہنماؤں کو کینیڈا کی سردی میں لا کر کھڑا کر دیا گیا تاکہ جنگلوں کے بچاؤ کے حق میں احتجاج کیا جا سکے۔

اس موقع پر جو نعرہ لگایا گیا وہ کچھ اس طرح تھا ’اب ایجنڈا آئٹم نمبر چھ کی حمایت کرو‘۔ اگرچہ اس میں بھی ایک معنی ہے لیکن یہ ’وہیل مچھلی کو بچاؤ‘ یا ’ایٹم بم نامنظور‘ کی طرح عام لوگوں کے لیے قابل فہم نہیں ہے۔

یہ مسئلہ صرف ماحولیاتی گروپوں کے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ کانفرنس کے سرکاری مندوبین، کاروباری افراد اور صحافی جو ایک عرصہ سے اس موضوع سے منسلک ہیں کچھ ایسی ہی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والے اداروں میں اب دوسری نسل کے لوگ آ چکے ہیں اور انہیں اچھی طرح پتا ہے کہ مشترکہ عمل درآمد، ’ سرٹیفائڈ ایمیشن ریڈکشن‘ یا مراکش معاہدہ سے کیا مراد ہے۔

اس کانفرنس میں مندوبین کے لیے یہ فیصلہ کرنا ایک چیلنج ہو گا کہ آیا یہ کانفرنس اپنے طویل مدتی اہداف کے حصول کے سلسلے میں کامیاب رہی یا نہیں۔

اس سے بھی بڑا چیلنج یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ان آٹھ ہزار شرکاء میں سے کوئی ایسا ہے جو باقی دنیا کو سمجھا سکے کہ زمین پر اس وقت کیا ہو رہا ہے۔