Friday, 06 August, 2004, 08:05 GMT 13:05 PST
عراق کے مقدس شہر نجف میں جمعہ کی صبح تازہ لڑائی ہوئی ہے اور امریکی فوجی طیاروں نے قبرستان میں پناہ لینے والے شیعہ ملیشیا کے کارکنوں پر بمباری ہے۔
اطلاعات کے مطابق نجف شہر پر دھویں کے کالے بادلوں کو آسمان میں اٹھتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا اور شہر میں بجلی اور ٹیلیفون کی لائنیں منقطع کردی گئی تھیں۔
جمعرات سے عراق کے مختلف شہروں میں امریکی فوجیوں اور شیعہ ملیشیا کے کارکنوں کے درمیان ہونیوالی مسلح جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد چوالیس ہوگئی ہے۔
نجف میں تازہ لڑائی کا آج دوسرا دن ہے اور امریکی فوجی طیاروں نے شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدیٰ الصدر کے حامی ملیشیا کے کارکنوں پر راکٹوں سے حملے کیے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں نجف میں حالات خراب ہورہے تھے اور لڑائی جمعرات کے روز شروع ہوگئی۔ مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا اور دو امریکی فوجی زخمی ہوئے۔
نجف: آٹھ ہلاک
جمعرات کو نجف میں ہونیوالی لڑائی میں مقتدیٰ الصدر کے سات حامی اور ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد شیعہ ریڈیکل رہنما مقتدیٰ الصدر نے شہر میں فائربندی کی اپیل کی تھی۔
بغداد: تیس ہلاک
دارالحکومت بغداد کے شیعہ علاقے صدر سٹی میں جمعرات کو ہی امریکی فوجیوں کے ساتھ مسلح جھڑپوں میں تیس سے زائد عراقی ہلاک ہلاک ہوگئے۔
بصرہ میں مسلح جھڑپ: دو ہلاک
جمعرات کو ہی عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ ہونے والی پندرہ منٹ کی مسلح جھڑپ میں مقتدیٰ الصدر کے دو حمایتی مارے گئے تھے۔
امریکی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق نجف کے گورنر نے اس وقت امریکی فوج سے مدد مانگی جب نجف میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا گیا لیکن مقتدیٰ الصدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی اور برطانوی فوجیوں نے لڑائی کی شروعات کی تھی۔
ناصریہ میں لڑائی: چار ہلاک
گذشتہ شب عراق کے جنوبی شہر ناصریہ میں بھی مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا کے کارکنوں اور وہاں تعینات اطالوی فوجیوں کے درمیان مسلح لڑائی ہوئی۔ ملیشیا کے کارکنوں نے فوجیوں کے ایک کارواں پر حملہ کیا اور ایک پاور پلانٹ اور ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔
ناصریہ میں پولیس کے مقامی سربراہ کا کہنا ہے کہ اس لڑائی میں چار شہری ہلاک ہوگئے۔
گذشتہ جون میں مقتدیٰ الصدر اور قابض افواج کے درمیان ایک فائربندی پر مفاہمت ہوئی تھی لیکن اسی بیچ مسلح جھڑپیں بھی ہوتی رہی ہیں۔