Thursday, 05 August, 2004, 04:11 GMT 09:11 PST
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں بند زیادہ تر قیدیوں نے حال ہی میں قائم شدہ اپیل عدالتوں کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
ان اپیل عدالتوں نے گزشتہ ہفتے ہی کام کرنا شروع کیا تھا اور ان کے ذریعے گوانتانامو میں قید چھ سو کے قریب قیدیوں کو پہلی بار طالبان یا القاعدہ سے تعلق کی بنا پر اپنی حراست کو چیلنج کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
گوانتانامو کے ایک ترجمان کے مطابق ابھی تک آٹھ پیشیاں ہو چکی ہیں لیکن پانچ قیدیوں نے ٹریبیونل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا ہے۔ان پانچ قیدیوں میں تین یمن جبکہ ایک سعودی عرب اور ایک مراکش کا شہری بنایا جاتا ہے۔
ترجمان کے مطابق قیدیوں کے عدم تعاون کی وجہ سے ان پیشیوں کو ان حالات کے بارے میں شواہد پیش کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جن میں ان قیدیوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپیل عدالتوں کی تشکیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ ان عدالتوں میں پیشی کے دوران قیدیوں کو وکیل رکھنے کی سہولت مہیا نہیں کی جاتی۔
جمعرات کے روز پہلی مرتبہ صحافیوں کو اپیل عدالتوں کی کارروائی سننے کا موقع ملے گا لیکن اس میں بھی انہیں کئی پابندیوں کا سامنا ہو گا۔