Saturday, 22 May, 2004, 17:45 GMT 22:45 PST
لیبیا کے صدر معمر قذافی نے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے اور لیگ کے ایجنڈے کو عرب عوام کی امنگوں کے برخلاف قرار دیا ہے۔
کسی بھی عرب سربراہ اجلاس کے موقع پر عربوں کی نااتفاقی کا مظاہرہ اب ایک روایت سی بن گیا ہے۔
اس بار نااتفاقی کے مظاہرہ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ کے افتتاحی خطاب کے موقع پر اس وقت دیکھنے میں آیا جب لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے خطاب کا بائیکاٹ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بائیکاٹ اس لیے کررہے ہیں کہ کانفرنس کا ایجنڈا عرب عوام کی امنگوں کے برخلاف عرب حکومتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے فیصلے کا محرک امر موسیٰ کی وہ تنقید تھی جو بظاہر بعض ملکوں کے یک طرفہ اقدامات پر کی گئی تھی، شاید یہ تنقید لیبیا کی جانب سے وسیع تباہی کے ہتھیاروں سے دستبرداری کی جانب ایک اشارہ تھی۔
عرب لیگ کے رکن ملکوں میں سے ایک تہائی اس کانفرنس سے غیرحاضر ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ’اس غیرحاضری کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ غیر حاضر ملک کسی بھی اختلافی معاملے سے پہلو بچانا چاہتے ہوں‘ اور یہ معاملات عموماً ایسے اجلاسوں کے موقع پر سامنے آتے ہیں جب عرب عوام قیادت کے لیے اپنے رہنماؤں کی جانب دیکھتے ہیں۔