Friday, 29 June, 2007, 08:11 GMT 13:11 PST
مختار آزاد
کراچی
فائزہ کراچی میں واقع ایک دفتر کے ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں کام کرتی ہیں۔ ایک ہزار گز پر مشتمل بنگلے کا زیرِ عمارت رقبہ چھ سو گز ہے جس میں تیس افراد کام کرتے ہیں اور عمارت کے اندرائیر کنڈیشنروں کی تعداد بھی تیس ہے، مگر پھر بھی انہیں شکوہ ہے ’ کراچی کا موسم اب زیادہ گرم رہنے لگا ہے‘۔
سرفراز احمد کا دفتر کثیرالقومی کمپنی کی بارہ منزلہ عمارت میں ہے۔ جس کے سامنے کی دیوار شیشوں سے بنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے ’گرمی اب بہت بڑھ رہی ہے۔ دھوپ کمرے میں سیدھی آتی ہے۔ ایک ائیر کنڈیشنر سے گزارا نہیں ہورہا، اسی لیے دوسرا بھی لگوا لیا ہے‘۔
فائزہ اور سرفراز تنہا ہی نہیں کراچی کے باشندوں کی اکثریت شاکی ہے کہ گرمی زیادہ پڑنے لگی ہے۔ گھر ہو یا دفتر، ائیر کنڈیشنر کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔
مرکزِ شہر سے زیادہ قریب رہنے اور کم زمین کے باعث زیادہ سے زیادہ استعمال کے جنون نے دفاتر، شاپنگ پلازوں اور فلیٹوں کو ایسی بے ہنگم تعمیرات میں تبدیل کردیا ہے جس میں دھوپ، ہوا، صحتمند ماحول اور توانائی کی کفایت کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ اسی لیے جب سورج کی روشنی دن میں بھی اندر نہ آئے تو دن رات بلب جلائے جاتے ہیں۔ کراچی میں گرمیوں کے دن بھی ہوا سے خالی نہیں، لیکن جب کھڑکیوں کی سمت درست نہ ہو۔ کئی کئی منزلہ بلاک ایک دوسرے سے جڑے کھڑے ہوں تو ہوا کہاں سے آئے گی۔
کراچی کا طرزِ تعمیر کیا ہے۔ یہ تو عیاں ہوچکا لیکن اس شہر کا تعمیراتی پس منظر کیا ہے؟
انیسویں صدی کی اوائلی چار دہائیوں میں جب کراچی میں بندرگاہ کے ذریعے تجارت بڑھی تو خوشحال، متوسط طبقے اور مزدوروں کی بستیاں آباد ہونا شروع ہوئیں۔ خوشحال طبقے میں پارسیوں اور ہندو تاجروں کا شمار ہوتا تھا جن کے بنگلے کشادہ اور برطانوی طرزِ تعمیر اور ہندوستانی فنِ تعمیر کا امتزاج ہوتےتھے۔ متوسط طبقے کے ملازمت پیشہ یا تجارت کرنے والے اور اینگلو انڈین باشندوں نے کھارادر، میٹھادر، برنس روڈ اور صدر کو اپنا مسکن بنایا، جہاں فلیٹ سر اٹھانے لگے۔ ان تعمیرات میں بھی ہوا کے رخ اور سورج کی روشنی کاخاص خیال رکھا جاتا تھا۔ بنگلوں میں بیٹھک کو ’گول کمرہ‘ کہتے تھے کیونکہ اس گولائی دار کمرے کا رخ مغرب کی سمت مرکزی گیٹ کی جانب ہوتا تھا۔ اس میں کئی کھڑکیاں ہوتی تھیں۔ جس کا مقصد دن میں سورج کی روشنی سے کمرہ روشن اور ہوا سے اسے ٹھنڈا رکھنا ہوتا تھا۔ نیز چھت پر روشن دان نما جگہ رکھی جاتی تھی۔ جسےشیشے سے ڈھانپ کر سورج کی روشنی سے دن میں کمرے کو روشن رکھا جاتا تھا۔
تیسرا دور 1947ء کے بعد شروع ہوتا ہے، جب ایک دم اس شہر پر آبادی کا بے پناہ دباؤ پڑا، یوں اگلی دو دہائیوں میں شہر بے ترتیبی سے پھیلنے لگا۔ منظم، ماحول دوست طرزِ تعمیر کی جگہ بد انتظامی نے لے لی۔
کراچی شہری حکومت کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ کراچی کے لیے نیا ماسٹر پلان تیاری کے مراحل میں ہے جس میں زمین کے استعمال (لینڈ یوز پلان) کو اہمیت دی جارہی ہے۔ تاہم جو ہوچکا اس کے منفی اثرات باقی رہنے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ نیا ماسٹر پلان2020ء تک کے لیے بنایا جارہا ہے۔
حیدر علی کا جو بلڈر ہیں کہنا ہے کہ ’ کروڑوں میں زمین خریدتے ہیں۔ ہمارے لیے ایک ایک انچ قیمتی ہے۔ تو پھر ہم اسے استعمال کر کے پیسے کیوں نہ کمائیں۔ اب تو خریدار کو بھی غرض نہیں کہ فلیٹ کتنا صحتمند ماحول رکھتا ہے تو پھر ہم کیوں زیادہ فکر کریں‘۔
صائمہ بیگ ماحولیاتی اقتصادیات کی ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کراچی میں بے ہنگم تعمیرات اقتصادیات پر بوجھ ہیں اور اس سے توانائی کی ضرورت زیادہ ہوئی ہے۔ اس طرف توجہ نہیں دی گئی کہ شہر میں ایئر کنڈیشنر استعمال کرنے والوں کی تعداد کتنی ہے۔ اندازوں کے مطابق دفاتر ہوں یا گھر، کم از کم پچیس فیصد شہری ائیر کنڈیشنر استعمال کرتے ہیں۔ خوشحال علاقوں کے ایک گھر میں دو سے چار تک ائیر کنڈیشنر کام کررہے ہیں۔ دفاتر میں تو یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق کم از کم پچاس لاکھ سے زائد ائیر کنڈیشنر دن رات چلتے ہیں۔ گھروں اور دفاتر کی تعمیر میں تھوڑا سا خیال رکھا جائے تو ماحول کی بہتری میں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ہم گھر کو ٹھنڈا اور شہر کو گرم کررہے ہیں‘۔
عالمی ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں عمارتیں موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت لانے والی مہلک گیسوں کی پچاس فیصد شرح کے اخراج کی ذمہ دار ہیں۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ’کلنٹن فاؤنڈیشن، کے پروگرام ’کلنٹن کلائمٹ انیشیٹیوز‘ نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے اس ماہ دنیا کے متعد بڑے شہروں کی عمارتی اصلاح کر کے ماحول میں مہلک گیسوں کے اخراج میں کمی کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ جس میں لندن، بنکاک، شکاگو، برلن اور نیویارک کے علاوہ ممبئی اور کراچی کو بھی شامل کیا گیاہے، جہاں شہری اداروں کے اشتراک سے عمارتوں کا اصلاحی پروگرام شروع کیا جائے گا۔ تاکہ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔