ریاض سہیل
بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی
تحفظ ماحولیات کی عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امدادی تنظیموں نے زلزلے کے باعث پیدا ہونے والے ماحولیاتی خطرات کی جانب توجہ نہ دی تو مزید انسانی جانیں ضائع ہوسکتی ہیں۔
بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر اور کیئر انٹرنیشنل نے ایک مشترکہ الرٹ میں کہا ہے کہ متاثرین کے وہ ٹھکانے جو پہاڑوں سے گزر جانے والی سڑکوں اور پہاڑی ڈھلوانوں پر قائم ہیں خاص طور پر خطرات کی زد میں ہیں اور اسی لیے عارضی ٹھکانے فراہم کرنے کے لیے سڑکوں اور پہاڑی ڈھلوانوں، چشموں اور دریا کے کناروں سے گریز کیا جائے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ مقامات تیز سیلاب کی زد میں بھی آسکتے ہیں مٹی کے تودوں اور بڑے پہاڑی پتھروں کے گرنے سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے راستے میں رکاوٹیں آچکی ہیں اور ان کے ٹوٹنے سے آنے والے ممکنہ سیلاب خطرات میں اضافے کا سبب ہو سکتے ہیں۔
آئی یو سی این، ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر اور کیئر انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پناہ گاہیں تعمیر کرنےاور ایندھن کے واسطے زلزلے سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کی لکڑی کی ضرورت باقی ماندہ جنگلات کے لیے ایک خطرہ ہے۔ آنے والی سردیوں میں زلزلے کے متاثرین کے لیے لکڑی کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے جنگلات پر انحصار کم کر کے لوگوں کو متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں۔