Monday, 14 May, 2007, 16:28 GMT 21:28 PST
حسن مجتبی
سان ڈیاگو، کیلیفورنیا
انہوں نے بارہ مئي کو کراچي میں وہی دہرایا۔
یہ شاید ایم کیو ایم کی اب چالیس کے پیٹے سے زائد کی قیادت نے انیس سو اسی کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی میں پٹ کر اسلامی جمعیت طلیہ سے سیکھا تھا کہ کیمپس اور ہاسٹلز میں اگر شیٹیں، پوسٹر بینر یا پروگرام ہوں گے تو وہ صرف جمعیت کے ہی ہوں گے۔ ’ورنہ جیوے جیوے پیر مودودی‘۔ اور یہی کچھ جامشورو اور اندرون سندھ کے کئی تعلیمی اداروں میں تب جیے سندھ والوں کا وطیرہ تھا: ’جی ایم سید رہبر آ، سندھو دیش مقدر آ۔‘
اور یہی انہوں نے بارہ مئی کو کراچي میں کیا۔
انیس سو اسی کی دہائي میں عزیز آباد میں پان کے کھوکھے پر ایک رات بی بی سی پر خبریں سننے کے بعد جماعت اسلامی کو برا بھلا کہنے پر مقامی’جماعتیوں‘ نے ’بڑے بھائي‘ کی پٹائی کردی تھی۔ تب عزیز آباد میں قریبی ’ کیفے آبشار‘ نامی ایک چائے خانے کی میز پر شطرنج کی بساط جمائے کوئی تین بڈھوں میں سے ایک کی نظر التفات جماعت سے مار کھائے اس الطاف حسین نامی نوجوان پر پڑ گئي تھی۔
اس زیرک شطرنج کے کھلاڑی، صاحب کلام، بلا کے ’ٹیبل ٹاکر‘ بڈھے کا نام سید اختر رضوی تھا۔
کیفے آبشار پر شطرنج کے کھلاڑی یہ بڈھے بائيں بازو کی سوچ رکھنے والے، شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی اور جی ایم سید سے ’یاد اللہ‘ والے لوگ تھے۔ ان کے ایک گرو نیشنل عوامی پارٹی سندھ کے سابق صدر اور دانشور محمود الحق عثمانی بھی تھے۔
حمود الحق عثمانی نے ان دنوں سندھ یونٹی بورڈ کے نام سے سندھی اور اردو بولنے والے دانشوروں اور سیاستدانوں کی ایک تنظیم بھی قائم کی ہوئی تھی۔ یہ ملک پر ضیاءالحق کے مارشل لاء کے دن تھے۔ بھٹو کو پھانسی لگ چکی تھی۔ پاکستان نیشنل الائينس جماعت اسلامی سمیت آمر فوجی حکومت میں شامل تھی۔
کراچي کے عام اردو بولنے والے لوگوں میں جماعت اسلامی اورمولانا شاہ احمد نورانی کی جمیعت علمائے پاکستان (جے یو پی) سے بیزاری اور فرسٹریشن اٹھنے لگي تھی۔
آئے دن کراچـي میں شیعہ سنی فسادات بھڑکنے لگے تھے جنکا خاص نشانہ فیڈرل بی ایریا، انچولی، ناظم آباد، لیاقت آباد، اور ملیر جیسے علاقے تھے۔اردو بولنے والے طلبہ اور طالبات سندھ کے تعلیمی اداروں میں پٹ کر گھر واپس آتے تھے اور کراچـی کا سفید پوش مہاجر منی بس یا وین والے مغرور مزاج کنڈکٹر یا ڈرائیور سے گالیاں کھا کر بغیر ’بقایا‘ کے گھر لوٹتا تھا۔ یا کم از کم تب ایسا لگتا تھا۔
![]() | |
| انیس سو اسی کے وسط میں نشتر پارک کراچـي میں مہاجر قومی موومنٹ کا پہلا اجتماع ہوا |
سید اختر رضوی کے نزدیک، جو دیگ پکنے کے لیے انہوں نے آگ پر چڑھائي تھی اسکا ڈھکن اس نوجوان الطاف حسین نے کھولنا تھا۔
مذہبی جماعتوں کے تیز اثر میں رہنے والے مہاجروں کو قوم پرستی (جسے مہاجر کفر سمجھتے تھے) اور غیر فرقہ واریت کا ہولے ہولے ہلکا ڈوز دینے کیلیے الطاف حسین جیسے اپنی دھن کے پکے اور تقریر باز نوجوان میں سید اختر رضوی کو قائدانہ صلاحتیں نظر آگئيں تھیں۔
سید اختر رضوی نے اپنے آدرشوں کے مطابق ’قائد مہاجر‘ نوجوان کی تلاش کتنے ہی نوجوانوں میں کی تھی اور سب نے انہیں تب تک مایوس کیا تھا۔ اس سے قبل ایسے قائدِ مہاجر کیلیے قرعہ نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اور کراچی سے پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر کا بھی نکلا تھا لیکن وہ اس پر پورے نہیں اترے۔ اس نوجوان نے کچھ دنوں اردو دیش تحریک بھی قائم کی تھی۔
![]() | |
| جو دیگ سید اختر رضوی نے آگ پر چڑھائي تھی اسکا ڈھکن اس الطاف حسین نے کھولنا تھا |
کراچی یونیورسٹی میں دوسری تنظیموں سے وابستہ طلبہ و طالبات اس لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور اسکے ساتھیوں کے ٹولے کی حرکات و سکنات اور خطابت کا مذاق اڑایا کرتے۔ انیس سو اکہتر کی جنگ میں رضاکار فوج میں منتخب ہونے والے الطاف حسین کی پوسٹنگ ڈھاکہ ہوگئی تھی کہ جنگ چھڑ گئي۔
(جہاں بھی فوجی نظر آئے ’پاک فوج زندہ باد‘ کا نعرہ لگائيں۔ الطاف حسین نے انیس سو نوے کی دہائی میں کراچـی میں فوجی آپرییشن کے کچھ دنوں بعد اپنے کارکنوں سے خطاب میں کہا تھا)۔
لیکن انیس سو اسی کے وسط میں نشتر پارک کراچـي میں مہاجر قومی موومنٹ کے پہلے اجتماع سے تقریر اور ’قرارداد مقاصد‘ کے مصنف بھی سید اختر رضوی ہی تھے۔ ایم کیو ایم کی قرارداد مقاصد کے مطالبات میں بھارت سے ڈاک خرچ میں کمی اور کھوکھرا پار کا بارڈر کھولنے جیسے مطالبات نے دونوں ملکوں کے تقسیم شدہ خاندانوں میں ایم کیو ایم کو مقبول کردیا۔
یہ طالبہ بشریٰ زیدی کی ہلاکت کے بعد کراچي میں پٹھان بہاری، پٹھان مہاجراور پنجابی مہاجر فسادات کے بعد والی کراچي میں اب پانچویں قومیت کی بات کرنے والی ایم کیو ایم تھی۔ میرے ایک دوست نے اس درخت سے ایک پتہ اپنی ڈائری میں رکھ لیا تھا جہاں بشری زیدی کی منی بس سے کچلے جانے سے ہلاکت ہوئي تھی۔
انیس سو چھیاسی میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں جب ایم کیو ایم کراچي اور حیدرآباد میں اکثریت سے جیت کر آئی تو سید اختر رضوی بھی کراچی سے کونسلر منتخب ہوئے تھے۔ ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر سید اختر رضوی نے یہ جب یہ نششت جیتی تو وہ خیرپور میرس جیل میں قید تھے۔
لیکن اب سید اختر رضوی کہتے تھے کہ ایم کیو ایم میں سب کچھ ان کی ہدایات اور سکرپٹ کے مطابق نہیں ہو رہا۔ خاص طور سندھ میں نسلی فسادات انکے سکرپٹ کا حصہ نہیں یہ کوئی اور لکھ رہا ہے!
’ہم سے جو ٹکرائے گا لال بتی جاۓ گا۔ایم کیو ایم‘۔ حیدرآباد شہر کی دیواریں پینٹر جاوید کاردار کے دستخطوں سے ایسے رنگا رنگ نعروں سے جل اٹھیں تھیں۔ ’لال بتی‘ ہسپتالوں کے ایمرجنسی روم کو کہا جاتا ہے۔
جاوید کاردار کے خاندان کے لوگ بھی تیس ستمبر انیس سو اٹھاسی کو حیدرآباد میں سندھی قوم پرستوں اور ڈاکوؤں کی مشترکہ دہشتگردی میں مارے گئے تھے۔
سید اختر رضوی کہاں گئے؟ مہاجر قومیت کے یہ فلسفہ دان اپنی ہی تخلیق ’قائد کے غدار ہونے کے ناتے موت کے حقدار‘ ٹھہرائے جانے کے بعد کئی برسوں تک کراچی یا سندھ بدر رہے۔ اور وہ نوجوان بھی جو ایم کیو ایم کے جلسوں میں سندھی شاعر آکاش انصاری کی مشہور نظم ’ماں تو رونا نہیں‘ پڑھا کرتا تھا۔
جو قوم، بقول جوش ملیح آبادی، پان کی گلوری منہ میں رکھ کر ایک دوسرے کو سات دفعہ آداب بجا لاتی تھی اب ایک دوسرے کے سینے ٹھوک رہی تھی۔