Sunday, 18 March, 2007, 11:12 GMT 16:12 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
وہ جو کہتے ہیں نا کہ جب ستارے گردش میں ہوں تو چلتے اونٹ پر بیٹھے ساربان کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔حالات تقریباً ایسے ہی ہیں۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دیمک لگ گئی ہے۔
اور صدر پرویز مشرف ان لوگوں کی تلاش میں ہیں جنہوں نے انہیں تالاب میں دھکا دیا ہے۔
میرے دفتر کے خانساماں رحمت صاحب کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اور جنرل صاحب کے درمیان فاصلے برقرار رکھنے کے لیے چودھریوں نے ایک بار پھر ہاتھ دکھا دیا ہے۔ جب میں رحمت صاحب سے پوچھتا ہوں کہ کون سے چودھری؟ تو وہ مجھے ایسے دیکھتے ہیں جیسے گدھے کو۔
آپ کو شاید یاد ہو کہ صدر پرویز مشرف نے اپنی سوانح حیات میں تذکرہ کیا ہے کہ جب نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو فوج کی سربراہی سے ہٹایا تو اعلٰی فوجی قیادت نے دل ہی دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ آئندہ فوج کے سربراہ کی اس طرح سے بے توقیر رخصتی برداشت نہیں کی جائے گی۔چنانچہ جب جنرل مشرف کو اس وقت برطرف کرنے کی کوشش کی گئی جب وہ ہوا میں معلق تھے تو فوج کا خودکار نظام اپنے چیف کو بچانے کے لیے حرکت میں آ گیا۔ جنرل صاحب کو بحفاظت نیچے اتار لیا گیا اور نواز شریف کو اٹھا لیا گیا۔
بہت ہوچکا |
آج مرحوم وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی چودھویں برسی بھی ہے۔غالباً وہ آخری برسراقتدار سیاستداں تھے جن کی ریڑھ کی ہڈی کام کرتی تھی۔ ان کی برطرفی کے بعد سے تاحال جوڑ توڑ، سمجھوتے، راہِ فرار، سہل پسندی، شارٹ کٹ ذہنیت، کیمرے کے سامنے بھاشن بازی، پریس کانفرنس کلچر اور پیاز کی مہنگائی سے صدر کی وردی تک ہر معاملے پر کسی بھی شہر یا قصبے میں کل جماعتی کانفرنس کے ناٹک کے سوا سیاست میں کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔
شاید اسی سبب پہلی مرتبہ یوں لگ رہا ہے کہ مزاحمت کا ہراول دستہ وکلاء، صحافیوں اور شہری حقوق کے کارکنوں پر مشتمل ہے اور سیاستداں ان کے پیچھے پیچھے ہیں۔اور ان میں سے بھی کئی مڑ مڑ کے دیکھتے ہوئے چل رہے ہیں۔
![]() | |
| لگ رہا ہے کہ مزاحمت کا ہراول دستہ وکلاء، صحافیوں اور شہری حقوق کے کارکنوں پر مشتمل ہے |
اس ہڑابڑی میں نوبت اگر یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک پولیس سب انسپکٹر اپنے تیرہ ماتحت سپاہیوں کے ہمراہ اعلٰی حکام کو بتائے بغیر کسی بھی ٹی وی چینل کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے تو پھر واقعی صدر مشرف کو پریشان ہونے کی اشد ضرورت ہے۔
کہیں باہر سے نہیں گھر سے اٹھا ہے فتنہ
شہر میں اپنے ہی لشکر سے اٹھا ہے فتنہ
کیا تلافی کی ہے اب بھی کوئی صورت باقی
حاکمِ وقت کے دفتر سے اٹھا ہے فتنہ