Sunday, 26 November, 2006, 11:30 GMT 16:30 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
مرغی کا گوشت فروخت کرنے والا قصائی کیا کرتا ہے۔ آپ کے سامنے لوہے کے بڑے سے پنجرے میں بند سینکڑوں مرغیوں میں سے کسی پر بھی ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ باقی مرغیاں پھڑپھڑاتی ہوئی ایک طرف ہوجاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ دو تین سیکنڈ کے لیے کواں کواں بھی کرتی ہیں۔ لیکن قصائی کویقین ہوتا ہے کہ اس غول میں کوئی مرغی ایسی نہیں جو اس کے ہاتھ پر چونچ مارنے کے بارے میں سوچ سکے۔ شام تک قصائی کا پنجرہ خالی ہوجاتا ہے اور اگلے دن پھر نئی مرغیوں سے بھر جاتا ہے۔
وائلڈ لائف کی فلموں میں آپ کیا دیکھتے ہیں۔ایک چیتا یا دو چار لگڑبھگے ہزاروں جنگلی بھینسوں کے ریوڑ کے ساتھ چلنا شروع کردیتے ہیں اور کسی کمزور بھینسے کو تاک کر ریوڑ سے الگ کرلیتے ہیں۔ پورا ریوڑ خوف سےتتربتر ہوجاتا ہے اور شکاری چیتا یا لگڑ بگا ایک بھینسے کو منہ میں دبا کر گھسیٹتا ہوا لے جاتا ہے۔ اس بھینسے کی ماں تھوڑی دور تک شکاری کے پییچھے بھاگتی ہے مگر تھک ہار کر دور سے تماشا دیکھنے والے اپنے ہی ریوڑ میں دوبارہ شامل ہوجاتی ہے۔
پاکستان میں پچھلے چھ برس کے دوران اسٹیبلشمنٹ کا لگڑبھگا سینکڑوں لوگوں کو منہ میں دبا کر لے گیا اور اب بھی لے جارہا ہے۔ کیا کسی نے سوچا کہ پہلے ادوار میں لوگ زیادہ تر گرفتار ہوتے تھے مگر اب ہر ہفتے کسی نہ کسی کے غائب ہونے کی اطلاع اتنے تواتر کے ساتھ کیوں آتی ہے۔
![]() | |
| نیوز چینل ایسی خبر نشر کرنے سے گھبراتے ہیں |
لگڑبھگا جانتا ہے کہ جب کوئی صحافی غائب ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے ادارے کی خبر یا مسئلہ ہوتا ہے۔ جب کوئی سیاسی کارکن غائب ہوتا ہے تو صرف اس کی پارٹی ہی کچھ دنوں تک شور مچاتی ہے۔جب کوئی باپ یا بیٹا راہ چلتے نظر نہیں آتا تو باقی خاندان ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
نیوز چینل خبر نشر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ اخبارات پریس کانفرنس کی تفصیل دیتے ہوئے زرد پڑ جاتے ہیں۔ پارلیمانی ارکان فون بند کردیتے ہیں۔ بیورو کریٹس اور وزرا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ پولیس ایف آئی آر درج کرنے کا تصور نہیں کرسکتی اورعدالتیں سماعت ملتوی کردیتی ہیں۔
ایسی سول سوسائٹی سے اچھی تو شہد کی مکھیاں ہیں جن کے چھتے کے قریب سے گزرتے ہوئے اژدھا بھی احتیاط برتتا ہے۔وہ چیونٹیاں ہیں جن کی قطار دیکھ کر شیر بھی اپنے پنجے بچاتا ہے۔