Sunday, 19 November, 2006, 13:47 GMT 18:47 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کی طرف سے قومی اسمبلی سے استعفٰی دینے کے اعلان پر ڈھائی ہفتے بعد عمل درآمد کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھ میں میکے چلی۔اب بھی وقت ہے منالے ورنہ پلٹ کر نہ آنے کی۔
سینیٹ سے استعفی دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حالانکہ صدر مشرف نے تحفظِ حقوقِ نسواں بل کی منظوری کے لیئے سینیٹ کا اجلاس بلا لیا ہے۔ جبکہ صوبہ سرحد اور بلوچستان کی اسمبلیوں سے استعفٰی دینے کا بھی فیصلہ نہیں ہوا۔ حالانکہ یہ ترمیمی بل، جسے مولانا فضل الرحمان مبینہ طور پر ’پاکستان کو فری سیکس زون میں بدلنے کی سازش‘ کہہ چکے ہیں، سینیٹ سے منظوری کے بعد پورے ملک پر لاگو ہوجائے گا جس میں سرحد اور بلوچستان بھی شامل ہیں۔
اس دوران صدرِ مملکت نے ٹی وی پر نشری تقریر میں نئے بل کے فضائل بیان کرتے ہوئے بل کے مخالفین کی مذمت بھی کی اور یہ بھی کہا کہ کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم حدود قوانین کی آڑ لے کر کئی برس سے اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے بہیمانہ سلوک کرتے آئے ہیں۔ لیکن صدر مشرف نے اس قانون کے معمار جنرل ضیا الحق کا نام لینا تک مناسب نہیں سمجھا۔
جہاں تک ایم ایم اے کے سکریٹری جنرل کے اس مبینہ موقف کا معاملہ ہے کہ حدود آرڈیننس کے نئے ترمیمی قانون سے ملک کو فری سیکس زون میں تبدیل کیا جارھا ہے۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حدود قوانین کی غیر موجودگی میں یہ ملک چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے دس فروری انیس سو اناسی تک فری سیکس زون تھا۔
کیا کسی کے پاس ایسے اعدادوشمار ہیں جن سے ثابت ہو کہ انیس سو نواسی سے قبل زنا بالجبر اور بالرضا کی سالانہ جتنی وارداتیں ہوتی تھیں حدود قوانین کے نفاذ کے بعد ان میں کمی آ گئی۔
منافقت کی چوکھٹ پر |
سن پچاس کے عشرے کے بیشتر علما کا خیال تھا کہ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان اپوا جیسے اداروں کے ذریعے اس نظریاتی مملکت میں بے پردگی، بے حیائی اور مغرب زدگی کو فروغ دے رہی ہیں۔کئی علما نے تو محترمہ فاطمہ جناح کو بھی بے پردگی کے فروغ کا موجب قرار دیا۔اس زمانے میں دیواروں پر اپوا کے ’کرتوتوں‘ کی چاکنگ کی جاتی رہی۔
ایوب خان کے زمانے میں شروع ہونے والے خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کے بارے میں متعدد سرکردہ علما کی رائے یہ تھی کہ یہ دراصل مردوں کو نامرد، عورتوں کو بانجھ اور لڑکے لڑکیوں کو آزاد جنسی تعلقات کی راہ پر لے جانے کی یہودی ایوبی سازش ہے۔
سن ستر کے انتخابات سے پہلے یہ طوفان اٹھایا گیا کہ اگر ملحد، کیمونسٹ، سوشلسٹ بھٹو برسرِ اقتدار آ گیا تو نہ صرف مسجدوں میں تالے پڑ جائیں گے، لوگوں سے ان کے کاروبار اور گھر چھین لئے جائیں گے بلکہ زن و مرد نائٹ کلبوں کے اندر اور باہر عریاں ناچیں گے۔
اور اب یہ کہا جارہا ہے کہ حدود قوانین میں پارلیمینٹ کی جانب سے تین بنیادی ترامیم سے پاکستان کو فری سیکس زون بنانا مطلوب ہے۔
آخر ہمیں بالغ ہونے کے لئے مزید کتنا وقت چاہئیے۔