Sunday, 11 June, 2006, 12:53 GMT 17:53 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
گوانتانامو کے قید خانے میں ایک ساتھ تین قیدیوں کی مبینہ خودکشی سے زیادہ حیران کن واقعہ اس قید خانے کے انچارج رئیر ایڈمرل ہیری ہیرس کا یہ بیان ہے کہ بظاہر خودکشی کے اس واقعہ کی سوائے اس کے فوری طور پر کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ ہم پر دباؤ ڈالنے کے لیئے چالاک لوگوں کا ایک اور جنگی حربہ ہے۔ انہیں نہ تو اپنی جانوں کی پرواہ ہے اور نہ ہماری جانوں کی۔
رئیر ایڈمرل ہیری کا تبصرہ گیارہ ستمبر کے بعد جنم لینے والی اس سرکاری امریکی سوچ کا عکاس ہے جس کے تحت دنیا دو طرح کے لوگوں میں تقسیم کردی گئی ہے۔
ایک طرف وہ شیطانی لوگ ہیں جو امریکہ کی ترقی، عروج اور اسکے طرزِ زندگی کے حاسد ہیں اور اسے مکمل طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب بش انتظامیہ کی شکل میں خیر کی قوت ہے جو تنِ تنہا مہذب دنیا کی آزادی، جمہوری اقدار اور خوشحالی کو بچانے کے لیئے ان موزی پاگلوں کے آگے دیوار بن گئی ہے۔
اس نظریے کے تحت جو لوگ امریکی پالیسیوں کے حامی نہیں ہیں وہ دراصل دہشت گردوں کے ساتھی ہیں۔ صدام حسین سے لے کر فلسطین میں برسراقتدار اور اسرائیل سے برسرِ پیکار تنظیم حماس، لبنانی حکومت میں شامل حزب اللہ، مصر اور اردن کی اخوان المسلمون، چیچنیا کے چھاپہ مار، وسطی ایشیائی ممالک کی آمریتوں سے نبرد آزما ہر تنظیم، الجزائر کا اسلامک فرنٹ، فلپائن کے مورو باغی مسلمان، جنوبی تھائی لینڈ کے حکومت مخالف پتانی گوریلے، بگرام اور ابو غریب میں بلا وارنٹ بند قیدی اور گوانتانامو میں چار برس سے بلامقدمہ بند چالیس سے زائد قوموں کے پانچ سو کے لگ بھگ قیدی۔
ان سب کی ڈوریاں دراصل اسامہ بن لادن ، ایمن الزواہری اور ملا عمر جیسے لوگ ہلا رہے ہیں۔یہ سب تنظیمیں چاہے کوئی بھی دعوی کریں دراصل القاعدہ کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔اس لیئے ان سے مروت برتنا یا سیاسی ڈائیلاگ کرنا ایسا ہی ہے جیسے آپ بھیڑئے کو ڈنر پر مدعو کرلیں۔
یہ کوئی نئی امریکی سوچ نہیں ہے۔دو سو برس پہلے بھی امریکیوں کو یہی باور کرایا گیا تھا کہ ایک اچھا ریڈ انڈین صرف ایک مردہ ریڈ انڈین ہی ہو سکتا۔اب سے ساٹھ برس پہلے بھی امریکی لوگوں کو یہی خوراک پلائی گئی تھی کہ کیمونسٹ یا سرخا ہونے سے مرجانا کہیں بہتر ہے۔
اب اکیسویں صدی کے امریکی کو بھی یہی بتایا جا رہا ہے کہ ایک خاص نظریے کے ماننے والے زبان سے کچھ بھی کہیں وہ ہماری تہذیب کے درپے ہیں۔ انکی جانب سے ناانصافی کا واویلا محض ایک جنگی چال ہے۔لہذا جس طرح انکا زندہ رہنا خطرناک ہے اسی طرح انکا خود کو مارلینا بھی امریکہ کو بدنام و رسوا کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔
اس لیئے گوانتانامو کے کمانڈر کا یہ کہنا کہ تین قیدیوں کی خودکشی قید خانے کے ابتر حالات کے سبب نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا جنگی حربہ ہے بش حکومت کی اس سوچ کے عین مطابق ہے کہ کتنا برا زمانہ آگیا ہے۔ جس کا گلا دباؤ وہی آنکھیں نکالتا ہے۔