پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکی پر مشتمل اپنا سہ ملکی دورہ مکمل کر کے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔
وزیرِ اعظم کو انطالیہ ایئرپورٹ پر ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر تولگا برمیک، سفیر نیلوفر کایگسز، ترکی کی پارلیمنٹ کے رکن برہان قایاترک اور ترکی میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے الوداع کیا۔
وزیرِ اعظم کا یہ دورہ تین روز پر مشتمل تھا، جس کے دوران انھوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ وہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک ہوئے جہاں مختلف عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
وززیر اعظم ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دوروں کے دوران وزیرِ اعظم نے برادر ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں اور خطے و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔‘
وزیرِ اعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں دیگر حکام کے علاوہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار بھی شامل تھے، جنھوں نے ایکس پر اس دورے سے متعلق تبصرہ بھی کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے سعودی عرب اور قطر کے کامیاب اور مفید دوروں کے بعد اپنے سفارتی مصروفیات کے آخری مرحلے کو بھی مکمل کر لیا ہے، جہاں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ اہم دو طرفہ ملاقاتیں کی گئیں جن کا مقصد مختلف کلیدی شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔‘
اسحاق ڈار کے مطابق انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ بھی نہایت مثبت ملاقات ہوئی، جبکہ فورم کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں سے بھی بامعنی بات چیت کی گئی۔
اسحاق ڈار نے لکھا کہ ’اس دوران میں نے خود بھی متعدد اہم ملاقاتیں اور تبادلۂ خیال کیے‘۔
ان کی رائے میں یہ فورم اب ایک عالمی مکالماتی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے مختلف نقطۂ نظر سامنے آتے ہیں۔