آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے ’وقت محدود‘ ہے: صدر ٹرمپ کا ایران پر ایک اور حملے کا عندیہ

امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔‘ واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

خلاصہ

  • تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے 'وقت محدود' ہے: صدر ٹرمپ کا ایران پر ایک اور حملے کا عندیہ
  • براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز عراق سے آئے تھے: متحدہ عرب امارات کا دعویٰ
  • امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں 'کافی پیش رفت' ہوئی ہے: جے ڈی وینس
  • افغان طالبان سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورکس اور اُن کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا: وزیرِاعظم شہباز شریف
  • قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔
  • ایران نے جرمنی کے چانسلر کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کا متحدہ عرب امارات کے ایک جوہری پلانٹ کے قریب ہونے والے حملے میں کردار تھا۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ’کافی پیش رفت‘ ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع نہیں کرنا چاہتے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، وینس نے وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ \ہم سمجھتے ہیں کہ کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں لگتا ہے کہ ایرانی ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے مزید کہا کہ اُن کی حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اور امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے۔

    وینس کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رکھی جائے، اور اسی لیے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں۔‘

    امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ اُن کا ملک چاہتا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایسے عمل میں شامل ہو جو یہ یقینی بنائے کہ آنے والے برسوں میں تہران دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔

  2. تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سی ٹی ڈی اہلکار ہلاک

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سی ٹی ڈی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

    اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تربت پولیس کے ایک اہلکار عامر بلوچ نے فون پر بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے سی ٹی ڈی کے اہلکار کو ملک آباد کے علاقے میں حملہ کر کے ہلاک کر دیا۔

    ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت شبیر احمد آسکانی کے نام سے ہوئی ہے۔

    عامر بلوچ کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل سینیچر کے روز کو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل ہلاک ہو گئی تھی ۔

  3. براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز عراق سے آئے تھے: متحدہ عرب امارات کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ 17 مئی کو براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ہونے والے ڈرون حملے کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اس واقعے میں شامل تینوں یو اے ویز عراق سے بھیجے گئے تھے۔

    وزارتِ دفاع کے مطابق تین میں دو ڈرونز کو متحدہ عرب امارات کے فضائی نظام نے کامیابی سے مار گرایا تھا جبکہ تیسرا ڈرون پلانٹ کے اندرونی حصار کے باہر ایک بجلی کے جنریٹر کو لگا تھا۔

    وزارتِ دفاع کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی کے ساتھ چھ ڈرونز کا سراغ لگا کر اُنھیں مار گرایا ہے۔ بیان کے مطابق یہ ڈرونز ملک میں شہری اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

  4. عدم تحفظ کے باعث ٹرانسپورٹرز کا ٹرکوں کے ذریعے بلوچستان سے معدنیات کی ترسیل روکنے کا اعلان

    بلوچستان میں ٹرک مالکان کی تنظیم بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن نے عدم تحفظ کے باعث بلوچستان سے ٹرکوں کے ذریعے معدنیات کی ترسیل روکنے کا اعلان کیا ہے۔

    یہ اعلان ایسوسی ایشن کے صدر حاجی نور محمد شاہوانی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    خیال رہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران مستونگ، خاران سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد نے شاہراہوں پر معدنیات سے لدی متعدد گاڑیوں پر حملے کیے تھے جس سے بعض گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

    حاجی نور محمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ان ٹرکوں پر حملے کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے معدنیات کی ترسیل کی جا رہی ہوتی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 12 ٹرکوں پر حملے کیے گئے جن میں سے آٹھ ناکارہ ہو گئے اور اس سے ٹرانسپورٹرز کو 18 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    حاجی نور محمد کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کے باعث ٹرانسپورٹرز نے آئندہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے معدنیات نہ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ اب معدنیات سے لدے کسی ٹرک کو نقصان پہنچنا تو اس کی ذمہ دار متعلقہ کمپنی ہو گی۔

    ایسوسی ایشن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شاہراہوں پر سکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ تحفظ فراہم کرنے کے بجائے پولیس، کسٹمز اور دیگر ادارے ٹرانسپورٹرز کو تنگ اور ہراساں کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حال ہی میں کسٹمز کے گودام میں آگ کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز کی اربوں روپے کی گاڑیاں جل گئیں۔

    حاجی نور محمد نے مطالبہ کیا کہ کسٹمز کے گودام میں آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کروائی جائے اور ٹرانسپورٹرز کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

  5. بلوچستان میں معدنیات کے شعبے سے منسلک کمپنیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے فرنٹیئر کور تعینات کرنے کا فیصلہ

    بلوچستان کے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔

    منگل کے روز ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزرا اور دیگر سویلین و فوجی حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے بلوچستان کے رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بلوچستان میں معدنیات کے تحفظ کے لیے ایک راہداری قائم ہو گی۔ اس سکیورٹی راہداری میں فرنٹیئر کور کے اضافی ونگز، شاہراہوں پر سکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ، سرحدوں پر پوسٹس وغیرہ شامل ہوں گی۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معدنیات سے منسلک منصوبوں پر کام کرنے والی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کا ملک میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگری، گورننس کے نظام میں بہتری، ڈیجیٹائزیشن، کیش لیس اکانومی کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔

  6. تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے ’وقت محدود‘ ہے: صدر ٹرمپ کا ایران پر ایک اور حملے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’محدود وقت‘ بچا ہے کیونکہ امریکہ اسے ’جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتا۔‘

    منگل کو واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے پاس دو، تین دن اور ہیں، شاید جمعے، سنیچر اور اتوار یا اگلے ہفتے کی ابتدا تک کا وقت ہے۔‘

    خیال رہے صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ انھوں نے منگل کو ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر انھوں نے اسے مؤخر کیا۔

  7. افغان طالبان سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورکس اور اُن کے سہولت کاروں کو انجام تک پہنچایا جائے گا: وزیرِاعظم شہباز شریف

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے تاکہ افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد پراکسیز کے خلاف معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو سخت سزا دی جا سکے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے پاکستان پر حملے اور جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کے کشیدگی پر قابو رکھنے کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے دانشمندانہ اور منصفانہ موقف کو عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔‘

    وزیراعظم نے قومی خودمختاری کے تحفظ اور ملک میں امن و استحکام یقینی بنانے میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عملی تیاری اور قربانیوں کو سراہا۔

    منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا اور فیکلٹی و زیر تربیت افسران سے خطاب کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ہر قسم کی مہم جوئی کے خلاف پاکستان کے اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کا اعادہ بھی کرتے ہیں۔‘

    اس موقع پر وزیر اعظم کے ساتھ وفاقی وزیر دفاع، وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کے علاوہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان بھی موجود تھے۔

  8. گھوٹکی: والدہ کے سامنے ہوئے بیٹی کے مبینہ ریپ کا مقدمہ درج, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے شمالی ضلع گھوٹکی میں ایک خاتون سے مبینہ اجتماعی ریپ کرنے کا مقدمہ پانچ ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے اس کیس میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گیی ہے۔

    یہ ایف آئی آر متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں تھانہ عادلپور میں درج کی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تین مئی کو اُن کی اہلیہ اور بیٹی شام کے اوقات میں اکٹھے گھاس کاٹنے گئی تھیں۔

    ایف آئی آر میں والد کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کچھ ہی دیر بعد والدہ کو اپنی بیٹی کے چیخنے کی آوازیں قریب واقع مقامی وڈیرے کے ڈیرے سے آئیں اور وہاں پہنچنے پر پتا چلا کہ ملزم وڈیرہ مشتاق اپنے پانچ دیگر ساتھیوں سمیت وہاں موجود ہے جبکہ وہاں موجود ایک شخص نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔

    ایف آئی آر کے مطابق والد نے الزام عائد کیا ہے کہ اِس موقع پر اُن کی بیٹی کو بے لباس کیا گیا اور باری باری وہاں موجود افراد نے اس کا ریپ کیا۔

    یہ مقدمہ 19 مئی کو مقامی تھانے میں دائر کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ تین مئی کو پیش آیا تھا۔ مدعی نے مقدمے کے اندراج میں تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاقہ معززین سے مشورہ کرنے کے بعد مقدمہ درج کروانے آئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل متاثرہ خاتون اور اُن کے اہلخانہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنے ساتھ پیش آئے مبینہ واقعے اور ریپ کی تفصیلات بتا رہی تھیں۔

    مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کا میڈیکل کروایا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون 19 مئی 2026 کو معائنے کے لیے ہسپتال پہنچیں جبکہ اُن کے مطابق مبینہ واقعہ تین مئی 2026 کو پیش آیا ہے۔ گائناکولوجیکل معائنے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون کی ہائمن برقرار نہیں تھی جبکہ معمولی ویجائنل بلیڈنگ بھی تھی۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ریفرل ادارے کی فیڈبیک میں بتایا گیا کہ معائنے کے دوران کسی قسم کا زخم نہیں پایا گیا جبکہ یہ بھی درج کیا گیا کہ ویجائنا میں دو انگلیاں باآسانی داخل ہو رہی تھیں۔

    ایس ایس پی انور کھیتران نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی آر اور میڈیکل کروایا گیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

  9. سعد ایدھی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف کراچی میں احتجاج, ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کراچی میں فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف خاندان اور مزدور تنظیموں کی جانب سے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا۔

    غزہ میں امداد پہنچانے اور اسرائیلی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے فریڈم فوٹیلا جمعرات کی شام ترکی سے روانہ ہوئی تھی جس میں پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی بھی موجود تھے۔

    سعد کی والدہ صبا فیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی دوپہر 12:30 سعد نے انھیں فون کیا اور کہا کہ اسرائیلی فوج نے گھیرا کرلیا ہے انھیں بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    ’آپ ہم سب کے لیے دعا کریں۔ فلسطین کے لیے دعا کریں، کہ وہ ظلم سے آزاد ہوں، اور ان کی رہائی کے لیے دعا کریں‘ یہ اس کی آخری گفتگو تھی اور پھر رابطہ منقطع ہوگیا۔

    صبا ایدھی کے مطابق ’سعد نے 24 اپریل کو پاکستان چھوڑا اور اس وقت انھیں ترکی سے نکلے ہوئے تقریباً تین چار دن ہو چکے تھے، ترکی میں انھوں نے تمام سامان خریدا تھا، بشمول ادویات، بچوں کا فارمولا ملک ، کھانا، اور دوسری چیزیں جن کی خواتین کی ضرورت تھی۔ ‘

    ’وہ دو دن پانی میں رہے اور گرفتار کر لیے گئے۔ ‘

    سعد ایدھی صبا اور فیصل ایدھی کا بڑے بیٹے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اور سعد کی اہلیہ نے انھیں روکا لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا مشن ہے اور وہ ضرور جائیں گے۔

    فیصل ادیھی نے بتایا کہ ان سے ابھی تک کسی کا کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ گورنر سندھ سمیت سیاسی جماعتوں کے بیان ہی آرہے ہیں باقی حکومت پاکستان نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

  10. ایران کے صوبے زنجان میں غداری کے الزام میں 52 افراد کے اثاثے ضبط

    ایران کے صوبے زنجان میں غداری کے الزام میں 52 افراد کے اثاثےضبط کر لیے گئے ہیں۔

    زنجان کے چیف جسٹس نے کہا کہ ان افراد کے اثاثے مختلف شہروں میں ایک قانون کے تحت ضبط کیے گئے، جس میں اسرائیلی حکومت کے ساتھ جاسوسی اور تعاون کے خلاف سخت سزاؤں کا ذکر ہے۔

    یہ کارروائی عدالتی حکم پر کی گئی اور ان افراد کو’وطن سے غداری کرنے والے اور دشمن کے نیٹ ورک سے منسلک بااثر افراد‘ قرار دیا گیا ہے۔

    ضبط کیے گئے اثاثوں میں نقد رقم، ملکی و غیر ملکی کرنسی، منقولہ و غیر منقولہ جائیداد اور سونا شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، ان افراد میں سے 7 کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کچھ بیرون ملک موجود ہیں۔

    حالیہ جنگ کے بعد عدلیہ نے ایسے افراد کے خلاف مقدمات بنائے ہیں جنہیں وہ ’دشمن کا ساتھ دینے والا‘ سمجھتی ہے، اور ان پر اس قانون کے تحت پابندیاں، جیسے سرگرمیوں پر روک اور اثاثوں کی ضبطی، عائد کی جا رہی ہیں۔

    عدلیہ نے ایسے افراد کی فہرستیں بھی جاری کی ہیں جن کے اثاثے ’جنگ کی حمایت‘ کرنے کے الزام میں ضبط کیے گئے یا ضبطی کے عمل میں ہیں۔

    صحافیوں، اداکاروں، سیاسی کارکنوں، فنکاروں اور کھلاڑیوں سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے اثاثوں کی ضبطی میں اضافہ ہوا ہے، اور ساتھ ہی ان اثاثوں کے ملک سے باہر منتقل ہونے کو روکنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

  11. ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا راستے روک کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے: سہیل آفریدی

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا راستے روک کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے۔

    یاد رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا وزیر اعلیٰ عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کے کارکنوں کے قافلے راولپنڈی میں موجود اڈیالہ جیل جا رہے تھے جہاں ان کا ارادہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما عمران خان سے ملاقات کرنا تھا لیکن انھیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی حصے میں ہی روک لیا گیا۔ انتظامیہ نے ان کے قافلے کو 26 نمبر کے علاقے میں روکا گیا اور راستے بند کر کے عام ٹریفک کو بھی راستہ تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یاد رہے کہ آج عمران خان سے ملاقات کا دن ہے۔ ہم ہمیشہ پُرامن رہے ہیں۔ ہم ہمیشہ آتے ہیں ملاقات نہیں ہونے دیتے تو ہم واپس چلے جاتے ہیں۔ ‘

    لیکن یہ اس طرح ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کے لیے اس طرح راستہ بند کر کے کیا ہیغام دے رہے ہیں۔ کبھی گندم بند کرتے ہیں کبھی راستے۔ یہ ایک صوبے کو کیوں الگ تھگ کرنا چاہتے ہیں۔ خیبر پختوخوا کے عوام کیا گئے گزرے ہیں؟‘

    سہیل آفریدی نے حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو مذاق لگتا ہے کہ ایک صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ان کے مطالبات جائے ہیں ’عمران خان کا علاج ان کے معالج سے کروایا جائے، نگرانی میں اور ان کی مرضی کی ہسپتال میں کیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ جو ان کے ساتھ ملک کے دیگر حصوں اور کشمیر میں کیا گیا اور جو آج ہو رہا ہے یہ مزید نہیں چلے گا۔

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ ’اگر انھوں (حکومت) نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو جو ہم نہیں کرنا چاہ رہے ہم وہی کریں گے۔ ‘

  12. بریکنگ, ایران اور امریکہ کے مذاکرات کو مزید وقت درکار ہے: قطر

    قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔

    ماجد الانصاری نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، جس نے فریقین کو ایک جگہ لانے اور حل تلاش کرنے میں سنجیدگی دکھائی ہے، اور ہمارا ماننا ہے کہ اس عمل کو مزید وقت درکار ہے۔‘

    گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے رہنماؤں کی درخواست پر ایران پر منگل کو کیے جانے والے ممکنہ حملے کو منسوخ کر دیا ہے۔

    ان کے مطابق، ان تینوں ممالک کے رہنما سمجھتے ہیں کہ ایسا معاہدہ ممکن ہے جو امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک سب کے لیے ’قابل قبول‘ ہو۔

  13. متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ تھا: ایران کا دعویٰ

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جرمنی کے چانسلر کے اس الزام کی تردید کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا متحدہ عرب امارات کے ایک جوہری پلانٹ کے قریب ہونے والے حملے میں کردار تھا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جرمن زبان میں بیان دیتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس پر ’دوغلے پن‘ کا الزام لگایا۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات (جو عالمی ایجنسی کی نگرانی میں ہیں) پر حملوں کی مذمت نہیں کی جاتی بلکہ انھیں جواز دیا جاتا ہے، لیکن جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جسے انھوں نے ’فالس فلیگ آپریشن‘ کہا اور جس کی ذمہ داری خود امارات نے بھی ایران پر نہیں ڈالی، تو وہی آوازیں اچانک ’بین الاقوامی قانون‘ اور ’علاقائی سلامتی‘ کی بات کرنے لگتی ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر جوہری تنصیبات پر حملہ واقعی خطے کے عوام کے لیے خطرہ ہے، تو یہ اصول سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس وقت جب مغربی ممالک کے سیاسی مفادات میں ہو۔

    دوسری جانب، جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس نے ایک دن پہلے ایران کی جانب سے امارات اور دیگر ممالک پر مبینہ فضائی حملوں کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    یاد رہے کہ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات نے بتایا تھا کہ ابوظہبی کے قریب براکہ جوہری پلانٹ کے باہر ایک ڈرون حملے میں بجلی کے جنریٹر کو آگ لگ گئی تھی۔

    امارات نے اپنے بیان میں کسی ملک کا نام نہیں لیا بلکہ صرف یہ کہا کہ ڈرون ’مغربی سرحد‘ سے داخل ہوا تھا۔

  14. ایبولا اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے: عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

    عالمی ادارہ صحت کے ایک ڈاکٹر نے خبردار کیا ہے کہ کانگو میں ایبولا وائرس پہلے اندازے سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس وبا سے اب تک کم از کم 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ڈاکٹر این انشیا کے مطابق ’جیسے جیسے تحقیقات ہو رہی ہیں، ویسے ویسے معلوم ہو رہا ہے کہ بیماری دوسرے علاقوں تک بھی پھیل چکی ہے۔‘

    حکام کے مطابق کانگو میں 513 سے زیادہ مشتبہ کیس سامنے آئے ہیں، جبکہ پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ لیکن لندن کے ایک تحقیقاتی ادارے کے اندازے کے مطابق اصل کیسز کی تعداد 1000 سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے کیسز سامنے ہی نہیں آئے۔

    ریڈ کراس نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیماری کو جلد نہ پہچانا جائے اور لوگوں کو معلومات نہ ہوں تو ایبولا بہت تیزی سے بڑھ سکتا ہےاور اس وقت ایسے حالات موجود ہیں۔ کانگو کے صدر نے عوام سے پرسکون رہنے اور احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے، جبکہ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے اس وبا کی رفتار اور پھیلاؤ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وبا شاید کئی ہفتوں سے پھیل رہی تھی، مگر 24 اپریل کو اس کا پتہ چلا۔ اس وائرس کے اس قسم کے لیے ابھی کوئی ویکسین دستیاب نہیں، لیکن دیگر ادویات پر غور کیا جا رہا ہے۔

    متاثرہ علاقے، خاص طور پر ایتوری صوبہ، غیر محفوظ ہیں اور وہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہے، جس سے بیماری کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وائرس دیگر صوبوں اور سرحد پار علاقوں تک بھی پہنچ چکا ہے، اور گوما شہر جیسے بڑے علاقوں میں بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اس صورتحال کے باعث کئی افریقی ممالک نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ روانڈا نے اپنی سرحد بند کر دی ہے، جبکہ یوگنڈا نے لوگوں کو ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے بچنے کی ہدایت دی ہے۔

    ایبولا کیا ہے اور کیسے پھیلتا ہے؟

    ایبولا ایک خطرناک بیماری ہے جو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ شروع میں اس کی علامات عام فلو جیسی ہوتی ہیں، جیسے بخار، سر درد اور تھکن۔

    جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، مریض کو قے اور دست شروع ہو جاتے ہیں اور بعض صورتوں میں جسم کے اندرونی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ مریضوں میں جسم کے اندر اور باہر سے خون بہنے لگتا ہے۔

    یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص تک متاثرہ جسمانی رطوبتوں کے ذریعے پھیلتا ہے، جیسے خون، قے یا دیگر جسمانی مائع۔

    ایبولا کی ایک قسم، جسے بندیبوجیو کہا جاتا ہے کم پائی جاتی ہے اور پہلے صرف دو بار پھیل چکی ہے، جس میں تقریباً ایک تہائی مریض ہلاک ہوئے تھے۔

    2014 سے 2016 کے درمیان مغربی افریقہ میں ایبولا کی سب سے بڑی وبا پھیلی، جس میں 28 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔

    یہ زائر قسم کی وجہ سے تھی، جس کی ویکسین اب موجود ہے۔ اس وبا نے گنی، سیرا لیون، امریکہ، برطانیہ اور اٹلی سمیت کئی ممالک کو متاثر کیا اور 11,325 افراد کی جان گئی۔

  15. روسی صدر کا دورہ بیجنگ: پوتن کو چین کے ساتھ اہم گیس پائپ لائن معاہدے کی امید

    روسی صدر ولادیمیر پوتن آج دو روزہ دورے پر چین پہنچیں گے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے کہ جب کُچھ ہی دن قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دو روزہ دوراہ کرنے اور صدر شی جن پنگ سے انتہائی اہم نوعیت کی ملاقات کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہوئے۔

    چین کے دورے سے قبل کریملن نے روسی صدر کا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جو انھوں نے چین کے عوام کے نام ریکارڈ کیا۔

    اس پیغام میں جو چینی صدر کی تعریفوں سے بھرپور تھا ولادیمیر پوتن نے شی جن پنگ کو اپنا ’اچھا اور پرانا دوست‘ قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ’واقعی بے مثال سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔

    پوتن نے زور دیا کہ روس اور چین کی قریبی سٹریٹجک شراکت داری عالمی سطح پر ایک اہم اور استحکام پیدا کرنے والا کردار ادا کر رہی ہے۔

    کریملن انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پوتن کے دورۂ چین سے بڑی توقعات ہیں اور دونوں ممالک اس موقع کو اپنی ’خصوصی شراکت داری‘ کو مزید آگے بڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔

    ایران کی جنگ اور خلیج فارس کی ناکہ بندی جہاں سے چین تیل اور گیس خریدتا تھا نے پوتن کو نئی امید دی ہے۔ کئی دہائیوں میں پہلی بار روس کو یہ موقع ملا کہ وہ آخرکار چین کے ساتھ مستقبل کی گیس پائپ لائن ’پاور آف سائبیریا 2‘ کے ذریعے گیس کی فراہمی کا معاہدہ کر سکے۔

    یہ پوتن کا چین کا پچیسواں دورہ ہے اور دونوں ممالک اس دو روزہ دورے کو اپنی ’گہری اور مضبوط شراکت داری‘ کی ایک اور علامت قرار دے رہے ہیں، اگرچہ مغرب بیجنگ پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ماسکو کو یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر مجبور کرے۔

  16. پاکستان کی ترقی کو منفی پروپیگنڈے کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ناکام ہوں گی۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کوئٹہ دورے کے دوران بلوچستان میں تعینات افسران اور فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات کی اور موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج عوام کی حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے ہر روپ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی سرگرمیوں کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کی پیشرفت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی قوتیں ریاست کے استحکام اور عوام کے اتحاد کے سامنے ناکام ہوں گی۔‘

    فیلڈ مارشل نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے دورے کے دوران زیر تربیت افسران اور اساتذہ سے خطاب کیا اور اس دوران جدید جنگ کی بدلتی نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ابھرتی ٹیکنالوجیز، کثیر جہتی آپریشنز اور تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی کو سمجھنا ضروری ہے۔‘

    انھوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود کو اور اپنے دستوں کو مسلسل تربیت دیتے رہیں تاکہ بدلتے جنگی تقاضوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

    بلوچستان کے حوالے سے انھوں نے پائیدار امن اور استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ترقی کا انحصار عوامی فلاح، بہتر پالیسیوں اور طرز حکمرانی پر ہے جو سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے چاہییں۔‘

    بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے صوبے میں تعینات اہلکاروں کے مورال، آپریشنل تیاری اور خدمات کو بھی سراہا۔

  17. کینیا: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پرتشدد مظاہرے، چار افراد ہلاک 30 سے زائد زخمی

    کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 30 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ مظاہرے حکام کی جانب سے پٹرولیم کی قیمتیں 20 فیصد تک ریکارڈ سطح تک بڑھانے کے خلاف کیے گئے تھے۔

    احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکیں بند کیں اور ٹائر بھی جلائے۔ وزیر داخلہ کِپچومبا مرکو مین کے مطابق پرتشدد احتجاج کے الزام میں 348 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    نیروبی کے مختلف حصوں اور ملک بھر کے دیگر علاقوں میں پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جنھوں نے جلتے ہوئے ٹائروں اور رکاوٹوں کے ذریعے سڑکیں بند کر رکھی تھیں۔

    یاد رہے کہ کینیا کی انرجی اینڈ پیٹرولیم ریگولیٹری اتھارٹی (ایپرا) نے جمعرات کو ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر قیمتیں بڑھا کر242 شلنگ (1.8 ڈالر) فی لیٹر کی سطح تک پہنچا دیں، جبکہ دیگر ایندھن کی قیمت 1.65 ڈالر تک ہو گئی۔

    ٹرانسپورٹرز کی ملک گیر ہڑتال اور احتجاج کی کال کے بعد ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے، جبکہ دارالحکومت نیروبی میں اہم سڑکیں بڑی حد تک خالی رہیں، کاروبار میں مندی رہی جبکہ سکولوں نے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایات کی۔

    یاد رہے کہ کینیا، دیگر کئی افریقی ممالک کی طرح، خلیج سے ایندھن کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تنازع کے باعث یہ ملک ایندھن کی سپلائی سے متاثر ہوا۔

    وزیر خزانہ جان مبادی نے پیر کو مقامی این ٹی وی چینل کو بتایا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ’بدقسمتی‘" ہے اور تسلیم کیا کہ اس سے معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

    نیروبی پولیس کے کمانڈر عیسیٰ محمد نے کہا کہ جھڑپوں میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پانچ پولیس گاڑیوں اور ایک سویلین گاڑی کو نقصان پہنچا۔

  18. جمہوریہ کانگو: ایبولا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 131 سے بڑھ گئی، عالمی ادارہ صحت کا ہنگامی صورتحال کا اعلان

    افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک کم از کم 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 390 سے زیادہ کیسز مشتبہ ہیں۔

    براعظم افریقہ میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں صحت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ایبولا سے بچاؤ کی چونکہ کوئی منظور شدہ ادویات یا ویکسین دستیاب نہیں، اس لیے لوگوں کو صحتِ عامہ کے اقدامات پر عمل کرنا چاہیے۔

    ان اقدامات میں ایبولا کے متاثرین کی تدفین کے دوران احتیاطی تدابیر بھی شامل ہیں۔

    امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق یوگنڈا میں بھی ایبولا سے متاثرہ دو تصدیق شدہ کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے۔

    ایبولا کی موجودہ قسم کا پھیلاؤ بُنڈی بُگیو وائرس کے باعث ہو رہا ہے جسے عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی ہنگامی صورتحال بھی قرار دیا ہے۔

    جمہوریہ کانگو میں ایک امریکی ڈاکٹر بھی ان افراد میں شامل ہیں جن میں اس مرض کی تصدیق ہوئی ہے، یہ بات اس طبی مشنری گروپ اور سی ڈی سی نے کہی ہے جس کے ساتھ وہ کام کر رہے تھے۔ اب انھیں علاج کے لیے جرمنی منتقل کیا جائے گا۔

    سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ جمہوریہ کانگو میں اس وبا کے دوران کم از کم چھ امریکی ایبولا وائرس کے رابطے میں آئے ہیں۔

    سی ڈی سی نے کہا کہ وہ ’براہِ راست متاثر ہونے والے ان امریکیوں کے محفوظ انخلا میں معاونت کر رہا ہے لیکن یہ تصدیق نہیں کی کہ اس میں کتنے افراد اس میں شامل ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ نے جمہوریہ کانگو کے لیے سطح چار کی سفری وارننگ بھی جاری کر دی ہے، جو اس کی سب سے سخت سطح ہے، جس میں وہاں سفر سے گریز کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔

    ایبولا ایک نایاب مگر مہلک بیماری، وائرس کے سبب ہونے والی اس بیماری کی علامات کیا ہیں

    عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے۔

    تاہم عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کووڈ جیسی وبا کے ابتدائی مرحلے میں ہیں

    اس وبا سے نمٹنا مشکل ہے کیونکہ اس میں ایک نایاب قسم شامل ہے جس کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں ہے اور کیسز ایسے علاقے میں سامنے آئے ہیں جو تنازع سے متاثر ہے۔

    یاد رہے کہ ایبولا ایک نایاب مگر مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    ایبولا وائرس عموماً جانوروں کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں کو لیکن انسانوں میں وبا اس وقت شروع ہو سکتی ہے جب لوگ متاثرہ جانوروں کو کھاتے یا سنبھالتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس کی علامات ظاہر ہونے میں دو سے 21 دن لگتے ہیں۔ یہ اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو کی طرح شروع ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔

    جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، قے اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں اور یہ اعضا کی ناکامی کا باعث بن سکتی ہے جس سے کچھ مریضوں میں اندرونی یا بیرونی خون کا اخراج بھی ہو سکتا ہے۔

    یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں متاثرہ جسمانی رطوبتوں جیسے خون یا قے کے ذریعے پھیلتا ہے۔

    ایبولا کے اس پھیلاؤ میں کیا مختلف ہے اور کیا اس کی کوئی ویکسین ہے؟

    ماہرین کے مطابق کانگو میں اس بیماری کا پھیلاؤ ایبولا کی بنڈی بُگیو قسم کی وجہ سے ہوا ہے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سامنے نہیں آئی تھی۔

    بنڈی بُگیو نے اس سے پہلے صرف دو وبائیں پھیلائی ہیں، جن میں تقریباً ایک تہائی متاثرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایبولا کی یہ نایاب قسم چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔

    بنڈی بُگیو کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، تاہم تجرباتی ویکسینز تیار کی جا رہی ہیں۔

    یہ ممکن ہے کہ ایبولا کی ایک دوسری قسم (جسے زائیر کہا جاتا ہے) کی ویکسین کچھ تحفظ فراہم کرے۔

    بنڈی بُگیو کے خلاف خاص طور پر تیار کردہ کوئی ادویات بھی موجود نہیں ہیں، جس سے علاج مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ وبا ایک ایسے علاقے میں پھیل رہی ہے جہاں تنازع جاری ہے اور اس سبب تقریباً ڈھائی لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں اور لوگ سرحد پار ہمسایہ ممالک میں آ جا رہے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت اور طبی فلاحی تنظیم میڈیسن سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کانگو میں علاج کے مراکز قائم کر رہے ہیں اور ردعمل کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ علامات کی اطلاع دینے کے لیے ایک مفت نمبر 151 فراہم کیا گیا ہے۔

    مقامی افراد سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ درج ذیل اقدامات کریں:

    • سماجی فاصلہ اختیار کریں،
    • ان افراد کی لاشوں یا مردہ جانوروں سے رابطے سے گریز کریں جن کی موت اس وائرس کی علامات کے ساتھ ہوئی ہو،
    • کچا گوشت نہ کھائیں کیونکہ کم پکا ہوا کھانا وائرس منتقل کرسکتا ہے،
    • علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً صحت کے ماہرین کو اطلاع دیں،
  19. ایران میں منڈلاتے جنگ کے بادل اور حکومت حامی 110 جوڑوں کی شادی کی تقریبات

    ایرانی حکومت کے تبلیغی پروگراموں کے تسلسل اور سڑکوں پر موجود حکومتی حامیوں کے جم غفیر کے ساتھ ساتھ اب تہران سے 110 جوڑوں کی شادی کی تقریب امام حسین سکوائر میں منعقد کیے جانے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق دو روز قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ اجتماعی شادیوں کی تقریبات کی اس مہم کے لیے لاکھوں افراد نے رجسٹریشن کرائی ہے۔

    ’جنفدہ مہم‘ کے زیر اہتمام یہ اجتماعی شادیاں ایک ایسے حالات میں شروع کی گئی ہیں جب تھی جب ہ ایران کو سیاسی اور اقتصادی بحرانوں، بڑے پیمانے پر ملک گیرمظاہروں اور حالیہ برسوں میں دو حالیہ جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی حکومت نے اپنے حامی رضاکاروں کے لیے ہتھیاروں کے تربیتی کورسز کا آغاز کیا ہے۔

    دوسری جانب جنگ اور مستقبل کے بارے میں فکرمند کچھ شہریوں نے ان حکومتی اقدامات کو پروپیگنڈا اور پریشان کن قرار دیا۔

  20. لبنان میں اسرائیلی حملوں سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی: لبنانی وزارت صحت

    لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ مارچ کے آغاز سے حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے دوران اسرائیلی حملوں سے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

    وزارت نے پیر کے روز ہلاکتوں کی تعداد 3,020 بتائی۔ جنگ بندی کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 17 اپریل کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 400 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، یہ تعداد دونوں اطراف کی جانب سے بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔

    امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت اسرائیل کو حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حملے کرنے کی اجازت ہے۔

    جمعے کو جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد سے، جنوبی لبنان اور وادی بیکا کے قصبوں اور دیہاتوں پر اسرائیلی حملے جاری ہیں، جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری کو شدید حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد لبنان میں موجود ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ جنگ میں داخل ہوئی۔

    جنگ بندی معاہدے کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لبنان اور اسرائیل نے جمعے کے روز جنگ بندی میں مزید 45 دن کی توسیع کرنے پر اتفاق کیا، مذاکرات جون کے آغاز میں دوبارہ متوقع ہیں۔