امریکی وزیر
خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران مذاکرات پر گذشتہ 48 گھنٹوں میں کچھ
پیشرفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ دنیا کو کوئی ’اچھی خبر‘ ملے گی۔
انڈیا میں پریس
کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس
اچھی خبر کا تعلق آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے اور ’ایک ایسے عمل کے حوالے سے ہے جو بالآخر ہمیں وہاں پہنچا سکتا ہے
جہاں صدر (ٹرمپ) ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں ایران کے جوہری
ہتھیاروں کے خوف سے نجات حاصل ہو چکی ہو۔‘
انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں
اس حوالے سے کچھ اچھی خبریں ہیں، لیکن حتمی خبریں نہیں ہیں۔‘
امریکی وزیر
خارجہ کی گفتگو سے بار بار اس بات کا تاثر ملا کہ امریکہ، ایران مذاکرات میں بات
آگے تو بڑھی ہے لیکن معاملات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے۔
مارکو روبیو کے
الفاظ تھے: ’میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ کچھ پیشرفت ہوئی ہے، اہم پیشرفت ہوئی ہے،
تاہم حتمی پیشرفت نہیں ہوئی۔‘
پریس کانفرنس
میں مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار
نہیں رکھ سکتا، اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا، ’کم از کم اُس وقت تک تو
ہرگز نہیں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں۔‘
مارکو روبیو نے
کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزر گاہ ہے اور ’ایران اس کا مالک نہیں
ہے۔‘
امریکی وزیر
خارجہ کے مطابق ’اس وقت ایران یہ بین الاقوامی آبی گزر گاہ استعمال کرنے والے تجارتی
بحری جہازوں کو دھمکا رہا ہے اور کسی بھی
بین الاقوامی ضابطے کے تحت یہ غیر قانونی ہے۔‘
مارکو روبیو کا
کہنا تھا کہ اگر ’ہم نے ایسا ہونے دیا تو ایک خطرناک مثال قائم کریں گے۔‘
دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے امریکی وزیر
خارجہ نے بتایا کہ گذشتہ 48
گھنٹوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ’نہ صرف آبنائے ہرمز میں کسی بھی
قسم کا محصول ادا کیے بغیر آمد و رفت بحال ہو گی، بلکہ اُن بعض بنیادی عوامل پر
بھی توجہ دی جائے گی جو ماضی میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو ظاہر کرتے
رہے ہیں۔‘
مارکو روبیو نے
کہا کہ ان کے خیال میں بعض ایسے معاملات کے خدوخال پر پیشرفت ہوئی ہے جن پر عمل
ہوا تو مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے۔
امریکی وزیر
خارجہ کے مطابق ’اس کے لیے ایران کی منظوری اور تعمیل بھی درکار ہو گی اور اس کی
تفصیلات مستقبل میں طے کی جائیں گی۔‘
انھوں نے وضاحت
کی: ’مثال کے طور پر جوہری پروگرام ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس پر بات چیت میں کچھ
وقت لگے گا۔‘
امریکی
وزیر خارجہ نے کہا کہ پیشرفت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہ محتاط اس لیے ہیں ’کیوں
کہ آپ کاغذ پر تو کچھ چیزیں طے کر لیتے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد بھی ہونا ہوتا
ہے۔ جو تحریر میں لکھا جائے، اس پر عمل بھی ہونا ہوتا ہے۔‘