آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکہ، ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت کی گونج: اچھی خبر ملے گی لیکن حتمی نہیں، مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران مذاکرات پر گذشتہ 48 گھنٹوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور ’اس حوالے سے کچھ اچھی خبریں ہیں، لیکن حتمی خبریں نہیں ہیں۔‘

خلاصہ

  • اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو ’اچھی خبر‘ ملے گی لیکن ’حتمی‘ نہیں: مارکو روبیو
  • اُمید ہے کہ مذاکرات سے ’ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ دسترس میں ہے‘: اسحاق ڈار
  • ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، جس کی حتمی تفصیلات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
  • اُمید ہے کہ بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کریں گے: وزیر اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
  • وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس اہلکاروں پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آور ہلاک

لائیو کوریج

  1. امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں: ایرانی میڈیا

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مبینہ معاہدے کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں جن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے میں ایران کی جوہری پروگرام سے متعلق کوئی یقین دہانی شامل نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ایران نے معاہدے کے مسودہ میں اپنے کسی بھی جوہری مواد کی حوالگی سے متعلق کوئی وعدہ نہیں کیا، جبکہ خبر رساں ادارے کا دعویٰ ہے کہ ’مغربی میڈیا اس کے برعکس خبریں دے رہا ہے۔‘

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ادارے کے مطابق جوہری معاملے پر مذاکرات کو ’ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کے بعد‘ تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

    تسنیم کے مطابق موجودہ مسودہ صرف جنگ کے خاتمے کے معاملے تک محدود ہے اور اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کوئی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

  2. قومی سلامتی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ رہبرِ اعلیٰ کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جاتا: مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری نشریاتی ادارے کے مدیران سے ملاقات میں کہا ہے کہ ’قومی سلامتی کونسل کے دائرہ کار سے باہر اور رہبرِ اعلیٰ کی منظوری اور رضا مندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔‘

    ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ’جب سفارت کاری کے شعبے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو تمام اداروں، پلیٹ فارمز اور سیاسی دھڑوں کو اس کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ دنیا تک اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک متحد اور مستحکم آواز پہنچے۔‘

    انھوں نے سرکاری میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’سماجی ہم آہنگی کے فروغ، نظام کے اہم فیصلوں کی حمایت اور ملک کے سماجی اعتماد میں اضافے‘ کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرے۔

    ایرانی صدر کی جانب سے یہ بیان ایرانی پارلیمان کے رکن کامران غضنفری کے اُن بیانات کے بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں گزشتہ روز انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ صدر مسعود پزشکیان نے رہبرِ اعلیٰ کی اجازت کے بغیر جنگ بندی قبول کی ہے۔

  3. اگلے چند گھنٹوں میں دنیا کو ’اچھی خبر‘ ملے گی لیکن ’حتمی‘ نہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ، ایران مذاکرات پر گذشتہ 48 گھنٹوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے اور امکان ہے کہ دنیا کو کوئی ’اچھی خبر‘ ملے گی۔

    انڈیا میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس اچھی خبر کا تعلق آبنائے ہرمز کے حوالے سے ہے اور ’ایک ایسے عمل کے حوالے سے ہے جو بالآخر ہمیں وہاں پہنچا سکتا ہے جہاں صدر (ٹرمپ) ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں، یعنی ایک ایسی دنیا جہاں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خوف سے نجات حاصل ہو چکی ہو۔‘

    انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں اس حوالے سے کچھ اچھی خبریں ہیں، لیکن حتمی خبریں نہیں ہیں۔‘

    امریکی وزیر خارجہ کی گفتگو سے بار بار اس بات کا تاثر ملا کہ امریکہ، ایران مذاکرات میں بات آگے تو بڑھی ہے لیکن معاملات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچے۔

    مارکو روبیو کے الفاظ تھے: ’میں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ کچھ پیشرفت ہوئی ہے، اہم پیشرفت ہوئی ہے، تاہم حتمی پیشرفت نہیں ہوئی۔‘

    پریس کانفرنس میں مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، اور وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھے گا، ’کم از کم اُس وقت تک تو ہرگز نہیں جب تک ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں۔‘

    مارکو روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزر گاہ ہے اور ’ایران اس کا مالک نہیں ہے۔‘

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ’اس وقت ایران یہ بین الاقوامی آبی گزر گاہ استعمال کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو دھمکا رہا ہے اور کسی بھی بین الاقوامی ضابطے کے تحت یہ غیر قانونی ہے۔‘

    مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر ’ہم نے ایسا ہونے دیا تو ایک خطرناک مثال قائم کریں گے۔‘

    دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ’نہ صرف آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کا محصول ادا کیے بغیر آمد و رفت بحال ہو گی، بلکہ اُن بعض بنیادی عوامل پر بھی توجہ دی جائے گی جو ماضی میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کے عزائم کو ظاہر کرتے رہے ہیں۔‘

    مارکو روبیو نے کہا کہ ان کے خیال میں بعض ایسے معاملات کے خدوخال پر پیشرفت ہوئی ہے جن پر عمل ہوا تو مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ’اس کے لیے ایران کی منظوری اور تعمیل بھی درکار ہو گی اور اس کی تفصیلات مستقبل میں طے کی جائیں گی۔‘

    انھوں نے وضاحت کی: ’مثال کے طور پر جوہری پروگرام ایک تکنیکی معاملہ ہے اور اس پر بات چیت میں کچھ وقت لگے گا۔‘

    امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پیشرفت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہ محتاط اس لیے ہیں ’کیوں کہ آپ کاغذ پر تو کچھ چیزیں طے کر لیتے ہیں لیکن ان پر عمل در آمد بھی ہونا ہوتا ہے۔ جو تحریر میں لکھا جائے، اس پر عمل بھی ہونا ہوتا ہے۔‘

  4. پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے ایران، امریکہ مذاکرات میں ’اہم پیشرفت‘ کا اشارہ: ’شہباز شریف اور عاصم منیر نے مرکزی کردار ادا کیا‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ، ایران مذاکرات میں اہم پیشرفت کا اشارہ دیا ہے۔

    پوسٹ میں انھوں نے بتایا کہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جو ’خطے میں امن، استحکام اور جلد سفارتی حل کے مشترکہ مقصد کی جانب ایک اہم قدم کی نشاندہی کرتی ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے لکھا: ’ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے عزم کو سراہتے ہیں۔‘

    پاکستانی وزیر خارجہ نے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ’مسلسل شمولیت کے باعث جاری مذاکرات میں با معنی پیش رفت ہوئی۔‘

    اسحاق ڈار نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف سمیت ایرانی قیادت کی مذکرات میں ’تعمیری شمولیت‘ کو بھی سراہا اور ’امن کے لیے کوششیں آگے بڑھانے‘ پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ 28 فروری (جس روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا) کے بعد سے ان کا سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر سمیت دیگر ممالک سے رابطہ رہا، جن کی ’تعمیری شمولیت اور حمایت نے اس حتمی نتیجے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

    اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی ’اس حساس اور نتیجہ خیز عمل کے دوران مرکزی کردار‘ ادا کیا۔

    وزیر خارجہ نے لکھا کہ مذاکرات سے جو کچھ حاصل ہوا اس سے امید ملتی ہے کہ ’ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ دسترس میں ہے۔‘

    یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ بڑی حد تک معاہدہ طے پا جانے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کا عندیہ دیا ہے۔

  5. مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی ترجیح: امریکی صدر سے ٹیلی کانفرنس میں ترک صدر کی گفتگو

    ترک صدر رجب طیب اردوغان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور امریکی کابینہ کے ارکان کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کی۔

    بیان کے مطابق ٹیلی کانفرنس میں ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور صدر اردغان نے کہا کہ ترکی ہمیشہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔

    ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ آمد و رفت سے متعلق کسی معاہدے سے خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا اور عالمی معیشت کو ریلیف حاصل ہو گا۔

    بیان کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ منصفانہ امن میں سب کی فتح ہے اور ترکی ایک ایسے نئے دور کا خواہاں ہے جس میں خطے کے ممالک ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہ ہوں۔

  6. سابق امریکی وزیر خارجہ کی ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر تنقید

    امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے سابق صدر جو بائیڈن کی پالیسیوں سے ملتا جلتا قرار دیا ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں مائیک پومپیو نے خبردار کیا کہ اس طرح کے معاہدے سے ایران کو مالی وسائل تک رسائی، یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے مائیک پومپیو کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر نے کہا کہ پومپیو ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شامل نہیں ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے، لہذا بہتر یہ ہے کہ وہ خاموش رہیں۔

    مائیک پومپیو صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکہ کے وزیر خارجہ تھے۔

  7. کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی: وفاقی وزیر ریلوے

    وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان ریلوے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔

  8. کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک، 20 سے زائد زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

    ایک پولیس افسر نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم سے گفتگو میں کم از کم سات ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ریلوے ٹریک کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں جبکہ ملحقہ گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔

    فقیر آباد کے رہائشی نصیر احمد نے بتایا کہ ’ٹرین جارہی تھی جس میں مسافر بھی تھے جب دھماکہ ہوا اس دھماکے کی وجہ سے ہمارے گھر تباہ ہو گئے۔‘

    اُن کا کہنا تھاُ کہ اتوار کی وجہ سے ہم لوگ سو رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا، گھر کے سارے شیشے ٹوٹ گئے دروازے اور کھڑکیاں گر گئیں۔

    چمن بھاٹک کے ایک رہائشی عبدالمالک نے بتایا کہ صبح آٹھ بجے کے قریب زوردار دھماکہ ہوا۔

  9. کوئٹہ: چمن پھاٹک کے قریب دھماکے سے ہلاکتوں کا خدشہ، متعدد گاڑیاں تباہ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کے بعد ٹرین کی بوگیاں اُلٹنے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    جائے حادثہ پر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال اس دھماکے کی نوعیت یا ہلاکتوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم ریلوے لائن کے اطراف کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔

    دیکھیے یہ تصویری جھلکیاں۔۔

  10. کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب زوردار دھماکہ، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ, محمد کاظم، بی بی سی اُردو کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دھماکے نتیجے میں وہاں سے گزرنے والی ایک ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں جبکہ ایک بوگی کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز میں ریلوے لائن کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ٹریک پر ٹرین کی بوگیاں اُلٹی ہوئی ہیں۔ تاہم فی الحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    اتوار کی صبح ہونے والے اس دھماکے کے حوالے سے محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے واقعے کی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

    جائے وقوعہ سے ایک عینی شاہد عرفان خان نے بتایا کہ دھماکے کی شدت کی وجہ سے ٹرین کی دو بوگیاں الٹ گئی ہیں جن میں آگ بھڑک اٹھنے کی وجہ سے ایک بوگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    دھماکے کی وجہ سے ٹریک کے ساتھ بعض کاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز شہر میں دور تک سنائی دی۔

    دھماکے کے باعث کوئٹہ شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

  11. خوشی ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے میں پیش رفت ہو رہی ہے، ہم مزید تفصیلات کے منتظر ہیں: امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن

    امریکی ایوان نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا کہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ایران کو مذاکرات کی میز پر لا سکتے ہیں۔

    مائیک جانسن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ شکل اختیار کر رہا ہے اور ہم مزید تفصیلات کے منتظر ہیں۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہمارا ملک عالمی سطح پر زیادہ مضبوط، زیادہ قابل احترام اور پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔

  12. پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں لبنان میں جنگ بندی شامل ہو گی۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراقچی نے حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے نام پیغام میں حزب اللہ سمیت مزاحمتی گروپوں کی حمایت کے ایرانی عزم کا اعادہ کیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جب سے علاقائی ممالک نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالث کے طور پر پہلی بار قدم اٹھایا، تہران نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی معاہدہ لبنان میں جنگ بندی کے قیام کے لیے لازمی ہونا چاہیے۔

    عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایرانی حکومت اور اس کے عوام کا بھی ایک جائزہ مطالبہ ہے۔

  13. اُمید ہے کہ بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کریں گے: وزیر اعظم شہباز شریف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ بڑی حد تک معاہدہ طے پا جانے کے دعوے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کا عندیہ دیا ہے۔

    اتوار کو ایکس پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے حصول کے لیے ان کی غیر معمولی کوششوں اور سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ آج ایک بہت ہی مفید اور نتیجہ خیز ٹیلیفون کال کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ٹیلی فون کال میں پاکستان کی نمائندگی کی اور میں اس پورے عمل کے دوران ان کی انتھک کوششوں کو بہت سراہتا ہوں۔ بات چیت نے موجودہ علاقائی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے لیے جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کا ایک مفید موقع فراہم کیا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی خلوص کے ساتھ امن کی کوششیں جاری رکھے گا اور ہمیں امید ہے کہ بہت جلد مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کریں گے۔

  14. ایرانی حکومت کو قائم رہنے دینے کا کوئی بھی معاہدہ خطے کے تنازعات پر تیل چھڑکنے کے مترداف ہو گا: امریکی سینیٹر لنزے گراہم

    ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے نے اس کی حکومت کو زندہ رکھنے اور وقت کے ساتھ مضبوط ہونے کا موقع دیا تو اس کا مطلب ’لبنان اور عراق کے تنازعات پر پیٹرول ڈالنا‘ ہو گا۔

    ایکس پر اپنے بیان میں اُنھوں نے مزید کہا کہ ایک معاہدہ جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھ سکتا ہے لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں شیعہ ملیشیا کو ’بہت مضبوط‘ کرے گا۔

    سینیٹر لنزے گراہم کا یہ بیان امریکی صدر کے اعلان کے بعد آیا ہے جس میں اُنھوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ تقریباً طے پا جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اُن کی متعدد علاقائی رہنماؤں سے بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن ایران کے ساتھ معاہدے کے حتمی پہلوؤں اور تفصیلات پر بات چیت جاری ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے ایک حصے کے طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

  15. وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس اہلکاروں پر فائرنگ، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    سنیچر کو امریکہ کے مقامی وقت شام چھ بجے وائٹ ہاؤس میں موجود متعدد صحافیوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔

    سیکرٹ سروس کے ارکان ان صحافیوں کو عمارت کے اندر پریس بریفنگ روم میں لے گئے اور وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن میں رکھا گیا۔

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 15 سے 30 کے درمیان گولیاں چلائی گئیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ہی بندوق بردار ہے جس نے سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں قریب جا کر اُن پر فائرنگ کی کوشش کی جس پر ان ایجنٹوں نے پھر جوابی فائرنگ کی۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے اور دونوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے، بعدازاں سیکرٹ سروس نے مشتبہ حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس میں لاک ڈاؤن کو مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے ہٹا دیا گیا۔

    ہم نے ابھی تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کچھ نہیں سنا ہے، جو فائرنگ کے وقت وائٹ ہاؤس کے رہائشی بلاک میں موجود تھے۔ یہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے میں ایک بندوق بردار کی فائرنگ کے صرف ایک ماہ بعد ہوا ہے۔

  16. وائٹ ہاؤس کے قریب سیکرٹ سروس اہلکاروں پر فائرنگ، مشتبہ حملہ آور ہلاک

    امریکی سیکرٹ سروس نے تصدیق کی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کرنے والے ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکرٹ سروس کے مطابق سنیچر کی شام چھ بجے کے بعد 17 ویں سٹریٹ اور پینسلوینیا ایونیو کے علاقے میں ایک شخص نے اپنے بیگ سے ہتھیار نکالا اور فائرنگ شروع کر دی۔

    سیکرٹ سروس پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو نشانہ بنایا جسے ایریا ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا۔

    اہلکاروں کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔ واقعے کے وقت صدر وائٹ ہاؤس میں تھے، فائرنگ کے فوری بعد وائٹ ہاؤس کے احاطے میں موجود صحافیوں کو عمارت کے اندر جانے کا کہا گیا۔

    ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ 15 سے 30 کے درمیان گولیاں چلائی گئیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ہی بندوق بردار تھا جو سیکرٹ سروس کے ایجنٹوں کے قریب گیا اور ان پر فائرنگ کی کوشش کی۔ ان ایجنٹوں نے پھر جوابی فائرنگ کی۔

  17. بریکنگ, ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، جس کی حتمی تفصیلات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے: امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے تاہم اس کی حتمی منظوری امریکہ، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان ہونا باقی ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے متعدد رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں ایران سے متعلق ایک ممکنہ امن معاہدے سمیت دیگر امور پر گفتگو کی گئی۔

    اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس سے کی گئی اس گفتگو میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور بحرین کے رہنما شامل تھے۔

    ان کے مطابق اس بات چیت کا محور ایران اور ایک مجوزہ ’مفاہمتی یادداشت‘ (Memorandum of Understanding) تھا، جو امن کے قیام سے متعلق ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم سے بھی علیحدہ طور پر بات چیت ہوئی، جسے انھوں نے ’مثبت‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق معاہدے کی حتمی تفصیلات اس وقت زیرِ غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

    اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے تحت آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

  18. تہران سے واپسی پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے فون کر کے مذاکرات کی کامیابی پر مبارکباد دی: ایرانی سفیر

    اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ پاکستان کی بروقت سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں حالیہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور اگر تمام فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں بتایا کہ انھیں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے تہران سے واپسی کے بعد ایرانی حکام سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی پر مبارکباد دی گئی ہے۔

    ایرانی سفیر کے مطابق ان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت ایران کے مؤقف، اس کی مسلح افواج کی ثابت قدمی اور عوام کی مزاحمت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جانب سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر متعلقہ فریقین اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو یہ پیش رفت خطے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    ایرانی سفیر نے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو بھی سراہا، خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے ثالثی کے اقدام کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی سفارتی کوششیں قابل قدر ہیں۔

    بیان میں یہ امید ظاہر کی گئی کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں خطے میں دیرپا امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گی۔

    آخر میں ایرانی سفیر نے پاکستانی حکومت اور متعلقہ حکام کا مذاکراتی عمل میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی مخلصانہ کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  19. فیفا نے ایران کی درخواست منظور کر لی، ورلڈ کپ کیمپ امریکہ سے میکسیکو منتقل

    فیفا نے ایران کی جانب سے ورلڈ کپ سے قبل اپنے قومی فٹبال کیمپ کو امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    ایران کی فٹبال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج کے مطابق اب ٹیم کا تیاری کیمپ بحرالکاہل کے قریب اور امریکی سرحد کے نزدیک واقع میکسیکو کے شہر تیخوانا میں لگایا جائے گا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مہدی تاج نے کہا ’فیفا نے قومی ٹیم کے کیمپ کا مقام امریکہ سے میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے۔‘

    واضح رہے کہ ایران کو گذشتہ کئی ماہ سے ورلڈ کپ کے حوالے سے سفری اور سکیورٹی انتظامات پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا۔ یہ ٹورنامنٹ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جائے گا۔

    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس ماہ تک بھی ٹیم کے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو امریکہ کے ویزے جاری نہیں کیے گئے تھے، حالانکہ عالمی کپ کے آغاز میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی تھا۔

  20. بلوچستان سے اغوا ہونے والے 21 کارکن بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع چاغی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کے دوران اغوا ہونے والے 21 کارکن سنیچر کے روز بازیاب ہو گئے۔

    یہ کارکن منگل کے روز اغوا ہوئے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بتایا جا رہا تھا کہ ان افراد کو نوشکی کے علاقے سے اغوا کیا گیا اور ان کا تعلق ایک بین الاقوامی کمپنی سے ہے۔

    تاہم اغوا کی اس خبر کی سرکاری سطح پر تصدیق نہ ہونے کے باعث مرکزی دھارے کے میڈیا نے اس واقعے کو رپورٹ نہیں کیا۔ اغوا کے وقت ان کارکنوں کی تعداد 17 بتائی گئی تھی۔

    سنیچر کے روز جب ان کارکنوں کی بازیابی کی خبر منظرِ عام پر آئی تو بی بی سی نے ایک معروف کمپنی کے سینیئر اہلکار سے فون پر رابطہ کیا۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ اغوا ہونے والوں کی تعداد 17 نہیں بلکہ 21 تھی۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جنھیں اس کمپنی سے منسلک کیا جا رہا تھا، ان کا کمپنی کے ساتھ براہِ راست تعلق نہیں تھا۔ البتہ یہ کارکن ایک ٹھیکیدار کے ماتحت کام کر رہے تھے، جس کا کمپنی کے ساتھ معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے۔

    سینیئر اہلکار کے مطابق ان کے پاس یہ معلومات موجود نہیں کہ کارکن کس طرح بازیاب ہوئے، تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ تمام افراد بحفاظت بازیاب ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں معدنیات اور تعمیراتی کمپنیوں سے وابستہ کارکنوں کے اغوا کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔