Wednesday, 07 March, 2007, 17:54 GMT 22:54 PST
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں کی بیٹی کو ہندوستان آنے کے لیے ضروری دستاویزات جاری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
عدالت نےمرکزي حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئندہ چار ہقتوں ميں یہ دستاویزات تیار کروائے تا کہ پندرہ سالہ میگھرا تمل ناڈو جیل میں قید اپنے والدین سے ملاقات کر سکے۔
میگھرا کی ماں نلنی بھارتی تمل ہیں جبکہ اس کے والد سری ہرن عرف موروگن سری لنکا کے تمل ہیں۔
1991 میں جب بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے سلسلے میں نلنی کو گرفتار کیا گیا تھا تووہ اس وقت حاملہ تھیں اور 21 جنوری 1992 کو انہوں نے میگھرا کو جیل میں جنم دیا تھا۔
ابتدائی دور میں بچی کو ماں کے ساتھ جیل میں رہنے کی اجازت دی گئی لیکن جب نلنی اور اس کے شوہر موروگن کو بھارت کی عدالت نے موت کی سزا سنائی تو بچی کی دادی اسے اپنے ساتھ سری لنکا لےگئيں تھیں۔
اس عمل میں بچی کو سری لنکا کے پاسپورٹ پر ہندوستان سے لے جایا گیا۔ اس کے بعد سے میگھرا کی شناخت پر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔
میگھرا کے والدین کا کہنا ہے کہ چونکہ بچی کی پیدائش بھارت میں ہوئی ہے اس لیے شہریت کے لحاظ سے وہ بھارتی ہے، لیکن بھارت میں حکام اس دعوے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
![]() | |
| جس وقت راجیوگاندھی کو قتل کیا گیا تھا اس وقت وہ حزب اختلاف کے رہنما تھے |
نلنی اور مورگن کو راجیو گاندھی کے قتل کی سازش کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن کانگریس کی صدر اور راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کی درخواست پر نلنی کی موت کی سزا کو 2000 میں عمر قید کی سزا میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ موروگن کی رحم کی درخواست صدر جمہوریہ کے زیر غور ہے۔
1991 میں جس وقت راجیوگاندھی کو قتل کیا گیا تھا اس وقت وہ حزب اختلاف کے رہنما تھے اور قومی انتخابات کے لیے تمل ناڈو میں انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔
بھارت نے ان کے قتل کے لیے تمل ٹائیگرز کے خودکش بمباروں کو ذمے دار ٹھہرایا تھا۔ اس سلسلے میں بھارتی عدالت اب بھی تمل ٹائیگرز کے لیڈر پربھاکرن اور باغیوں کے خفیہ ایجنسی کے چیف پٹّو امان کی تلاش میں ہے۔